مجید امجد کی نظم اور وزیر آغا کی الجھن
میرے افسانوں کے پہلے مجموعے “بند آنکھوں سے پرے” کا دیباچہ لکھتے ہوئے منشایاد نے جو عنوان جمایا تھا وہ مجید امجدکی ایک نظم “زینیا” سے اخذ کیا گیا تھا۔ عنوان تھا “رنگ رنگ کے رنگ” جب یہ دیباچہ مجھے ملا تھا تو مجھے یہ عنوان بہت اچھا لگا اور نیا بھی تاہم میرا فوری دھیان مجید امجد کی نظم کی طرف نہیں گیا تھا۔ یہ تو بعد میں ہوا تھا کہ نظم “زینیا” پڑھتے ہوئے میں اس کے پہلے بند پر ہی رُک گیا تھا:
“انگاروں کاروپ
جیٹھ ہاڑ کی دھوپ
اور اس جلتے سمے
مہکیں تیرے سنگ
رنگ رنگ کے رنگ”
شاعر نے یہاں زینیا کے پھول کو مخاطب کیا تھا اور آپ جانتے ہی ہیں کہ اس پھول کے کئی رنگ ہوتے ہیں۔ شدید گرمی اور تپتی دھوپ میں زینیا کے پھول رنگ پکڑتے ہیں۔ موسم کی اس شدت کو مجید امجد نے جیٹھ ہاڑ کی دھوپ اور انگاروں کے روپ سے نظم کا حصہ بنایا ہے تاہم لطف یہ ہے کہ یہاں انہوں نے رنگوں کو مہکایا ہے اُس کی خوشبو کا ذکر نہیں کیا۔وہ خوشبو کا ذکر کیسے کرتے کہ زینیا کا دامن اس باب میں خالی ہے اور یہیں سے مجید امجد نے اپنی نظم کا موضوعاتی علاقہ اخذ کیا ہے۔
جس زمانے میں مجید امجد لکھ رہے تھے، ان کے ہم عصر مگر قدرے پہلے مشہور ہو جانے والے فیض، راشد اور میراجی موجود تھےاور شاعروں کے ہاں شہری منظرنامہ توجہ پا رہا تھا۔ مجید امجد اس صورت حال سے آگاہ تھے اور جانتے تھے کہ یہ مزاج اس زمانے کا مقبول چلن بنتا جارہا تھا مگر انہوں نے اپنا انداز نہیں بدلا۔کسی بڑے شہر کی مصروف زندگی اور اس کے مظاہر اور مسائل کی بجائے ان کی زیادہ تر نظموں میں بہار، خزاں، درخت، کھیت، کنواں، پگڈنڈی، پھول، ڈوبتا سورج، گہری شام اور اس جیسے مظاہر سے رواں زندگی کے بارے میں سوالات قائم کیے گئے ہیں۔ مجید امجد قصباتی ماحول میں رہ کر جس زندگی کا تجربہ کر رہے تھے، اسی کو اپنے تخلیقی عمل کا حصہ بنا رہے تھے۔ یہی سبب ہے کہ وسیع مناظر کا مشاہدہ کرنے والے مجید امجد کی نظموں کے مطالعے کے دوران اس تجربے کی عطا فکری کشادگی اور وسعت نظری کا احساس قاری تک منتقل ہوتا رہتا ہے۔
زیر نظر نظم میں بھی شاعر نے بالکل سامنے کے منظر نامے سے اپنی نظم کا لوکیل منتخب کیا ہے اور پھر ایک ایسے پھول کو کہ جس کے کئی رنگ ہوتے ہیں، جو شدید گرمی برداشت کرکے اور اپنی خوشبو تج کر کھلتا ہےاسے انسانی زندگی کے ساتھ جوڑ کر دیکھا ہے۔ جی، اس انسانی زندگی کے ساتھ جو محض جسم کی سطح پر نہیں ہے، خوشبو کی طرح اس کی روح بھی ہے۔
