تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

فیمینسٹوں کا فکری تالہ —– علی عبداللہ

ویجائنل لاک کی حالیہ بحث کا درست تناظر اور فیمینسٹوں کی بددیانتی

by علی عبداللہ 10/07/2023
written by علی عبداللہ 10/07/2023
774

فیمنسٹ سیاست کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں بھی ایسے لوگوں کا راج ہے جن کو سرے سے فیمینزم کا اصل مفہوم معلوم ہی نہیں۔ وہ فیمینزم کا نعرہ لگاتے ہوئے اس نہج تک پہنچ جاتے ہیں جہاں ان کا کام فقط مرد کو ایک جنسی حیوان ثابت کر کے خود کو بے بس، مجبور اور لاچار ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ مردوں کے خواتین پر مظالم کے ایسے ایسے واقعات گھڑنا ہے جن کا تعلق مشرق سے تو کم از کم نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایک جگہ پڑھا تھا کہ

“فیمنزم کی دوسری لہر کی چند خواتین رہنماؤں کا خیال تھا کہ عریانی، فحاشی اور جنس کا آزادانہ اظہار مردانہ بالادستی اور روایتی پاور اسٹرکچر کو تقویت فراہم کرتا ہے اور اس سے عورتوں کے خلاف استحصال اور جنسی تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے۔ لیکن تیسری لہر کے نوجوان فیمنسٹوں نےاس خیال کو مسترد کرتے ہوئے جنسی کشش و جاذبیت کو عورت کی آزادی، خودمختاری اور امپاورمنٹ کے حق میں استعمال کرنا شروع کر دیا”۔

بات یہیں تک محدود نہیں رہی، اس آڑ میں انھی فیمنسٹوں کے گروہ نے خواتین کو آزادی اظہار رائے کی صورت گھٹیا، فحش اور من گھڑت جملے اور موضوعات پر کھلے عام بولنے کی راہ بھی دکھائی۔ درحقیقت ان میں سے اکثر واقعات کا سرے سے کوئی ثبوت ہی نہیں ہوتا اور اگر ایک ادھ واقعہ کسی کی جہالت کے سبب رونما ہو بھی جائے تو اسے پورے معاشرے کے مردوں پر لاگو کر دیا جاتا ہے۔ ماضی کے چند اوراق پلٹیں تو یہی فیمنسٹ آئن سٹائن کی تھیوری کی تشریح کرتے ہوئے کہتے تھے کہ چونکہ مرد باقی تمام مخلوقات پر فوقیت چاہتا ہے، اس لیے روشنی کی رفتار کو تمام رفتاروں پر فوقیت مردانہ سوچ کا اظہار ہے۔ اسی طرح فلوئڈ میکانکس پر سالڈ سٹیٹ فزکس کی ترقی کی وجہ بھی مردانہ پن ہے نہ کہ فلوئڈ میکانکس کی پیچیدہ اور مشکل مساواتیں۔ اسی رویے اور فہم کا جدید عکس ہمارے ہاں کے فیمنسٹ ہیں۔

حال ہی میں ایک فیمنسٹ خاتون ڈاکٹر کی جانب سے قبائلی عورتوں کے مخصوص اعضا پر تالہ بندی کا انکشاف کیا گیا ہے۔ چونکہ اس بات کا واضح ثبوت ان کے پاس نہیں ہے، لہذا وہ ایک دو ہم قبیل ڈاکٹروں کی طرف سے اسی قسم کے بیانات کو بطور ثبوت پیش کر کے اپنی بات کو صحیح ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہیں- اپنی تحریروں سے مسلسل یہ اس معاشرے کے مردوں کو ظالم، کم علم اور متشدد بنا کر انھیں بدنام کرتی چلی آئی ہیں۔ حالاں کہ ہ وہ یہ نہیں جانتیں کہ جس تالہ بندی کا ذکر انھوں نے کیا ہے وہ مغرب کی ہی اختراع ہے اور طویل عرصے تک خواتین پر یہ مسلط رہا ہے- مجال ہے انہوں نے اس طرف کوئی اشارہ کرنے کی جرات بھی کی ہو- بات مغرب کی چھڑی ہے تو چیسٹٹی بیلٹ اور مغرب کا تعلق بھی کچھ واضح کرنا مناسب ہو گا- 2016 میں اٹلی کی ایک درمیانی عمر کی خاتون نے فائرفائٹرز کو مدد کے لیے بلایا- مسئلہ یہ تھا کہ وہ خاتون اپنے ہی لگائے گئے اس بیلٹ جسے “چیسٹٹی بیلٹ” کہا جاتا ہے کے تالے کی چابی کھو بیٹھی اور اب اس کے مخصوص اعضا سے وہ بیلٹ اتر نہیں رہی تھی، جس بنا پر فائرفائٹرز کی ٹیم نے اس خاتون کو ریسکیو کیا- مزید تحقیقات سے معلوم ہوا کہ جنسی تعلقات سے بچنے کے لیے اس خاتون نے خود ہی یہ قدیم مغربی طریقہ اپنایا تھا۔

