تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینصنف/ جینڈر

عورت کو توجہ کا مرکز بننا اچھا لگتا ہے۔ مدیحی عدن

by دانش ڈیسک 06/07/2017
written by دانش ڈیسک 06/07/2017
138

 عورت کو ہمیشہ سے توجہ کا مرکز بننا اچھا لگتا ہے بحثیت عورت میں نے خود اپنے اندر اس چیز کو کئی بار محسوس کیا۔ یہ عورت کی فطری کمزوری سمجھ لیں، یا ان کے نفس کا لالچ لیکن وہ ہر چھوٹے سے چھوٹے عمل میں بھی  داد وصول کرنا چاہتی ہے یا منتظر رہتی ہے حوصلہ افزائی کی۔ اس چھوٹی سی تمنا کو وہ اپنے دل میں لئے کئی طرح کے جتن کرتی نظر آتی ہے۔ کبھی من پسند کھانے بنا کر، کبھی خوبصورت لباس پہن کر تو کبھی اپنی دماغی صلاحیتوں کو اجاگر کر کے۔ ہر صورت حال میں وہ اپنی ذات کو محور بنا کے اپنے اردگرد کے کرداروں سے بس توجہ ہی تو مانگ رہی ہوتی ہے۔

لیکن عورت اس توجہ کے معاملے میں ہمیشہ سے بڑی جلد باز رہتی ہے، اسکو حوصلہ افزائی،  داد کی وصولی فورا چاہیے ہوتی ہے اور چاہیے بھی تصدیق شدہ شائشتہ الفاط کی ادائیگی کی صورت میں۔ تبھی یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ سوشل میڈیا پہ عورتیں اپنی تصاویر مردوں کے مقابلے میں زیادہ پوسٹ کرتی ہیں، جہاں انھیں اپنی چھوٹی سی سیلفی کاوش کاصلہ چند سکینڈز میں لائیکس اور حوصلہ افزا کمنٹس کی صورت میں مل جاتا ہے، اور یہی اس کے ذہنی اعصاب کو سکون دیتا ہے۔

جیسے جیسے انسان جدید زمانے کے تقاضوں کو اپناتے گئے اسی طور آج کی عورت کے لئے اچھی گفتگو،  فیشن کے ساتھ ایڈجمسٹمنٹ اور کیرئیر اورینٹیڈ ہونا ضروری سمجھا جانے لگا ہے.  عورتوں کی خوبیوں اور صلاحیتوں کے معیار بھی بدل چکے ہیں. اب جب کک، ملازم، میڈ دستیاب ہو سکتے ہیں تو گھر داری میں مہارت یا سلیقہ گردانا نہیں جاتا ہے. یہ تو پہلے کے زمانوں کا طور تھا جب ہماری ماؤں جو دن بھر کی چولہا چوکی کے بعد داد اسی قدر ملتی تھی کہ آج کھانے میں نمک بالکل صحیح تھا.

آج کی عورت کو کافی سارے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لیے، اور اکثر عورتیں یہ کام صرف توجہ کے حصول کے لیے نہیں کر رہی ہوتیں، بلکہ وہ اپنی تمام تر کوشش اور جدوجہد کے بعد  داد کی وصولی کی منتظر ضرور ہوتیں ہیں اوراپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پہ توجہ کا مرکز بن جاتی ہیں۔

