تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترین

طاقت کا نشہ، جہاد اور پانامہ لیکس: مجاہد حسین

by مجاہد حسین 12/07/2017
written by مجاہد حسین 12/07/2017
105

پاک افغان بارڈر پر واقع البدر کیمپ سے فوجی تربیت حاصل کرنے کے بعد جب ہمیں کابل بھیجا گیا تو ایک رات خوست میں گزارنے کے بعد ہم ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور قدم قدم پر موجود فوجی چوکیوں سے گزرتے سیدھے چہارآسیاب پہنچے جو کہ کابل سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایک پرسکون قصبہ تھا. گلبدین حکمت یار کا ہیڈکوارٹر بھی یہیں تھا۔ وہاں چند دن رہنے کے بعد ہمیں کابل بھیج دیا گیا جس پر قبضے کے لئے حکمت یار اور احمد شاہ مسعود کے جنگجوؤں کے درمیان لڑائی جاری تھی۔

کابل شہر کا جو حصہ ہمارے قبضے میں تھا وہ تباہی و ویرانی کی داستان سنا رہا تھا۔ فضاؤں میں بارود کی بو رچی ہوئی تھی اور فرشتہ اجل اپنے چاروں اور بکھرے شکار دیکھ کر رقص کناں تھا۔ اس علاقےمیں کوئی بھی مکان سلامت نہیں تھا اور ہر طرف اسلحہ بردار جنگجوؤں کا راج تھا۔ اس کے برعکس جو حصہ احمد شاہ مسعود کی عملداری میں تھا وہاں معمولات زندگی جاری تھے. ادھر کے رہائشی روزگار کے سلسلے میں دیگر قصبوں میں جانے کے لئے ہمارے زیرقبضہ علاقوں سے گزرا کرتے تھے. اکثریت لوکل بسوں میں سفر کرتی تھی لیکن موٹر سائیکل اور سائیکل پر بھی آمدورفت جاری رہتی تھی۔

ایک دن ہمارے کمانڈر کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ چہارآسیاب کا چکر لگا آئے۔ چونکہ وہاں ہمارے پاس سواری کوئی نہیں تھی اس لئے مجھے ساتھ لے کر وہ سڑک کے کنارے کھڑا ہو گیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک افغانی اپنی موٹر سائیکل سے گزرا تو کمانڈر نے اسے گن پوائنٹ پہ روک لیا. اسے پشتو میں کچھ کہا اور پھر ہم دونوں اس کے پیچھے بیٹھ کر اپنے علاقے میں واپس آ گئے۔ کمانڈر نے اس شخص کے ہاتھ میں بیلچہ تھما کر حکم دیا کہ اس کی واپسی تک وہ پتھریلی زمین کھودتا  رہے اور  خود اس کی موٹرسائکل پر چہارآسیاب روانہ ہو گیا۔ جب شام کو اس کی واپسی ہوئی تو وہ شخص خوف اور تھکن سے بے حال ہو چکا تھا۔  اسے کچھ علم نہیں تھا کہ اس کا مستقبل کیا ہے۔ کیا اسے گولی مار دی جائے گی، قید خانے میں ڈال دیا جائے گا یا پھر مزید کئی ہفتے وہ زمین کھودنے پر معمور رہے گا۔ کمانڈر ابھی اسے جانے کی اجازت دینے پر تیار نہیں تھا۔ تاہم ہماری منت سماجت پر اسے اپنی سواری سمیت جانے کی اجازت مل گئی۔

وہاں موجود جنگجو طاقت کے اس لامحدود نشے میں مست تھے۔ یہ ایسا مدہوش کر دینے والا مزا تھا جسے صرف وہی آدمی سمجھ سکتا ہے جس نے جنگ زدہ علاقے میں وقت گزارا ہو۔ اس رزم گاہ میں ایسے بہت سے لوگ ملے جو طویل عرصے سے وہاں موجود تھے۔ ان سے گفتگو کے دوران اندازہ ہوا کہ اگرچہ وہ خود یہی سمجھتے ہیں کہ جذبہ جہاد انہیں وہاں سے نہیں جانے دیتا لیکن حقیقت میں یہ طاقت کا مزا تھا جس کی وجہ سے وہ ایسی خطرناک جگہ میں موجود تھے جہاں زندگی مختصر اور موت ارزاں تھی۔