چیسٹٹی بیلٹ کا تصور کہاں سے آیا اس بارے کوئی ایک نظریہ موجود نہیں ہے- ہاں البتہ یہ کہا جاتا ہے کہ بیلٹ قدیم روم میں دلہنیں سفید کرتے کے اوپر کمر کے گرد لپیٹتی تھیں، جن پر ایک گرہ لگی ہوتی جسے “ہرکولین ناٹ یا لو ناٹ” کہا جاتا تھا- یہ گرہ اس دلہن کی دوشیزگی کی نشانی ہوا کرتی تھی جسے صرف اس کا خاوند ہی کھولتا تھا- یہ تصور پھر مغربی ثقافت میں داخل ہوا اور وقت کے ساتھ بدلتے بدلتے تالے کی صورت اختیار کر گیا- یہ بھی کہا جاتا ہے تالے والا یہ بیلٹ جسے چیسٹٹی بیلٹ کہا جاتا ہے صلیبی دور میں استعمال ہونا شروع ہوا جب صلیبی جنگجو محاذ پر جانے سے پہلے اپنی بیویوں کے مخصوص اعضا پر یہ بیلٹ چڑھاتے اور چابی اپنے ساتھ لے جاتے، تاکہ اس تمام عرصے میں ان کی بیویاں کسی سے جنسی تعلق قائم نہ کر پائیں- گو کہ اکثر یورپی اس بات کو نہیں مانتے لیکن 1889 میں ایک جرمن آثار قدیمہ کے کھوجی نے آسٹریا میں ایک خاتون کی قبر سے 16ھویں صدی کا چمڑے اور لوہے سے بنا چیسٹٹی بیلٹ دریافت کیا- اس سے قبل بھی مغرب کے کئی شاعروں نے اس بارے لکھا اور آرٹسٹوں نے ایسے بیلٹوں کے مختلف خاکے بھی بنائے- یہاں یہ بات بھی دلچسپی کی حامل ہے کہ پیرس اور لندن کے عجائب گھروں میں اس قسم کے تالے والے بیلٹ موجود ہیں لیکن بہت سارے عجائب گھروں سے ایسے بیلٹ اس لیے ہٹا بھی دیے گئے تاکہ عوام کے سامنے شرمندگی سے بچا جا سکے- سولہویں اور سترھویں صدی کے بیچ لوہے کے چیسٹٹی بیلٹ وسطی یورپ میں مشہور تھے اور انیسویں صدی تک مغرب میں کئی جگہ خواتین کو زبردستی ایسے بیلٹ پہنائے جاتے تھے۔

