تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تنقیدعلم و ادب

سرسیّد کا تصور فطرت — ڈاکٹر امتیاز عبدالقادر

by دانش ڈیسک 25/10/2023
written by دانش ڈیسک 25/10/2023
511

  سرسید احمد خان ؔکے فکر کی اساس یہ ہے کہ وہ اسلام کو دینِ فطرت اورمطابق عقل مانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قرآن خدا کا قول ہے اورفطرت خدا کا فعل۔ خدا کے قول و فعل میں تضاد ہو ہی نہیں سکتا۔ قبل ازیں شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ (۱۷۰۳ء تا ۱۷۶۲ء) نے اپنی مشہور تصنیف ’حجتہ اللہ البالغہ‘ میں اسلام کو دین فطرت قرار دیا تھا۔ شاہ ولی اللہ سے بھی بہت پہلے جب یونانی فلسفے نے اسلام پر یورش کی تھی توعلماء کے ایک گروہ نے، جو کہ بعدازاں معتزلہ کے نام سے مشہور ہوا، اسلام کوعقل کی کسوٹی پر کھرا ثابت کرکے اس یورش کا مقابلہ کیا۔ ارنسٹ رینان (Ernest Renan{1823-1892})  نے جب یہ دعویٰ کیا کہ اسلام کی تعلیمات جدید سائنس و علوم کے مخالف ہیں تو سیّد جمال الدین افغانی (1838-1897) نے اس سے نہایت فاضلانہ مباحثہ کیا اور اپنے تبحّرُ علمی کا سکہ یورپی مستشرقین پر بٹھا دیا۔ اور رینانؔ نے ان مضامین کو بہت سراہا۔ یہی کام انیسویں صدی میں سرسیدؔ نے ہندوستان میں انجام دیا۔ انہوں نے بھی مستشرقین کے اعتراضات اور حملوں کو اپنے علم اور محنت سے رد کیا، بقول حالیؔ :

’’اس نے جب دیکھا کہ انگریزی تعلیم سے کسی طرح مسلمانوں کو مفر نہیں تواپنی عمر کا ایک تہائی حصّہ اسلام کو انگریزی تعلیم کے مضر نتائج سے بچانے میں صرف کیا‘‘۔ (حیات جاوید، ج۲۔ ص ۱۳۴)

بلاشبہ سرسیدؔ نیک نیت تھے اور وہ دین اسلام کی چوطرفہ حملوں سے حفاظت کرنا چاہتے تھے۔ مگر اسلام کو مطابق فطرت و مطابق عقل ثابت کرنے کی دُھن میں وہ حد سے تجاوز کرگئے۔ مثلاً شیطان اور فرشتوں کو تمثیل قرار دینا، جنت و جہنم کو استعارہ، جزاوسزا ان کے نزدیک روحانی کیفیتوں کا نام ہے۔ حضرت عیسی ؑ کا اللہ کے اذن سے مُردوں کا زندہ کرنا، آسمان سے منّ وسلوٰی اترنا، فرعون کا دریائے نیل میں غرق ہونا اور موسیؑ کا بچ کر نکلنا علاوہ ازیں حضرت موسیؑ کا کلیم ہونا اور اُن کے عصا کا اژدھا بن جاتا…. یہ وہ باتیں تھیں جنھیں سرسیدؔ ان کے ظاھری معنی میں قبول نہیں کرتے بلکہ ان سے وہ معنیٰ اخذ کرتے ہیں جو قرینِ عقل ہوں حالانکہ عقل کی اپنے کچھ حدود ہیں۔ وہ بھول گئے کہ عقل کے نظریات ہرلحظہ متغیر ہیں۔ محسن الملکؔ نے ایک دفعہ سرسیدؔ مرحوم سے کہا تھا کہ اگر فلسفہ یا سائنس کل کسی نظریے کو رد کرکے کوئی دوسرا نظریہ پیش کردے تو کیا آپ نئے سرے سے تفسیر لکھیں گے۔

