تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تنقیدعلم و ادب

جوش ملیح آبادی : کام ہے میرا تغیر نام ہے میرا شباب — محمد حمید شاہد

by محمد حمید شاہد 14/09/2023
written by محمد حمید شاہد 14/09/2023
296

جو ش ملیح آبادی ایک ہی وقت میں شاعرِ انقلاب اور شاعر شباب کے طور پر مقبول ہوئے۔ وہ اپنی ذات میں انجمن تھے اور اس قدر متنازع فیہ کہ بہ قول مشفق خواجہ’اُن کی زندگی ہی میں اُن کے خلاف ایک ادبی رسالے کا ضخیم جوش نمبرشائع ہوا تھا جس میں درجنوں معاصرین نے جوش کے ان ’عیبوں‘ کی نشاندھی کی تھی جو اگر جوش میں نہ ہوتے تو ہم ایک طرح دار اور رنگا رنگ شخصیت سے محروم رہ جاتے۔ ‘مشفق خواجہ نے یہ بھی لکھا ہے کہ ‘جوش صاحب کو اپنے خلاف فضا پیدا کرنے میں مزہ آتا تھا۔ ‘ قمر رئیس نے اپنی ایک تحریر میں بتا رکھا ہے کہ ‘جوش نے اپنی معتوبی کا سامان بہت پہلے سے جمع کرنا شروع کر دیا تھا۔ ‘

کبھی اہل ایماں کو بھڑکا کر، کبھی اہل اقتدار کو آنکھیں دکھا کر، کبھی درجنوں عشق کرکے ہم چشموں کو حاسد بناکر، کبھی درسگاہوں اور خانقاہوں میں فتنے جگا کر، کبھی دیسی ریاستوں میں برہنہ گفتاری کے تماشے دکھا کر، کبھی مرگ ِ انسانیت اور تذلیلِ آدم کا نوحہ پڑھ کر، کبھی آدم نو کی بشارت دے کر، کبھی (آزادی کے بعد) لال قلعہ کے مشاعرے میں آزادی کا مضحکہ اڑا کر اور کبھی ’شاہنامہ اسلام‘ پر کڑی تنقید کرکے۔ ‘ تاہم ایسا بھی نہیں ہے کہ انہوں نے اپنے خلاف ایسی فضا بنائی تو ان کے حق میں کوئی بولنے والا کوئی نہ تھا۔ ان کے فن کا اقرار کرنے والے بھی کم نہ تھے جو یہ سمجھتے تھے کہ جوش کی شاعری اور شخصیت کی داستان اُردو شاعری اور ہندوستانی تہذیب کے عروج و زوال کی داستان تھی۔

جوش ملیح آبادی نے رد و قبول کی یہ فضا، اور اپنی فکر اور ذات سے جڑے ہوئے یہ تضادات بہت محنت سے کمائے تھے۔ اُنہوں نے اپنی پوری زندگی اس میں جھونک دی تو یہ کمائی ہوئی تھی۔ وہ اپنی تخلیقی زندگی کے آغاز میں ایسے نہ تھے اور میں یقین سے یہ اس لیے کہہ رہا ہوں کہ میں نے جوش کی۱۹۲۰ میں شائع ہونے والی نظم و نثر کی پہلی کتاب’’روحِ ادب‘‘ میں اکبر الٰہ آبادی کا یہ کلمہ پڑھ رکھا ہے:

“کاش! کسی وقت میں، آپ اور اقبال یکجا ہوتے۔ “

اکبر الٰہ آبادی نے یہ تمنا یوں کی تھی کہ وہ جوش کے ہاں اپنا قومی درد اور اقبال کی فکرِجلیل کی جھلک دیکھ چکے تھے اور شاید اُمید بھی لگا بیٹھے تھے کہ جوش کے ہاں یہ روایت آگے چلے گی۔ تاہم ان کے من میں کوئی کھٹکا ضروررہا ہوگا کہ یہ شاعر آگے چل کر بگڑ بھی سکتا ہے تبھی تو ’’روح ادب‘‘ میں موجود تحریر میں وہ جوش کو نماز پڑھنے کی تلقین بھی فرما گئے تھے۔

