تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترین

پانامہ فیصلہ: سندھی اخبارات کے ادارتی خیالات

by ویب ڈیسک 26/04/2017
written by ویب ڈیسک 26/04/2017
100

روزنامہ عوامی کراچی نے 21اپریل 2017ء آواز نے اپنے ادارتی نوٹ میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے سربراہوں کے تبصروں کو نمایا طور پر لکھا ہے جس میں انہوں نے وزیر اعظم کو فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

اخبار نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کے فیصلے میں لکھے گئے 13 نکات کو بہت اہم قرار دیا۔

جس میں انھوں نے فرینچ دانشور بالزاک کے قول سے آغاز کیا ہے کہ ہر بڑی دولت کو جمع ہونے کے پیچھے کسی جرم کا ہاتھ ہوتا ہے۔

اخبار نے لکھا ہے کہ سات مہینے تک کیس چلاپر سپریم کورٹ نے اکثریت نےکسی کے حق میں یا مخالفت میں فیصلہ نہیں دیا۔

اب جے آئی ٹی کی ایمانداری پر سوالات ہیں۔

انصاف ہونا چاہیے لیکن قانون کے مطابق ہونا چاہیےٹیکنیکلٹیز پر فیصلے نہیں ہوتے۔

ظالم متحد اور مظلوم منتشر  ہیں کبھی ایک بادشاہ، کبھی دوسرا بادشاہ،  لیکن میاں صاحب کی سیاسی پالیسی یہ رہی ہے کہ میں نہیں تو کچھ نہیں۔

خدشہ ہے کہ 60 دنوں میں مسائل میں مزید اضافہ ہوجائے،  اس سے  پاکستان کے وقار کو نقصان پہنچے گا۔

جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے نمائندے بھی شامل ہونگے۔

اس مقدمے کی 35 شنوائیاں چلیں ہیں اور 25 ہزار دستاویزات اور کاغذات زیر بحث آئے ہیں اس کاروائی کا خاص نقطہ نواز شریف کی خفیہ، چھپی دولت اور ٹیکس سے بچنا تھا۔

دو ججوں نے واضح طور پر نواز شریف کو جھوٹا اور نااھل قرار دیا جبکہ تین ججوں نے ان سوالات پر متعلقہ تفتیشی اداروں سے مزید تحقیقات پر فیصلہ دیا اور دوماہ کے بعد پھر فیصلہ کیا جائیگا۔

روزنامہ مہران  حیدرآباد نے21 اپریل 2017ء کے ادارتی نوٹ میں لکھا ہے کہ نواز شریف اب عدالت سے نہیں چھوٹ سکتے۔

آئینی عدالت کے قیام کی تجویز۔

اخبار نے تجویز دی ہے کہ جس طرح شرعی معاملات کے فیصلوں کے لئے شرعی کورٹ قائم ہے اس طرح آئینی معاملات کے سلسلے میں داخل ہونے والی درخواستوں کے فیصلوں کے لئے آئینی عدالت کا قیام عمل میں لایا جائے۔ اخبار لکھتا ہے کہ سپریم کورٹ جب بھی سیاسی معاملات پر فیصلہ کریگی تو سیاسی حلقے اس کو سیاسی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور ماضی میں نواز شریف کی حمایت میں ہی فیصلے ہوتے رہے ہیں۔ اور نظریہ ضرورت کے تحت ہی فیصلے ہوتے رہے ہیں۔

مثال کے طور پر بھٹو صاحب کے خلاف فیصلہ ہو یا سوئس اکاونٹس کے سلسلے میں خط نہ لکھنے پر ایک وزیراعظم کو چند منٹ کی سزا دیکر گھر بھیج دیا گیا۔ دوسری طرف نواز شریف کو ایک دن کے لئے بھی عدالت میں طلب نہیں کیا گیا۔ اس لئے سندھ میں یہ تاثر موجود ہے کہ ماضی میں فیصلے نظریہ ضرورت اور پسند و ناپسند کی بنیاد پر ہوتے رہے ہیں۔

روزنامہ عبرت حیدرآباد نے اپنے 21 اپریل کے ادارتی نوٹ میں لکھا ہی کہ بالآخر پورے ایک سال تک پورے قوم کو اضطراب میں رکھنے والے پاناما لیکس کا فیصلا آہی گیا اور بات دوبارہ جے آئی ٹی پر پہنچی اور اس دفعہ جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کو بھی شامل کردیا گیا ہے۔ اس اخبار نے بھی دوبڑی حزب اختلاف کی جماعتوں کے سربراہاں عمران خان اور آصف زرداری کے رد عمل کو لکھا ہے جس میں انھوں نے جے آئی ٹی کو مؤثربنانے کے لئے وزیر اعظم کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

اخبار نے لکھا ہے دو سینیئر ججوں کے اختلافی فیصلوں سے ثابت ہوگیا ہے کہ وزیر اعظم صادق اور امین نہیں رہے۔