مجید امجد کو اپنی نظم اور اس کے تخلیقی عمل پر بات کرنا کچھ زیادہ اچھا نہ لگتا تھا۔ میں نے ان کے اس مزاج کا اندازہ ان کے حوالے سے ان کے احباب کی تحریروں کے علاوہ انور سدید کے ایک استفسار کے جواب سے لگایا ہے جس میں وہ کہتے ہیں:
“نظم تحریر کرتے وقت شاعر اگر نظم کے تخلیقی عمل کی طرف متوجہ رہے تو نظم کی تکمیل ناممکن ہو جائے گی۔ جب ہم کسی کیفیت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو اس کیفیت کا عمل ختم ہو جاتا ہے۔”
یوں اپنے تخلیقی عمل کی بابت بات کرنے سے کترا کر نکل جانے سے اخذ کیا جاسکتا ہے کہ وہ اس باب میں قاری کی دانش کے اپنے تئیں کام کرنے کے حق میں ہیں۔ تاہم اس سب کے باوجود مجید امجد نے اپنی اس نظم کی تفہیم کی کنجی فراہم کر رکھی ہے۔ ہوا یوں کہ مجید امجد کی یہ نظم پڑھ کر ڈاکٹر وزیر آغا بہت الجھے تھے اور انہوں نے اپنی اس الجھن کا اظہار ایک خط کی صورت میں شاعر سے بھی کردیا تھا۔ وزیر آغا کا خط اور مجید امجد کا جواب اتنے دلچسپ ہیں کہ دونوں یہاں آپ کے مطالعے کے لیے مقتبس کر رہا ہوں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ایک ہی نظم کو یہ دو جید نظم نگار کس رُخ سے دیکھ رہے تھے اور یہ بھی کہ بعض اوقات تخلیق کار جس تخلیقی عمل سے گزرتا ہے اور اس کے جو بھید بھنور اس پر عیاں ہو چکے ہوتے ہیں، وہ اس کے قاری سے اوجھل رہتے ہیں ؛چاہے قاری وزیر آغا جیسا ذہین، خلاق اور ادب کا تربیت یافتہ ہی کیوں نہ ہو۔
زینیا/نظم: مجید امجد
1
انگاروں کاروپ
جیٹھ ہاڑ کی دھوپ
اور اس جلتے سمے
مہکیں تیرے سنگ
رنگ رنگ کے رنگ
2
پائے موج ِنمو
خوشبو تج کر تو
اگنی پیتے پھول
تیری جبیں پر لاکھ
بجھے دلوں کی راکھ
3
روپ ہو کتنا انوپ
باس بنا کیا روپ
اس پھلواڑی میں
خوشیوں کی اک لہر
زندگیوں کا شہر
4
جینا ان کا جو
امر بہاروں کو
سونپ کے دل کی باگ
دُکھ کی دھوپ جلیں
اس کی بھینٹ نہ دیں
5
دیکھ سکے تو دیکھ
جیون کے یہ لیکھ
لے کر اس جگ میں
سونے کا کشکول
سب اک پل کے مول
اپنے من کی سگندھ
بیچنے آئے ہیں
کیا تو۔۔۔اورکیا میں
وزیرآغا بنام مجید امجد
“محترمی مجید امجد صاحب!