اس دوران یہ جنگجو جب بھی اپنے گھر گئے، بہت بدمزہ ہو کر واپس آئے کیونکہ پاکستانی حدود میں داخل ہوتے ہی ان کی تمام تر طاقت چھن جاتی تھی۔ وہ ایک دم سے ایسے علاقے میں پہنچ جاتے تھے جہاں ٹریفک پولیس کا ایک عام اہلکار ان کا چالان کر سکتا تھا اور ایک معمولی کلرک بھی انہیں نخوت بھرے لہجے میں جھڑک دیتا تھا۔ اسی لئے وہ چند ہی روز میں اکتا کر واپس محاذ جنگ پر پہنچ جاتے جہاں طاقت کا نشہ پورا کرنے کے تمام لوازمات مہیا تھے۔ کابل کی اجل زدہ سرزمین پر قدم دھرتے ہی تہذیب کی وہ کمزور پرت اتر جاتی تھی جو ایک مہذب دنیا میں انسانوں کو حدود میں مقید کئے رکھتی ہے۔

کابل کا جو علاقہ ہماری دسترس میں تھا، وہ پاکستان کے ایک چھوٹے سے دیہات کے برابر ہو گا۔ جب اتنی معمولی جگہ پر طاقت کا اختیار انسان کو موت کے خوف سے آزاد کردیتا ہے تو ان حکمرانوں کے ساتھ کیا ہوتا ہو گا جو کروڑوں لوگ اور لاکھوں مربع میل کے علاقے پر حکومت کرتے ہیں؟. tattedbrat97 halle berry nude TheTattedBrat

انسانی تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کی اس چاہ میں بارہا اپنے بھائیوں، بہنوں اور حتی کہ اولاد کو بھی قتل کیا گیا۔ جس طرح ہیروئین کا نشئی اپنی طلب پوری کرنے کے لئے ہر اخلاقی حد عبور کر سکتا ہے اسی طرح اقتدار کی چاہ سے مغلوب ایک بظاہر مہذب نظر آنے والے شخص کو بھی غاروں کے دور والے جنگلی انسان میں تبدیل ہوتے دیر نہیں لگتی۔

پاکستان میں پانامہ لیکس سے پیدا ہونے والی صورتحال کو اس نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو ساری گتھیاں سلجھ جاتی ہے۔ شاہی خاندان مسلسل جھوٹ بول کر نہ صرف اپنے عوام کے سامنے رسوا ہو رہا ہے بلکہ پوری دنیا میں یہ ایک مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔ پچھلے ایک سال کے دوران جس طرح پاکستانی قوم نے ان کے بدلتے بیانات، کہہ مکرنیاں، غلط بیانیاں اور جھوٹے وعدے دیکھے ہیں اس کے بعد شاہی خاندان کا وقار پوری طرح تباہ ہو چکا ہے لیکن ان کا فریب زدہ ذہن آج بھی انہیں یقین دلا رہا ہے کہ وہ اس بحران سے نکل آئیں گے۔

شریف خاندان کا معاملہ اس لئے زیادہ سنگین ہے کہ یہاں طاقت کے ساتھ ساتھ دولت کا نشہ بھی شامل ہو گیا ہے اور اس دوآتشہ طلب نے ایک قیامت برپا کی ہوئی ہے۔ ان کی اپنی جماعت کو شدید سیاسی نقصان ہو رہا ہے، حکومتی مشینری جام ہو چکی ہے، معیشت پر کنٹرول کمزور پڑ گیا ہے لیکن وہ رخصت ہونے سے انکاری ہیں۔ یہ بات یقینی ہے کہ جب تک مسلم لیگ نون کے اندر سے بغاوت کی صدائیں نہیں اٹھیں گی، یہ شاہی خاندان ہوش میں نہیں آئے گا۔ گہرے نشے میں مخمور انسان حقائق کی دنیا سے کٹ جاتا ہے۔ اسے صرف اپنے قریبی لوگ ہی جھنجھوڑ کر ہوش میں لا سکتے ہیں۔

ان کا رخصت ہونا تو نوشتہ دیوار ہے، دیکھنا فقط یہ ہے کہ ملک کو اور مسلم لیگ نون کو کتنا نقصان پہنچنے کے بعد ان کے رفقا جرات اظہار پر تیار ہوں گے اور احتجاج کی صدا بلند کر کے اس بحران کا خاتمہ کریں گے۔

Facebook Comments Box
پانامہ کیسجے آئی ٹینوازشریف
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
مجاہد حسین

مجاہد حسین خٹک کو سچائی کی تلاش بیقرار رکھتی ہے۔ تاریخ اور سماجی علوم میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اعتدال کا تعلق رویوں سے ہے، فکر کی دنیا میں اہمیت صرف تخلیقیت کی ہے۔ اسی لئے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مختلف موضوعات کا جائزہ لیتے ہوئے سوچ کے نئے زاوئیے تلاش کئے جائیں۔

previous post
فونٹ کا جھگڑا: کیلبری کے خالق لوکس ڈی گروٹ کیا کہتے ہیں؟
next post
کیسے کیسے لوگ ہمارا ملک چلانے آجاتے ہیں۔

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.