روزنامہ کاوش حیدرآبادنے اپنے 21 اپریل کےادارتی نوٹ میں لکھا ہے کہ 23 فروری 2017ء کو پاناما کیس کے محفوظ کئے جانے والے فیصلے کو 547 صفحات پر مشتمل بالآخر سنایا گیا جس میں دو ججوں نے نواز شریف کو نا اہل قرار دیا ہے جبکہ 3 ججوں نے مزید تحقیق کے لئے جے آئی ٹی جوڑ کر 60 دنوں کے اندر رپورٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے میاں نواز شریف کو عارضی طور پر اپنے معاملات کو سنبھالنے کے لئے وقت دیا گیا ہے۔ اخبار کے مطابق جاتی امرا  رائیونڈ کے بادشاہوں کے لئے جے آئی ٹی کتنی مفید ثابت ہوگی یہ ایک علیحدہ سوال ہے۔ اور میاں صاحب یا ان کی اولاد اس کو کتنا مطمئن کریگی اصل فیصلہ اس کے بعد ہوگا۔ اخبار نے لکھا ہے کہ جس طرح ہمارے سیاسی حلقوں نے اس فیصلے کا اتنے عرصے تک انتظار کیا اب مزید 60 دن کے لئے مزید صبر سے کام لیں اورسیاستدان دھرنوں اور احتجاجوں سے اجتناب کریں ورنہ گھات میں بیٹھی ہوئیں طالع آزما قوتیں اس موقع کا فائدہ حاصل کرکے جمھوری نظام کونقصان پہنچا کردرہم برہم نہ کردیں اس لئے اس موقع پر سیاسی بلوغت کا مظاہرہ ہونا چاہیے۔

روزنامہ جیجل کراچی نے اپنے 21 اپریل کےادارتی نوٹ میں لکھا ہے کہ ججوں نے تاریخی فیصلہ سنا ہی دیا جو ان کے بقول آئندہ 20 سال تک یاد رکھا جائیگا اس فیصلے پر مسلم لیگ (ن) نے  جشن منایااور پیپلز پارٹی نے اس اکثریت والے تین  ججوں کے فیصلے کو عوام کے ساتہ مذاق قرار دیا۔

اخبار نے لکھا ہے کہ یہ فیصلہ پارلیمنٹ کے اندر حل ہونا  تھا جو نہیں ہوا اور بالآخر عدالت نے یہ بار گراں اپنے کندھے پر اٹھایا اور پہلے فیصلہ محفوظ کیا اور بعد میں اس کیس کو میڈیا نے چلایا اور الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلے جاری رہا۔

اخبار نےلکھا ہے پاکستانی عوام احتساب چاہتی ہے لیکن یہاں فیصلہ نظریہ ضرورت کے تحت کرپشن کے نظام کو بچانے کے لئے نہیں ہونے چاہیئے اب دیکھا جائے گاکہ اس فیصلے کے بعد احتساب کی کوئی نئی تاریخ کو رقم کی جاتی ہے یا پھر کوئی اخبارات کی نئی سرخیاں رقم ہوں گی۔

روزنامہ سندھ ایکسپریس نے اپنے 21 اپریل نے لکھا ہےکہ فیصلہ تو آگیا جس کا پورے ملک کو انتظار تھا۔ عدالت نے قطری شہزادے کے خط کو بھی رد کردیا اور جے آئی ٹی کے ذریعے مزید تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

عدلیہ کی آزادی وار انصاف کے بروقت ہونے کا سوال ہے کہ فیصلے وقت پر نہیں ہوتے اس لئےاب بھی موجود وزیر اعظم کو وقت دیا گیا ہے اور دوماہ کے اندر مزید تحقیقات کو مکمل کرنا چاہیے تاکہ عوام کے اعتماد میں پھر کوئی زلزلہ نہ آئے۔ اخبار نے حکمرانوں کے فتح والے تاثر کو حیرت ناک اور نامناسب رویہ قراردیا ہے۔ اخبار کے مطابق حکمران جماعت کو دو فاضل جج صاحبان کے فیصلےکو بھی دیکھنا چاہیے تھا جس میں وزیر اعظم کو نااہل قرار دیا گیا ہے۔ اور آگے جو تحقیقات کا آرڈر دیا گیا ہے اس کو بھی دیکھنا چاہیے تھا کیونکہ ابھی تو آگے عشق کا امتحان ہونے والا ہے ابھی سے جشن فتح منانے کا وقت کہاں آیا ہے۔

اخبار نے لکھا ہے کہ جے آئی ٹی کے فیصلے آنے تک ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

Facebook Comments Box
پانامہسندھی اخبارات
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ویب ڈیسک

Daanish webdesk.

previous post
کامیابی میں پیشن (Passion) کا کتنا کردار ہے؟
next post
فیض کی شاعری میں آخرت کا واضح تصور: خرم علی شفیق

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.