تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
سماجیکالم

لبرل اور مذھبی: خوفناک تقسیم ۔۔۔ میاں ارشد فاروق

by میاں ارشد فاروق 29/04/2017
written by میاں ارشد فاروق 29/04/2017
126

مشتاق مسعود مرحوم کہا کرتے تھے کہ پاکستان میں بائیں بازو کی سیاست ایک ذہنی کسرت (Intellectual Athletics) ہے اور ملک سعید حسن مرحوم جوابا کہتے تھے کہ دائیں بازو کی سیاست ذہنی بدمعاشی (Intellectual Terrorism) ہے۔ اس کے امر میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے کہ پاکستان میں انسان دوستی، لبرل ازم اور انسانی حقوق کی علمی سطح پر ترویج و اشاعت جس توانائی اور جذبے سے ترقی پسند دانشوروں نے کی اتنی توانائی شاید ان نظریات کے خالقین کو بھی نصیب نہ ہوئی ہو۔ یہ انہی لوگوں کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے کہ پاکستانی جرائد، رسائل، اخبارات اور ملکی اعلی عدالتوں میں جدید نظریات کی تفہیم کبھی بھی مصر یا عراق کی مانند نہیں رہی۔ لیکن ترقی پسند افراد عملی سیاست میں عوام الناس میں اپنے ہمدردوں یا ہم خیالوں کی بڑی تعداد حاصل کرنے میں کبھی کامیاب نہ رہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان دانشوروں کے پیش نظر صرف علمی میدان ہی تھا اور عملی سیاست سے وہ کسی قدر گریز ہی کرتے رہے اسی وجہ سے وہ پاکستان کی مین سٹریم سیاست کا حصہ نہ بن سکے اور ان پر Intellectual Athletics کی پھبتیاں کسی جاتی رہیں۔

فتح پوری کے دور سے سبط حسن کے دور تک ترقی پسند مفکرین میں نظریاتی بعد کے باوجود مخالفین سے بات کرنے اور سننے کا حوصلہ موجود تھا بلکہ انکی دوستیاں رسم و رواج کی حدیں پھلانگ گئی ہوئی تھیں۔ جوش ملیح آبادی وجودی خدا کے قائل نہ ہونے کے باوجود مولانا مودودی رحمتہ اللہ علیہ کے بے تکلف دوست تھے اور مشہور ہے کہ ایک دفعہ مولانا نے انکو بتایا کہ انکو گردوں میں پتھری کی تکلیف ہو گئی ہے تو جوش نے از راہ تفنن کہا کہ مولانا آپ کا خدا آپکو اندر سے سنگسار کر رہا ہے۔ مولانا جیسی بڑی ہستی کو اس طرح کی بات کرنے کے لئے یہ لازم تھا کہ بات کرنے والے کو ایسی بات کرنے کے حوصلے کے ساتھ اسکی اجازت بھی ہوتی۔ ترقی پسندوں پر جب بھی کوئی بے ہنگم ہجوم چڑھ دوڑا تو انکے انہی دیرینہ ساتھیوں نے ساتھ بدسلوکی سے انکو بچایا۔

سوشل میڈیا کے آنے پہ یکلخت پتہ نہیں کیا ہو گیا کہ اب دو دھڑے اس اتفاق و سلوک کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہوئے جاتے ہیں جو ماضی کی ایک خوشگوار روایت تھی۔ دن بدن حالات ابتر ہوتے جا رہے ہیں اور معاملات دانشوروں کے ہاتھ سے نکل کر ان نوجونوں کے ہاتھ آتے جا رہے ہیں جن کا مبلغ علم انکی خودساختہ تحقیق ہوتی ہے جو انہوں نے تین کتابوں کے چیدہ چیدہ اوراق کا سرسری مطالعہ کرنے سے اپنے تئیں مکمل کر لی ہوتی ہے ۔ان میں دوسرے کا مؤقف سمجھنے کی اہلیت بھی نہیں ہوتی، جواب دینا تو بعد کی بات ہے۔ تشدد آمیز رجحانات کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے کہا گیا محفوظ ہو جاتا ہے اور چند مربیاں کے چھپانے سے بات نہیں رکتی، کچھ نادان لوگ اپنے جوش پر قابو پانے میں ناکام ہو جاتے ہیں نتیجتا انکے ساتھ بدسلوکی ہوتی ہے ۔ پھر ایک طبقہ Victim کو ہیرو اور دوسرا اسے زیرو بنانے پر لگ جاتا ہے اور معاملے کو علاقائی سے زیادہ عالمی بنانے کی کوششیں شروع ہو جاتی ہیں، اس اتھلیٹکس میں ایک دوسرے پرگند اچھالنے کی بھی کوشش کی جاتی ہے۔ جس کا براہ راست اثر یہ ہے کہ ہمارا سماج جو نااہل حکمرانوں کے باعث پہلے ہی معاشی ناہمواری اور ثقافتی گھٹن کا شکار ہے، اس میں طبقاتی خلیج اور بھی وسیع ہوتی جا رہی ہے۔ ایک ایسا سماج جسکی تاریخ پہلے ہی خون آلود ہواور جہاں روایت پسندوں کو کسی عالمی تنازعے کے حل کے لیے گروہ بنانے کی اجازت ہو وہاں ایسی خلیج ایک ٹایم بم کے سوا کچھ نہیں ہو سکتی۔

