تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
سیاسیکالم

کون کس کے خلاف سازش کررہا ہے؟ سلمان عابد

by دانش ڈیسک 08/07/2017
written by دانش ڈیسک 08/07/2017
78

حکومت او روزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے جو مقدمہ پانامہ اور جے آئی ٹی کی تفتیش کے تناظر میں اختیار کیا جارہا ہے اس کا بنیادی نقطہ داخلی اور خارجی سازشی تھیوری ہے۔ اول یہ تاثر مضبوط انداز میں دیا جارہا ہے کہ اصل میں پانامہ مقدمہ کرپشن، بدعنوانی یا بے ضابطگیو ں کا نہیں بلکہ ماضی کی سیاسی تاریخ کی طرح اسٹیبلشمنٹ کے کھیل کا حصہ ہے۔ دوئم جے آئی ٹی پر جو تنقید کی جارہی ہے اس کا اصل ٹارگٹ عدلیہ اور ججز ہیں، کیونکہ ان کے بقول اس بار اسٹیبلشمنٹ خود براہ راست فریق بننے کی بجائے ’’ عدلیہ کو بطور ہتھیار‘‘ استعمال کررہی ہے۔ سوئم یہ سارا کھیل حکومت کے مخالفین بالخصوص عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کٹھ پتلی کا کھیل ہے جس کا مقصد سیاسی او رجمہوری نظام کی بساط کو لپیٹ کر اپنی مرضی کا سیاسی دربار یا نظام سجانا ہے۔ چہارم اب یہ منطق بھی دی جارہی ہے کہ اس کھیل میں عالمی اسٹیبلشمنٹ بھی ہماری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ شریک کار ہے او راس میں سی پیک، نظریہ پاکستان اور قومی سلامتی اور سیکورٹی کے خلاف سازش کو بھی موضوع بحث بنایا جارہا ہے۔ پنجم اس وقت احتساب نہیں بلکہ ایک خاندان کو ٹارگٹ کرکے دیوار سے لگانا مقصود ہے۔
اس سازشی مقدمہ کو بنا کر وزیر اعظم نواز شریف او ران کے ساتھی سیاسی طور پر پانامہ کے مقدمہ کو قانونی جنگ سے نکال کر سیاسی مقدمہ میں الجھا کر متنازعہ یا سیاس شہید بننے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اب پانامہ کے معاملے میں ساری توجہ اسی سیاسی سکورنگ سے جڑی ہوئی ہے۔ وزیر اعظم کا خیال ہے کہ یہ ہی عمل ان کو سیاسی طور پر زندہ رکھ سکتا ہے۔ اگر فیصلہ وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف آتا ہے تو کہا جائے گا ہم تو پہلے ہی کہہ رہے تھے کہ سب کچھ ہمارے خلاف سازش ہے۔ لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی جماعت ایک بند گلی میں داخل ہوچکی ہے۔ یہ جو لب ولہجہ ہمیں وزیر اعظم، ان کے خاندان کے افراد اور حکومت میں شامل بعض وزرا اور ارکان اسمبلی کا نظر آرہا ہے اس میں تلخی بھی ہے اور تناو بھی، جو صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کون وزیر اعظم او ران کی حکومت کے خلاف سازش کررہا ہے۔ اگرچہ وہ براہ راست اس کا نام نہیں لیتے، لیکن ان کا اصل اشارہ فوج اور عدلیہ پر ہے او ران کے بقول عمران خان اس کھیل کا ان بڑے کرداروں کا مہرہ ہے۔ بنیادی طو رپر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ وزیر اعظم کے خلاف کوئی سازش نہیں ہورہی بلکہ وہ خود اپنی سیاسی، انتظامی اور مالی حکمت عملیوں کی وجہ سے مشکل میں پھنس گئے ہیں۔ وزیر اعظم کے فیصلہ ساز مشیروں نے ان کو واقعی خوش فہمی میںزیادہ رکھا اور جو سیاسی حقایق تھے ان سے پوری طرح آگاہ نہیں کیا کہ چیزیں کیسے تبدیل ہورہی ہیں۔ جے آئی ٹی کو جس انداز سے حکومت نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے اس سے خود عدلیہ اور جے آئی ٹی کوبھی اپنا مخالف بنا لیا گیا ہے۔ لوگوں میں بھی یہ تاثر عام ہوا ہے کہ کیونکہ حکومت مشکل میں ہے اس لیے مسئلہ کو سیاسی رنگ بھی دیا جارہا ہے۔ یہ بات بھی لوگوں میں موجود ہے کہ نواز شریف او ران کے خاندان کے لوگوں نے جو دستاویزات اور شواہد جے آئی ٹی یا عدالت کو اپنی صفائی میں دینے تھے، پیش نہیں کرسکے۔
اصل میں نواز شریف پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے کھیل کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ کیونکہ وہ خود بھی کئی بار اسی ۔ کی مدد سے پاکستان کی سیاست او راقتدار کے کھیل کا حصہ رہے ہیں۔ ماضی میں ان کے اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات میں تلخی کا پہلو بھی سب کو معلوم ہے۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ وہ آتے تو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سازباز کرکے، لیکن پھر اسی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سرگرم بھی ہوجاتے ہیں۔ لیکن اس بار وہ اسٹیبلشمنٹ سے زیادہ خود اپنی سیاسی چالوں سے سازش کا شکار ہورہے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ مسئلہ ان کے احتساب کا ہے، لیکن اس کو جمہوریت کے خلاف سازش بنا کر پیش کرنا بھی خود سازش کا حصہ ہے۔ ان کی بیٹی مریم نواز کے بقول نواز شریف کو مجبور نہ کیا جائے کہ وہ عوام سے وہ سارا سچ بولیں جو ان کے سینے میں ہے، یقینی طور پر نواز شریف کو بولنا چاہیے، لیکن وہ آدھا سچ ہوگا، کیونکہ آدھا سچ اور دیگر فریقین کے پاس بھی موجود ہے کہ نواز شریف کس طرح سے قومی مفادات کو ذاتی مفادات میں تبدیل کرتے رہے ہیں۔ وہ کوشش کررہے ہیں کہ عوام کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ سازشی کھیل میں پھنس چکے ہیں، لیکن عوام ان سے کہنا چاہتی ہے کہ اگر وہ اس سازش سے بچنا چاہتے ہیں تو جو شواہد اور دستاویزات عدالت کو پانامہ کے مقدمہ میں شریف خاندان سے درکار ہیں وہ دے کر وہ اپنی شفافیت بھی ثابت کرسکتے ہیں اور اپنے خلاف ہونے والی سازشوں کو ناکام بھی بنا سکتے ہیں۔

 

Facebook Comments Box
پانامہپانامہ گیٹنواز شریف
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
اردو رسم الخط کے مسائل اور رومن اردو: یگانہ نجمی
next post
طفیل ہاشمی، حنیف ڈار، ابوعلیحہ اور بابا کوڈا کا قصہ: محمود فیاض

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

کراچی سے حافظ نعیم الرحمٰن کے نام کھلا...

06/07/2025

30/03/2025

30/03/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.