Connect with us

تازہ ترین

بنگلہ دیش: دو قومی نظریہ کا ثبوت اور بہتر معیشت کا سراب —— احمد الیاس

Published

on

علامہ اقبال نے 1930 کے خطبہ الہٰ آباد میں بنگال کو اپنی مجوزہ ریاست میں شامل نہیں کیا تھا۔

1940 کی قراردار لاہور میں شمال مشرق اور شمال مغرب میں دو ریاستوں کا مطالبہ کیا گیا اور چھ برس تک یہی مسلم لیگ کا مطالبہ رہا۔

جب قراردار دلّی کے تحت متحدہ ریاست کا مطالبہ ہوا تب بھی قائدِ اعظم نے فرمایا کہ دستور ساز اسمبلی کو حق حاصل ہوگا کہ وہ ایک ملک کے لیے ایک آئین بنائے یا دو ملکوں کے لیے دو آئین۔

ہزار میل کی دوری پر دو مختلف ثقافتوں کے حامل خطوں کو ملا کر ایک آئین کے تحت ایک جمہوریہ بنانا انتہائی بولڈ فیصلہ تھا جس کی کامیابی کے امکانات شروع سے ہی بہت کم تھے لیکن اس کے باوجود متحدہ پاکستان نے کافی اچھا پرفارم کیا۔

اگر 1970 کے عام انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے مینڈیٹ کو مغربی پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت تسلیم کرلیتیں تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ یہ انوکھی یونین برقرار نا رہتی۔

جو لوگ کہتے ہیں کہ مجیب شروع سے بنگلادیش ہی بنانا چاہتا تھا اور اگرتلہ سازش کا حوالہ دیتے ہیں، انہیں یہ یاد رکھنا چاہئیے یہ اگرتلہ سازش کے وقت تک مجیب کے پاس پورے پاکستان کا حکمران بننے کا کوئی راستہ نا تھا لیکن 1970 کے الیکشنز کے بعد وہ پورے پاکستان کا وزیراعظم بن سکتا تھا۔ جب کوئی پورے پاکستان کا وزیراعظم بن سکتا ہو تو وہ اس کے ایک حصے کا وزیراعظم کیوں بننا چاہے گا؟ آخر کار وہ بھی پاور پالیٹیشن ہی تھا، اسی لیے ساڑھے تین ماہ تک کوشش کرتا رہا کہ اسمبلی کا اجلاس ہو اور اسے وزیراعظم پاکستان منتخب کیا جائے۔

جب آپ نے اپنے لوگوں کا اوور ویلمنگ مینڈیٹ نا مانا ہو اور آپ کے لوگ آپ کے خلاف ہوگئے ہوں تو دنیا کی کوئی فوج جنگ نہیں جیت سکتی۔۔۔ وہ بھی اس وقت جب وہ تین طرف سے بیرونی دشمن سے گھِری بھی ہو۔ مشرقی پاکستان کے محاذ پر ہم جنگ اسی روز ہار گئے تھے جس دن ہم نے وہاں فوجی آپریشن شروع کرنے کا بدترین فیصلہ کیا تھا۔ سولہ دسمبر کو اس حوالے سے یوم سیاہ منانے اور رونے پیٹنے کی کوئی حاجت نہیں۔ رونا ہے تو اپنی عقل پر روئیں اور اس آپریشن کے شروع ہونے کے دن روئیں۔

مشرقی پاکستان کا الگ ہوجانا بھی (جو ہرگز ناگزیر نا تھا بلکہ خود ہم نے بہت محنت سے ممکن بنایا) اپنے آپ میں کوئی بڑا سانحہ تھا بھی نہیں۔ ریاستیں بنتی، ٹوٹتی رہتی ہیں۔ ہم بھی برٹش انڈیا کو توڑ کر ہی بنے تھے۔ جمہوری طریقے سے کوئی ریاست الگ ہوجائے تو اس میں اصولاً کوئی ہرج نہیں۔

سقوط ڈھاکہ سے دو قومی نظریے پر کوئی فرق بھی نہیں پڑتا کیونکہ دو قومی نظریہ اس وقت بھی سیدّ احمد خان کی تحریک کی صورت موجود تھا جب علیحدہ ریاست کا کوئی تصور بھی نا تھا اور بنگال کو پاکستان میں شامل نا کرنے والا خطبہ الٰہ آباد اور قراردار لاہور بھی دو قومی نظریے پر ہی مبنی تھیں۔ اس خطے میں مسلمانوں کی دس ریاستیں بن جائیں یا ایک بھی ریاست نا رہے۔۔۔۔ یہ حقیقت اپنی جگہہ رہے گی کہ اس خطے کے مسلمان اور ہندو مل کر ایک قومی شعور، ایک تہذیب کو جنم نہیں دے سکے۔ دو قومی نظریے کے ڈوبنے والی بات ایک بے تکی بھڑک تھی جو اندرا گاندھی نے سیاسی مفادات کے تحت ماری۔ اگر ریاستوں کے ٹوٹنے سے ہی قومیت کے نظریے غلط ثابت ہوتے ہیں تو اس اصول پر سب سے پہلے قیامِ پاکستان کی صورت اندرا کی اپنی جماعت کانگرس کا متحدہ ہندوستانی قومیت کا نظریہ خلیج بنگال اور بحیرہ عرب میں غرق ہوا تھا۔

