تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

نواز شریف کی واپسی، اشرافیہ اور قوم کی مایوسی —- ارشد محمود

by دانش ڈیسک 23/10/2023
written by دانش ڈیسک 23/10/2023
303

جہاں کچھ دوست میاں نواز شریف صاحب کی واپسی والے معاملات کو لے کر بہت سیخ پا ہیں وہیں کچھ دوست بہت خوش گمان بھی ہیں۔ ہر دو اطراف سے یہ زور شور سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ ہی اصل حقیقت جانتے ہیں فریق مخالف تعداد و استعداد سے قطع نظر جاہل مطلق اور شر پسند ملک دشمن ہے۔ اپنے اپنے سیاسی لیڈرز کو ہیرو اور مخالفین کو زیرو کرنے کی مہم زوروں پر ہے۔ میری ناقص رائے میں تو ہم سب کٹھ پتلیوں کے پیچھے لگے ہیں۔ کوئی اصل کنگ میکرز اس ملک کے وسائل پر قابض مٹھی بھر اشرافیہ کی طرف نظر نہیں کر رہا۔ کسی کو کیوں نظر نہیں آرہا کہ جمہوریت ہو کہ آمریت، امن ہو کہ جنگ، ملک میں سیلاب آئے یا زلزلہ یا ملک میں کوئی مہلک وبا پھوٹ پڑے انکی موجیں لگی رہتی ہیں۔ انکے لئے انتظامیہ، مقننہ حتی کے عدلیہ بھی حاضر خدمت رہتی ہے۔

ملک بنانے کی جدو جہد سے ملک کو غیر اعلانیہ دیوالیہ کرنے تک سیاسی لیڈرز اور دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ دو طبقات واضح طور پر موجود رہے ہیں۔ ایک وہ جو اپنا اپنا سرمایہ بچانے کے لئے یہاں وہاں سے پاکستان میں شامل ہوئے اور دوسرے وہ جو وقت کے جبر اور اسی اشرافیہ کے ہاتھوں استعمال ہوئے۔ عام آدمی انگریز کی غلامی سے نکل کر انگریزوں کے کتے/ گھوڑے نہلانے والے دیسی آقاؤں کی غلامی میں چلا گیا۔ انگریز کیونکہ قدرے بہتر مینیجر تھا تو اس نے اپنی رعایا کو بہتر مینج بھی کیا جبکہ ان دیسی گوروں کی کارگزاری سب کے سامنے ہے۔ ملک بننے کے بعد اس ملک کے عوام کو آزادی جیسی نعمت سے محروم رکھنے کے لئے انہوں نے ہر وہ حربہ استعمال کیا کہ لوگوں میں شعور اور عزت نفس اجاگر نہ ہونے پائے۔ انہوں نے طبقاتی نظام تعلم، کرپٹ پولیسنگ، کاسہ لیس عدلیہ اور ہم اداروں میں نااہل و بے ایمان اقربا کے ذریعے قبضہ جمایا۔ عام آدمی کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا اسکے لئے عزت سکون سے زندہ رہنے اور اقتدار میں شراکت کے سارے راستے مسدود کئے۔

بھٹو صاحب بھی گو اسی اشرافیہ میں سے تھے لیکن جانے انجانے میں عوام میں کسی حد تک اپنے حقوق سے آگاہی و بیداری کی روح پھونک گئے۔ تب سے اس بیداری کو پہ در پہ اعلانیہ و غیر اعلانیہ مارشل لاؤں کے ذریعے دبانے اور کچلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سانحہ مشرقی پاکستانی جو کہ اسی اشرافیہ کی نااہلی و بدنیتی کا پھل ہے، کے بعد 73 کا متفقہ آئین اس ملک کو درست راہ پر ڈالنے کی طرف پہلا مثبت اور بڑا قدم تھا۔ لیکن اس آئین کے ساتھ اشرافیہ نے کیا کھلواڑ کیا۔ کبھی آئین کو تسلیم کیا نہ اس پر عملدرآمد ہونے دیا۔ اس ظالم اشرافیہ نے آئین کی 4 بار کی ننگی الاعلان معطلی کے زمانے کو چھوڑ کر بھی آج تک بنیادی انسانی حقوق اور عوامی فلاح و بہبود کی شقوں کو عملاً معطل رکھا ہوا ہے۔