ڈاکٹر ظفر حسن نے اپنے تحقیقی مقالے’’سرسیدؔ اور حالیؔ کا تصور فطرت‘‘ میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ سرسیدؔ کی تہذیبی اوراصلاحی کاوشوں کا سارا نقص ان کے تصور فطرت میں مضمر تھا اور وہ بھی بالخصوص اس سبب سے کہ وہ مغرب کے اُس تصور فطرت کے گرویدہ تھے جو گزشتہ تین چار صدیوں میں انسانی زندگی اور کائنات کی تشریح و تعبیر کا سب سے بڑا وسیلہ سمجھ لیا گیا تھا، لکھتے ہیں:

’’سرسیدؔ پہلے مسلمان تھے جنہوں نے مغربی افکار کو مسلمانوں سے قبول کروانے کی خاطر مہم چلائی اور ایک منظم تحریک کی بنیاد ڈالی ….. سرسید ؔ کی تمام خیال آرائیوں کی بنیاد دو لفظوں پر تھی، ایک تو، فطرت، اور دوسرے، عقل فطرت کو انہوں نے خصوصیت کے ساتھ ہر چیز کا معیار بنایا تھا۔ اتنی بات یہیں عرض کرتے چلیں کہ انسانی تاریخ کی تمام دینی روایتوں اور تہذیبوں میں فطرت کے معنی ایک ہی رہے ہیں اور یہ وہ معنی ہیں جو سرسیدؔ  کی نیچر سے مطابقت نہیں رکھتے۔ صرف یورپ ہی ایک جگہ ہے جہاں فطرت کے ایک دوسرے معنی پہنائے گئے ہیں اور یورپ میں بھی اس سلسلے کا آغاز بہت دیرمیں یعنی سولہویں صدی میں ہوا اور یہ رجحان اپنے عروج کو انیسویں صدی میں پہنچا‘‘۔ (سرسیدؔ اور حالی ؔ کا تصور فطرت۔ ص ۱۱۶)

حالانکہ ابولکلام قاسمیؔ  فاضل معترض کی اس بات پر اعتراض کرتے ہیں۔ اُن کا ماننا ہے کہ جہاں تک سرسیدؔ  کے تہذیبی شعور کا سوا ل ہے تو اسے صرف تصور فطرت کا زائیدہ  قرار دینا درست نہیں۔ تصور فطرت کی مغربی روایت میں سرسیدؔ  نہ تو ڈیکارٹؔ (متوفیّٰ ۱۶۵۰ء) کو قبول کرتے ہیں، نہ ہابسؔ (۱۶۷۹ء)  کو اور نہ نیوٹنؔ  اور اس کے بعد کے دوسرے مادیت پرست سائنس دانوں کو۔ سرسید اگر کسی ایک فطرت پرست کو اپنے تصور تہذیب ومعاشرت کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کسی حد تک مثالی نمونہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ جان لاک ؔ (Locke) ہے، جو اپنے عہد کے مفکروں اور سائنس دانوںسے الگ اور مختلف بھی ہے اور مادّے کو ماورائیت سے ہم آہنگ کرنے کا تاثر دینے کے باعث سرسید کے مذہب پسند ذہن کے ایک سہارے کا کام بھی دے سکتا ہے۔

ڈارون کے نظریہ ارتقاء نے اس نیچریت اور مادّیت کو استحکام بخشنے اور مدلل و منظّم علمی نظریہ کی حیثیت دینے میں سب سے بڑھ کر حصّہ لیا۔ اس کی کتاب ’’اصل الانواع‘‘ (Origin of Species) سرسیدؔ کے انگلینڈ جانے سے دس سال قبل ۱۸۵۹ء؁ میں شائع ہوچکی تھی اور اس کتاب نے سرسید کے فکروخیال میں انقلاب بپا کردیا۔ ڈارونؔ نے ایک ایسے طریق استدلال سے جو انیسویں صدی کے سائنٹفک دماغوں کے نزدیک استدلال کا اکمل ترین طریقہ تھا، اس نظر یہ پر مہر تصدیق ثبت کردی کہ کائنات کا کاروبار خدا کے پیغمبر بغیر چل سکتاہے۔ آثارومظاہر فطرت کے لئے خود فطرت کے قوانین کے سوا کسی اور علّت کی حاجت نہیں، زندگی گے ادنیٰ مراتب سے لے کراعلیٰ مراتب تک موجودات کا ارتقاء ایک ایسی فطرت کے تدریجی عمل کا نتیجہ ہے جو عقل و حکمت کے جوہر سے عاری ہے۔ انسان اور دوسری انواعِ حیوانی کو پیدا کرنے والا کوئی صانع حکیم نہیں ہے بلکہ ایک جاندار مشین جو کبھی کیڑے کی شکل میں رینگا کرتی تھی، تنازع بقاء صلح اور انتخاب طبیعی کے نتیجہ کے طور پر ذی شعور اور ناطق انسان کی شکل میں نمودار ہوگئی۔