آج بھی یکساں زبان اور کلچر کے باوجود کلکتہ سے ڈھاکہ اور ڈھاکہ سے کلکتہ جانے کے لیے ویزا لینا پڑتا ہے اور مغربی بنگال کے ہندوؤں میں بنگلادیشی مزدوروں کے خلاف پرائے پن کے احساس کا فائدہ اٹھا کر بی جے پی لاکھوں ووٹ بٹورتی ہے۔ لہذا اس اصول پر دو قومی نظریے کا پاکستان سے بڑا ثبوت تو بنگلادیش بنا ہوا ہے کیونکہ پاکستان یعنی وادیِ سندھ تو غیر مذہبی بنیادوں پر بھی ہندوستان سے الگ شناخت رکھتی ہے لیکن بنگلادیش اور بھارتی بنگال میں تو مذہب کے علاوہ کسی ایک شئے کا بھی فرق نہیں۔

رہی بات بنگلادیش کی ترقی اور معاشی اشاریوں میں پاکستان سے آگے نکل جانے کی تو اسے پاکستانیت کی ناکامی اور سیکولر قومی ریاست کی کامیابی بتانے والے اس حوالے سے کیا کہیں گے کہ برٹش راج کے بنجر اور پسماندہ علاقوں میں بننے والے پاکستان نے قیام کے کچھ سال بعد ہی بھارت کو ان ہی معاشی اشاریوں میں پیچھے چھوڑ دیا تھا اور پرویز مشرف دور تک ہم فی کس آمدنی جیسے ان اشاریوں میں بھارت سے آگے ہی تھے جنہیں آج بنگلادیش کے حوالے سے ہمیں بتایا جاتا ہے۔ تو کیا اس سارے دورانیے میں نظریہ پاکستان درست اور بھارتی قومیت کا اصول غلط تھا؟

معیشتیں مذہب اور قومیت کے نظریوں سے نہیں، معاشی مینیجمنٹ اور حالات سے اوپر نیچے آتی جاتی ہیں۔ ہمیں نیشنلائزیشن، بری اور جمودی معاشی پالیسی اور دہشت گردی کی جنگ نیچے لے گئی تو بھارت کو منموہن سنگھ اور بنگلادیش کو 2006 کی ٹیکنوکریٹک حکومت، امن و امان کی صورتحال اور سستی افرادی قوت نے درست معاشی ٹریک پر ڈال دیا۔ اس کا اسلام، سیکولرازم اور قومیت کے اصول وغیرہ سے تعلق جوڑنا اسی قسم کی مضحکہ خیز خلائی دانشوری ہے جس کے سبب لوگ دانشوروں کو بجا طور پر بےوقوف سمجھتے ہیں۔

ویسے آپ ایک مزدور کو ایک مہینا بنگلادیش کی ٹیکسٹائل ملز میں کام کروائیں اور ایک مہینا فیصل آباد میں۔ پھر اس سے پوچھیں کہ وہ کہاں کام کرنا چاہے گا؟ بنگلادیش کی اس ترقی کی وجہ جہاں ہمارے ہاں دہشت گردی اور لوڈ شیڈنگ سے پیدا ہونے والے حالات ہیں جن سے انڈسٹری وہاں شفٹ ہوئی وہیں بنگلادیش کی سستی افرادی قوت، مزدوروں کے تحفظ کے کمزور قوانین بھی ہیں۔ سرمایہ داروں نے جی بھر کر بنگلادیشی مزدور کا استحصال کیا ہے جس کی داستانیں آئے روز عالمی میڈیا کی زینت بنتی ہیں۔ اس سے کاغذات پر بنگلادیش کی فی کس آمدنی تو پاکستان سے بڑھ گئی ہے لیکن دولت کی تقسیم پاکستان کی نسبت کہیں زیادہ ناہموار ہونے کی وجہ سے عام بنگلادیشیوں کا اوسط معیار زندگی اب بھی پاکستانیوں سے کم ہی ہے۔ یہی حال بھارت کا ہے۔ اگر یقین نا آئے تو گوگل پر Gini coefficient بارے پڑھ لیں۔

سیاسی اعتبار سے بھی بنگلادیش قیام کے بعد ہی بدترین آمریت کے منہ میں چلا گیا تھا۔ شیخ مجیب نے ایک جماعت کے علاوہ سب جماعتوں کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا اور بدترین مینیجمنٹ کے سبب خوفناک معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کی جھلک بھی پاکستان کی چوہتر سالہ تاریخ میں کبھی نہیں دیکھی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ آزادی کے صرف ساڑھے تین برس بعد شیخ مجیب اپنی ہی فوج کے ہاتھوں قتل ہوئے اور بنگالیوں نے کوئی مزاحمت نا کی بلکہ اگلے پندرہ سال فوج سکون سے حکمران رہی۔ اس کے بعد بھی بدعنوان موروثی لیڈروں کا قبضہ رہا اور آج شیخ حسینہ کی مکمل یک جماعتی آمریت ہے جس کی کرپشن اور جبر و تشدد کی داستانیں عالمی میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں۔

مجموعی طور پر بنگلادیش کو آئیڈیلائز کرنے والے یا اس کے وجود کو پاکستان کی نفی کے لیے استعمال کرنے والے یا تو مایوس کن حد تک جاہل ہیں یا خوفناک حد تک بیمار ذہن کے حامل۔

ہمیں چاہئیے کہ ہم سولہ دسمبر کو سقوط ڈھاکہ کا ماتم اب بند کردیں۔ بنگالیوں کو ان کی ان پچاسویں سالگرہ اور معاشی کامیابیوں پر مبارکبار دیں جن پر وہ بہت خوش ہیں اگرچہ ان کی حقیقت کچھ بھی ہو، بلکہ ان سے ان زیادتیوں اور مظالم کی معافی بھی مانگیں جو اکہتر میں ہم سے کسی نا کس سطح پر سرزد ہوئے اور اس کے بعد اپنے اصولوں، اپنی اقدار، اپنی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد کے ساتھ آگے بڑھیں اور درست راستے کا انتخاب کریں۔

Advertisement

Trending