خود جوش نے اسی کتاب میں’’باز، گلبانگِ پریشاںمی زنم‘ کا عنوان جما کر لکھا تھا کہ وہ ایک مدت تک نماز کے پابند رہے تھے۔ نماز کے وقت خوشبوئیں جلاتے اور کمرہ بند کرکے گھنٹوں رکوع و سجود میں پڑے رہتے۔ اس دور میں داڑھی بھی رکھ لی تھی اور بہ قول ان کے صوفیائے کرام جیسی ’’تجلیات‘‘ اُن کے قلب کو حاصل تھیں۔ تب وہ محبت کو جنسیات سے برتر ایک مقدس آسمانی چیز سمجھتے تھے۔ یہ تو بعد میں ہوا تھا کہ ان کے دماغ میں موجود کوئی خطرناک کمانی کھلی تھی باغیانہ میلان پیدا ہوا اور بدلا ہوا جوش سامنے آکر خود اُن کی راہ روک کر کھڑا ہو گیا تھا۔ یہ نیا جوش ایسا تھا کہ انہیں خط مستقیم کا آدمی بن کر چلنے نہ دیتا تھا۔

اگرچہ جوش صاحب نے نظم و نثر میں اپنے بارے میں کھل کر لکھا ہے مگر میں کہہ چکا کہ وہ خط مستقیم کے آدمی نہ تھے لہٰذا اُن پر بات کرنا آسان نہیں ہے۔ محض رموزِ فن سے انہیں آنکنا کافی بھی نہیں ہے۔ اپنے زمانے کی عطا کی ہوئی حسیت سے معاملہ اور وہ خاص آہنگ جو انہیں مختلف کرتا گیا یہ سب مل کر جوش کے فن اور شخصیت کی مکمل تصویر نہیں بنا پاتے۔ وہ اپنے لیے مختص کردہ ساری جہتوں میں ایک منضبط بکھراؤ کے ساتھ موجود ہیں۔ آپ اسے بکھراؤ نہ کہیں دومتضاد جہتوں کی جانب جست کہہ لیں، یہ جو آجکل ناقدین فکری بائنریز پر موجود سماج کی اُلجھنیں دو متضاد اِنتہاؤں کے اندر تلاش اور شناخت کرتے ہیں تو یوں ہے کہ یہ جوش صاحب کے ایک وجود کے اندر یوں موجود تھیں جیسے ایک مقناطیس کے دوکنارے۔

ان متضاد مگر باہم جڑے ہوئے موضوعات کی جانب فکری رجحان کا اندازہ تو ناقدین نے محض ان کی کتب کے ناموں سے لگالیاتھا:’’ شبنم و شعلہ‘‘، ’’فکرونشاط‘‘، ’’جنون و حکمت‘‘، ’’عرش و فرش‘‘، ’’ رامش و رنگ‘‘، ’’ سنبل و سلاسل‘‘، ’’سیف و سبو‘‘، ’’ سموم و صبا‘‘، ’’الہام و افکار‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ جوش اِن سب انتہاؤں پر ہیں اور ان کے درمیانی علاقے میں بھی مگر یہ درمیانی علاقہ فکری کم اورلسانی معجزوں اورفطرت سے کشید کی گئی جمالیات کا زیادہ ہے۔ ان کی فکر تو ہر دو انتہاؤں پر ہی اپنا آپ دکھاتی رہی ہے۔

جوش صاحب نے ’’یادوں کی بارات‘‘ میں اپنی زندگی کے چار میلانات نشان زد کر رکھے ہیں: شعر گوئی، عشق بازی، علم طلبی اور اور انسان دوستی۔ بہ قول اُن کے شاعری ان کی حاکم ہے اور وہ محکوم۔ عشق کو وہ فطرت کا فریب سمجھتے تھے اور یہ فریب ایسا ہے کہ افزائش نسل کے وسیلے سے موت کے مقابلے میں حیات پیدا کی جاتی رہے اور دل لگی کا ساماں بھی ہوتا رہے۔ علم کی طلب میں جوش صاحب جتنے آگے بڑھے اتنے الجھتے گئے حتی کہ یہاں تک کہہ دیا:

“سن ہو گئے کان تو سماعت پائی
آنکھیں پتھرائیں تو بصارت پائی
جب علم کے سب کھنگال ڈالے قلزم
تب دولتِ عرفانِ جہالت پائی”

 اور ان کے ہاں چوتھا میلان ایسا ہے کہ اس باب کے موضوعات پروہ بہ کثرت کلام کرتے ملیں گے۔

“لفظِ اقوام میں کوئی جان نہیں
اک نوع میں ہو دوئی یہ امکان نہیں
جو مشرکِ یزداں ہے وہ ناداں ہے فَقَط
جو مشرکِ انساں ہے وہ انسان نہیں”

ناقدین نے جوش کی شاعری کو تین حصوں میں تقسیم کرکے دیکھا ہے :1۔ جذبہ آزادی، 2۔ حسن پرستی اور3۔ انسان دوستی، مگر جس طرح وہ مظاہر فطرت کے ساتھ جڑتے ہیں یا جس طرح وہ فکری سطح پر شعلہ و شبنم ہوتے ہیں یا پھر انقلاب اور شباب کے مضامین بلند آہنگ میں برتتے ہیں، وہ میر، غالب، انیس اور اقبال کے بعد توجہ پانے والے شاعروں سے اپنی شناخت الگ بنانے لگتے ہیں۔ جوش صاحب کی یہ شناخت اپنے ہم عصروں کے ساتھ بھی ہے اور اُن سے پچھڑتے ہوئے بھی۔ ساتھ یوں کہ وہ اپنے ہم عصروں کے ساتھ رہ رہے تھے اور شعر کہہ رہے تھے ؛ کچھ کم نہ کہہ رہے تھے، افراط سے کہہ رہے تھے۔ وہ قادر الکلام تھے، زبان کے استعمال کے قرینوں پرکمال عبور رکھتے تھے اورالفاظ کا ذخیرہ ہو یا نادر لسانی تشکیلات کا، اساطیر ہوں یا تلمیحاتی حوالے، اِن سب پر اُن کی دسترس حددرجہ غیر معمولی تھی۔ جوش اپنے ہم عصروں سے یوں پچھڑے ہوئے ہیں کہ جس طرح اُن کے ہم عصر اُردو دنیا میں اب تک زیر بحث چلے آتے ہیں جوش پر اس طرح بات نہیں ہو رہی اور وقت گزرتا جاتا ہے۔

گوپی چند نارنگ نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا:

“کون نہیں جانتا کہ بیسویں صدی میں ٹیگور اور اقبال کے بعد جتنی عزت، شہرت اور مقبولیت جوش کو نصیب ہوئی، کسی دوسرے شاعر کے حصے میں نہیں آئی۔ جو ش نے خود کو’شاعر آخر الزماں ‘کہلوانا پسند کیا تھا مگرحیف کہ وہ نہیں جانتے تھے اُن کے ساتھ ہی اُن کا زمانہ بھی ختم ہو جائے گا۔ “

نارنگ کا ایک مضمون میں نے کوئی گیارہ بارہ سال پہلے پڑھا تھا۔ وہی جس میں انہوں نے کہا تھا؛ “جوش اس قدر جلد روایت پارینہ بن جائیں گے آج سے پچیس برس پہلے اس کاتصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ” تو ایسا کیا ہے کہ جوش جیسے قادرالکلام شاعر کئی دہائیوں سے موضوع بحث نہیں بن پارہے تھے؟ وارث علوی کے مطابق اس کا سبب یہ ہے کہ ’جوش ہماری کلاسیکی شعری روایت کے آخری بڑے شاعر تھے۔ ہماری تنقید، مذاق سخن کی تبدیلی کے سبب، متذبدب رہی ہے کہ جوش کی شاعری کی ناقدانہ تحسین کاصائب طریقہ کون سا ہو سکتا ہے۔ ‘ مجھے یوں لگتا ہے کہ وارث علوی کی یہ تشخیص کسی حد تک درست سہی مگر واقعہ یہ ہے کہ وقت آگے کو جست لگا چکا ہے اور اب ہمارا ناقد یہ یقین کیے بیٹھا ہے کہ جوش ہیں نہیں، بس ہماری روایت پارینہ کا روشن حصہ تھے۔