یہی وہ فلسفہ اور سائنس ہے جس نے مغربی تہذیب کو پیدا کیا۔ اس میں نہ کسی علیم و قدیر کا تصور ہے اور نہ نبوّت اور وحی و الہام کی ہدایت کا کوئی وزن، سرسیدؔ نے  انسان کی تخلیق سے متعلق ڈارونؔ کے نظریۂ ارتقا ء کو قبول تو کیا لیکن اپنے اصول ’’ورک آف گاڈ‘‘(Work of God) اور ’’ورڈ آف گارڈ ‘‘(Word of God) پر اٹل رہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’ہم اس بات کو بھی نہ مذہباً اور علماً ضروری سمجھتے ہیں کہ تمام دنیا کی مختلف قومیں، ایک ہی آدم کی نسل سے ہیں…..اس زمانے میں کہا جاتا ہے کہ ابتدا میں ہرایک نوع حیوان کے پیدا کرنے کے لئے نیچر نے ایک ہی شئی جاندار پیدا کی اور اس کی جسمانی اور ذہنی حالت نے ایک ترقی یافتہ حالت پیداکی، رفتہ رفتہ وہ اعلیٰ درجے پر پہنچ گئی۔ مثلاً حیوانات میں سے جس نوع میں بندر کو داخل کیا وہ ترقی، وران، وتان اور ابیشیکوس بندروں تک ترقی کر گئی اور پھر وہ ترقی کرتے کرتے انسان کی حالت میں پہنچ گئی….. اگر ہم اس مسٔلے کو بھی مان لیں تو ہمارے اصول مذہبی میں جو ہم قرآن مجید سے پاتے ہیں کچھ نقصان نہیں آتا، کیونکہ قرآن مجیدمیں وہ حیوان مخاطب ہے جو انسان کی صورت میں آیا تھا گو کہ وہ کسی طرح پر آیا ہو۔

انسان ابتدا میں نہایت ادنیٰ حالت میں تھا مگر ترقی کامادہ جوخدانے اس قسم کے حیوان یا اس قسم کے بندر یا آدم کو دیا تھا اس میں موجود تھا۔ پھر رفتہ رفتہ …..ترقی ہوتی گئی، یہاں تک کہ وہ اس درجہ ترقی پر پہنچا ہے جس پر وہ آج ہے اور معلوم نہیں کہ ابھی کس حد تک ترقی کرنی باقی ہے۔ اس پر قیاس ہوسکتا ہے کہ آدم ؑ سے کس قدر طویل زمانہ گزرنے کے بعدحضرت نوح ؑ کو کشتی بنانے کا فن آیا ہوگا‘‘۔ (مقالات سرسیدؔ جلد ۴۔ ص ۴۷۔ ۴۱)

پاکستانی محقق بشیر احمد ڈار کے بمطابق سرسیدؔ نے انیسویں صدی کے نیچری سائنسدانوں کے اصول کی طرف تنقیدی رویہ اپنائے بغیر اس کو قبول کرلیا تھا اور یقینا سرسیدؔ  کے اسی رویے نے سید جمال الدین افغانی ؒ کو انھیں نیچری اور دہریہ کہنے پر آمادہ کیا تھا۔ مزید براں سرسیدؔ کا یہ رویہّ حقیقی نہیں تھا بلکہ ظاہری تھا جس کا مقصد ان تعلیم یافتہ نوجوانوں کے درمیان اسلام کو فطری ثابت کرنا جو اس فلسفے کے دام میں پھنسے ہوئے تھے۔ آگے چل کر وہ کہتے ہیں کہ فلسفیانہ طور پر سرسیدؔ ایک عقل پرست (Rationalist) نہیں تھے، اسی لئے وہ جس عقل (Reason) کی بات کرتے تھے وہ تجریدی (Abstract) اور غیر بدیہی (Discursive) نہیں تھی بلکہ وہ تجربی تھی۔ اسی بنیاد پر بشیر احمد ڈار سرسیدؔ کی عقلیت کوعمومی فہم (Common Sense) کی عقلیت کی اصطلاح دیتے ہیں۔ ڈاکٹر سید عبدالباری ؔ رقمطراز ہیں:

’’سرسید یورپ میں عقلیت و نیچر کا ورد کرنے والے فلسفیوں کی حقیقت کو نہ سمجھ سکے کہ یورپ میں خدا پرستی اور نیچریت ۱۷ویں صدی میں ضرور ساتھ ساتھ چل رہی تھی اورکیپلرؔ، گلیلیوؔ اور نیوٹن وغیرہ خدا کے منکر نہ تھے مگر بہرحال وہ خدا سے قطع نظر ان قوتوں کو تلاش کر رہے تھے جو اس دنیا کے نظام کو چلا رہی ہیں‘‘۔ ( بیسویں صدی کے اردو ادب کا جائزہ ….ص ۷۹)

اٹھارویں صدی میں بقول مولانا سید ابولاعلیٰ مودودیؒ یہ حقیقت نمایاں ہوگئی کہ جو طریق فکر خدا کو نظر انداز کرکے نظام کائنات کی جستجو کرے گا وہ مادیت، بے دینی اور الحاد تک پہنچے بغیر نہیں رہ سکے گا۔ چنانچہ پریسٹلے ؔ، والٹئیرؔ، روسوؔ نے یا تو اعلانیہ خدا کا انکار کیا یا اگر تسلیم کیا تو ایسے وجود کی طرح جو کائنات بنانے کے بعد گوشہ نشین ہوگیا ہے۔ پھر انیسویں صدی کے آتے آتے خدا پرستی اور نیچریت کے درمیان مصالحت کی کوششیں بھی ترک کردی گئیں۔ اور مادیت اپنے کمال کو پہنچ گئی۔ فلسفہ میں تجربیت اور افادیت پرستی کا مکمل دوردورہ ہوا۔ اسپینسرؔ نے نظام کائنات کے خودبخود پیدا ہونے کا نظریہ پیش کیا اور یہ خیال پختہ ہوتا گیا کہ جو کچھ روئے زمین پر ہے خود بہ خود وجود میں آگیا ہے۔ ڈارونؔ کے نظریہ نے نیچریت ومادیت کومدلل ومنظم علمی نظریہ بنانے کی کوشش کی۔ اور اس پر ایمان تھاکہ حیوان وانسان سب مشین ہیں جو طبعی قوانین (Laws of Nature) کے تحت چل رہی ہیں۔ انیسویں صدی میں سرسیدؔ مغرب کے جس فلسفے اورسائنس سے واقف ہو کر اس کے معتقد ہوئے، وہ یہی تھا۔ چنانچہ اس کا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ تشکیک کے امراض میں اس عہد کے نوجوان بُری طرح مبتلا ہونے لگے اور مغربی تہذیب انہیں اسلام سے منحرف کرنے لگی، مزید براں اسلام میں بنیادی ردوبدل پر انہیں آمادہ کرنے لگی۔