تسلیم و نیاز۔ آپ کا خط ملا۔ نظم بھی موصول ہوئی۔ نظم خوب صورت ہے، موضوع اچھوتا اور انداز بیان دلکش ہے۔
جہاں تک میں آپ کی اس نظم کو سمجھ سکا ہوں، شاعرکہنا یہ چاہتا ہے کہ اس کائنات میں ہر شے کے دوروپ ہیں۔ ایک ظاہری نمود و نمائش کا روپ اور دوسرا داخلی پرتو کا روپ۔ شاعر نے پہلی کیفیت کو پھول کی ظاہری آب و تاب سے اور دوسری کو پھول کی خوشبو سے ظاہر کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ محض ظاہری نمودو نمائش سے بات نہیں بنتی اصل چیز تو خوشبو ہے جو گویا پھول کی تمام تر خوبیوں اور لطافتوں کا عطر ہے۔ یہی خوشبو انسان میں اس کی شخصیت اور روحانی عظمت کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ بڑی بات یہ ہے کہ ہم سب چاہے پھول ہوں یا انسان اپنے داخلی پرتو سے اردگرد کی دنیا منور کرتے ہیں۔لیکن شاعر زینیا کو دیکھتا ہے تو تاسف کا اظہار کرتا ہے کہ اس میں خارجی حسن تو ہے تاہم یہ اس خوشبو سے محروم ہے جو اصل حیات ہے۔
یہاں تک تو بات ٹھیک اچھوتی اور قابل تعریف ہے لیکن خود نظم کے اندر مجھے اس خیال سے انحراف کا پہلو نظر آیا ہےاور میں جانتا ہوں کہ آپ میری اس الجھن کو رفع کر دیں[گے]۔
تیسرے بند میں آپ نے لکھا ہے کہ باس بنا روپ بے معنی ہے اور یہ گویا زینیا کی مذمت میں ہے۔ لیکن اس سے اگلے بند میں آپ نے لکھا ہے کہ اصل زندگی تو ان کی ہے جو دکھ کی دھوپ میں جلتے ہیں لیکن اس کی بھینٹ نہیں دیتے۔ اس کی بھینٹ اور خوشبو کی پیش کش مترادف کیفیات ہیں۔ چنانچہ یہ ٹکڑا نظم کے مزاج سے بالکل علیحدہ دکھائی دیتا ہے اس لیے بھی کہ آپ نے آخری بند میں صاف الفاظ میں لکھا ہے کہ کیا پھول اور کیا انسان۔۔۔ سب فن کی سنگدھ[سگندھ]٭ دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔
ایک بات اور!
آخری بند میں آپ نے لکھا ہے کہ سب لوگ سونے کا کشکول ہاتھ میں لیے من کی سنگدھ [سگندھ ] ٭بیچنے آئے ہیں۔ کشکول تو شاید بھیک مانگنے کی کیفیت کو اجاگر کرتا ہے، بیچنے کے مفہوم کو ظاہر نہیں کرتا۔
مخلص۔ وزیر آغا”
(٭مجید امجد کے ہاں برتا جانے والا لفظ “سگندھ” وزیر آغا کے خط میں دوبار “سنگدھ” نادرست املا/ شائع ہوا ہے۔)
مجید امجد بنام وزیر آغا
مکرمی آغا صاحب!
تسلیم۔ خط ملا۔ پڑھ کر بے حد خوشی ہوئی۔ آپ نے میری چند منظوم سطورکو اتنے غوراور توجہ سے پڑھا ہے۔ آپ نے جن خیالات کا اظہار فرمایا ہے میں ان سے متفق ہوں سوائے ان تین امور کے۔ ان کے بارے میں عرض ہے۔
“اس بھینٹ نہ دیں۔۔۔” یہاں میری مراد یہ ہے کہ اصل زندگی تو ان کی ہے جو دکھ کی دھوپ میں جلتے ہوئے بھی اپنی اپنی خوشبو کی قربانی نہیں دیتے (یہاں بھینٹ سے میں نے(سیکریفائر٭) کے معنوں میں استعمال کیا ہےآفرنگ ٭کے معنوں میں نہیں) برعکس زینیا کے جو دھوپ میں جلتا ہے تو اپنی بقا کے لیے اپنی خوشبو کو قربان کر دیتا ہے۔ (پائے موج نمو خوشبو تج کر توتیسرے بند کے بعد جس میں کہا گیاتھا کہ اصل زندگی تو ان کی ہے جو اپنی بقا کے لیے اپنے بہترین جوہر کی قربانی نہیں دیتے۔ میں نے آخری بند میں اس امر کے اظہار کی کوشش کی ہےکہ کیا زینیا کا پھول کیا میں اور کیا میری طرح اور لاکھوں انسان سب اس دنیا میں آئے ہیں تو بدقسمتی سے (جیون کے یہ سکھ) ان کو زندہ رہنے کے لیے اپنے من سگندھ کا سودا کرنا پڑتا ہے۔ وہ اس جوہر کو بیچ کر اس کے عوض زندگی زندگی کا ایک پل حاصل کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح زینیا اپنی بقا کے لیے اپنی خوشبو کو ترک کرکے حالات سے سودا اور سمجھوتہ کر لیتا ہے۔
