تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
سیاسیکالم

حکمران طبقہ کی داخلی کشمکش: سلمان عابد

by دانش ڈیسک 15/07/2017
written by دانش ڈیسک 15/07/2017
57

کنونشن مسلم لیگ سے لے کر آج کی نواز شریف کی مسلم لیگ کا ہمیشہ سے بحران اقتدار کی سیاست رہا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جب بھی مسلم لیگ جو اقتدار میں ہوتی ہے اپنے بحران کے نتیجے میں تقسیم بھی ہوتی ہے۔ ایک مسئلہ مسلم لیگ کے مزاج کا ہے اور دوسرا مسئلہ ان پس پردہ قوتوں کا بھی ہے جو مسلم لیگ کو ہمیشہ اپنے مفادات کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرتی ہے۔ حالیہ مسلم لیگ کے سربراہ اور وزیر اعظم جو پانامہ اور اس کے نتیجے میں بننے والی جے آئی ٹی کے نتائج پر سنگین داخلی بحران کا شکار نظر آتی ہے۔ اگرچہ دعوی کیا جارہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نواز شریف کی قیادت میں متحد ہے، لیکن عملا پارٹی کئی حصوں، فریقوں اور مختلف حکمت عملیوں میں تقسیم نظر آتی ہے۔
وزیر داخلہ چوہدری نثار نواز شریف کے قریبی اور وفادار ساتھیوں میں سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی ایک حیثیت مسلم لیگ، نواز شریف اور داخلی بڑی طاقتوں یا اسٹیبلشمنٹ کے درمیان Bridgeکی بھی ہے۔ جب بھی نوازشریف کی سیاست کو اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تو وزیر داخلہ ہی اس میں بڑے ضامن کے طور پر سامنے آئے۔ لیکن موجودہ بحران میں وزیر داخلہ چوہدری نثار اس بار اگرچہ نواز شریف کے ساتھ ہیں، لیکن ان کی سیاسی حکمت عملیوں سے بہت زیادہ نالاں نظر آتے ہیں۔ اس کا برملا اظہار انہوں نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا او رکہا کہ وزیر اعظم صاحب یہ سارا بحران آپ کا اپنا پیدا کردہ ہے او را س کی وجہ آپ کے نادان وزیر اور مشیر ہیں جنہوں نے آپ کو اداروں کے ساتھ ٹکراو کی سیاست میں بری طرح الجھا دیا ہے۔ ان کے بقول اب آپ کو کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے۔ اس پر وزیر اعظم بھی وزیر داخلہ کے اس حالیہ رویہ سے خوش نہیں اور خود کلثوم نواز شریف بھی سمجھتی ہے کہ اس بحران میں چوہدری نثار نواز شریف سے زیادہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کھڑے ہیں۔

 

اس بحران میں وزیر اعظم کی صدارت میں ہونے والے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وٖزیر داخلہ کی عدم شرکت کو بھی مسلم لیگ کے داخلی بحران میں اہم سمجھی جارہی ہے۔ اصل میں اس وقت مسلم لیگ نواز دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ہے۔ اول کہ ہمیں ریاستی اداروں سے کسی بھی قسم کی ٹکراو کی سیاست سے گریز کرنا چاہیے او راپنی جماعت او رحکومت کو بچا کر اس موجود ہ بحران سے نکلنا چاہیے۔ جو لوگ اس وقت وفاقی وزیر کی حیثیت سے عدلیہ یا فوج پر تنقید کررہے ہیں یہ طبقہ ان کو پسند نہیں کرتا او ران کے بقول اس سے پارٹی کے مفادات کو نقصان پہنچے گا، لیکن اس مسئلہ پر پارٹی کا سخت گیر طبقہ توجہ نہیں دیتا، اس طبقہ کی قیادت چوہدری نثار اور شہباز شریف کررہے ہیں۔
دوسرا طبقہ خواجہ سعد رفیق، خواجہ آصف، احسن اقبال، مشاہد اللہ، پرویز رشید جیسے لوگ نواز شریف کو اس صورتحال میں عدلیہ اور فوج کے خلاف مزاحمت کا مشورہ دیتے ہیں۔ ان کے بقول جو حالیہ بحران ہے وہ اسٹیبلیشمنٹ کا پیدا کردہ ہے او رعمران خان ان کا ہتھیار ہے، او ر اسی طبقہ کے بقول فوج عدلیہ کو ڈھال بنا کر جوڈیشل مارشل لگانا چاہتی ہے۔ جبکہ مسلم لیگ کے جو بیشتر ارکان اسمبلی ہیں ان میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو پہلے جنرل مشرف کی حکومت کے ساتھ بھی مسلم لیگ (ق) کے ساتھ کھڑے تھے، اس لیے ان کا موقف ہے کہ ہمیں کیونکہ 2018کے انتخابات میں جانا ہے تو ہمیں اسٹیبلشمنٹ سے مزاحمت انتخابات میں شکست کے طور پر دیکھنے کو ملے گی۔ اگر نواز شریف عدالت سے نااہل ہوتے ہیںاو رجب اداروں سے ٹکراو کا منظر عروج پر ہوگا تو مسلم لیگ میں شامل بیشتر ارکان اسمبلی نواز شریف کے ساتھ نہیں کھڑے ہونگے۔ یہ منظر نواز شریف کے ساتھ دو تہائی اکثریت کے باوجود 1999میں ہوچکا ہے جب ان کے بیشتر ساتھی ان کو برے وقت میں چھوڑ گئے تھے، اگرچہ اس کی وجہ خود وہ بھی تو جو جنرل مشرف کے ساتھ ایک خفیہ ڈیل کے تحت جدہ چلے گئے تھے۔ اب بھی نواز شریف جس بڑے بحران سے گزر رہے ہیں، ان کے لیے مشکل ہوگا کہ ان کے ساتھی ان کے ساتھ اس برے حالات میں کھڑے ہوکر اپنی سیاسی استقامت کا مظاہرہ کریں۔ نجی مجالس میں کئی مسلم لیگی نواز شریف اور بعض ساتھیوں کے جارحانہ رویہ اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکراو پر پریشان ہیں او راس کا برملا اظہا رکرتے ہیں۔ ان کے بقول بلاوجہ ہمیں مشکل میں ڈالا جارہا ہے او ریہ متبادل سیاسی آپشن پر بھی غور کررہے ہیں او ران کو لگتا ہے کہ یہ کھیل ان کو سیاسی طور پر فائدہ نہیں دے سکے گا۔ کئی لوگ تحریک انصاف سے رابطوں میں بھی ہیں او ر جیسے ہی بحران بڑھا گا وہ نواز شریف کے ساتھ نہیں ہونگے۔