سرسیدؔ سے ایک غلطی یہ بھی ہوئی کہ عقل و نیچرکی میزان پراس طرح مذہب کو تولنا شروع کیا کہ وہ باتیں جوعقائد کا جُز ہیں اور جن کا مابعدالطبعی دنیاسے تعلق ہے، ان کے لئے سوالیہ نشان بن گئیں۔ مولانا قاسم نانوتویؔ (بانی ومہتمم دارالعلوم، دیوبند) جوکہ سرسیدؔ کی دیگرخدمات کو بے حد قدرکی نگاہ سے دیکھتے تھے، سرسیدؔ کو مشورہ دیتے ہیں کہ قرآن کی آیات میں جو چیزیں ان کوخلاف واقعہ نظرآتی ہیں، وہ خود ان کے نقص عقل کی علامت ہیں، جسے وہ دورکریں۔ سرسیدؔ کو یہ احساس نہ تھا کہ وحی و کتاب اللہ کی طفلانہ اندازسے تاویل و توجیہہ سے اسلام کے مستحکم فکری نظام کو وہ نقصان پہنچا رہے تھے۔ اگر وہ معتزلہ سے شاہ ولی اللہ تک اسلامی مفکرین کی حدود میں اسلام اورعقل و نیچر میں مطابقت کی کوشش کرتے تو شاید انہیں نیچری ہونے کاطعنہ نہ دیا جاتا۔ سرسیدؔ نے اپنے رسالہ ’’تہذیب الاخلاق‘‘ کے ذریعہ سبھی غیر عقلی اورغیرافادی رسوم کو ترک کرنے کا مشورہ دیا اور سبھی مروجہ رسموں کی عقلی چھان بین کی، یہ سچ بات ہے کہ اُس دورمیں ہندوستان کے مسلمان رسمِ بد میں پھنس کر رہ گئے تھے اور توہم پرستی بھی عروج پر تھی لیکن سرسیدؔ نے جاہلانہ رسوم کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے کچھ پختہ عقائد کو بھی نشانہ بنانا شروع کیا، بقول حسن عسکریؔ :

’’انہوں نے بقا کے راستے کو پہچانا، ہمیں ان کی عظمت تسلیم، مگر بقا کے یہ معنی نہیں کہ نئے خیالات میں اپنے آپ کواس طرح بدلیں کہ اپنی اجتماعی شخصیت باقی نہ رہے۔ اصلی بقا تو وہی ہے کہ قوم کی تخلیقی صلاحیتیں بھی نہ مریں اور انفرادی شخصیت بھی برقرار رہے۔ حالات سے مطابقت پیدا کرنے میں ان لوگوں سے ایسی غلطیاں سرزد ہوئیں جس کا خمیازہ اب تک بھگتنا پڑ رہا ہے‘‘۔ (انسان اورآدمی۔ ص ۱۲۴)

عقیل احمد صدیقی کے الفاظ میں عقلی تجربیت پسندی کے وسیلے سے حاصل علم کی صداقت ہمیشہ ناپائدار ہوتی ہے۔ سرسیدؔ اس تفہیم میں ناکام رہے کہ کلچرل مظاہر اصلاً نشانات ہیں جن کی پُشت پر تصورات کا ایک نظام ہوتا ہے جن کی مدد سے کسی سماج میں موجود وضعی پیچیدگیوں کا تجربہ و یقین ممکن ہوتا ہے۔ بہت سے ثقافتی مظاہر غیرعقلی ہونے کے باوجود اس لئے کارآمد ہیں کہ ان کی حیثیت تصورات کی ہے اور یہ کسی قسم کی شناخت کا وسیلہ ہوتے ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ پروفسیر ابوالکلام قاسمیؔ کے الفاظ میں سرسیدؔ کے تہذیبی تصورات کے جائزے کے وقت ان کے زمانے کی غیرمعمولی صورت حال، مسلمانوں کی اجتماعی ہزیمت اور بے یقینی کے احساس جیسے تناظر کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور انہوں نے یورپ کی عقلیت پرستی اور فطرت پرستی کی حمایت میں یقینا اس حد تک جانے سے گریز کیا جس نے مغرب کے انکار اور الحاد کی حد تک پہنچا دیا تھا۔ سرسید ؔ نے اسلام کے سلسلے میں قائدانہ کے بجائے معذرت خواہانہ انداز اختیار کیا اور دشمنانِ اسلام کے اعتراضات پر اسلام کی واضح موقف میں لچک پیدا کرتے گئے۔ غرض سرسیدؔ مرحو م کی رہنمائی میں تعقل اور فطرت پسندی کی طرف خاص میلان ہوا۔ توہمات اور تصنع کی دنیا سے نجات حاصل کرنے کی کوششیں ہوئیں۔ سرسیدؔ کے رفقا میں محسن الملک ریفارمیشن کے بڑے مویّد تھے لیکن وہ اس حد تک جانے کو تیار نہ تھے جہاں تک سرسید ؔ جانا چاہتے تھے۔ سرسیدؔ نے انگریزوں کے ساتھ کھانا شروع کیا تو انہوں نے اسے ناپسند کیا اور جب سرسید ؔ نے ’’تبئین الکلام‘‘ لکھی تو محسن الملک ؔ نے اس کتاب میں موجود بہت سے خیالات سے اختلاف کیا۔ سرسیدؔ نے نرمی سے ان کو جواب دیا کہ ’’اب تنقید کا زمانہ نہیں، عقل و دانش سے کام لینے کا وقت ہے‘‘۔

