تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
سیاسیکالم

مُک مُکا کی سیاست اور تھر کی اجڑی بستی: ثمینہ رشید

by ویب ڈیسک 30/03/2017
written by ویب ڈیسک 30/03/2017
73

پاکستانی عوام کے لئیے پچھلے چند روز حیران کردینے والے قصوں سے بھرپور رہے۔ ہر روز ایک نئی ہلچل ہر روز ایک نیا قصہ۔

ایان علی کی دوبئی روانگی سے شرجیل میمن کی گرفتاری کے ڈرامے تک، سابق وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی کی رہائیی سے لے کے ڈاکٹر عاصم کی ضمانت تک ہر خبر حیران کردینے والی ہے۔ اور ایان علی کے قضیے میں تو ایک آفیسر جان بھی گنوا بیٹھا اور ایان علی کا کچھ نہ بگڑا۔ تماشے تو اور بھی ہوئیے جب شرجیل میمن کی تاج پوشی و گل پاشی کی گئی اور رینجرز پولیس کے ساتھ مل کر ان کی حفاظت کرتی نظر آئی اور چشمِ فلک ہی حیران رہ گئیی۔

Samina Rasheed

عام آدمی ہے کہ ضمانتوں اور رہائی کے اس گھناؤنے کھیل کہ پسِ منظر میں ہونے والی ڈیل سمجھنے کی کوشش میں ہے۔ تو دوسری طرف سندھ کے ایک سینئر سیاستدان کا یہ کہنا کہ ڈاکٹر عاصم کی ضمانت پہ رہائی انصاف کی فتح ہے سن کر ہر باشعور پاکستانی سوچ میں ہے کہ اربوں کی کرپشن کے الزام میں ضمانت پہ رہائی ملنا کون سے انصاف کی فتح ہے۔

لیکن کیا کیا جائیے جناب جب تک اربوں کا فراڈ اور عربوں کے آشیرواد حکمرانوں کے سروں پہ ہے یہ نظامِ عدل یونہی چلتا رہے گا۔ اور بے انصافیوں کی سنہری تاریخ یونہی رقم ہوتی رہے گی۔

دوسری طرف تھر کے باسی ایک مرتبہ پھر موت کے سائیے کی زَد میں ہیں۔ بھوک کی دیوی نے اجل کا رقص شروع کردیا ہے۔ پچھلے چند دنوں میں تھر کے بیس بچے زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ تھر کے باسیوں پہ ہی کیا موقوف تھر کے خوبصورت اور نایاب نسل کے موروں میں بھی رانی کھیت کی بیماری پھیلنے سے صرف چند دن میں سو سے زائید مور ہلاک ہوچکے ہیں۔ لیکن فی الحال تھر کسی مک مکا کی سیاست کے ثمرات سے محروم ہے۔ اور دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی نظر عنایت ابھی اس پہ نہیں پڑی ہے۔

مک مکا اور نظریہ ضرورت کی سیاست کا دور دورہ ہے۔ بلین روپے کے کیسوں میں لاکھوں روپے دے کر ضمانت کرانے والوں کا جشن منانا، تاج پوشی و گل پاشی کرنا واقعی تھر کے بھوک سے مرتے ہوئیے عوام سے زیادہ اہم ہے۔ حکومتی جماعت سندھ کی ترقی کے منصوبوں اور سنہری مستقبل کے وعدوں سے عوام کو لبھانے میں مشغول ہے تو دوسری طرف پیپلز پارٹی پنجاب میں بھی “سندھ کی طرح ترقی دلانے” کے دعوے کرنے میں مصروف۔

تو جناب دونوں بڑی جماعتیں ڈیل کرکے بظاہر دشنام اور الزام تراشی میں مصروف ہے اور اپنے اپنے مفادات کا تحفظ بھی پسِ پردہ جاری ہے۔ اب سندھ حکومت کی اس مبینہ ڈیل کے بدلے اگر پاناما پہ ڈیل بھی شامل ہے تو ملک کا مستقبل کیا ہونے والا ہے یہ پہیلی بُوجھنا کسی کے لئیے مشکل نہیں۔