اس کی دوسری وجہ ہمارا ایک نام نہاد لبرل طبقہ ہے جو معکوسی سیاست میں دلی والوں کا بھی استاد ہے۔ جو بات انکے خلاف استعمال ہو سکتی ہو وہ اسے پہلے ہی بیان کر دیتے ہیں تاکہ اس پر انکی شامت نہ آسکے۔ جو رکیک حملے وہ سادہ لوح روایت پسندوں پر خفیہ اور اعلانیہ طور پر کرتے ہیں الامان الحفیظ۔ بیان کی خوبی سے مطالب چھپ نہیں جاتے سمجھنے والے سمجھ جاتے ہیں کہ نشانہ کسے بنایا جا رہا ہے۔ اس طبقے کا مقصد ابھی تک واضح نہیں ہوا کہ آیا وہ دل آزاری والے مواد کی حمایت لبرل ازم کے فروغ کے لئے کر رہے ہیں یا ہمارے سماج میں لبرل اور روایت پسندوں کے درمیان خلیج کو اس سطح تک لے جانے کے لئے کہ وہ ایک دوسرے کو سننے ملنے پر بھی تیار نہ ہوں۔ اگر تو مقصدخلیج گہری کرنا ہے تو یقینا یہ بہت غلط ہاتھوں میں ہے اور اس پر ریاستی دخل اندازی کی اشد ضرورت ہے چاہے اس بابت قانون سازی ہے یا ابھی کرنی پڑے گی۔ اگرمقصد لبرل ازم کا فروغ ہے تو یقینا یہ مقصد کسی عقلمندانہ طریقے سے حاصل کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی جا رہی بلکہ یہ پٹرول سے آگ بجھانے کی احمقانہ کوشش ہے۔ اس طبقے کی ان حرکات کی وجہ سے اب اعلانیہ طور پر دائیں بازو کی طرف سے ایک رجمنٹ بھی سوشل میڈیا پر آگئی ہے جسکا مقصد ابھی تک تو محض اس طبقے کے رکیک حملوں کا جواب دینا ہی ہے۔ ذرا تصور کیجئے اس وقت کا ،جب سادہ لوح لوگ بھی معکوسی سیاست سمجھ جائیں گے تو ہمارے سماج کا کیا بنے گا۔؟ ہمیں اپنی نسلوں کو ایک عمدہ ماحول دینے کیلیے مل بیٹھ کر رولز آف بزنس بنانے کی اشد ضرورت ہے اور اس ضمن میں ہم سب کو غور کرنا ہے، بات کرنی ہے، اور لائحہء عمل بنا کر آگے بڑھنا ہے۔

Facebook Comments Box
featuredIntellectual AthleticsLiberalRight Wingبایاں بازودایاں بازولبرللیفٹمذھبیمعاشرتی تقسیممولوی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
میاں ارشد فاروق

previous post
گندم، سرکار، پٹوار او ر میڈیا: اکمل شہزاد گھمن
next post
لبرل طالبان -اصل شہود و شاہد و مشہود ایک ہے: ابو بکر

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

کراچی سے حافظ نعیم الرحمٰن کے نام کھلا...

06/07/2025

30/03/2025

30/03/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.