“سونے کا کشکول” یہاں مراد زریں کشکول سے نہیں ہے۔ پانی کا گھڑا۔ پھولوں کی ٹوکری اور اس قسم کی تراکیب سے عبارت وہ گھڑا ہے جس میں پانی ہے۔ وہ ٹوکری جس میں پھول ہیں۔ اس طرح یہاں بھی مراد وہ کشکول ہے جس میں زرد مال روپے، اشرفیاں ہوں، تنخواہ کے سکے اور اجرت کے دام ہوں جن سے ہم اپنا اپنا کشکول بصد خواری بھر لیتے ہیں۔ یہی ہوس زر ہم سے بہت سوں کی زندگی ہے اور اسی میں زندگی کے ایک پل کو حاصل کرنے کے لیے”ہم”اپنے من کی سگندھ کو بیچ دیتے ہیں، اس کا سودا کر لیتے ہیں۔
میں نے اس نظم میں اس کے صوری الزام کے تحت اپنی باتوں کو قلمبند کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر ان کا ابلاغ نہیں ہو سکا تو میں اپنے عجز کا اعتراف کرتا ہوں۔”
(Offerring اور Sacrifire (مجید امجد نے اپنے نامے میں بالترتیب انگریزی میں الفاظ استعمال کیے تھے
اپنی نظم کی مجید امجد نے جس خوبی سے تعبیر کی، اس نے ساری گتھیاں سلجھا دی ہیں۔آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ اپنے موضوع کے اعتبار سے یہ آج کی نظم ہے۔ ایسی زمانے کی نظم جس میں ظاہری زندگی بہت اہم ہو گئی ہے۔ چمک دمک والی اور آسائشوں کے حصول کے لیے ہلکان ہونے والی زندگی۔ بہ قول مجید امجد جوبہ صد خواری ہمارے حصے میں آتی ہے۔ اپنی روح اور اپنی سگندھ سے محروم زندگی۔
منٹو اور مجید امجد
ایک نظم اور دوخطوط کا ذکر اوپر ہوگیا ماہنامہ “قند” کا “مجید امجد نمبر” پڑھتے ہوئے جس نظم اورخط نے میری توجہ کھینچی دونوں بہت اہم ہیں۔ خط اردو کے نامور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کا ہے اور نظم مجید امجد جیسے منفرد نظم نگار کی۔ یہ نظم اگرچہ مجید امجد نے منٹو کی فرمائش پر لکھی مگر جس طرح اپنے وجود کی حضوری مجید امجد کے ہاں یہ تخلیقی عمل سے گزری اس نے اسے بہت اہم اور بڑی نظم بنا دیا ہے۔ فرمائش والا معاملہ منٹو کے خط سے طے ہو جاتا ہے۔ منٹو کے اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے خط کا عکس بھی میں نے چھپا ہوا دیکھ رکھا ہے، اس لیے اس باب میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہاں یہ جو کہا جاتا رہا ہے کہ منٹونے مجید امجد کو ایک نہیں دوخط لکھے تھے اور مجید امجد نے بھی پہلے ایک نظم لکھی جو منٹو کو پسند نہ آئی تھی تو دوسراخط ملنے پر دوسری نظم لکھ دی؛ اس پر یقین نہیں آتا۔ اگر یہ بات مان لیں تو منٹو کا دستیاب خط پہلا ہوا اور مجید امجد کی نظم دوسر ی۔ اس لیے کہ اس خط میں پہلی نظم (جو کہیں دستیاب بھی نہیں ہے) کا کہیں حوالہ نہیں ہے۔ خیرمنٹو صاحب کے خط کا متن دیکھ لیجئے:
سعادت حسن منٹو بنام مجید امجد
“امجد صاحب!
