تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

چونا منڈی: ابن فاضل

by دانش ڈیسک 25/10/2017
written by دانش ڈیسک 25/10/2017
95

آج صبح گھر سے دفترجاتے ہوئے حسبِ معمول زیرِ تکمیل مالٹا ریل منصوبہ کے قریب سے گذر ہوا۔ متنوع خیالات کے ہجوم سے لدے ذہن کے زیرِ انتظام خالی نگاہیں برسرِعادت ایک قطار میں ایستاده دیو ہیکل کنکریٹ کے ستونوں کا بے مقصد طواف کررہی تھیں کہ یکایک ایک مفلوک الحال محنت کش دکھائی دیا جو انتہائی خطرناک طریقے سے آہنی پائپوں سے بنی خاصی بلند چارپایہ پر چڑھا ستون پر سفیدی کر رہا تھا۔ ذہنی رو کسی قدر بہکی اور فقرہ موزوں ہوا ‘جس منصوبہ کے ایک ستون پر یہ مہربان چونا پھیر رہا ہے۔ اس منصوبہ کی مدد سے کچھ مہربان پوری قوم کو چونا لگارہے ہیں ‘۔ پھر کچھ غور کیا تو اندازہ ہوا کہ جو مہربان ستون پر چونا پھیررہا ہے وہ بھی دراصل اپنے آجر کو چونا ہی لگا رہا ہے کہ انتہائی بے دلی سے کام رہا ہے۔ اور جتنا چونا وہ ستون پر لگاتا تھا اس سے زیادہ دائیں بائیں اور راہگیروں پر گرا رہا تھا۔ چارپایہ کی بنیاد کے پاس اس رنگساز کے دوساتھی اکڑوں بیٹھے سیگریٹ ‘ٹھوک بجا ‘ رہے تھے۔ غالباََ وہ ان سگریٹوں کی مجوزہ ‘طاقتِ پرواز’ میں انتہائی مطلوب اضافہ کی خاطر ان میں مخصوص کیمائی ردوبدل فرما رہے تھے۔ یقیناً ان کی ‘نگاہِ رنگساز’ میں تخیل کی اڑانوں کو چارپایہ کی بلندی سے ہم مراتب کرنے کے لیے یہ وظیفہ ‘ہوا بازی’ ضروری رہا ہو گا۔ لیکن مجھ کوتاہ اندیش کو ایسا لگا کہ عین اوقاتِ کار میں یوں فارغ بیٹھ کروہ بھی اپنے مالک کو چونا ہی لگا رہےہیں۔ لیکن انکا مالک جو کہ ظاہر ہے مالٹا ریل منصوبہ کہ اصل ٹھیکیدار کمپنی کا ذیلی ٹھیکیدار تھا بھی تو اسی گروہِ چونا لگائی کا ہی کل پرزہ تھا کہ اسقدر عالمی معیار اور بے پناہ شہرت اور اہمیت کے حامل اس منصوبے پر اسقدر خطرناک طریقہ سے کام کروا کر مزدوروں اور کمپنی کو چونا لگا رہا تھا۔ اور کمپنی خود بھی تو سال بھر سے انتہائی برے طریقہ سے ماحولیاتی، حفاظتی اور مفادعامہ کے مروجہ ومجوزہ قوانینِ کار کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے، بےحد غیر پیشہ ورانہ، غیر ذمہ دارانہ اور غیر انسانی طریقہ سے کام کرتے ہوئے عوام اور سرکار کو اربوں روپے کا چونا لگا چکی ہے۔

ادھر پاکستان کے عمومی اخلاقی ڈھانچے اور پیشہ ورانہ ایمانداری کے معیار کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا چنداں دشوار نہیں کہ کمپنی کے ملازمین بطور خاص امورِ خریداری، جانچ پڑتال اور سٹورز وغیرہ سے متعلق عملہ اور کمپنی کی کارکردگی کی جانچ پر متعین سرکاری دفاتر کا عملہ کس کس انداز سے ہمہ وقت کمپنی کو چونا لگانے میں مصروف ہوں گے۔

سوچ کا دائرہ تھوڑا اور وسیع کیا تو اندازہ ہوا کہ ہم تو سب ہی بحیثیت مجموعی اس چونا لگاؤ چکر کی کڑیاں ہیں۔ ذرا غور کیجئے تو آپ کو ہر شخص، ہر وقت ہر سطح پر کسی نہ کسی کو چونا لگاتا، اس کی بابت منصوبہ بندی کرتا یا اس کی حسرت کرتا دکھائی دے گا۔ اولاد، والدین کو، شاگرد اساتذہ کو، اجیر آجر کو، آجر گاہک کو، گاہک دکاندار کو، ڈاکٹر مریض کو غرض یہ کہ ہر ایک کسی دوسرے کو چونا لگا رہا ہے۔ مجھے تو وطنِ عزیز ایک دم چونا منڈی لگنے لگا ہے۔ یقین کریں اتنا تو فلمی ہیروئنیں سرخی، پاؤڈر اور غازہ نہیں لگاتیں جتنا ہم دوسروں کو چونا لگاتے ہیں، اتنا تو سیاستدان ایک دوسرے پر بدعنوانی کے الزام نہیں لگاتے جتنا ہم چونا لگاتے ہیں، اتنا تو ہمارے نوجوان دل نہیں لگاتے، اتنا تو سرکار عوام کو دیوار سے نہیں لگاتی جتنا ہم لوگوں کو چونا لگاتے ہیں، اتنا تو گورے ترقی کے لیے ایڑی چوٹی کا زور نہیں لگاتے۔ اتنےتو کے پی کے والے درخت نہیں لگاتے۔ اتنے تو ڈاکٹر مریضوں کو ٹیکے نہیں لگاتے۔ جتنا ہم چونا لگاتے ہیں۔ اتنی تو بس کنڈکٹر سواریوں کو آوازیں نہیں لگاتے، اتنے تو ٹیلیوژن والے ڈراموں کے درمیان اشتہار نہیں لگاتے، اتنے تو ویرات کوہلی میدان میں چوکے نہیں لگاتے جتنا ہم بحیثیت قوم ایک دوسرے کو چونا لگاتے ہیں۔ یقین کریں کہ مجھے پان فروش صرف اس لئے پسند ہے کہ پورے ملک میں وہ واحد شخص ہے جو اجازت لیکر چونا لگاتا ہے۔

