تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
سماجیسیاسیعلمیکالم

ھمارا اصل مہابیانیہ اوراس کی تحلیل کی کوششیں

by ویب ڈیسک 15/04/2017
written by ویب ڈیسک 15/04/2017
101

یہ بیانیہ بیانیہ کی تکرار کچھ زیادہ ہی ہوگئی ہے سو، سوچا کہ اس میں جو پاکستان کا اصل بیانیہ ہے اور جعلی طورپرجن نان-ایشوز کو اس کے بیانئیے کے نتائج کے طور پر پیش کیا جارہا، اس سب کا ذکر بھی کردیا جائے۔

ہمارے مڈل کلاس کے زیادہ تردانشوروں کو تمام گفتگوکے بعد، بین السطور، کہنا وہی ہوتا ہے جوان نان-ایشوز کری۔ایٹرز کا اصل مہا بیانیہ ہے کہ پاکستان کو اس طرح چلایا جائے جیسے این-جی-او-لبرلز کہتے ہیں۔ یہاں مولویوں کی جہالت کو مسلسل ھدف پر رکھ کر عام مسلمانوں کومسلسل اس سوچ میں گلٹی کیا جائے کہ اس ملک میں سیاسی سٹیبلشمنٹ کی غلطیوں سے جو نقصانات ہوئے ہیں اس کے ذمے دار عوام ہیں۔ ملک میں اور بیرون ملک رائے عامہ کو مستقل یہ تاثر دیاجاتا رہے کہ اس ملک میں اقلیتوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں [ تاکہ کسی مناسب وقت پر یہاں اقلیتوں کوان خیالی مظالم سے بچانے کیلئیے کوئی ساوِتھ سوڈان یا ایسٹ ٹیمورکاٹ کے دیئے جانے کی گنجائش رکھی جاسکے]-
جو لوگ پاکستان کی ریاست کے مہابیانئیے کی ڈیکنسٹرکشن کے بہانے، اس ریاست ہی کی ڈیکنسٹرکشن کے درپے ہیں، وہ اس پر عمل کرنے کیلئیے، پاکستان کے مہابیانئیے میں جھوٹ پر مبنی اور من گھڑت ایلیمنٹس اور نان ایشوز شامل کررہے ہیں، مثلاً اقلیتوں پر مظالم، مولویت،اظہار خیال کی آذادی میں ریاست کا استبداد، فرقہ بندی، دہشت گردی، ملک کے دانشوروں میں علم کلام سے رغبت، جدید مغربی فکر سے عدم آگاہی اور تعلیم کی کمی، وغیرہ، وہ دراصل جانے اور انجانے میں اس ملک کی ممکنہ “ڈیکنسٹرکشن” میں آسانی پیدا کررہے ہیں۔ ان میں سے جوجان بوجھ کر ایسا کررہے ہیں وہ خواہ ستر پردوں میں بھی چھپے ہوئے ہوں، انہیں پہچاننا کچھ ایسا مشکل کام نہیں۔ ان کی سب سے بڑی پہچان ہی یہ ہے کہ باوجود ڈیکنسٹرکشن کے عملبردار ہونے اور تمام مہابیانیوں کو رد کرنے کا دعویٰ رکھنے کے، خود ان کا ایجنڈا ایک بہت بڑا “مہابیانیہ” بن کے نمودار ہوا ہے۔
ان کا مہابیانیہ صرف اتنا ہے؛ ان کا ایمان ہے کہ چونکہ ہر مہابیانئیے کو رد ہونا چاہئیے اور ریاست بھی ایک مہابیانیہ ہے اس لئیے ریاست پاکستان کو بھی اپنے آخری ڈیکنسٹرکشن میں تحلیل ہونا چاہئیے۔ اس مقصد کیلئیے یہ لوگ پاکستانی ریاست کے اصل مہباینانئیے کا ذکر بھی نہیں کرتے اور مندرجہ بالا نان-ایشوز کو اس کے اصل ایلیمنٹس قرار دے کر اس ملک کی حقیقت پر دھول اڑاتے رہتے ہیں۔


وہ مہا بیانیہ جس کا رد تشکیل ہونا چاہئیے وہ پاکستان کے قیام کا بیانیہ نہیں ہے بلکہ اس سماجی نظام کا تشکیل دیا ہوا مہا بیانیہ ہے، جس نے پاکستان کی ریاست اور عوام دونوں کو ہائی جیک کیا ہوا ہے۔


