تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آرٹتازہ ترینکالم

وہی زاویے کہ جو عام تھے —- سجاد خالد

by سجاد خالد 06/12/2021
written by سجاد خالد 06/12/2021
316

فنون کی مختلف اشکال ہر سوسائٹی میں مقبول ہیں لیکن ان کی صورت گری وہ اپنے ڈھنگ سے کرتی ہے۔ برہمن مجلسی, فلمی یا معروف معنوں میں غیر مذہبی موسیقی کو لائقِ اعتناء نہ بھی سمجھے، وہ مندر میں بھجن کو اصول قاعدے سے گانے کو درست سمجھتا ہے۔ مندر، کلیسا اور گردوارے میں خوش الحانی اور ساز چھیڑنے کا عمل اگر مقدس ہے تو مخصوص معیار کا آئینہ دار بھی رہا ہے۔ یہی صورت دیگر مذہبی متون کی قراءت میں ترنم اور کہیں ساز کی آمیزش کے ساتھ خوش الحانی کی ہے۔ جدید فنون کی بڑی اور معتبر صورتیں عبادت گاہوں میں پروان چڑھی ہیں۔ انسان جب کوئی مہارت حاصل کرتا ہے تو اسے اپنے جذبات کے اظہار کے لیے عام نہج سے ہٹ کر بھی استعمال کرتا ہے۔ یوں یہ فنون اپنی پرورش کے زمانوں میں بھی دیگر انسانی جذبات کا جزوی اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

یہ ممکن نہیں ہوتا کہ مخصوص کیمسٹری رکھنے والا معاشرہ کسی دوسرے معاشرے میں مقبول صورتوں کو من و عن قبول کر لے۔ میں رقص کو طبعاً پسند نہیں کرتا کہ اس فن کو اختیار کرنے کی خواہش مجھ میں نہیں لیکن دل کو چھونے والی آواز اور بات پر جسم جھوم جاتا ہے۔ مجھے اچھا خط اور تصویر کشی روح کی گہرائی تک متاثر کرتے ہیں۔ میرے ہی معاشرے میں رقص کی علاقائی صورتیں قبل از تاریخ سے رائج ہیں اور ان میں معمولی تبدیلیاں آتی رہی ہیں۔ انہیں دیکھ کر میں بھی لطف اندوز ہوتا ہوں۔ گویا ایک فرد اپنے مزاج کی رعایت سے ایک فن کی جانب سیکھنے کے لیے بڑھتا ہے اور باقی فنون سے لطف اندوز ہوتا ہے۔

برصغیر کی موسیقی میں مسلمانوں کا کنٹری بیوشن اور چشتی سلاسل میں سماع کی روایت وہ صورتیں ہیں جنہیں سوسائٹی نے اپنے مزاج سے ہم آہنگ کر کے قبول کر لیا ہے۔ قوالی، نعت اور غزل کی اصناف نے جو رنگ جمایا ہے، وہ کسی کی نظر سے پوشیدہ نہیں۔ لوک گیتوں کی روایت انتہائی مضبوط ہے جس سے دھنیں مستعار لے کر کتنے لوگ بڑے موسیقار کہلائے۔ یہ بات اگر اعتراف کے ساتھ ہو تو بہتر ہے ورنہ اپنی تہذیبی طرز سے متاثر ہونا بجائے خود مستحسن عمل ہے۔ علاقائی صوفیوں نے سندھ, کشمیر، بلتستان، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں اپنے الگ رنگ بنائے ہیں۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب ہم آرٹ کو آرٹ گیلری کی دیوار سے لگے فریم میں دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں، موسیقی کو اوپرا ہال یا سٹیڈیم میں آدھی رات کے وقت منعقد ہونے والے کونسرٹ میں ناچنے والے بندر کے حوالے کرنا چاہتے ہیں اور مغرب کی طرز پر مجسمے کو ہر بڑے چوراہے پر لینڈ مارک بنانا چاہتے ہیں۔ یہاں بندر کا لفظ تحقیر کے لیے نہیں بلکہ احساس کی سطح پر ابھرنے والی علامت کے طور پر استعمال کیا ہے۔

سو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ مذہبی انسان نے بالعموم اور مسلم سماج نے بالخصوص ساز یا بغیر ساز غنائیت کو علی الاطلاق غلط سمجھا ہے۔ چند لوگوں کی انتہاء پسندانہ رائے معاشرے کی نمائندہ نہیں ہوتی۔ میرے نزدیک یہ بھی انتہاء پسندی ہے کہ فنون کی جن صورتوں سے کوئی معاشرہ طبعی ہم آہنگی نہ رکھتا ہو، ان کو اختیار نہ کرنے والوں کو غیر مہذب سمجھا جائے۔ جیسا کہ ہمارے لبرل دوست چاہتے ہیں کہ مغربی موسیقی، مصوری، مجسمہ سازی اور رقص کو قبولیت کے تدریجی عمل سے گزرے بغیر اختیار کر لیا جائے۔ ان کے نزدیک فن کی مقامی صورتیں معتبر نہیں۔ میرے نزدیک ہر انتہاء پسندی بذاتِ خود غیر مہذب شخص یا گروہ سے ظہور پاتی ہے۔