جس طرح دور جدید میں چونا پھیرنے کے جدید طریقے اور نام وضع کیے گئے ہیں مثال کے طور پر دسٹمپر کرنا، میٹ انیمل، ایملشن، یا ویدر شیلڈ لگانا وغیرہ۔ اسی طرح ہم نے ایک دوسرے کو چونا لگانے کے بھی جدید طریقے وضع کیے ہیں۔ دیکھیے اگر لباس کے نام پر چونا لگانا ہو تو کہتے ہیں برانڈ سٹور۔ اگر اس بھی زیادہ لگانا ہو تو کہتے ہیں ڈیزائنرز ڈریس۔ اگر خوبصورتی کے نام پر لگانا ہو تو پارلرز، بیوٹی کلینکس، بیوٹی تھیراپی، لیزر ٹریٹمنٹ اور اینٹی ایجنگ وغیرہ کے نام استعمال ہوتے ہیں۔ تعلیم کے نام پر چونا لگانا مقصود ہو تو ماؤنٹیسوری، کنڈرگارٹن، لائیسیم، ایجوکیشن سسٹمز، ایکسچینج پروگرامز، فارن سلیبس، فارن یونیورسٹیز، فارن ڈگریز، پری کلاسز، اور اینٹری ٹیسٹ سیشنز وغیرہ کے نام بہترین نتائج دکھاتے ہیں۔ اسی طرح خوراک کے نام پر بھی۔ اٹالین۔ میکسیکن، تھائی۔ پاسٹا اور بوفے وغیرہ کے نام استعمال کرتے ہوئے باآسانی شوقین گاہکوں کو چونا لگایا جا سکتا ہے۔

عزیزانِ گرامی اپنی مصروف ترین زندگی میں سے چند ساعتیں نکال کر میرے ساتھ غور فرمایئے کہ ہم ایسا کیوں کرتے ہیں۔ فقط اس لیے نا کہ ہمیں توقع یا معمول سے ہٹ کر کچھ آسان اور فالتو رقم دستیاب ہو جائے جس سے ہمارے کچھ معاملات درست ہو جائیں۔ اب تھوڑی دیر کے لئے فرض کرتے ہیں کہ ہمیں حاکمِ وقت یقین دلا دے اگر ہم لوگوں کو چونا نہ لگائیں اور بدلہ میں ہمارے سب معاملات تاحیات درست رکھنے کی ذمہ داری اس کی تو کیا ہم فوراً آمادہ نہ ہو جائیں گے۔ کہ بھئی اس سے اچھا کیا ہے کہ جس معاملہ کیلیے برائی پر آمادہ تھے وہ کام بھی ہو گیا اور برائی سے بھی بچے رہے۔ تو پھر آپ کو نوید ہو کہ حاکمِ وقت نہیں حاکموں کا حاکم، احکم الحٰکمین، الرحم الرٰحمین آپ کو گارنٹی دے رہا ہے دیکھیئے “یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ قُوۡلُوۡا قَوۡلًا سَدِیۡدًا ۰اے ایمان والو! اللہ سے ڈرا کرو اور صحیح اور سیدھی بات کہا کرو يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا وہ تمہارے لئے تمہارے (سارے) اعمال درست فرما دے گا اور تمہارے گناہ تمہارے لئے بخش دے گا، اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتا ہے تو بیشک وہ بڑی کامیابی سے سرفراز ہوا۔ جی دیکھیے کیسی گارنٹی ہے۔ کہ ہمیں صرف چونا لگانے سے پرہیز کرنا ہے، اور سیدھی سچی اور کھری بات کرنی ہے اور بدلہ میں اللہ کریم نہ صرف سارے معاملات درست فرما دیں گے بلکہ بونس میں سارے گناہ بھی معاف۔ اللہ اکبر۔ اللہ کریم عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

Facebook Comments Box
اصلاح معاشرہپاکستانی سماجچونادھوکہسماجسماجی برائیسماجی رویےسماجی عوارضسماجی مسائلمعاشرتی مسائلمعاشرہ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
فتح محمد ملک صاحب سے سیاسی، علمی، سماجی اور تاریخی گفتگو (آخری حصہ)
next post
ہم سب بھی ان کے کوے ، گھوڑے اور چوہے ہیں۔ محمد خان قلندر

Related Posts

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

فکنگ بِچ —– افسانہ

27/03/2026

07/12/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.