اکبر الہ آبادیؔ نے بھی سرسیدؔ اور علی گڑھ کے بعض پہلوؤں کو مذہب کی بیخ کنی سے تعبیر دیا ہے ؎

نظر ان کی رہی کالج کے بس علمی فوائد پر

گرا لیں چپکے چپکے بجلیاں دینی عقائد پر

قابلیت تو بہت بڑھ گئی ماشاء اللہ

مگر افسوس یہی ہے کہ مسلمان نہ رہے

انیسویں صدی میں بہت سے روشن خیال یہ تصور کرتے رہے کہ مغرب کے مادّہ پرست تہذیب میں مشرقی روایات کی کچھ پیوند کاری سے کام چل سکتا ہے اور اس سانچے میںڈھل کر جو اینگلو محمڈن اور اینگلو انڈین برآمد ہوںگے، وہ مستقبل کو تابناک بناسکیں گے اور قدامت و جدیدیت کا ایک دلکش امتزاج بن کر سامنے آئیں گے۔ حالانکہ مشرقی و مغربی روایات کا مرکب تیار کرنے کی یہ کوشش اکثر مضحکہ خیز ثابت ہوئیں۔ اس لئے کہ دونوں عناصر بقول مولانا مودودیؒ ’’نہ صرف ایک دوسرے سے الگ رہے بلکہ ایک دوسرے کی مزاحمت کرکے طلبہ کے ذہن کو دو مختلف سمتوں کی طرف کھینچتے ہیں‘‘۔

انیسویں صدی میں مغرب اپنے فلسفیوں اور سائنس دانوں کے سانچے میں ڈھل چکا تھا اور اس نے خدا کو ایک بے کار وجود بنا کر گرجا گھروں میں مقید کردیا تھا۔ باقی دنیا کا سارا نظام مادّی فلسفوں کی روشنی میں خودبخود چل رہا تھا جیسے کہ ساری مشین فِٹ کردینے کے بعد گھڑی خود بخود چلتی رہتی ہے۔ مشرق اپنے اعتقادات و اخلاقیات کو دینوی معاملات سے کاٹ کر الگ کرنے پر تیار نہ تھے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ سرسیدؔ علی گڑھ تحریک کو ایک وسیع و ہمہ گیر تحریک بنانا چاہتے تھے اور اس تحریک نے چند قدآور شخصیتیں بھی پیدا کیں، توہم پرستی اور غیرعقلی طرز فکر سے نجات دلائی لیکن مغرب کی بے اعتدالیوں اور ظنّ و تخمین کو قبول کرنے کے سبب ہندوستان گیر نہ بن سکی اور اندرونی تضاد اور بیرونی مزاحمت کا اسے مسلسل سامنا کرنا پڑا۔ سرسیدؔ کے بہت سے رفقا مشرقی سانچے میں ڈھلے ہوئے تھے۔ اسلئے وہ طرز فکر اور طرزمعاشرت کے سلسلے میں اتنی دورنہ جاسکے جو سرسیدؔ کی منزل تھی۔ سرسیدؔ نے ’تبئیں الکلام‘ اور ’تفسیر احمدی‘ میں جو طرز فکر اپنا یا اُس نے ہندوستان میں ’فتنۂ انکار حدیث کا دروازہ کھول دیا۔ رسول اکرمﷺ کے اقوال، افعال اور ہدایات کو امت میں بعد از قرآن اسلامی تہذیب، قانون، تمدن، معاشرت، معیشت، ادب، سیاست اور کردار سازی میں معیار و میزان کی حیثیت ہے، صرف قرآن مقدس پرانحصار کا دعویٰ بہت سی ایسی جدّت طرازیوں کا دروازہ کھول دیتا ہے جو دین کے نظام فکروعمل کو درہم برہم کردیتا ہے۔ انیسویں صدی کے نصف آخر کے علماء نے مغرب کی مادّہ پرستی کے سلسلے میں جو رویہّ اختیار کیا اور علی گڑھ تحریک کی جو مخالفت کی وہ بے محل نہ تھی، لیکن سرسیدؔ پر مفاد پرستی یا ذاتی مصلحت کی پاسداری کا الزام بیجا تھا،

