تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

ہم سب بھی ان کے کوے ، گھوڑے اور چوہے ہیں۔ محمد خان قلندر

by دانش ڈیسک 25/10/2017
written by دانش ڈیسک 25/10/2017
75

کہاوت سُنتے آئے ہیں کہ زلزلے جیسی کسی بھی غیبی آفت کا پرندوں میں کوؤں کو، چوپایوں میں گھوڑے اور حشرات میں چوہؤں کو پہلے ہی پتہ چل جاتا ہے، اور کوے کائیں کائیں کرتے ہیں، گھوڑے رسی تڑوانے کو ہنہناتے ہیں اور چوہے بل میں مزید اندر گھسنے کی کرتے ہیں۔

پنامائی نااہلی کی آفت جب نون لیگی قیادت پر ابھی ٹوٹی بھی نہی تھی کہ اس کے درجنوں کوؤں نے ٹی وی پر کائیں کائیں کا شور مچانا شروع کر دیا تھا، جس میں ایک ہی بے سُرے راگ میں فوج، عدلیہ، اور عمران پر تُو تُکار ابھی تک کئے جا رہے ہیں اگرچہ اب ان کی تعداد کچھ کم ہو گئ ہے۔

غیر فعال چوہے بلوں سے جتنی مٹی مزید کھود سکتے ہیں وہ اس میں مصروف ہیں، گھوڑوں کا حال تا حال بہت بُرا ہے، وہ تب سے رسی تڑانے کی کوشش میں ہنہنا بھی رہے ہیں، لیکن وہ چونکہ کسی اور تھان کے مرہون منت ہوئے بغیر، اور کسی کے ہاتھوں رسی پکڑے جانے تک حرکت نہی کر سکتے، پس مجبور ہیں۔نواز شریف کو داد دینی پڑتی ہے کہ وہ ان سب کی ان فطری صلاحیتوں سے واقف نکلے اور ان کا تدارک کئے ہوئے ہیں۔

میاں برادران کا حکمرانی کا دورانیہ اور اور تجربہ چاروں ملٹری ڈکٹیٹرز کے اجتماعی ادوار سے بھی زیادہ ہے۔

ہاں اب ان سب کا مستقبل میاں صاحب کے آخری حربے سے بندھا ہے۔
میاں برادران کا حکمرانی کا دورانیہ اور اور تجربہ چاروں ملٹری ڈکٹیٹرز کے اجتماعی ادوار سے بھی زیادہ ہے، بڑے میاں دو بار وزیراعلی رہ چکے ہیں اور تین بار وزیراعظم ہاؤس سے نکالے جانے کا فخر بھی ان کے پاس ہے۔ چھوٹے میاں دوسری دفعہ، اور تیسری مدت کے لئے وزیر اعلی پنجاب ہیں، ان کے کریڈٹ پے ماڈل ٹاؤن، کرنل شجاع خان زادہ اور سلیمان تاثیر کی شہادتیں ہیں، اور اقتدار پر گرفت مضبوط رکھنے میں ان کا کوئی ثانی بھی نہیں۔ بکاؤ گھوڑوں کے سودے میں یہ ہی رکاوٹ ہیں،
چرند، پرند اور حشرات تو لرزہ خیزی پیدا کئے ہوئے ہیں، لیکن بدقسمتی سے پی ایم سیکرٹیریٹ میں ان کی کاشن اسٹک گم تو نہی ہوئ ٹوٹ گئ ہے، اس لئے جو دُھن وہ گا رہے ہیں وہ آؤٹ آف ٹیون ہے۔ اس میں ٹاپ کی سُر سرود پر بٹیا رانی والی ہونی چاہیئے لیکن وہ بیٹھ ہی نہی رہی، تجربہ ناک میاں برادران نے ایک نیا ری مکس تیار کر لیا ہے، پرانے جاگیردار سیاست کار گھرانے یہ کلاسیکل راگ جانتے تھے، کہ ہارنے کے سوگ کا راگ اور جیتنے کی سمی کی دھن دونوں ان کے گھرانے سے ہی ہوں، یہی موسیقی اب آپ سُنیں گے۔

نُون لیگ میں سے نُون لیگ کی نئی سُر نکلے گی، مطلب یہ ہے کہ اگر بڑے میاں صاحب مسند اقتدار سے چمٹے رہے تو چھوٹے میاں صاحب حزب اختلاف ہوں گے، اور اگر چھوٹے میاں صاحب، اور جو عین ممکن ہے منظور اقتدار ہو گئے تو راجکماری
ان کے مخالف برسر پیکار ہوں گی، چت بھی ان کی پٹ بھی ان کی۔

پاکستان میں اب اقتدار میاں محمد شریف مرحوم کی اہل بیت کی امانت ہے۔ رائے ونڈ محلات سے چلے یا ماڈل ٹاؤن ولاز سے، اقتدار پنجاب میں اور اسکی وجہ سے مرکز میں اس خاندان کا حق ہے۔

آخری حربہ یہ نظر آ رہا ہے کہ شہباز شریف کو مقتدر ادارے نواز شریف کی جگہ قبول کر لیں۔

تفنن میں کی گئ گزارشات کا مقصد اس ہولناک حقیقت کو آشکارا کرنا ہے کہ ہم عوام حکمران طبقوں کی پاور گیم میں
کوئ حیثیت ہی نہی رکھتے سوائے اس کے کہ ان کے اشارہ ابرُو پے ووٹ دے آئیں، سڑکوں پے نکلیں، نعرے لگائیں اور
انکی جھوٹی اور نمائشی تقریبات پے واہ واہ کریں، نواز شریف کو اپنے گھناؤنے مالیاتی جرائم کا پتہ تھا، اس احساس جرم سے مجبور ہو کر اس نے اسمبلی میں اور قوم سے خطاب میں خاندانی اور آبائ امارت اور ساتھ ہی ان پر ہوئے مظالم کی رام کہانی سنائی۔

عدالت کو گمراہ کرنے اور چکمہ دینے کی کوشش تو کی لیکن اس ممکنہ ناکامی سے نپٹنے کے لئے فوج اور عدلیہ کو اپنے زیر دست رکھنے کی مہم جوئی بھی ساتھ ساتھ جاری رکھی، افواج کے خلاف بھارتی اور امریکی بیانیہ اپنانے کی کوشش اب بھی جاری ہے۔

عدلیہ کی کردار کشی بھی، اور پس پردہ ڈیل کی شرائط بھی طے ہو رہی ہیں، آخری حربہ یہ نظر آ رہا ہے کہ شہباز شریف کو مقتدر ادارے نواز شریف کی جگہ قبول کر لیں۔ ہمیں خوش کرنے کے لئے ہمارے ووٹ کی حرمت کا قصیدہ اب اور زور شور سے پڑھا جاتا رہے گا۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں وسیع تر عوامی مفاد میں کوئی نہ کوئی این آر او زیر تالیف رہتا ہے۔
حالانکہ ہم تو سب بس اللہ کے حوالے کئے جا چکے ہیں، اصل کھیل حکومت اور طاقت والے کھلاڑی کھیل رہے ہیں، ہم سب بھی ان کے کوے، گھوڑے اور چوہے ہیں ۔

Facebook Comments Box
featuredسیاسی منظرن لیگ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
چونا منڈی: ابن فاضل
next post
ہالی ووڈ کی تاریخ کا سب سے بڑا جنسی تنازعہ : خرم سہیل

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.