لیکن کچھ عورتوں کے لیے یہ توجہ لاحاصل تمنا بن جاتی ہے۔ پھر اس تمنا کو پا لینے کے لیے وہ اپنے اندر کچھ ایسا تلاش کرتی ہے ، جو فوراً سب کی توجہ کا مرکز بن جائے اور اسی ضمن میں وہ عورت اپنے اندر فطری، ذہنی، جسمانی اور جذباتی کئی صلاحتیں ڈھونڈتی ہے ۔ ۔ ایسی عورتوں کی جلد باز فطرت بغیر ذہنی و دماغی محنت کے کچھ شارٹ کٹ راستے تلاش کرتی ہے۔اور ایسے میں اس کے پاس اپنی سب سے قیمتی دولت اپنا جسم ہی ایسا محور ہوتا ہے جس کی سر عام نیلامی کرتی ہے۔ اس ضمن میں خاص کر مغرب کی عورت کا ایک سرسری سا جائزہ لیا جائے تو اس معاشرے میں اب کوئی ایسی چیز نہیں رہی جو عورت نہ کر سکے مرد وں کے مقابلے میں ۔ مرد و عورت کی کام کرنے کی صلاحتیں تقریبا ایک جیسی ہو چکی ہیں اور دنوں میں کوئی خاص فرق نہیں رہا سوائے جنسی خدوخال کے۔ ایسے میں عورت اسی فرق کو زیادہ نمایاں کرنے کے درپے ہے جو اسے مختلف بناتا ہے مردوں سے۔ تبھی آج مغرب کی عورت لباس کومختصر سے مختصر کرکے توجہ کا مرکز بنتی نظر آتی ہیں۔ اور مرد عورت کے جسم ہی سے تو سب سے زیادہ راغب ہوتے ہیں اسکی طرف۔ مرد کی فطرت ہے کہ وہ عورت کو اس کے ظاہری حسن کی وجہ سے پسند کرتا ہے دوسرے الفاظ میں مرد کی جنسی خواہش عورت کے ظاہری خدو حال اور جسمانی خوبصورتی دیکھ کر ہی پروان چڑھتی ہے۔بے شک ہر مرد کا معیار الگ الگ ہے لیکن بنیادی وجہ یہی ہوتی ہے اور اس کی سب سے بڑی مثال کیم کردیشان ہے، جس نے اپنے علم یا دماغی صلاحیت سے اپنا آپ نہیں منوایا بلکہ اپنی جسمانی خدوخال کو مختلف سانچوں میں ڈھال کے وہ ہر اخبار و میگزین کی آئے روز زینت بنی رہتی ہے۔

جب معاشرے کے اصول فطرت سے ہٹ کے انسان کے ایجاد کردہ معیار پہ رکھے جائے تو فراق کے کئی راستے ڈھونڈے جاتے ہیں ۔ ایسے نام و نہاد آزاد معاشرے میں یہ آزاد عورتوں اس توجہ کے معاملے میں ہی بدترین غلام بن کے رہ گئیں ہیں۔  معاشرے کے دو ایسے کردار مرد اور عورت عاجز ہیں اپنی فطرت کے ہاتھوں جن میں وہ برابری نہیں مانگتے۔۔۔

حرص، بھڑاس اور مفاد پرستی کی جنگ نے مغربی معاشرے کا سارا توازن ہی بگاڑ کے رکھ دیا ہے۔ایسے میں ایک توجہ حاصل کرنے کا صدا کا حریص بن کے رہ گیا تو دوسرا جنسی خواہشات کا بے لگام گھوڑا بنے ہر وقت ہانپتا پھرتا ہے۔ دونوں بغیر نکیل کے نام نہاد آزاد معاشرے میں کیسی آزاد بھری زندگی گزار رہے ہیں۔ خواہشات و خیالات پہ مبنی آزاد زندگی۔ بغیر کسی قیدو بند کے دو آزادجنس اپنے اپنے مفاد میں گامزن۔

_____________

مدیحی عدن کی سوچ اور زاویہ ایک خاص زاویے سے دیکھی گئی تصویر کے دوسرے رُخ کی عکاسی کرتا ہے۔ انہیں معاشرے میں مایوسیاں پھیلانا پسند نہیں۔ انہیں یقین ہے کہ قلم کی طاقت سے سوچ میں تبدیلی اور سمت کا بھی تعین  بھی کیا جا سکتا ہے ۔

Facebook Comments Box
جنسیتخودپسندیخودنمائیعورتنرگسیت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
تصویر میری: شکور پٹھان
next post
چنیدہ لوگ: ساہیوال میں میڈیکل طالبات کو دربان بنائے جانے کے تناظر میں

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.