Connect with us

تنقید

پہاڑوں کا چھوٹا پن: شکیل عادل زادہ اور یوسفی صاحب —- حسن غزالی

Published

on

کچھ دن پہلے، ایک ادبی شخصیت سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے باتوں میں بتایا کہ ان کی مشتاق احمد یوسفی سے ملنے کی خواہش تھی۔ یوسفی انگلینڈ میں ملازمت کرتے تھے لیکن پاکستان واپس آ چکے تھے، انھی دنوں ان کی یوسفی سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے ایک بڑی عجیب بات بتائی کہ یوسفی شکیل عادل زادہ کو نہیں جانتے تھے۔
یہ سن کر مجھے ایک جھٹکا لگا اور میں نے یہ کہنا ضروری سمجھا کہ یوسفی کے لیے میرے دل میں جو عزت تھی وہ کچھ کم ہوگئی ہے۔
یہ بالکل ممکن ہے کہ ان صاحب نے مبالغہ کیا ہو مگر اس کا بہت زیادہ امکان ہے کہ ان کی بات درست ہو____بڑے لوگ خول میں بند ہوتے ہیں۔

ایک صاحب تھے جنھیں شکیل عادل زادہ "استاد” کہتے تھے۔ حقیقت یہ تھی کہ ادبی و علمی اعتبار سے وہ شکیل عادل زادہ کے سامنے بہت چھوٹے تھے، مگر وہ صاحب خود کو استاد ہی سمجھتے تھے۔ اگر وہ شکیل عادل زادہ کے مقام کو سمجھتے اور ان کی قدر کرتے تو انھیں تخلیقی نثر لکھنی آجاتی۔
مشتاق احمد یوسفی کی ماسٹر پیس کتاب "آبِ گم” میں گداز پایا جاتا ہے۔ اگر یوسفی نے شکیل عادل زادہ کو پڑھا ہوتا اور ان کی قدر کی ہوتی تو یہ "گداز” انھیں پہلے نصیب ہو جاتا۔
پھر شکیل عادل زادہ نے بدمعاشوں اور بازارِ حسن پر بھی لکھا ہے، اور بہت سنبھال کر بڑا ہی معیاری لکھا ہے، اور کیچڑ میں بھی گلاب کھلائے ہیں____جبکہ یوسفی کے پاس موضوعات کے اعتبار سے ہری بھری زمین تھی، مگر پھر بھی ان کی تحریروں میں کہیں کہیں کچرا (ابتذال) نظر آتا ہے۔
یوسفی کی تحریروں میں علم لبالب بھرا ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنی تحریروں میں علم کو بڑے سلیقے سے سمویا ہے اور بڑی نفاست سے اپنی تحریروں کو ادبی موتیوں سے سجایا ہے مگر سمونے اور جذب کرنے میں فرق ہے۔ شکیل عادل زادہ نے علم کو جذب کیا ہے۔ مشتاق احمد یوسفی کی تحریروں میں علم نظر آتا ہے جبکہ شکیل عادل زادہ کی تحریروں میں علم و شعور کی خوشبو ہوتی ہے۔ شکیل عادل زادہ کے قارئین کو ان کی تحریر مہکائے رکھتی ہے جبکہ یوسفی کے قارئین کو خاصی دماغ سوزی کرنی پڑتی ہے۔ ہمارے بلند پایہ نقاد اگر ناریل کے خول جیسے ادبی معیار کو توڑتے تو اور شکیل عادل زادہ کو پڑھتے تو انھیں بڑا ہی کمیاب گودا (گداز) نصیب ہوتا۔

دستوئیفسکی کے بڑے گن گائے جاتے ہیں کہ اس نے اپنے ناولوں میں انسان کی نفسیاتی کیفیات کو بڑی باریک بینی سے پیش کیا ہے مگر بازی گر سے یہ اقتباس دیکھیے جس میں شکیل عادل زادہ نے ایک پیچیدہ نفیساتی کیفیت کو بیان کیا ہے:

"منیر علی نے مجھے دیکھ لیا۔ "بابر میاں!” وہ گلوگیر آواز میں بولے۔ دیکھا تم نے! بس یہی آدمی کا مآل ہے۔ ہر شخص کی زندگی اس پر قرض ہے جو ایک دن اسے چکانا لازم ہے۔ ” میں خاموشی سے سنتا رہا، مجھ سے پوچھنے لگے۔ "چہرہ دیکھا؟” میں نے انکار میں سرہلایا تو بولے۔ "دیکھو، کیسا نور برس رہا ہے۔ خدا جانتا ہے کہ اس عاجز نے کبھی ایسا شگفتہ اور پرسکون چہرہ نہیں دیکھا۔ ”
میری کمر تھپکتے ہوئے انھوں نے مجھے آگے کر دیا۔ میں لوگوں سے ٹکراتا ہوا جنازے کے قریب پہنچ چکا تھا لیکن یک بارگی مجھے بڑے نواب کا چہرہ نظر آ گیا۔ اس نے مجھے دیکھ لیا تھا۔ مجھے ایسا لگا جیسے بڑا نواب جھپٹ کر میرا گریبان پکڑ لے گا اور بھرے مجمعے میں مجھے طمانچے مارنے لگے گا۔ اس کی آنکھوں میں آگ بھڑک رہی تھی۔ میرا دل بری طرح ہولنے لگا۔ پیچھے آ کے ہی مجھے کچھ سکون ملا۔ پھر میں نے دوبارہ اس طرف رخ نہیں کیا۔ "

بازی گر کے ہیرو بابر کا یہ ڈر بڑا عجیب سا معلوم ہوتا ہے بلکہ کچھ مضحکہ خیز لگتا ہے، لیکن ایسی کیفیت کا طاری ہونا ممکن ہے۔ کبھی کوئی بات ایسی ہوتی ہے کہ ہمیں کسی شخص سے جھجکتے ہیں اور اس سے کتراتے ہیں____گھبراتے ہیں جبکہ ہوسکتا ہے کہ وہ ہم سے مل کر بہت خوش ہو اور ہمیں بڑی عزت دے۔

یہ بڑی کمیاب نفیساتی کیفیت ہے جسے شکیل عادل زادہ نے خوش اسلوبی سے بیان کیا ہے۔ نفسیاتی کیفیات کے تجزیاتی بیان میں دوستوئیفسکی کو دنیا مانتی ہے مگر اس کے ساتھ یہ نفسیاتی مسئلہ ہے کہ وہ اچانک ہی کوئی گہری نفسیاتی کیفیت بیان کرنا شروع کر دیتا ہے، اور قاری کو ہاتھ پکڑ کر بٹھا لیتا ہے، پھر اتنا بولتا ہے، اتنا بولتا ہے کہ بیزار کر دیتا ہے اور قاری کو اٹھنے بھی نہیں دیتا جبکہ شکیل عادل زادہ موقعے کی مناسبت سے بڑے سلیقے سے کسی نفسیاتی، جذباتی کیفیت کو بیان کرتے ہیں۔ (ممتاز مفتی نے بھی افسانوں میں نفسیاتی کیفیات بیان کی ہیں مگر وہ گرہیں کھولتا نہیں ہے بلکہ الجھا دیتا ہے۔ دل چاہتا ہے کہ اس سے کہوں، "بھائی، تیرے بس کی بات نہیں ہے____رہنے دے!)
شکیل عادل زادہ کا اصل آسمان تو محبت ہے۔ اس آسمان پر ان کا طائرِ قلم بڑی شان سے پرواز کرتا ہے اور زمین سے تعلق رکھتے ہوئے آسمان کو چھوتا ہے۔
مستنصر حسین تارڑ کی کتاب "پیار کا پہلا شہر” کو بہت مانا جاتا ہے۔ یہ محبت پر واقعی ایک یادگار کتاب ہے مگر اس میں کچھ مصنوعی پن بھی ہے۔ شکیل عادل زادہ نے محبت کی شوریدہ کیفیات کو نفاست سے اور کومل احساسات کو رفعت سے بیان کیا اور ان کے بیان میں صداقت محسوس ہوتی ہے۔ مستنصر کے قلم کی پرواز شکیل عادل زادہ کی بلندیوں سے بہت نیچے رہی ہے مستنصر نے لہو رنگ تو لکھا ہے مگر شکیل عادل زادہ کی طرح خون جگر سے نہیں لکھ سکے۔ مستنصر نے پہاڑوں سے اونچی پرواز کی ہے مگر آسمان پہاڑوں کی چوٹیاں سے بہت دور ہوتا ہے۔

اشفاق احمد کے کچھ افسانے پڑھے ہیں۔ انھوں میں ان کے سماجی شعور کی نت نئے انداز سے نمائش نظر آتی ہے۔ اشفاق احمد کے افسانوں کے پلاٹ زیادہ تر فطری نہیں بلکہ طے شدہ ہوتے ہیں۔ اگر انھوں نے طے کیا ہے کہ رومال میں سے کبوتر نکالنا ہے تو یہ کبوتر بلکہ کوا بھی نکال کر دکھا دیتے ہیں۔ اب ایک اچھے قاری کا فرض ہے کہ اس کی توجیہہ کرے اور اسے ادبی شہ پارہ قرار دے۔
خیر، بڑے ادیبوں کی تحریروں میں بہت سی سطحی باتیں ہیں۔ کس کس کو رویا جائے!