جہاں عدل و انصاف پہ حکمران ڈیل کرنے لگیں، غریب کا انصاف اور امیر کا انصاف الگ الگ ہو وہاں ملک میں بھوک اور فقر کا ہی راج ہوا کرتا ہے۔ ایران کا ایک مشہور بادشاہ نوشیرواں بھی اپنی نا انصافی اور ظلم کے لئیے مشہور تھا۔ وزیروں اور مشیروں میں بھی خوشامد پرستوں کی کمی نہ تھی۔ لیکن جب اس نے بزرجمہر کو اپنا وزیرِ اعظم بنایا تو اس کی کایا ہی پلٹ گئی۔ تاریخ کا یہ بہت مشہور واقعہ ہے کہ ایک دن بادشاہ نوشیروان اور اس کا وزیر اعظم بزرجمہر کسی ویرانے میں درخت کے نیچے بیٹھے تھے۔ بزرجمہر کو خدا نے جانوروں کی بولیاں سمجھنے کی صلاحیت عطا کی تھی۔ اسی درخت پر دو الو آ کر بیٹھ گئے اور آپس میں بولنے لگے، جب کافی دیر تک وہ درخت پہ بیٹھے بولتے رہے تو نوشیروان نے بزرچمہر سے پوچھا کہ ”یہ پرندے کیا باتیں کر رہے ہیں؟”

اس نے کہا ”یہ دونوں آپس میں رشتہ کرنا چاہتے ہیں،لیکن بیٹی کا باپ لڑکے کے باپ سے دس ویران بستیاں مانگ رہا ہے۔” نوشیروان نے پوچھا ”پھر؟ آگے کہو۔”

بزرجمہر نے کہا ”وہ بات گستاخی کی ہے، اگر جان کی امان پاؤں تو عرض کروں۔”

نوشیروان نے جان بخشی کا وعدہ کیا تو وزیر نے کہا۔”دوسرا اُلّو کہہ رہا ہے کہ یہ کون سی بڑی بات ہے، جب تک نوشیروان اس ملک کا بادشاہ ہے، اجڑی بستیوں کی کیا کمی ہے۔ تم دس مانگ رہے ہو میں سو دینے کو تیار ہوں۔”

نوشیروان یہ سن کر لرزگیا، پرندوں کی بات کو غیبی تنبیہہ سمجھا اوراس دن سے ایسا بدلا اورعدل و انصاف کا ایسا بول بالا کیا کہ ”عادل” اس کے نام کا حصہ بن گیا اور تاریخ میں ”نوشیروان عادل” کے نام سے امر ہوگیا۔

آج تھرمیں جاری بھوک کی جنگ سے متاثر بچے اور عورتیں اور رانی کھیت کی بیماری کا شکار ہوکہ مرنے والے مور بھی اجڑی بستی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف شیخو پورہ جیسے شہر میں ٹرین میں لگی آگ کو بجھانے کے لئیے کوئی انتظام نہیں تھا اور اکیسویں صدی میں سگنل اور کراسنگ کے مسئلے سیاستدانوں اور حکمرانوں کی نظرِکرم کے منتظر ہوں۔ اور دوسری طرف حکمرانوں کے محلوں کے طرف جانے والی سڑکوں پہ اربوں خرچ کئے جاتے ہوں وہاں بستیاں اجڑ ہی جایا کرتی ہیں۔

لیکن نہ آج کوئی بزرجمہر ہے جو ظالم بادشاہ کو اسکی نا انصافیوں اور مظالم کا احساس دلا سکے۔ جو اقتدار کو بچانے کے داؤ پیچ میں مشغول حکمرانوں کے سامنے کلمۂ حق کہہ سکے اور نہ ہی نوشیرواں بادشاہ جس پہ اسطرح کی کسی نصیحت اثر انداز ہوسکے۔

تماشہ جاری تھا، جاری ہے اور جاری رہے گا۔

اور عوام جب تک سچ کو پہچاننا نہیں سیکھیں گے ہمیشہ تماشائی ہی رہے گے۔

 

Facebook Comments Box
تھرمک مکا سیاست
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ویب ڈیسک

Daanish webdesk.

previous post
کتنی تصویروں کے ساتھ آئی ہے شامِ زندگی – انور عباسی کی آپ بیتی حصہ 5
next post
سیاحت یا ٹورازم: صبیح گل

Related Posts

کراچی سے حافظ نعیم الرحمٰن کے نام کھلا...

06/07/2025

30/03/2025

30/03/2025

30/03/2025

30/03/2025

30/03/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.