ڈاکٹر سیدالباری مرحوم لکھتے ہیں:

’’دراصل سرسیدؔ پورے خلوص کے ساتھ انگریزی تعلیم اور عقلیت وفطرت پسندی کی حمایت کررہے تھے۔ جن لوگوں نے علمی انداز سے سرسیدؔ سے

اختلاف کیا ان کی باتوں پر لوگوں نے توجہ دی، لیکن جومحض تمسخر اور استہزا سے کام لے رہے تھے ان کی باتوں کو کسی نے توجہ نہ دی۔ اسی ماحول میں بہت سے ایسے لوگ بھی منظر عام پر آئے جنہوں نے مغرب کی اخلاق و روحانیت کے معاملہ میں درماندگی کو سامنے رکھتے ہوئے صرف مادّی وسائل میں اس کی تسخیر فطرت اور ایجاد و انکشاف سے فائدہ اُٹھانے کی حد تک اس کی طرف تعاون کا ہاتھ بڑھانا مناسب قرار دیا‘‘۔ ( بیسویںصدی کے اردو ادب کاجائزہ۔ ص ۸۵)

سرسیدؔ کے اصلاحی غوروفکر کا اصلی محور مذہب نہ تھا۔ مذہبی بحث ان کی مجبوری تھی کیونکہ مذہب اس عہد کی زندگی پر حاوی تھا، اس لئے انہیں مذہبی مسائل سے دلچسپی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ کسی قوم کی تہذیب اور ترقی کا تعلق اس کے مذہب سے بھی ہوتا ہے اور اپنے عہد کے حالات کے پیش نظر ان کا خیال تھا کہ جس قدر اس قوم کے مذہب میں عیوب پائے جائیں گے، اسی قدر اس کی تہذیب میں نقص اور ترقی میں جمود ہوگا۔ مسلمانوں کو تہذیب یافتہ کرنے کے جذبے نے سرسیدؔ کو مذہبی اصلاح کی طرف متوجہ کیا۔ کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اسلام کی حالت کا اندازہ مسلمانوں کے حالات سے لگایا جاسکتا ہے۔ لیکن یہی انہوں نے ٹھوکر کھائی، پروفسیر اسلوب احمدانصاریؔ اپنے ایک تحقیقی مقالے ’’سرسیدؔ کا نظریہ عقل و فطرت ‘‘میں فرماتے ہیں:

’’سرسیدؔ نے خدا کو واجب الوجود، علت العلل، ازلی اور ابدی، قادرمطلق، علیم اور خبیروبصیر تو تسلیم کیا ہے لیکن خدا کی ہستیٔ روح کی ماہیت اور حیات بعدالممات کے لزوم کے بارے میں ان کا استدلال مضبوط نہیں ہے۔ وہ صرف ان مسلمات کو جو خارجی تجربے اور حواسیِ علم کی دسترس میں آسکیں یا ان سے اخذ کیے جاسکیں، اپنے ایمان و ایقان کے لئے کافی سمجھتے ہیں اور باقی ہر نوع کے تجربے اور نظریے کو غلط اور جادۂ صداقت سے منحرف تصور کرتے ہیں۔ یہی محدودیت ان  کا کمزور ترین پہلو ہے‘‘۔ (فکر ونظر (اکتوبر ۱۹۹۲ء؁) ص ۱۷)

 

Facebook Comments Box
naturalismSir Syed Ahmad Khan
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
نواز شریف کی واپسی، اشرافیہ اور قوم کی مایوسی —- ارشد محمود
next post
ابراہیم جلیس اپنی تحریروں میں اب بھی زندہ ہیں —- عارف الحق عارف

Related Posts

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.