مذہب کے فعال ہونے کی پہلی دلیل ہی یہ ہے کہ وہ انسانی سچائیوں سے جڑا رہے اور معاشرے میں انسانیت کے قیام کو اپنا مطمع نظر بنائے رکھے کیونکہ انسانیت سے بچھڑا ہوا مذہب انسانی نہیں بلکہ ایک خونی معاشرہ ہی تشکیل دے سکتا ہے۔ دنیا کے ہر الہامی مذہب کا مقصد انسانوں کو تہذیب یافتہ بنانا ہی تھا۔ ہمارے مذہبی عقائد، تعلیمات و مذہبی اعمال ہی مل کر معاشرے کو تہذیب یافتہ بناتے ہیں۔ لیکن ہوتا یہ آیا ہے کہ ہم نے ان اعمال کو اپنانے سے زیادہ متبرک و پاک بنا کر اپنے لئےمحض فخر اور تکبر کا باعث بنا لیا۔ انسان کا یہی مذہبی تفاخر دوسرے مذاہب سے اس کی نفرت و حقارت کا باعث بنا۔ وہ کبھی اپنے اس تکبر تو کبھی اپنے ہی معاشی، تہذیبی و اخلاقی بحران کی وجہ سے تاریخ میں کئی بار انتہاپسند ثابت ہوا۔ وہ اپنی ناکامیوں یا پھر اپنی خونی جبلتوں کی تسکین مذہب کی آڑ میں کرتا رہا۔ اور دنیا کو مزید دکھوں اور آلام میں ڈبوتا رہا۔
تاریخ گواہ ہے کہ مذہبی اطاعت و فرمانبرداری کے نام پر کمزور انسانوں کو جبرا غلام بنایا گیا۔ مذہبی پیشوائوں کی اطاعت کو خدا کی اطاعت سے منسوب کر کے ایسی طاقت حاصل کی گئی جسے حاصل کرنے کا مقصد درحقیقت ریاست کے بادشاہوں کے لئے عوام کی اطاعت حاصل کرنا تھا۔ بت پرستی، تقدیرپرستی اور توہم پرستی نے دقیانوس مذہبی عصبیت کو جنم دیا، جو عقل اور سائنس کی مخالفت میں جہالت کا علم بلند کرتے ہوئے آگے بڑھتی رہی۔ مذہبی اور فرقہ ورانہ اختلافات کو اجاگر کرکے لوگوں کو اپنی حالت بہتر بنانے یا اطاعت سے بغاوت کرنے سے روکا گیا۔
مذہبی عقائد اور توہمات کے ذریعے مطلق العنان بادشاہوں، امراء اورمذہبی پروہتوں کو مضبوط بنایا گیا۔ ان کا حکم نہ ماننے کو خدائوں سے بغاوت قرار دیا گیا۔ اس طرح انسان کوخود سے برتے جانے والے استحصال پر خاموش رکھ کر اس کے زخموں پر قسمت کا مرہم رکھ دیا گیا۔
مذہب کی آڑ میں انسان اپنے ہی مذہب میں یا اپنے مذہب سے باہر جنگ و جدل سے نپٹتا رہا اور انسانی خون بہاتا رہا۔ اپنے ہی مذہب میں لڑی جانے والی جنگوں کی مثال مہا بھارت اور کربلا کا میدان جنگ ہیں۔ ان کے علاوہ عیسائیت میں آرتھوڈوکس، کیتھولک اور پروٹسٹنٹ اختلافات بھی ہیں۔ پروٹسٹنٹ اور کیتھولک چرچ کی عیسائی مذہبی جنگیں سولہویں، سترہویں اور اٹھارویں صدی کی وہ جنگیں ہیں جنہوں نے تیس سال تک میدان جنگ کو سجائے رکھا۔ جن کے نتیجے کے طور پر موجودہ جرمنی مکمل طور پر تباہ ہوا۔ جنوبی افریقہ میں گورے عیسائی کالے عیسائیوں کو نسلی تعصب کی بھینٹ چڑھاتے رہے۔ ایران عراق جنگ، سعودیہ اور یمن کی مڈبھیڑ، افغانستان کی اپنے ہی اندر لڑی گئیں جنگیں بھی اس کی مثالیں ہیں۔
