تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
سماجیکالم

سوشل میڈیا پر لکھنے والوں کو سلام

by محمود فیاض 05/05/2017
written by محمود فیاض 05/05/2017
102

بزعم خویش دانشور، کھمبیوں کی طرح اگ آ نے والے، فارغ لوگ، وہ جن کو کوئی گھر میں بھی اہمیت نہیں دیتا اور اس طرح کے بہت سے القابات ہم ان لوگوں کے لیے استعمال کرتے ہیں جو سوشل میڈیا، خاص طور پر فیس بک کے زریعے ہم تک اپنے خیالات پہنچاتے رہتے ہیں۔ ان میں اسکول کالج سے نئے نئے فارغ نوجوان بھی ہوتے ہیں اور زندگی کے ماہ و سال و گرم و سرد چشیدہ بزرگ بھی۔ کئی ماہرین فن ہوتے ہیں تو کوئی صاحب طرز۔ کسی کو نظم میں ملکہ ہے تو تو کوئی نثر کا بادشاہ۔ کسی کی نظر دھرتی کے مسائل پر گہری اور کسی کا تخیل کہکشاؤں کی پہنائیوں میں محو سفر۔ کوئی نابغہ روزگار و ہنر اور کوئی محض آپ کی تسلی کے لیے موجود ۔
یہ سب لوگ ہر موضوع پر لکھتے ہیں اور بالکل مفت لکھتے ہیں اور بلا ناغہ لکھتے ہیں۔ نکسیر پھوٹنے کے علاج سے لیکر عالمی سازشوں پر تحریریں آپ کو ان میں مل جائیں گی۔ شائد کچھ لوگوں کو اندازہ بھی نہ ہو کہ ان میں ایسے ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنی زندگیوں میں تجربات و واقعات کا ایسا ذخیرہ رکھتے ہیں کہ جس سے پڑھنے والے کو رہنمائی کے کئی اسباق حاصل ہو سکتے ہیں۔
مگر جب کوئی چیز اتنی فراوانی میں اور مفت میں ملے تو دو باتیں ہوا ہی کرتی ہیں۔ پہلی یہ کہ لوگوں کو اس کی قدر نہیں رہتی اور دوسری یہ کہ اس میں کوالٹی کم ہو جاتی ہے۔ جہاں تک کوالٹی کم ہونے کا تعلق ہے تو ظاہر ہے جب فیس بک کی سہولت ہرکس و ناکس کے پاس ہوگی تو آپ کسی کو لکھنے سے روک تو نہیں سکتے۔ اس میں اچھا برا سب ملے گا۔ آپ کو کباڑ کے ڈھیر سے اپنی پسند کی چیز ڈھونڈنا ہوگی۔
البتہ فیس بک لکھنے والوں کی ناقدری پر مجھے کچھ عرض کرنا تھا۔ ہم میں سے بہت سوں کو شائد اندازہ بھی نہیں کہ جو تحریریں ہم یونہی راہ چلتے، بس، گاڑی میں بیٹھے، دوستوں سے گپ لگاتے، یا سونے سے پہلے تکیے پر سر رکھ کر “فری ڈیٹا موڈ” میں پڑھ لیتے ہیں، وہ کسی نے کتنے جتن کر کے ہم تک پہنچائی ہے۔
ہو سکتا ہے کسی کی تحریر ہمیں پھیکی، بودی اور بیکار لگے، مگر اسکا خلوص جس سے اس نے کسی مسئلے کو دیکھا، پرکھا، پھر اس پر سوچا، اور الفاظ میں ڈھالا، اس کو تو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ویسے بھی کس مغربی سیانے نے کہا ہے کہ “لکھنے والے کا ہر لفظ اسکی سخاوت کی دلیل ہوتا ہے”۔
ایک اور پہلو تنقید کا ہے، جس سے یہ لکھنے والے براہ راست گذرتے ہیں اور اپنی تحریروں پر ہر طرح کے کمنٹ کا نہ صرف سامنا کرتے ہیں بلکہ اپنی زات پر ہر طرح کا الزام بھی برداشت کرتے ہیں۔ مجھے کبھی کبھی یہ لوگ اسٹیج کے فنکار لگتے ہیں، جن کو ہر شام اپنی صلاحیتوں کو ایک جیتے جاگتے مجمعے کے سامنے ثابت کرتا ہوتا ہے اور ہوٹنگ بھی برداشت کرنا ہوتی ہے۔
