جہاں کچھ دوست میاں نواز شریف صاحب کی واپسی والے معاملات کو لے کر بہت سیخ پا ہیں وہیں کچھ دوست بہت خوش گمان بھی ہیں۔ ہر دو اطراف سے یہ زور شور سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ ہی اصل حقیقت جانتے ہیں فریق مخالف تعداد و استعداد سے قطع نظر جاہل مطلق اور شر پسند ملک دشمن ہے۔ اپنے اپنے سیاسی لیڈرز کو ہیرو اور مخالفین کو زیرو کرنے کی مہم زوروں پر ہے۔ میری ناقص رائے میں تو ہم سب کٹھ پتلیوں کے پیچھے لگے ہیں۔ کوئی اصل کنگ میکرز اس ملک کے وسائل پر قابض مٹھی بھر اشرافیہ کی طرف نظر نہیں کر رہا۔ کسی کو کیوں نظر نہیں آرہا کہ جمہوریت ہو کہ آمریت، امن ہو کہ جنگ، ملک میں سیلاب آئے یا زلزلہ یا ملک میں کوئی مہلک وبا پھوٹ پڑے انکی موجیں لگی رہتی ہیں۔ انکے لئے انتظامیہ، مقننہ حتی کے عدلیہ بھی حاضر خدمت رہتی ہے۔
ملک بنانے کی جدو جہد سے ملک کو غیر اعلانیہ دیوالیہ کرنے تک سیاسی لیڈرز اور دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ دو طبقات واضح طور پر موجود رہے ہیں۔ ایک وہ جو اپنا اپنا سرمایہ بچانے کے لئے یہاں وہاں سے پاکستان میں شامل ہوئے اور دوسرے وہ جو وقت کے جبر اور اسی اشرافیہ کے ہاتھوں استعمال ہوئے۔ عام آدمی انگریز کی غلامی سے نکل کر انگریزوں کے کتے/ گھوڑے نہلانے والے دیسی آقاؤں کی غلامی میں چلا گیا۔ انگریز کیونکہ قدرے بہتر مینیجر تھا تو اس نے اپنی رعایا کو بہتر مینج بھی کیا جبکہ ان دیسی گوروں کی کارگزاری سب کے سامنے ہے۔ ملک بننے کے بعد اس ملک کے عوام کو آزادی جیسی نعمت سے محروم رکھنے کے لئے انہوں نے ہر وہ حربہ استعمال کیا کہ لوگوں میں شعور اور عزت نفس اجاگر نہ ہونے پائے۔ انہوں نے طبقاتی نظام تعلم، کرپٹ پولیسنگ، کاسہ لیس عدلیہ اور ہم اداروں میں نااہل و بے ایمان اقربا کے ذریعے قبضہ جمایا۔ عام آدمی کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا اسکے لئے عزت سکون سے زندہ رہنے اور اقتدار میں شراکت کے سارے راستے مسدود کئے۔
بھٹو صاحب بھی گو اسی اشرافیہ میں سے تھے لیکن جانے انجانے میں عوام میں کسی حد تک اپنے حقوق سے آگاہی و بیداری کی روح پھونک گئے۔ تب سے اس بیداری کو پہ در پہ اعلانیہ و غیر اعلانیہ مارشل لاؤں کے ذریعے دبانے اور کچلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سانحہ مشرقی پاکستانی جو کہ اسی اشرافیہ کی نااہلی و بدنیتی کا پھل ہے، کے بعد 73 کا متفقہ آئین اس ملک کو درست راہ پر ڈالنے کی طرف پہلا مثبت اور بڑا قدم تھا۔ لیکن اس آئین کے ساتھ اشرافیہ نے کیا کھلواڑ کیا۔ کبھی آئین کو تسلیم کیا نہ اس پر عملدرآمد ہونے دیا۔ اس ظالم اشرافیہ نے آئین کی 4 بار کی ننگی الاعلان معطلی کے زمانے کو چھوڑ کر بھی آج تک بنیادی انسانی حقوق اور عوامی فلاح و بہبود کی شقوں کو عملاً معطل رکھا ہوا ہے۔
انسان دو طرح سے جینا سیکھتا ہے۔ اول اپنے بڑوں کی طرف سے شعوری تربیتی کوشش کے ذریعے، دوئم اپنے تجربات سے بقاء کو لاحق خطرہ کے پیش نظر زندہ رہنے کی بنیادی جبلت کے ذریعے۔ اب کیونکہ ہمارے ہاں معاشرہ کا ہر تربیتی ادارہ ماں سے لے کر ماں جیسی ریاست تک اپنے اس وظیفہ کو ادا کرنے سے بوجوہ قاصر رہا ہے تو کم از کم مجھے قوم (بالخصوص نوجوانوں اور خواتین) میں موخرالذکر جبلت کی بدولت زندگی کا یہ ہنر پنپتا نظر آرہا ہے۔ گو وقتی طور پر اس شعور کو شدید ترین جبر اور ظلم کا سامنا ہے۔ ظلم و جبر کرنے والے شاید یہ نہیں جانتے کہ جسم پر تو تسلط قائم کیا جا سکتا ہے اسے فنا بھی کیا جا سکتا ہے لیکن دماغ میں اٹھنے والے خیالات جو مستقبل کا لائحہ عمل طے کرتے ہیں کو ختم کیا جا سکتا ہے نہ تابع کیا جا سکتا ہے۔
ہماری قومی تاریخ میں اللہ کے فضل، نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے بعد علامہ اقبال، قائد اعظم، ذوالفقار علی بھٹو نے اگر کوئی کردار ادا کیا ہے تو مستقبل سے مایوسی کیوں؟ ہمیں زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ بجھتے ہوئے چراغوں کی پھڑپھڑاہٹ ہے۔ انہیں بھی عوام (بالخصوص نوجوان نسل) کے تیور سمجھ آرہے ہیں۔ اقتدار کے مزے ہاتھ سے جاتے دیکھ کر انکی عقلوں پر پتھر پڑ چکے ہیں۔ یہ سب مل کر اپنی آخری کوشش میں لگے ہیں۔ انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ اس سب کے بعد جب حالات ان سے نہیں سنبھلیں گے (جو یقیناً نہیں سنبھلیں گے) کیونکہ انکی نیتوں میں فتور ہے، تو پھر؟
یہ لوگ جس قدر ایکسپوز ہو چکے اور انکے ترکش جتنے خالی ہو چکے ہیں، بہت دیر تک اپنے ظلم اور جبر کو جاری نہ رکھ سکیں گے۔ کوئی ایک پل، ایک واقعہ ایک لیڈر (وہ نیا بھی ہو سکتا ہے اور پرانوں میں سے بشمول میاں صاحب بھی) کے درست وقت پر کئے گئے فیصلے کی بدولت منظر نامہ بدل سکتا ہے۔

1 comment
میاں نواز بظاہر کیونکہ نوازے ہوۓ ہیں لیکن اسی سسٹم کے ڈسے ہوئے ہیں عوامی حرارت کو دہکھتے ہوئے فیصلہ کریں اور امر ہو جائیں اور استعمال ہوئے بغیر کچھ پاکستان کو دے جائیں۔