خیر، یہ بات مان لی جائے تو بھی یہ ماننا ہوگا کہ روایت کی ایک خوبی یہ بھی تو ہے کہ موت اس کا مقدر نہیں ہوتی اس میں پھر سے جی اُٹھنے کے امکانات رہتے ہیں۔ گویا معاملہ مذاق سخن کے ایک بار پھر بدلنے کا ہے۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے (اس “اگر” کے آگے بہت بڑا سوالیہ نشان ہے) تو کیا جوش اپنے سارے کلام اور پوری قامت کے ساتھ روایت کے اس ناغول سے اُٹھ کر رواں وقت کے وسط میں پہنچ پائیں گے اور پھر سے مرکز نگاہ ہو جائیں گےبالکل ویسے ہی جیسے اپنی زندگی میں مقبولیت کے برسوں میں رہے تھے؟ یہ ایسا سوال ہے جو ہمارے ناقد کے لیے فی الحال غور طلب نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اضداد کی ہم آغوشی: جوش ملیح آبادی

Facebook Comments Box
جوش ملیح آبادی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
محمد حمید شاہد

محمدحمید شاہد اردو کے معروف افسانہ نگار، ناول نگار اور نقاد ہیں ۔ آپ 23 مارچ 1957 کو پنڈی گھیب ضلع اٹک (پنجاب) پاکستان میں پیدا ہوئے ۔ پنڈی گھیب سے میٹرک کے بعد زرعی یونیورسٹی لائل پور(فیصل آباد) سے ایف ایس سے کے بعد ایگری کلچر مضامین میں گریجویشن کی اور ایک بنکار کی حیثیت سے بتیس سال عملی زندگی سے وابستہ رہے۔ اس عرصے میں اندرون ملک شہر شہر گھومے، دیہی زندگی کو قریب سے دیکھا اور کئی ممالک کا دورے بھی کیے ۔ محمد حمید شاہد کی ادبی زندگی کاآغاز یونیورسٹی کے زمانے سے ہی ہو گیا تھا ۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے مجلہ "کشت نو" کے مدیر رہے۔ پہلا افسانہ بھی اسی زمانے میں لکھا۔ پہلی کتاب " پیکر جمیل" بھی یونیورسٹی کے زمانے میں لکھی ۔ افسانوں کا پہلا مجموعہ "بند آنکھوں سے پرے "تھا جب کہ "جنم جہنم"،"مرگ زار"اور "آدمی" آپ کے افسانوں کے دیگر مجموعے ہیں۔ "محمد حمید شاہد کے پچاس افسانے" معروف بزرگ ادیب اور شاعر ڈاکٹر توصیف تبسم کا منتخب کردہ ہے جب کہ محمد حمید شاہد کے نائن الیون کے پس منظر میں لکھے ہوئے منتخب افسانوں کو "دہشت میں محبت" کے نام سے غالب نشتر نے مرتب کیا تھا۔ محمد حمید شاہد کا ناول"مٹی آدم کھاتی ہے" کے نام سے چھپا اور مقبول ہوا ۔ فکشن کی تنقید محمد حمید شاہد کی ترجیحات کا ایک اور علاقہ ہے ۔ "ادبی تنازعات"،"اردو افسانہ:صورت و معنیٰ"، "اردو فکشن: نئے مباحث"،"کہانی اور یوسا سے معاملہ " کے علاوہ "سعادت حسن منٹو:جادوئی حقیقت اور آج کا افسانہ" اس حوالے سے چند معروف کتب ہیں ۔ اردو نظم پر تنقید کی کتاب"راشد ،میراجی، فیض" کے علاوہ آپ کی نثموں کی کتاب لمحوں کا لمس اور بین الاقوامی شاعری کے تراجم پر مشتمل کتاب "سمندر اور سمندر" بھی بہت معروف ہیں۔ حکومت پاکستان نے محمد حمید شاہد کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کے لیے صدارتی سول ایوارڈ "تمغہ امتیاز" 2017 کو دیا۔

previous post
مذہبی انقلابی جماعتیں: سماجی اور نفسیاتی مسائل —- شاہد رشید
next post
فیض احمد فیض: بول! کہ سچ زندہ ہے اب بھی —- محمد حمید شاہد

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...

06/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.