Connect with us

تازہ ترین

جماعت اسلامی کی ناکامی اور مڈل کلاس —- سماجی و سیاسی تجزیہ

جماعت اسلامی پاکستان میں کیوں مقبول نہیں؟

Published

on

یہ مضمون ایک سوال کا جواب جاننے کی کوشش ہے۔ سوال یہ ہے کہ جماعت اسلامی کیوں پاکستان میں ایک غالب تحریک نہیں بنتی؟ کیوں یہ جماعت پاکستان کی عوام میں مقبول نہیں ہوتی؟ یہاں مقبولیت کا مطلب صرف انتخابی کامیابی نہیں بلکہ سماج میں عمومی مقبولیت بھی ہے۔ اگر اِس سوال کا جواب صرف انتخابی کامیابی سے حاصل کیا جائے تو یہ طے ہے کہ جماعت اسلامی کبھی بھی انتخاب نہیں جیت سکی۔ جماعت اسلامی نے مختلف اتحادوں کی صورت میں بعض مرتبہ اقتدار کا تھوڑا سا مزا چکھا ہے۔ کراچی میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں عبدالستار افغانی کی بلدیہ کراچی اور نعمت اللہ خان کی کراچی کی نظامت اعلیٰ اسکی مثالیں ہیں۔ بلا تعصب یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اُن ادوار میں تھوڑے بہت اقتدار میں بھی جماعت اسلامی نے بہتر کام کرکے دکھایا۔ مشرف دور میں صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخواہ) کے جماعت اسلامی کے وزراء کی کارکردگی اور ایمانداری کی مثالیں آج بھی دی جاتی ہیں۔ اسی طرح نعمت اللہ خان صاحب کا دور بھی کراچی کیلئے مثالی رہا اور اس بات کو خود انکے بعد بننے والے ناظم مصطفی کمال صاحب بھی تسلیم کرتے ہیں۔

کم اقتدار میں اتنا بہتر انداز میں عمل کرکے دکھانا کوئی مذاق نہیں۔ اقتدار نہ پاکر بھی اتنے عرصے تک ایک جماعت کی حیثیت میں موجود رہنا بھی کوئی مذاق نہیں۔ سب سے بڑھ کر پاکستان کے موروثی، لسانی، خاندانی و فرقہ وارانہ ماحول میں کسی سیاسی جماعت کا موروثی گدّی نہ بن جانا، لسانی یا فرقہ پرست نہ بننا بھی بڑی حیران کن بات ہے۔ اس میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان میں ہرشخص دوسرے کا سیاسی، مذہبی، لسانی، قبائیلی پس منظر جاننے کی فکر میں رہتا ہے۔ مذہب کی ہر بات سے فرقے تلاش کرلئے جاتے ہیں اور زبان کی بات سے قومیت۔ ایسے حالات میں جماعت اسلامی پاکستان کے چپّے چپّے میں کم از کم علامتی حد تک ہی موجود بھی ہے اور اِن تمام خبائث سے اپنی تحریکی فکر میں پاک بھی ہے۔

عدم مقبولیت:

سوال گھوم پھر کر وہی ہے کہ یہ سب ہوتے ہوئے بھی جماعت اسلامی پاکستان میں کیوں مقبول نہیں؟ اسکی وجہ صرف عام ووٹر میں ڈھونڈی جائے تو بات ادھوری ہوگی۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش آج پابندی کے باوجود بلاشبہ بنگلہ دیش کی دوسری بڑی طاقت بن چکی ہے تو یہی مقام پاکستان میں جماعت اسلامی کیوں نہیں حاصل کرسکتی؟ اہم بات یہ بھی ہے کہ پاکستان کی عام عوام کی اکثریت نا صرف اسلام کو مانتی ہے بلکہ اس پر اپنے فہم کے مطابق عمل کی بھی کوشش کرتی ہے۔ کیا مشکل تھا کہ اس عوام کو جماعت اسلامی بس نفاذ اسلام کے نام پر جمع کرلیتی۔ مگر عوام کے فہم و شعور کے نقائص پر بات کرنے سے قبل اگر جماعت اسلامی کے اپنے نظام میں موجود مسائل پر بات کرلی جائے تو شائد زیادہ بہتر ہو۔