اسلام علیکم۔ آج آپ کو ایک تکلیف دے رہا ہوں۔ فوراً قلم اٹھائیے اور نظم یا نثر میں میرے متعلق جو امپریشن ٭آپ کے دماغ میں آئیں کاغذ پر منتقل کر دیجئے۔ یہ فوری طور پر ہونا چاہئیے۔
میں ایک عجیب و غریب قسم کی چیز مرتب کر رہا ہوں جس کا نام “ناخن کا قرض” ہے۔ اس کا اول تا آخر منٹو سے متعلق ہے۔
میں واپسی ڈاک میں آپ کے امپریشن کا منتظر رہوں گا۔
باقی باتیں پھر۔
خاکسار
سعادت حسن منٹو”
منٹو صاحب نے جس بے تکلفی سے خط کی عبارت لکھی ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دونوں کے درمیان یہ پہلا رابطہ نہیں تھا۔ یقینا ً ایک تعلق موجود تھا۔ ملاقاتیں بھی رہی ہوں گی مگر یہ ملاقاتیں شاید ویسی نہ ہوں جیسی مجید امجد کے دوسرے ہم عصر شاعروں سے منٹو کی رہی ہوں گی۔ ایک شاہکار نظم کو مجید امجد کے قلم کا مقدر ہونا تھا ؛منٹو نے اس باب میں نہ راشد اور میر ا جی کی طرف دیکھا اور نہ ہی فیض کی جانب اور خط اس نظم نگار کو لکھ دیا جو اپنے تخلیقی رویوں میں حیران کن حد تک مختلف اور لائق توجہ تھا مگر ابھی شہرت کی اس منزل سے بہت دور تھا جو اس کے ہم عصروں کا بخت بنی ہوئی تھی۔
مجید امجد کو ذرا بعد میں مانا گیا مگر یہ واقعہ ہے کہ وہ مرکز نگاہ بنتے چلے گئے۔ تخلیقی سطح پر وہ اتنے توانا اور مختلف تھے کہ ادبی مراکز سے دور الگ تھلگ رہنے والے اس شاعر کو بہت دیر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تھا اور یہ بات منٹو جیسے تخلیق کار کی فہم سے اوجھل کیسے رہ سکتی تھی۔مجید امجد اور منٹو کی وفات کے بعد سہی مگر ایسا وقت بہت جلد آگیا کہ نئی نظم کے بنیاد گزاروں میں مجید امجد کا نام گونجنے لگاتھا۔ وہ بہت سے لکھنے والوں کو متاثر کرنے لگے تھے اور سچ یہ ہے ابھی تک متاثر کیے جاتے ہیں۔خورشید رضوی نے اپنی شاعری کے مجموعے “شاخ تنہا” (مطبوعہ:1974) کا اِنتساب مجید امجد کے نام کیا تھا اور اپنے اس مجموعے کی ابتدامیں”سخن ہائے گفتنی”کے عنوان تلے لکھا تھا:
“عجب المناک اتفاق ہے کہ جس روزاس [کتاب ]کےانتساب کی کتابت ہو رہی تھی، (11 مئی 1974ء) عین اسی روز مجید امجد نے اُن تمام یادوں سے غفلت اختیار کرلی جو دوسروں کے دلوں میں ان کے دل کے لیے زندہ و موجود تھیں۔ امید ہے کہ یہ یادیں آئندہ بھی زندہ و موجود رہیں گی۔”