شکیل عادل زادہ کی تحریروں میں محبت اپنی مکمل دل کشی و رعنائی کے ساتھ نظر آتی۔ اس میں وہ پاکیزگی ہے کہ انسان کے قلب و نظر کو نتھار دیتی ہے، سنوار دیتی ہے، نکھار دیتی ہے۔ ان کی ایک عظیم انفرادیت ہے کہ جذبات سے گندھی ہوئی تحریروں میں معقولیت گھلی ہوئی ہوتی ہے۔ جذبات، احساسات، اور معقولیت کا بڑا متوازن اور لطیف امتزاج ہے۔ ان کی تحریروں سے محبت پر کئی اقتباسات پیش کر سکتا ہوں مگر مجھے ان کیفیات کے رنگوں کو دل کی رگوں سے ملانے والا، تخیل میں ان کی مہکتی ہوئی اداس تصویر بنانے والا، اور ان کی نزاکت و رفعت کے سامنے سر جھکا دینے والا کوئی نظر نہیں آتا____ادبی و علمی لوگوں میں تو سطحی ذہنیت عام ہے!
کوئی بات ایسی ہوتی ہے کہ صرف اہل سے ہی کہی جاتی ہے۔ اگر کوئی اہل نہیں ملے تو اسے پردے میں رکھا جاتا ہے۔
(جنھوں نے "ان کہی” دیکھا ہے، اس کے کرداروں کی کیفیات کو سمجھا ہے، محسوس کیا ہے، وہ اس بات کو سمجھ سکتے ہیں کہ کس بات کا اظہار کرنا چاہیے اور کیوں کوئی بات "ان کہی” رہنے دی جانی چاہیے۔ )

بازی گر سے بابر کی بہن کی موت پر یہ اقتباس دیکھیے:

"ایک بوڑھی ملازمہ نے فہمیدہ کے چہرے سے کفن ہٹایا۔ اس کے چہرے پر نور چھٹک رہا تھا، ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے وہ گہری نیند سو رہی ہو، جیسے اس کے ذہن پر کوئی بوجھ نہ ہو اور وہ ابھی گھر کی طرح چہچہاتی ہوئی اٹھے گی اور باورچی خانے میں جا کے سب کے لیے ناشتہ تیار کرے گی۔ پھر ابا کے کمرے میں بھاگی بھاگی جا کے انھیں ایک پیالی چائے کی دے گی اور پوچھے گی کہ ابا آج کیا پکایا جائے یا پھر ابا کے گلے میں بانہیں ڈال کر کہے گی، "ابا! آج میں آپ کے لیے فیرینی پکاؤں گی۔ آپ مجھے جیوتی بنیے سے چاندی کے ورق منگوا دیجیے۔ ” میری بھنّو کو سفید لباس بہت پسند تھا۔ کفن میں وہ کیسی مقدس لگ رہی تھی جیسے آسمان سے اتری ہوئی کوئی پری ہو۔ ۔ ۔
میں فہمیدہ کی پائنتی اسی طرح گنگ کھڑا رہا۔ بوڑھی عورت نے اس کا چہرہ کفن سے ڈھانپنے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ میں نے اس کے ہاتھ پکڑ لیے، میں نے فہمیدہ کے بال چومے، اس کی پیشانی چومی، اور اس کی آنکھیں چومیں۔ میرا دل کھنچا جا رہا تھا۔ میں اس کے سرھانے بیٹھا آنسوؤں سے اپنا چہرہ میلا کرتا رہا۔۔۔
میں سارا راستہ فہمیدہ کی ڈولی کو کندھا دیتا رہا۔ قبرستان تک لے گیا۔ کسی نے کندھا دینے کی کوشش کی تو میں نے اسے اپنی جگہ نہیں لینے دی۔ قبرستان حویلی سے زیادہ دور نہیں تھا۔ میں نے اپنی بہن کو اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارا۔ اس کی قبر پھولوں سے ڈھانپ دی گئی۔ میں نہ رویا، نہ میں نے کوئی آہ بلند کی، چپ چاپ بیٹھا رہا۔ مجھے پتا ہی نہیں چلا کہ کب وہ مجھے اس کی قبر سے اٹھا کے حویلی میں لے آئے اور کب انھوں نے مجھے بستر پر لٹا دیا۔ "