Jamaat-e-Islami: “Conservative Islamic political party” or violent extremist group? |جماعت اسلامی آج کی تاریخ میں متوسط طبقے کی ایک جماعت ہے۔ متوسط طبقے کی اِس سے بہت بڑی جماعت تحریک انصاف ہے جو کہ بالائی اور غریب طبقات میں بھی موجود ہے۔ مگر جماعت اسلامی بڑی حد تک صرف متوسط طبقے میں ہی ملتی ہے۔ شائد کچھ فیصد اسکا اثر بالائی طبقے میں بھی ہو مگر غریب طبقے میں جماعت اسلامی کے کارکن نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم سرکاری جامعات میں وجود رکھتی ہے مگر طلبہ کی کثیر تعداد کسی بھی طلبہ تنظیم سے منسلک نظر ہی نہیں آتی۔ فرض کرلیں کہ کل سرکاری جامعات کے تمام طلبہ بھی جمعیت میں چلے جائیں تو بھی وہ متوسط طبقے کی جماعت ہی رہے گی اسلئے کہ طلبہ کی کثیرتعداد بھی متوسط طبقے سے ہی آتی ہے۔ یعنی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جماعت اسلامی پر غالب رنگ متوسط طبقے کا ہے۔

شہری جماعت:

دوسری بنیادی بات جو کہ جماعت اسلامی کے بارے میں کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ جماعت شہروں میں وجود رکھتی ہے اور گاؤں دیہات میں اسکا وجود علامتی ہے۔ یعنی بنیادی طور پر جماعت اسلامی شہری آبادی کے متوسط طبقے کی جماعت ہے۔ اِس میں بھی ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ جماعت اسلامی کے کارکنوں کا ایک طبقہ شہروں میں اپنے مخصوص علاقوں میں رہتا ہے اور اپنے کمیونٹی اسکولز میں اپنے بچوں کو پڑھواتا ہے۔ یوں اس جماعت کے کارکنوں میں قلعہ بند زہنیت پروان چڑھتی ہے۔

اوپر بیان کئے گئے نکات میں ایک بات واضح ہے کہ جماعت اسلامی کے پاکستان میں ایک غالب قوت نہ بن پانے کی وجہ اسکے کارکنوں اور قائدین کا متوسط طبقے سے ہونا ہے۔ متوسط طبقہ نفسیاتی طور پر کمزور اور سماجی آسانیوں کا خواہشمند ہوتا ہے۔ غریب نون تیل اور لکڑی کے چکروں میں الجھا رہتا ہے، متوسط طبقے کو اس حوالے سے تھوڑی سی آسانی میسر ہوتی ہے مگر وہ اپنے امیج کے مسائل میں الجھا رہتا ہے۔ ایک مڈل کلاسیا بلڈوزر یا ٹینک کے آگے کھڑا نہیں ہوسکتا۔ متوسط طبقے کی اخلاقیات اسکے کمزور ہونے کے احساس سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ اخلاقیات ایسی کیفیت پیدا کرتی ہے کہ انسان اپنے اور دوسروں کے افعال و آعمال کی تشریحات میں ہی الجھا رہ جاتا ہے۔ نام نہاد شریف اور اخلاقی مڈل کلاسیے کی ساری زندگی خود کو اور دوسروں کو اپنے ذہن کے کٹہرے میں کھڑا کرکے اخلاقیات کے سخت پیمانوں سے پیمائش کرتے گزر جاتی ہے۔ یہ عادت ایک کمزور اور کنفیوژ ذہن پیدا کرتی ہے۔ ایسا انسان کبھی کوئی بڑا کام نہیں کرسکتا۔