دوسرے مذاہب سے لڑی گئیں جنگیں چھٹی صدی میں جاپان میں شنتومت اور بدھ مت کے ماننے والوں کی جنگ۔ مذہب میں فرق کی وجہ سے لڑی گئی جنگوں میں بنی اسرائیل کی کنعان پر فتح۔ رومیوں اور یونانیوں کا تاریخ میں یہودیوں کے خلاف فوج استعمال کرنا اور قرون وسطی میں لاطینی کلیسا کی منظور کردہ مذہبی جنگوں کا وہ سلسلہ تھا جن کا مقصد ارض مقدسہ کو اسلامی حکمرانی سے آزاد کروانا تھا۔ اس سلسلے کی طویل صلیبی جنگوں میں طویل مدت تک میدان قتل و غارت گری میں انسانی خون اور اس کی کٹی پھٹی کھال و ہڈیوں سے سجتے رہے۔ آج کی تاریخ میں یہودیوں کا فلسطینی مسلمانوں پرزبردستی جنگ مسلط کئے رکھنا یہ بھی مذہبی عناد و تکبر کی مثال ہے۔ یہ سب مذہب کے نام پر انسانی انا کی تسکین کا وہ بندوبست ہے جو صدیوں سے چلا آرہا ہے اور آگے بھی چلتا رہے گا۔ یہ بغاوتیں جو مذہب کے نام پر بھی ہوئیں اور اپنی وراثتوں کے حصول یا معاشی مفادات کے حصول کی خاطر مذہب کی آڑ لیتے ہوئے بھی ہوئیں۔ کئی بار مذہب کو اپنے ہی اندر کے کٹر پن سے بھی لڑتا رہا اور دوسرے مذاہب سے مذہبی بغض کو ثابت کرنے کے لئے بھی جنگ و جدل کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ دنیا جو تیزی سے ایک تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے، کہا جا رہا ہے کہ یہ جنگ بھی مذہب کے نام پر لڑی جائے گی جو شاید دنیا کی آخری جنگ ثابت ہو۔
موجودہ دور میں یوکرین اور روس کی جنگ کو بھی مذہبی رنگ دیا گیا۔ پیوٹن کسی حد تک یوکرین میں فوج کشی کو روسی آرتھوڈوکس چرچ کے دفاع کے ساتھ نتھی کرنے کی کوشش میں تھا۔ یوکرینی کیتھولک آبادی صدیوں سے روسی آرتھوڈوکس چرچ کے جبر کا شکار رہی۔ اس طرح مختلف لڑائیوں اور جنگوں میں لاکھوں، کروڑوں انسانوں کو بڑی بے رحمی سے خدا کے نام پر قتل کیا جا چکا ہے۔
اٹھارہویں صدی کے اختتام اور انیسویں صدی کے آغاز پر دنیا میں اصلاحی و تعلیمی تحریکوں کے آغاز اور سائنس و ٹیکنالوجی کے انقلاب نے انسان کے مقاصد و ترجیحات کو بدل کر رکھ دیا۔ مادی تبدیلی نے خیالات و نظریات میں تبدیلی پیدا کی ہے۔ آلات کی ترقی و ذرائع پیداوار و رسل و رسائل نے دنیا کو ایک نیا کلچر و تہذیب عطا کی ہے۔ نئے طبقے کے وجود میں آنے سے تخلیق و ہنر کو ترجیح ملی ہے۔ ترقی پسند نظریات نے انسان کے دماغ کو وسعت دی ہے۔ انسان توہم پرستی، ذات پات کے نظریات اور فرقوں کی نا اتفاقی کے گھن چکر سے دور تو ہوا لیکن مفاداتی نظام نے اس کی جستجو کا رخ معاشی مفاد کی طرف موڑ دیا مذہبی جنگوں کی جگہ مالی مفاداتی جنگوں نے لے لی۔ نو آبادیاتی نظام قائم کر کے معاشی اسباب تلاش کئے گئے۔ اس نو آبادیاتی نظام میں حاکموں نے محکوموں کی فکر کو بھی اپنے کنٹرول میں رکھا۔ انگریز حاکم، نواب، راجا، بڑے بڑے امراء و روسا، زرخرید دانشور، مولوی، پنڈت اس دقیانوسیت کے سرپرست رہے جس نے عوام کو صدا توہم پرستی میں ہی الجھائے رکھا تاکہ وہ مذہبی و فرقہ ورانہ اختلافات میں الجھی رہے اور کبھی متحد ہو کر اپنے آقائوں کے خلاف علم بغاوت نہ اٹھا سکے۔
سامراجی نظام کے خاتمے کے بعد بھی آزادی پانے والے ممالک اپنے مسائل سے باہر نکل نہ پائے۔ مذہبی اختلافات و فرقہ ورانہ فساد سے نپٹتے اور اپنے زخم چاٹتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بدلتے ہوئے سماجی نظام کے باوجود مذہب کی بنیاد پر انسان میں جبر و تشدد کے واقعات کبھی رک نہ سکے۔ دنیا کے سب ہی خطوں میں مذہبی عناد، سماجی تعصب اور نفرت کو بڑھاوا ملا ہے۔