شکیل عادل زادہ کے سامنے محبت پر لکھنے والے بہت سے ادیبوں کے لیے یہ خیال آتا ہے:
دردِ سر ہوتا ہے بےرنگ نہ فریاد کریں
بلبلیں "ان” سے گلستاں کا سبق یاد کریں
یہ بات کہ یوسفی شکیل عادل زادہ کو نہیں جانتے تھے درست لگتی ہے مگر سو فیصد مصدقہ نہیں ہے لیکن پہاڑوں کے چھوٹے پن کی اور بھی مثالیں ہیں۔

محترم ابنِ صفی بہت ہی مقبول قلم کار تھے اور بہت سے ادیبوں سے زیادہ معیاری لکھتے تھے۔ یہ ہمارے ادیبوں کی نسبت اپنے ناولوں کے پلاٹ پر خاص توجہ دیتے ہیں۔

ابنِ صفی نے ایک مرتبہ اس کی معذرت بھی کی تھی کہ چند ناولوں میں انھوں نے بےتکی چیزیں پیش کی ہیں۔ یہ محترم ابنِ صفی کا شعور اور ظرف تھا جس کی ہمارے ادیبوں میں شدید کمی ہے۔ ادیبوں میں یہ شعور اور ظرف تلاش کرنے کے لیے بڑی جان ماری کرنی پڑے گی۔
ابنِ صفی کے ناولوں نے اردو کی بھی بڑی خدمت کی ہے۔ ایسی مثالیں بھی ہیں کہ ان کے ناول پڑھنے کے لیے لوگوں نے اردو سیکھی۔
ابنِ صفی کی عظمت اپنی جگہ مسلّم ہے مگر ہمارے پہاڑ جیسے ادیبوں نے ان کی زندگی میں انھیں نہیں مانا۔
اب دور بدل گیا ہے اور ابنِ صفی کو کافی حد تک مان لیا گیا ہے اور ان پر قابلِ قدر کام بھی ہوا ہے۔
ایک مثال بچوں کے مصنف محترم اشتیاق احمد کی ہے۔ ہمارے پہاڑ جیسے تو در کنار چٹان جیسے ادیبوں نے بھی انھیں کوئی اہمیت نہیں دی۔ اشتیاق احمد کے ناولوں میں بڑی شائستگی ہوتی تھی اور سادہ مگر پرلطف اور بامحاورہ اردو ہوتی تھی۔ اس کے بچوں پر بڑے مثبت اثرات پڑے:
انھوں نے ناولوں میں شائستہ ماحول دیکھا۔ اچھی اردو پڑھی۔ ان کی اخلاقی تربیت ہوئی۔
یہ حقیقت ہے کہ اردو کے ذریعے عزت کمانے والے اور اردو کا کھانے والے بہت سے ادیبوں سے بہت زیادہ اردو کی خدمت محترم اشتیاق احمد نے کی ہے۔

اب میں پہاڑوں کے چھوٹے پن کی ایک اور مثال ٹھوس ثبوت کے ساتھ پیش کرتا ہوں:
دلیپ کمار کم و بیش پچیس سال پہلے پاکستان آئے تھے۔ ان کے اعزاز میں پی ٹی وی پر ایک پروگرام بھی ہوا تھا۔ اس میں معین اختر، ساحرہ کاظمی، محمدعلی زیبا۔۔۔ تھے۔
اس میں دلیپ کمار نے ناظرین کو ایک شاک دیا____وہ زیبا کو نہیں پہچانے، انھیں صبیحہ خانم سمجھے۔
محمدعلی کو بتانا پڑا کہ یہ صبیحہ نہیں زیبا ہیں۔
زیبا کے دل میں دلیپ کمار کی بہت زیادہ عزت تھی اس لیے انھوں نے اسے سانحے کو ہنس کر ٹال دیا ورنہ زیبا جیسی حاضر دماغ اور خوش مزاج کسی شائستہ طنز کی ڈور سے چند منٹ کے لیے تو دلیپ کمار کو پہاڑ کی چوٹی سے نیچے لا سکتی تھیں۔
میرا خیال ہے کہ دلیپ کمار کا یہ جرم قابلِ معافی نہیں تھا۔ ان کی اس پر شایانِ شان تواضع ہونی چاہیے تھی____انھیں پہلے ایک تھرماس چائے پلائی جاتی، پھر لسّی کا ایک جگ دل و جگر کو ٹھنڈا کرنے کے لیے دیا جاتا، اور آخر میں بلیک کافی کا ایک مگ اور روح افزا کا ایک گلاس دیا جاتا اور کافی اور روح افزا سے باری باری ایک ایک گھونٹ لے کر انھیں ختم کرنے کا کہا جاتا۔

Trending