مڈل کلاسیا گھر کے ایک کمرے میں اے سی لگا کر اسکی ٹھنڈی ہوا تبرک کی طرح پی لیتا ہے۔ یہ ہوا اسے انقلابی بننے کیلئے نااہل بنادیتی ہے۔ غریب کے پاس چھوڑنے کیلئے اُسکی گٹھری، چھپّر یا زیادہ سے زیادہ اسکی جان ہی تو ہے۔ غریب تو مر مر کر ہی جیتا ہے ہے اور جان تو ویسے ہی اسکی روز جاتی ہے اسلئے وہ بھی کسی مقصد کیلئے با آسانی جان دے سکتا ہے۔ متوسط طبقے کے فرد کیلئے چھوڑنے کیلئے ایک گھنٹے اے سی کی ہوا ہے، پینشن والی سرکاری نوکری ہے، لیپ ٹاپ اور ایل ای ڈی ٹیوی ہے۔ پھر سب سے بڑی بات یہ کہ اگر وہ ٹینک یا بلڈوزر کے سامنے کھڑا ہوا اور کسی نے اُسے ’گندہ بچہ‘ کہہ دیا تو؟ ’شیم شیم‘ کہہ دیا تو؟ مڈل کلاسیا اسی خوف سے گھٹ گھٹ کر جیتا ہے اور گھٹ گھٹ کر مرتا ہے۔ مگر ٹینک کے آگے کھڑا ہونا تو دور کی بات مڈل کلاسیا تو کسی کو گالی بھی نہیں بک سکتا اسلئے کہ اسکی کمزوری سے پیدا شدہ اخلاقیات اُسے بہادری کے ہر کام کیلئے صریحاً نااہل بنادیتی ہے۔

خشک مزاجی:

پھر یہ بھی ہے کہ جماعت اسلامی کے کارکن عمومی طور پر ہر ادارے میں اُکھڑے اُکھڑے نظر آتے ہیں۔ متوسط طبقے میں جب ایک خاص قسم کے مذہبی امیج کا تڑکا لگتا ہے تو انسان بہت خشک ہوجاتا ہے۔ اسکا مزاح، اسکی جمالیات، اسکی عادات و اطوار اُکھڑی اُکھڑی سی نظر آتی ہیں۔ متوسط طبقے میں مذہبیت کا امیج ایک نوع کے غرور کے ساتھ آتا ہے۔ اِس سے عام عوام میں جماعت کے کارکنوں سے بیزاری پیدا ہوتی ہے۔ جماعت اسلامی کا تصور جمال انسانوں سے زیادہ ’روبوٹس‘ کیلئے موزوں ہے۔ اسی لئے عام عوام کو جماعت اسلامی میں کوئی کشش نظر نہیں آتی۔ اسی لئے جماعت اسلامی کبھی کوئی کرشماتی لیڈر بھی پیدا نہیں کرسکی کیونکہ متوسط طبقے میں قول، عمل اور دعوے کی رینج بہت چھوٹی ہوتی ہے۔

جماعت اسلامی کی ایک اور کمزوری اسکے اپنے نظریے کو پھیلانے کے طریقہ کار میں پوشیدہ ہے۔ اس جماعت نے دین کو ایک نوع کی ’ایکیڈیمک ایکٹیوٹی‘ سمجھ لیا ہے۔ یہ بھی متوسط طبقے کی سہل پسندی کا نتیجہ ہی ہے۔ اِس طبقے کے افراد کو لگتا ہے کہ وہ دین کی سب سے عظیم خدمت لکھ کر، پڑھ کر یا لیکچر دے کر کر سکتا ہے۔