اسٹیج پر ہوٹنگ تو شائد پھر بھی کسی کنٹرول میں آتی ہو کہ ہوٹنگ کرنے والا خود بھی وہیں موجود ہوتا ہے اور اسکو اپنی پکڑ کا ڈر ہوتا ہے، مگر فیس بک پر ہراسمنٹ کرنے والے فیک آئی ڈی کے پیچھے سے ہر طرح کا وار کرتے ہیں اور لکھنے والے کو نہ صرف سہنا پڑتا ہے، بلکہ برداشت کرتے ہوئے اپنے نقطہ نظر کی وضاحت بھی کرنا پڑتی ہے۔
کبھی آپ نے سوچا، کہ ہر طرح کے تنقید، ہوٹنگ، ہراسمنٹ، اور طعن و تشنیع سے نئے لکھنے والے پر کیا گذرتی ہوگی؟ میرا مشاہدے میں اور دوستوں میں بہت سے ایسے نام ہیں جو ہر دوسرے روز ایسے رویوں کی وجہ سے دل چھوڑ بیٹھتے ہیں۔ اور آئندہ نہ لکھنے کا سوچنے لگتے ہیں۔ وہ کس طرح سے اپنے اندر کی ان منفی سوچوں سے لڑ کر دوبارہ کی بورڈ سنبھال کر آپ کے لیے اگلی پوسٹ لکھنے بیٹھتے ہیں، اس کا مجھے بخوبی اندازہ ہے مگر میں اس کے اظہار میں مشکل پاتا ہوں۔
دیکھیں، جن لکھنے والوں کی یہ جاب ہے، جن کو اسکا معاوضہ ملتا ہے، یا جن کا چولہا لکھنے ہی سے گرم رہتا ہے، وہ اگر مجبور ہو کر لکھتے رہیں تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ مگر وہ لوگ، جو اپنا وقت، صلاحیت اور توانائی صرف اس لیے خرچ کرتے ہیں کہ آپ تک بھلائی کی کوئی بات، کوئی مفید نسخہ، کوئی دل چھو لینے والا واقعہ، یا محض تفنن طبع کے لیے ہلکا پھلکا مزاح پہنچا سکیں، اور وہ بھی بغیر کسی معاوضے کے تو ایسے لوگوں کو اگر بہت زیادہ سر آنکھوں پر بٹھانا ناممکن بھی ہو تو کم از کم انکی نیت پر تو شک نہیں کرنا چاہیے۔
اکثر سننے میں یہ بھی آتا ہے کہ یہ سب لائکس کا چکر ہے۔ زاتی شہرت ہے، یا شائد فیس بک ایسے لکھنے والوں کو ہزاروں کی نقدی دے دیتا ہے۔ میرے سامنے پانچ سال سے لکھنے والے دوست بھی موجود ہیں جو آج بھی کسی بھی طرف سے کسی معاوضے کے بغیر لکھتے چلے جا رہے ہیں، اور صلے کی تمنا بھی نہیں رکھتے۔
رہی بات نام و شہرت کی تو ایک اچھے کام کا نام تو خؤد ہی ہو جاتا ہے۔ البتہ ایسی شہرت اگر اچھی تحریروں سے کوئی حاصل کر بھی لیتا ہے تو اسکو کسی بھی طریقے سے برا کیسے سمجھا جا سکتا ہے۔ ویسے بھی اپنی تحریروں کے بل پر ہزاروں لکھنے والوں میں سے اپنی تھوڑی بہت پہچان بنا لینے کی خواہش کیا اتنی بری ہے کہ ہم انکو شہرت کے بھوکے قرار دے دیں؟
آپ کا تو پتہ نہیں مگر میں ایسے ہر نئے پرانے لکھنے والے کو دل سے سلام کرتا ہوں جو اپنا وقت اور صلاحیت انسانی زندگیوں کی بھلائی کے لیے استعمال کرتا ہے اور اپنے اندر کی ہر مایوسی، اردگرد کی نا امیدی، اور فیس بک کے ریڈرز کی تلخ و سخت باتوں کے باوصف ابھی تک لکھ رہا ہے۔ اور اپنے شب و روز کا ایک حصہ ہماری آسانی، یا دل پشوری کے لیے وقف کر رہا ہے۔