مذہب کی آڑ میں تشدد کی واردات، زبردستی تبدیلئ مذہب سے بھی ہوتی رہی ہے۔ بدھ مت اور سامی مذاہب دونوں ہی میں ڈھکے چھپے انداز سے یا پھر کھلم کھلا جبری طور پر لوگوں کو تبدیلئ مذہب پر آمادہ کرتے رہے۔ سپین میں 1492 میں مسلمانوں کا اقتدار ختم ہوا تو سترھویں صدی کے آغاز تک اندلس میں ایک بھی مسلمان باقی نہ بچا۔ اس دور میں مذہب کی جبری تبدیلی عام تھی۔ ہندوستان میں “گھر واپسی ” یا شدھی کے نام سے چلائی جانے والی تحریک کامقصد بھی یہی تھا۔ وہاں آج بھی جبری طور پر ہزاروں انسانوں کو ہندو بنایا جاتا ہے۔ ایسے واقعات اسلام، عیسائیت، ہندومت، یہودیت جیسے تمام مذاہب میں ہوتے رہے۔ اس کے دو طریقے ہیں یا تو زبردستی اپنے مذہب میں لوگوں کو شامل کیا جائے یا پھر معاشی لالچ دے کر مذہب تبدیل کروایا جائے۔ بھارت، پاکستان، مصر، انڈونیشیا، روس، برما جیسے ملکوں میں لوگ مخالف عقیدے کے لوگوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اور اپنے مذہبی اشتعال کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ امریکی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق مذہب کی بنیاد پر روا رکھے گئے امتیاز اور تشدد کا جائزہ لیا گیا تو 198 ملک اس کا شکار نکلے۔ 2007 میں دنیا کی 68 فیصد آبادی اس کا شکار تھی لیکن یہ شرح 2012 میں 76 فیصد تک بلند ہوگئی۔ مسلمان، یہودی، عیسائی کے علاوہ سکھ، بہائی اور ملحد افراد کے خلاف تشدد آمیز رویہ بڑھا ہے۔ ہندوئوں اور بودھوں کو ایسے رویے کا کم سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ہمارے ملک میں 2021 میں مذہب کی جبری تبدیلی کے کل 78 واقعات پیش آئے۔ 2022 میں شادی کے ذریعے زبردستی تبدیلی مذہب کے 124 واقعات درج ہوئے۔ ہندوئوں، مسیحیوں، احمدیوں کے مقدس مقامات پر کئی حملے کئے گئے 2022ءکے دوران 84 افراد پر توہین مذہب کا الزام لگایا گیا۔ چار افراد کو موت کی سزا سنائی گئی۔ 1990 سے اب تک تقریبا 85 افراد کو اس الزام کے تحت قتل کیا جا چکا ہے۔ جن میں سے 90 فیصد الزامات جھوٹے تھے۔
ہم اپنی خونی جبلتوں کے اظہار کو مذہب کے رنگ میں رنگ کر اپنے ہی مذہب کو بدنام کرتے ہیں۔ ہم مذہب کی طرف اس کی محبت میں نہیں بلکہ اپنے تئیں اپنے گناہوں کو دھلوانے یا بخشوانےکے لئے رجوع کرتے ہیں۔ اپنی زیادتیوں اور کمزوریوں کو چھپانے کے لئے اس کا لبادہ اوڑھتے ہیں۔ اہراموں، مندروں یا چرچوں کو تباہ کرکے سمجھتے ہیں کہ دین کی خدمت کی۔ دین کی خدمت دوسروں کی عبادت گاہیں توڑ کر نہیں بلکہ اپنے اندر کے وہ بت توڑ کر ہوتی ہے جو ہمیں انسان بننے سے روکتے ہیں۔
دین اسلام انسانیت و رواداری کا پرچاری ہے۔ وہ شریعت جو حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے وسیع سلطنت میں نافذ کی جہاں صرف مسلمانوں ہی کو نہیں یہودیوں، عیسائیوں، کافروں کو بھی امان دی گئی۔ جب کم عمر غیر مسلم لڑکیوں کو زبردستی تبدیلی ء مذہب سے نکاح میں نہیں لایا جاتا تھا۔ جب توہین کا الزام لگا کر کسی بے قصور کی بوٹیاں نہیں نوچی جاتی تھیں۔ جب مذہب کو ماننے سے کہیں ذیادہ مذہب کی ماننے کو اولیت دی جاتی تھی۔. Belle Delphine leaked nude