اب اگر دیسی چیسٹٹی بیلٹ، جس کا ذکر فیمنسٹ ڈاکٹر نے کیا ہے، اس بارے دیکھا جائے تو پہلی بات یہ ہے کہ قبائلی لوگوں میں جیسا کے ہمارا میڈیا بتاتا ہے، غیرت کے نام پر قتل عام بات ہے جس میں اکثریت خواتین کی ہوتی ہے- تو اگر غیرت کے نام پر قتل ہی سزا ہے تو پھر اس تالہ بندی کی کوئی تک نہیں بنتی- دوسرا قبائلی لوگ بہت زیادہ نہ تو طویل سفر کرتے ہیں اور نہ ہی گھروں سے زیادہ دن باہر رہتے ہیں، لہذا یہ تالہ بندی ایک قصے کے سوا کچھ نہیں معلوم ہوتا- اگر بالفرض اس بات کو صحیح مان بھی لیا جائے تو پھر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ قبائلی لوگ جو کہ عزت، غیرت، حمیت، بہادری اور شجاعت میں مشہور ہیں، ان کے ہاں جنسی بے راہ روی دیگر علاقوں سے بڑھ کر ہے ( کم از کم اس بات کا مجھے یقین نہیں ہے)- اگر کسی ایک آدھ مرد نے کوئی ایسی جاہلانہ اور احمقانہ حرکت کرنے کی کوشش کی، تب بھی اس بنیاد پر پورے معاشرے کے مردوں کو بدچلن اور درندہ ثابت نہیں کیا جا سکتا- یہی فیمنسٹ ڈاکٹر ایک اور جگہ زچگی اور دیگر نسوانی مسائل کو سوالیہ انداز میں پیش کرتے ہوئے مردوں سے ان کا جواب مانگ کر انھیں کم علم کہتی ہیں- یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ایک انجینئر سے مصوری کے بارے پوچھا جائے یا پھر کوئی سیفٹی انجینئر اس ڈاکٹر سے انڈسٹریل سیفٹی کے پیچیدہ سوالات پوچھے- یقیناً ڈاکٹر صاحبہ کو بھی یہ معلوم نہ ہو گا کہ ہائڈروسٹیٹک ٹیسٹ کسے کہتے ہیں اور یہ کیوں کیا جاتا ہے؟  این ڈی ٹی ٹیسٹ کیا ہوتا ہے اور کیوں کیا جاتا ہے؟ اسی طرح ایک ڈاکٹر سماجی موضوعات پہ لکھنے بھی لگے تو لازم نہیں کہ اسے الفاظ اور آلات جراحی کے استعمال کے فرق کا بخوبی اندازہ ہو، الا یہ کہ وہ الفاظ کی حساسیت سے شعوری طور پہ آگاہ ہونے کی بھرپور کوشش کرے۔ جراحی کا نشتر سفاک مسیحا تو ہوسکتا ہے مگر الفاظ سے نشتر کا کام لیا جائے تو ردعمل شدید ہوتا ہے، جوکہ ہوا۔

ہمارے ہاں فیمنسٹوں نے علمی اور فکری دیانت داری پر منفی اثر ڈالا ہے- جینڈر سٹڈیز کے شعبے کی آڑ میں ہر شے کو جنسی عینک سے دیکھنا اور مردوں کو جنسی حیوان ثابت کرنا ان کا واحد مقصد بن چکا ہے- ایسے مغرب سے مرعوب جاہل فیمنسٹوں کو پوچھنا چاہیے کہ آخر یہ فیمنسٹ کی اصطلاح کہاں سے آئی ہے اور اس کا اصل اور اولین مقصد کیا تھا؟ اگر یہ لوگ حقیقت ہضم کرنے کے قابل ہو جائیں تو پھر مغرب کو وہ واپس لوٹا دیں جو اس نے فیمنسٹوں کے ذہن میں بویا ہے، تاکہ کوا کوا بن سکے اور ہنس ہنس- وگرنہ یہی فیمنسٹ شرمگاہوں کی تالہ بندی کے قصے گھڑتے گھڑتے خاک ہو جائیں گے- ان تالوں کا کھلنا ان کے نزدیک جنسی آزادی ہے جس کا ہر کوئی برابر کا حق دار ہے اس بات سے قطع نظر کہ معاشرہ اسے قبول کرتا ہے یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پوسٹ ماڈرن فیمنزم : ایک تقابلی جائزہ (ا) — وحید مراد
Facebook Comments Box
feminisFeministPakistani Feministtahira kazmiVaginal Lockپاپولر فیمنزمطاہر کاظمیفیمینزمویجائنل لاک
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
علی عبداللہ

دو دریاؤں اور سلطان باہو کے شہر جھنگ سے تعلق رکھنے والے علی عبداللہ پیشے کے لحاظ سے ہیلتھ اینڈ سیفٹی پروفیشنل ہیں- کتب بینی اور لکھنے لکھانے کا شوق رکھتے ہیں اور مختلف مجلوں، ویب سائٹس اور اخبارات میں ان کی تحاریر شائع ہوچکی ہیں۔ ادب، تاریخ، مذہب اور ٹیکنالوجی ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں جن پر گفتگو اور تحقیق کرنا پسند ہے۔

previous post
ترجمہ کیسے کیا جائے؟ —— ڈاکٹر محمد زوہیب حنیف
next post
ایک بھی ہم سر نہیں عثمان ذوالنورین کا ۔۔۔۔۔ نادیہ ندیم 

Related Posts

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

فکنگ بِچ —– افسانہ

27/03/2026

07/12/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.