میں ان کو سلام کرتا ہوں جو پیرانہ سالی میں ٹیکنالوجی کو پوری طرح نہ سمجھتے ہوئے بھی فیس بک اور سوشل ویب سائیٹس پر اپنی تحریریں بھیجتے ہیں، اور لوگوں کی تنقید سے ماورا اپنا معاشرتی کردار نبھا رہے ہیں۔
میں ان کو سراہتا کرتا ہوں جو اپنی جواں سال توانائیوں کو مثبت طور پر استعمال کرتے ہوئے مشکل سے مشکل موضوع پر ریسرچ کرتے ہیں، متعلقہ حقائق لاتے ہیں اور اپنے پڑھنے والوں کو پیش کرتے ہیں۔ اور اپنی رائے پر اصرار کرنے کی بجائے ہر لمحہ نئے چیلنجز کو سمجھتے ہوئے نیا سماج تخلیق کرنے میں پیش پیش ہیں۔
میں ان کی بھی عزت کرتا ہوں جو اپنی سیدھی اور سادہ زندگی سے ایسے واقعات شئیر کرتے ہیں جو میرے نزدیک کسی بھی عامیانہ شاعری سے بدرجہا بہتر ہیں کہ انسانی زندگیوں میں آسانی پیدا کرتے ہیں۔ انکی سادہ مگر پر خلوص تحریروں کے مداح مشکل اور دقیق لکھنے والوں سے بدرجہا زیادہ ہیں۔
میرا یہ مضمون ان کے لیے بھی ہے جو ابھی زندگی میں نا تجربہ کار ہیں مگر گتھیوں کو سلجھانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ اگر انہوں نے کوئی اچھی بات سیکھی ہے تو دوسروں تک پہنچا سکیں۔
آخر میں تھوڑا سا گلہ ان سے ہے جو دوسروں کی محنت سے لکھی تحریریں کاپی کر کے اپنے پیج یا اپنی وال چلاتے ہیں اور اصلی لکھنے والے کا نام بھی مٹا دیتے ہیں۔ اللہ کے ہاں یہ ویسی ہی چوری ہے جیسی کسی کےمال کی چوری ہے۔ اللہ آپ کو چوری کی عادت سے نجات دے۔ آمین۔ ویسے بھی اگر آپ کو اپنا پیج چلانا ہے تو کسی کی تحریر کو اگر نام کے ساتھ بھی شئیر کر دیں گے تو آپ کے پیج کا کام چلتا رہے گا۔ اور جہاں تک کسی کی تحریر کو اپنے نام سے چھاپنے کا تعلق ہے تو میرے دوستو، آپ کے اردگرد سب جانتے ہیں کہ یہ آپ نے نہیں لکھا، آج نہیں تو کل وہ بھی جان جائیں گے جو ابھی آپ سے نہین ملے۔
مضمون کے اختتام سے پہلے میں سوشل میڈیا پر لکھنے والی خواتین کا خاص طور پر زکر کرنا چاہوں گا کہ جن کے لیے فیس بک پر اپنی تصویر اور شناخت کے ساتھ موجود رہنا بھی ایک مشکل امر ہے۔ وہ نہ صرف ایسے تمام تعصب، اور جنسی ہراسمنٹ سے نمٹتی ہیں، بلکہ اکثر اپنی تحریروں سے چونکا دیتی ہیں۔ میں انکی ہمت کو اور نیت کو سلام کرتا ہوں۔ وہ نہ صرف خواتین کی نمائندگی کررہی ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر ہر موضوع پر ایک جاندار اور توانا آواز ہیں۔

Facebook Comments Box
فیس بکلکھاری
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
محمود فیاض

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

previous post
ڈولی کا بوجھ ۔۔۔۔۔۔ عبدالعلیم
next post
دردِ بے زباں —— حیا ایشم — قسط 3

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

کراچی سے حافظ نعیم الرحمٰن کے نام کھلا...

06/07/2025

30/03/2025

30/03/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.