مذہب صرف اور صرف ایک ’ایکیڈیمک ایکٹیویٹی‘ نہیں ہے۔ مذہب جس قسم کی عمل کا تقاضہ انسان سے کرتا ہے اُسکے لئے ہر قسم کی ’ایکیڈیمک ایکٹیویٹی‘ انسان کو نااہل کردیتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جماعتی کتابیں لکھتے رہتے ہیں، پڑھتے رہتے ہیں اور مختلف این جی اوز اور ادارے بنا کر لوگوں سکھاتے پڑھاتے لکھاتے رہتے ہیں۔ یوں جماعت اسلامی بھی ایک قسم کی تبلیغی جماعت بن گئی ہے بس فرق اتنا ہے کہ جماعت اسلامی کے لیکچر مساجد کی دریوں کی جگہ اے سی والے’آڈیٹوریمز‘ میں ہوتے ہیں اور بعد میں یوٹیوب پر چڑھادیے جاتے ہیں۔ پھر ’ایکیڈیمک ایکٹیویٹی‘ کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ انسان کے علم یا زیادہ سے زیادہ اسکے بیرونی کردار پر اثر پزیر ہوسکتی ہے مگر اسکا روحانی اثر کافی مشکل ہے۔ اسی لئے جماعتیوں کی کثیر تعداد کسی بھی عام مڈل کلاسیے جتنے ہی دنیادار اور طالب دنیا ہوتی ہے۔ اسکی امنگیں اور آرزوئیں بھی کسی بھی مڈل کلاسیے جیسی ہی ہوتی ہیں بس فرق یہ ہے کہ اسکی اخلاقیات اسے اپنے موبائل میں وی پی این لگانے سے روک دیتی ہے۔

یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ جماعت اسلامی کی سیاسی و سماجی ناکامی کی وجہ اسکے کارکن ہیں۔ اگر وہ متوسط طبقے کے نہ ہوتے بلکہ غریب ہوتے تو بھی جماعت اسلامی کو غالب کردیتے اور امیر ہوتے تو بھی جماعت اسلامی اقتدار اور اختیار تک پہنچ سکتی تھی۔ لبرل اور سیکولر طبقہ پاکستان میں جماعت اسلامی کا ایک چوتھائی بھی نہیں مگر کیونکہ وہ طبقہ امیر اور غالب ہے اسلئے ااسکا اثر پاکستان کے ہر معاملے پر پڑتا ہے۔ جماعت اسلامی اگر کل امیروں کی ہی جماعت بن جائے تو وہ کم از کم لبرلوں جتنا اثر پاکستان میں حاصل کرسکتی ہے۔

حل کیا ہے؟

اگر جماعت اسلامی اِن مسائل سے نجات حاصل کرنا چاہتی ہے تو اُسے اپنے کارکن غریب طبقے میں بنانے ہونگے اور یہ کرنے کیلئے کسی مشنری کی طرح اسکول بنانے کی ضرورت نہیں بلکہ اپنا پیغام غریب کو سنانا ہوگا۔ اور غریب کو بتانا ہوگا کہ جس دین کیلئے وہ جان دینے پر تیار رہتا ہے اسکے نفاذ کی کوشش کیسے سیاسی طور پر کی جاسکتی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ یہ کام کرے کون جب سارے کارکن ہی متوسط طبقے کے ہوں؟ نتیجہ یہ کہ جماعت اسلامی پاکستان ہر گزرتے دن اپنے قلعے میں بند ہوتی چلی جاتی ہے اور یوں اسکا سماجی اور سیاسی کردار محدود ہوتا چلا جاتا ہے۔ جب اِس صورتحال ہر غور کی کوشش ہوتی ے توسارے مسائل اور نقائص پاکستان کے تہہ در تہہ سماجی نظام میں ڈھونڈ لئے جاتے ہیں۔ یوں وہ عوام جو کہ جماعت کا حصہ نہیں بنتی اور اسے ووٹ نہیں دیتی لائق نفرین گردانی جاتی ہے اور قلعہ بند ذہن اور زیادہ قلعہ بند ہوجاتا ہے۔ عوام اور جماعت کے کارکن میں فصیل مزید بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔
تحریر: فرحان کامرانی

یہ بھی پڑھیں: جماعت اسلامی کی شکست: تاریخ، وجوہات، حل —- محمد معاویہ

 

Advertisement

Trending