انسان دو طرح سے جینا سیکھتا ہے۔ اول اپنے بڑوں کی طرف سے شعوری تربیتی کوشش کے ذریعے، دوئم اپنے تجربات سے بقاء کو لاحق خطرہ کے پیش نظر زندہ رہنے کی بنیادی جبلت کے ذریعے۔ اب کیونکہ ہمارے ہاں معاشرہ کا ہر تربیتی ادارہ ماں سے لے کر ماں جیسی ریاست تک اپنے اس وظیفہ کو ادا کرنے سے بوجوہ قاصر رہا ہے تو کم از کم مجھے قوم (بالخصوص نوجوانوں اور خواتین) میں موخرالذکر جبلت کی بدولت زندگی کا یہ ہنر پنپتا نظر آرہا ہے۔ گو وقتی طور پر اس شعور کو شدید ترین جبر اور ظلم کا سامنا ہے۔ ظلم و جبر کرنے والے شاید یہ نہیں جانتے کہ جسم پر تو تسلط قائم کیا جا سکتا ہے اسے فنا بھی کیا جا سکتا ہے لیکن دماغ میں اٹھنے والے خیالات جو مستقبل کا لائحہ عمل طے کرتے ہیں کو ختم کیا جا سکتا ہے نہ تابع کیا جا سکتا ہے۔

ہماری قومی تاریخ میں اللہ کے فضل، نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے بعد علامہ اقبال، قائد اعظم، ذوالفقار علی بھٹو نے اگر کوئی کردار ادا کیا ہے تو مستقبل سے مایوسی کیوں؟ ہمیں زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ بجھتے ہوئے چراغوں کی پھڑپھڑاہٹ ہے۔ انہیں بھی عوام (بالخصوص نوجوان نسل) کے تیور سمجھ آرہے ہیں۔ اقتدار کے مزے ہاتھ سے جاتے دیکھ کر انکی عقلوں پر پتھر پڑ چکے ہیں۔ یہ سب مل کر اپنی آخری کوشش میں لگے ہیں۔ انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ اس سب کے بعد جب حالات ان سے نہیں سنبھلیں گے (جو یقیناً نہیں سنبھلیں گے) کیونکہ انکی نیتوں میں فتور ہے، تو پھر؟

یہ لوگ جس قدر ایکسپوز ہو چکے اور انکے ترکش جتنے خالی ہو چکے ہیں، بہت دیر تک اپنے ظلم اور جبر کو جاری نہ رکھ سکیں گے۔ کوئی ایک پل، ایک واقعہ ایک لیڈر (وہ نیا بھی ہو سکتا ہے اور پرانوں میں سے بشمول میاں صاحب بھی) کے درست وقت پر کئے گئے فیصلے کی بدولت منظر نامہ بدل سکتا ہے۔

Facebook Comments Box
Imran KhanMian Nawaz SharifPakistani EstablishmentPakistani Politicsپاکستانی سیاستعمران خانمیاں نواز شریف
1 comment 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
قصہ ایک ٹی وی پروگرام کا —- ڈاکٹر محمد زوہیب حنیف
next post
سرسیّد کا تصور فطرت — ڈاکٹر امتیاز عبدالقادر

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

1 comment

محمد اجمل خان 24/10/2023 - 11:54 am

میاں نواز بظاہر کیونکہ نوازے ہوۓ ہیں لیکن اسی سسٹم کے ڈسے ہوئے ہیں عوامی حرارت کو دہکھتے ہوئے فیصلہ کریں اور امر ہو جائیں اور استعمال ہوئے بغیر کچھ پاکستان کو دے جائیں۔

Reply

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.