مسلمانوں نے مصوری اور تحریر کے امتزاج سے خطاطی کے فن میں وہ ادا پیدا کی ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔ خطاطی ہر مذہب اور معاشرے میں رہی ہے لیکن اس درجے تک نہیں پہنچی۔ اسی طرح مصوری نے ہمارے ہاں ابتداء میں نقاشی اور بعد ازاں منی ایچر کی شکل اختیار کی ہے۔ ہم نے فنِ مجسمہ سازی کو ابھری ہوئی سنگی خطاطی اور لکڑی کی منبت کاری کی صورت دیکھا ہے۔ یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ ہمارے لیے مجسمہ سازی کی اصطلاح اس قدر معتبر نہیں جتنی منبت کاری اور عمارتی نقاشی کی ہے۔ صوفیوں کی دھمال، ترکوں کے رقصِ درویش اور ہمارا علاقائی رقص یہ بات سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ ہمیں کوئی اپنی مرضی سے نہیں نچا سکتا۔ ہماری خاک میں جو دھنیں اور ہمارے خمیر میں جو ادائیں گھلی ہوئی ہیں، وہی ہمارے اظہاریوں کی جان ہیں اور ہم ان کے بغیر کبھی خوش اور مطمئن نہیں ہو سکتے۔ ہم ہنس ہیں تو کوّوں کی چال کیوں چلیں۔

جب تک مقامی موسم، حقیقی تمدنی ضرورتوں، روایتی فنونِ لطیفہ، تہذیب سے جڑے ادب اور مذہب کے تعامل سے ہمارا آرٹ، آرکی ٹیکچر، گرافک ڈیزائن، لباس، فلم اور ڈرامہ تشکیل نہیں پاتے اس وقت تک ہمیں احساسِ کمتری کی نفسیات گھیرے رکھے گی۔ مقتدر تہذیب اپنی زبان، جمالیات، اصطلاحات اور ظاہری صورت کو اگر ہر جگہ دیکھنا چاہتی ہے تو یہ بھی بالغ نظری نہیں کہ یوں دنیا جس تنوع کے بل پر خوبصورت ہے، وہ مر جائے گا۔ دوسری جانب معاشی اور سیاسی غلامی کا شکار قوموں کے تخلیقی اذہان بغیر دردِ دل کے اس چیلنج سے نبرد آزما نہیں ہو سکتے۔

ہم شناخت کے جس بحران کا شکار ہیں، اس میں اب ہمارے پاس ایک ہی علامت بچی ہے جس کے تحفظ کے لیے ہم آخری درجے کی درندگی کو بھی مقدس سمجھنے لگے ہیں۔ یہ نوبت اس وقت آتی ہے جب باقی تہذیبی علامتیں بے رنگ اور نا معتبر ہو جاتی ہیں۔

ہماری پاس گنگنانے کو اپنا کلام, گانے کے لیے اپنی دھن، بجانے کے لیے اپنے ساز، لکھنے کی لیے اپنے خط، کلک و روشنائی، اور مصور کرنے کو اپنے انداز ہیں۔ ہم اپنے گھر، عبادت گاہ اور ایوان اپنی ادا سے بنا سکتے ہیں۔ ہم شعور کی وسعت کے لیے زندگی کے تنوع پر نظر اور ہر روایت سے مستفید ہونے کا جوہر اپنے اندر رکھتے ہیں۔

کبھی اپنی آنکھ سے زندگی پہ نظر نہ کی
وہی زاویے کہ جو عام تھے، مجھے کھا گئے
(خورشید رضوی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخری بات
یہ تحریر فنون کے پس منظر میں لکھی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ علم، تحقیق اور ایجاد کے بہت سے پہلو مذکور نہیں۔ ان میدانوں کے دوست اپنے اپنے پس منظر میں جب اس دردِ دل کے ساتھ لکھنے لگیں گے تو بات مکمل ہوتی جائے گی

یہ باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جو سوسائٹی کے قلب میں کبھی اترے ہی نہیں۔ ان کی کم نصیبی نے انہیں اپنی مٹی کی مہک اور اپنے منظر کی دلربائی سے دور رکھا ہے۔ یہ سوال طنز نہیں دل گرفتگی کے ساتھ ہونا چاہے کہ ان کے ساتھ ایسا کیوں ہؤا؟

Facebook Comments Box
Artfeaturedmusicsajjad khalidآرٹادبخطاطیسجاد خالدمصوریموسیقی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
سجاد خالد

previous post
خوشبو میں لپٹی یاد —— شہزاد حنیف سجاول
next post
انقلاب و تبدیلی، ذرا سستے میں —– فرحان کامرانی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.