مغرب کے پوسٹ ماڈرنزم نے ہر مہابیانئیے کی ڈیکنسٹرکشن کو لازم قرار دیا ہے اور اس فکر کے نزدیک ریاست بھی ایک مہا بیانئیے کا انتہائی طاقتور اظہار ہے؛ لیکن اس کے باوجود، یہ فکر، فرانس برطانیہ جیسے طاقتور مغربی ممالک کی ریاستوں کی تحلیل نہیں کرسکی اور ان کے مہابیانئیے آج بھی اپنے پورے جاہ حشم کے ساتھ قائم ہیں۔
یہ ادبی تحاریک کے پروردہ اذھان، اس بات کو سمجھنے سے ہی قاصر ہیں کہ جو رشتہ یہ “مصنف اور قاری” کے درمیان قائم کرتے ہیں وہ رشتہ ریاست اور عوام کے درمیان قائم نہیں ہوسکتا [اور پھر ریاست بھی پاکستان جیسی ہوکہ جو ابھی ماڈرنزم ہی کی گرد کو نہیں پہنچی، پوسٹ ماڈرنزم تو دور کی بات ہے]۔ مصنف کے بالباطن معانی کا التوا تو ہوسکتا ہے لیکن ریاست پرجو فرائض عوام کی فلاح کے ہیں ان کا التوا ہو ہی نہیں سکتا کیوں کہ عوام کیلئیے بھی ان کے حقوق کے وہی معانی ہیں جو آئین میں ریاست کے فرائض کے طور پر درج ہیں۔ یعنی مصنف کی موت کی طرح ریاست کی موت واقع نہیں ہوسکتی اور ریاست اور عوام دونوں کا، حقوق و فرائض میں التوا کئیے بغیر، بیک وقت زندہ رہنا ناگزیر ہے۔
وہ مہا بیانیہ جس کا رد تشکیل ہونا چاہئیے وہ پاکستان کے قیام کا بیانیہ نہیں ہے بلکہ اس سماجی نظام کا تشکیل دیا ہوا مہا بیانیہ ہے، جس نے پاکستان کی ریاست اور عوام دونوں کو ہائی جیک کیا ہوا ہے۔ پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین جو بھی نان ایشوز، پاکستان کے ریاستی بیانئیے کے طور پر اچھالتے ہیں اس سے دراصل اس ملک کو ہائی جیک کرنے والے سماجی نظام کے بیانئیے کو تقویت ملتی ہے۔
پاکستان کا اصل بیانیہ ایسا اسلام ہے جو برھمنزم اور انسانوں کی طبقاتی تقسیم پر مبنی اس غیر انسانی نظام کی نفی کرتا ہے جو تقسیم سے پہلے ھندوستان میں رائج تھا۔ اور اسی بنا پریہ ملک سب شہریوں کو شرف انسانی کے اعلیٰ مقام پر زندگی گذارنے کے مواقع مہیا کرنے کیلئِے قائم کیا گیا تھا۔
لیکن یہ ملک قیام کےکچھ عرصے بعد ہی ان ہی روایتی طاقتوں نے ہائی جیک کرلیا جن کی پور پور کی تشکیل تاریخی طور پر برھمنیت کے تحت ہوئی تھی۔ پاکستان کا سماجی، سیاسی نظام آج بھی انتہائی گھٹیا برھمن اور طبقاتی معاشرے کی تصویر ہے۔
پاکستان کا اصل مہا بیانیہ، اس کے آئین کی پہلی چالیس شقوں میں درج ہے۔ ان چالیس شقوں کے علاوہ اس ملک کا باقی آئین، حکمران طبقے کیلئیے اس ملک کو اس طبقے کے اپنے مفاد میں کیسے چلانا ہے، محض ان ھدایات کا پیکیج فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کا حکمران طبقہ، اسی برھمنیت پسند سماجی گروہ سے تعلق رکھتا ہے جس نے اس ملک کا سماجی و سیاسی نظام ہائی جیک کیا ہوا ہے۔
اس ملک کے آئین کی عوامی فلاح کی وہ شقیں جن میں اس ملک کے قیام کی اصل وجوہ، یعنی انسانی شرف کی بحالی، پوشیدہ ہیں، ان کو، اس ملک کے حکمران طبقے نے عملاً معطل کیا ہوا ہے۔ یعنی پاکستان کی ریاست کے قیام کے اصل “معانی کا التوا” عوام نے نہیں، اس پر قابض ایک دوسرے، برھمنیت پسند مہا بیانئیے کے پروردہ، سماجی طبقے نے کیا ہوا ہے۔ اور اس طبقے کے اس ریاست اور عوام دشمن عمل کو، مڈل کلاس کے، نان-ایشو کری ایٹردانشوروں کا گروہ مسلسل تقویت دے رہا ہے۔
جو لوگ پاکستان کے اصل مہابیانئیے کی ڈی کنسٹرکشن کو نامنظور کرتے ہیں اور اس ملک کے عوام کے حقوق اور ریاست کی بقا میں دلچسپی رکھتے ہیں، انہیں چاہئیے کہ ہر فورم، ہر پلیٹ فارم پر، ان نان ایشو کری ایٹرز کو ریجکٹ کریں، ان سے مطالبہ کریں کہ جو ہمارے حقیقی ایشوز ہیں صرف ان پر بات کی جائے اور اس ملک کی مڈل کلاس اور اس ملک کے ریاستی ستونوں سے آئین کی غیر اعلانیہ طور پرمعطل رکھی جانے والی عوامی فلاح کی شقوں پر عملدر آمد کا مطالبہ جاری رکھیں۔ تاوقتیکہ آئین کے نگہبان، سپریم کورٹ کے کانوں میں سماعت کی قوت پیدا ہوجائے۔

Facebook Comments Box
بیانیہ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ویب ڈیسک

Daanish webdesk.

previous post
مریض ، معالج اور کلینک: سجاد خالد
next post
مختار مسعود: ایک ملاقات کا تذکرہ

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

کراچی سے حافظ نعیم الرحمٰن کے نام کھلا...

06/07/2025

30/03/2025

30/03/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.