نواز شریف کو دو باتیں سمجھنی ہونگی کہ چوہدری نثار اور دیگر مصالحت پسندی کی سیاست کرنے والے اہم ہیں ان کو نظرانداز کرکے نواز شریف اپنی اس ڈوبتی کشتی کو نہیں بچاسکیں گے۔ اس طبقہ کے ساتھ نواز شریف کو مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا لیکن اس کے لیے وزیر اعظم کو اپنی اداروں کے ساتھ ٹکراو کی پالیسی سے گریز کرنا چاہیے۔

دوئم نواز شریف کو سمجھنا چاہیے اس بار ان پر مسئلہ سیاسی نہیںبلکہ کرپشن، بدعنوانی، اور بے ضابطگیوں کا ہے جس میں ان کا اور ان کے خاندان پر جے آئی ٹی کے لگائے تحقیقاتی سنگین الزامات ہیں۔ اس لیے ان الزامات کو بنیاد بنا کر نواز شریف کوئی بڑی مزاحمت پیدا نہیں کرسکیں گے۔ وہ یہ مزاحمت جنرل مشرف کے دور میں بھی نہیں کرسکے تھے، لیکن اب ان کی سیاسی صورتحال ان کے لیے او رجماعت کے لیے ایک بوجھ کی صورت میں ہے۔ اس بوجھ کی صورت میں وہ عوامی مزاحمت پیدا کرسکیں، مشکل ہوگا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ نواز شریف اس قانونی اور مالی کرپشن کی اس جنگ کو سیاسی جنگ میں تبدیل کرکے اپنے خلاف ہونے والا سارا ملبہ فوج اور عدلیہ پر ڈال کر اپنا دامن بچانا چاہتے ہیں، حالانکہ ان کے خلاف جو ساری سازشیں ہورہی ہیں وہ محض اسٹیبلشمنٹ کی نہیں بلکہ ان کی اپنی او ران کے سخت گیر ساتھیوں کی پیدا کردہ ہے، اس لیے مسلم لیگ تقسیم ہوتی ہے یا نواز شریف کا اقتدار ختم ہوتا ہے، تو اس کی بڑی ذمہ داری خود نواز شریف پر بھی ہوگی۔ بہتر ہوگا کہ نواز شریف اس مسلم لیگ کو بچائیں، وگرنہ مسلم لیگ کا کھیل جو ماضی میں نئی مسلم لیگ کی تشکیل کی صورت میں ہوتا رہا ہے وہ دوبارہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس لیے نواز شریف اپنے بیشتر ساتھیوں کو کسی مشکل میں نہ ڈالیں، کیونکہ مسلم لیگ بنیادی طور پر مزاحمت کی جماعت نہیں بلکہ مفاہمت کے ساتھ اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر اقتدار کی سیاست آج بھی کرتی ہے اور کل بھی کرتی رہے گی۔

Facebook Comments Box
پانام لیکسسیاستنواز شریفوزیر اعظم نواز شریف
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
سیمولیٹڈ “پاکستانی موسم بہار”: نعمان علی خان
next post
طارق بلوچ صحرائی کی افسانہ نگاری

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

کراچی سے حافظ نعیم الرحمٰن کے نام کھلا...

06/07/2025

30/03/2025

30/03/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.