یہ یادیں نہ صرف زندہ و موجود رہیں، مجید امجد کو کچھ اورتوجہ اور ڈھنگ سے پڑھا جانے لگا تھا اور اب وہ باقاعدہ نظم کے مباحث کا حصہ ہونے لگے تھے۔ خورشید رضوی کا ذکر چل رہا ہے تو انہیں کے ایک مضمون کی طرف دھیان چلا گیا ہے جو انہوں نے”میں نے اُس کو دیکھا ہے”کے عنوان سے لکھا تھا۔ یہ مضمون مجید امجد کی یاد میں ہے اور اسے اسی نظم کے دو ٹکڑوں شروع کیا گیا جو مجید امجد نے منٹو کی فرمائش پر لکھی تھی۔
“میں نے اس کو دیکھا ہے
اجلی اجلی سڑکوں پر اک گرد بھری حیرانی میں
پھیلتی بھیڑ کے اوندھے اوندھے کٹوروں کی طغیانی میں
کون ہے جو بل کھاتے ضمیروں کے پر پیچ دھندلکوں میں
روحوں کے عفریت کدوں کے زہر اندوز محلکوں میں
لے آیا ہے یوں بن پوچھے اپنے آپ
عینک کے برفیلے شیشوں سے چھنتی نظروں کی چاپ”
خورشید رضوی نے نظم کو یوں مقتبس کرکے لکھا تھا کہ انہوں نے منٹو کو نہیں دیکھا تھا مگر مجید امجد کو دیکھ رکھا تھا اس لیے گرد بھری حیرانی، ضمیروں کے پرپیچ دھندلکوں، اور عینک کے برفیلے شیشوں سے چھنتی نظروں کی چاپ کا ذکر پڑھ کر ان کے ذہن میں معاً ایک کہنہ سال عینک کے سفید شیشوں کے پس منظر میں مجید امجد کی شبیہ ابھرتے دیکھی تھی جس میں دور دیس سے آئے ایک اجنبی ہنس کی سی خوفزدہ معصومیت کا تاثر ملتا تھا۔
خورشید رضوی نے منٹو کے بارے میں لکھی گئی نظم میں مجید امجد کی شبیہ دیکھی تھی اور میں، کہ جس نے دونوں کو نہیں دیکھا، اِس نظم میں دیکھتا ہوں۔ جی ایک نظم میں، جس میں سے دونوں بڑے لکھنے والوں کا تخلیقی وجود چھلک چھلک پڑتا ہے۔لیجئے خود پڑھ کر یقین کر لیجئے:
منٹو/نظم: مجید امجد
میں نے اُس کو دیکھا ہے
اُجلی اُجلی سڑکوں پر اِک گرد بھری حیرانی میں
پھیلتی بھیڑ کے اوندھے اوندھے کٹوروں کی طغیانی میں
جب وہ خالی بوتل پھینک کے کہتا ہے
“دنیا! تیرا حسن، یہی بد صورتی ہے”
دنیا اس کو گھورتی ہے
شور سلاسل بن کر گونجنے لگتا ہے
انگاروں بھری آنکھوں میں یہ تند سوال
کون ہے یہ جس نے اپنی بہکی بہکی سانسوں کا جال
بام زماں پر پھینکا ہے
کون ہے جو بل کھاتے ضمیروں کے پر پیچ دھندلکوں میں
روحوں کے عفریت کدوں کے زہر اندوز محلکوں میں
لے آیا ہے یوں بن پوچھے اپنے آپ
عینک کے برفیلے شیشوں سے چھنتی نظروں کی چاپ
کون ہے یہ گستاخ
تاخ تڑاخ!
یہ بھی پڑھیں : مجیدامجد: زمان و مکاں کی وسعتوں میں تنہا وجود —- اعجاز الحق اعجاز
