Connect with us

تازہ ترین

سولہ دسمبر گذر گیا، سترہ دسمبر جاری ہے —— فرحان کامرانی

Published

on

آج پاکستان کو دولخت ہوئے پچاس سال بیت گئے۔ آج سے تیس پینتس سال پہلے جب یہ سانحہ تازہ تھا، سابقہ مشرقی پاکستان کا تذکرہ اکثر ہمارے گھر میں ہوا کرتا تھا۔ مجھے وہ باتیں بہت اچھی طرح یاد ہیں۔ میری والدہ اور والد اور دیگر تمام ہی رشتہ دار، جو بھی مشرقی پاکستان سے ہجرت کرکے مغربی پاکستان آئے تھے، ہی مشرقی پاکستان کو یاد کرتے رہتے تھے۔ وہ یادیں عموماً ہنگاموں کی نہیں ہوتی تھیں، بلکہ بچپن، لڑکپن، جوانی، جس نے جتنا بھی وقت وہاں گزارا تھا، یاد کیا جاتا تھا۔ یادوں کے بیان میں ہنگامے اور دردناک واقعات بھی بیان ہوتے تھے۔ یہ بیان محفل کو رنجیدہ کردیا کرتا تھا۔

بنگال میرے ذہن میں ایک جنت کی طرح تھا۔ ایک ایسی جنت جس سے میرے رشتہ داروں کو نکال دیا گیا تھا۔ ایک ایسی جنت جس کو کہ وہ کبھی بھی نہ چھوڑتے اگر سقوط ڈھاکہ نہ ہوتا۔ مگر ظاہر ہے سقوط ڈھاکہ ہوچکا تھا۔ پاکستان ٹوٹ چکا تھا۔ میرے دادا مرحوم کی قبر اور سیدپور میں بنایا ہوا انکا مکان ”قصر حئی“، چھن چکا تھا۔ مرے والد صاحب کا ڈھاکہ کا کرائے کا فلیٹ مع سامان چھن چکا تھا اور میری نانی کے ایک بیٹے، میرے اپنے سگے ماموں مکتی باہنی کے ہاتھوں شہید ہوچکے تھے۔

میرے والد شاہد کامرانی سن انیس سو اکہتر کے غم سے کبھی باہر نہیں نکل سکے، مگر انکا غم نہ تو فلیٹ کاتھا نہ فرنیچر کا، نہ وہ غم انکے باپ کے بنائے ہوئے گھر کا تھا۔ وہ غم اس سے بہت گہرا تھا۔ انہوں نے انیس سو اکہتر کے فسادات بطور صحافی دیکھے تھے اور اسکی تصاویر لی تھیں۔ اُن تصاویر میں سے کچھ آج بھی میرے پاس محفوظ ہیں۔ وہ تصویریں گلی سڑی انسانی لاشوں اور ہڈیوں کی ہیں۔ میرے والد نے انسانی لاشوں کے ڈھیر دیکھے تھے۔ انسانیت کی وہ تذلیل دیکھی تھی جس کے دکھ سے وہ اپنی ساری زندگی نہیں نکل سکے۔

میں نے سانحہ سقوطِ مشرقی پاکستان کے بہت سے متاثرین دیکھے۔ اپنے زیورات، اپنا گھر، اپنی مل، اپنی فیکٹری، یا اپنی گاڑی یاد کرنے والے بھی دیکھے۔ ایسے بھی دیکھے جو کہ بنگال کے جنگلوں اور دریاوں کو یاد کرتے اور وہ بھی دیکھے جو اپنے شہید رشتہ داروں کو یادکرتے۔ مگر میرے والد کا غم اِن لوگوں سے مختلف تھا۔ وہ کسی بہت بڑے سوال سے الجھ گئے تھے۔ وہ کسی بہت بڑے سوال سے لڑرہے تھے۔ وہ خود سے پوچھ رہے تھے کہ کیا دوقومی نظریہ ناکام ہوگیا؟ کیا قومیں وطن سے بنتی ہیں؟ وہ قومیت اور لسانیت کے سوال کو سلجھا نہیں پارہے تھے۔ وہ اپنی اسلامی اور پاکستانی شناخت پر مصر تھے اور بنگالی یا اِس نوع کی ہر قومیت کی تحریک کے خلاف ایک نظریاتی دیوار کھڑی کردینا چاہتے تھے۔ وہ اسّی کی دہائی کے اواخر میں الطاف حسین اور اسکی مہاجر قوم پرستی سے ٹکرانا چاہتے تھے، وہ جئے سندھ اور پلیجو کی تحریک کا علمی جواب مرتب کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ مگر جب انکو مہاجر کہہ کر گالی دی جاتی تھی تو وہ اپنے ردِعمل کو غیر مہاجر رکھنے کیلئے بڑی نفسیاتی جدوجہد کرتے۔ انہوں نے اِن سوالات سے لڑنے کیلئے دو کتابیں لکھیں مگر کیا وہ اِن کا کوئی جواب تلاش کرپائے؟ کیا کسی بھی پاکستانی کے پاس کوئی جواب ہے؟

’سولہ دسمبر سنہ انیس سو اکہتر‘ ایک ایسی تاریخ ہے کہ جس کو پاکستان میں بھول جانے کی بہت کوشش کی گئی مگر یہ تاریخ پاکستان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ بھارتی جب پاکستان کو گالی دینا چاہتے ہیں تو جنرل اروڑا اور جنرل نیازی کی مشہور تصویر نکال لائی جاتی ہے۔ جنرل نیازی کی نظریں جھکی ہیں۔ بھارت کیلئے یہ تاریخ پاکستان کی سب سے بڑی شکست کی تاریخ ہے۔ بھارت اپنی فتح کے جشن میں ہماری پلٹن میدان کی ہتھیار ڈالنے کی تصویر سب سے آگے رکھتا ہے۔ بنگلہ دیش والوں کیلئے آج کا دن یوم آزادی ہے۔ وہ آج کے دن کو حق کی فتح کادن سمجھتے ہیں۔ مگر مسئلہ ہمارا ہے کہ ہم سولہ دسمبر کو کیا سمجھتے ہیں؟ ہم سولہ دسمبر کو بھولنا چاہتے ہیں مگر بھول نہیں پاتے۔ ہم سولہ دسمبر کو تاریخ کی کتابوں سے مٹانا چاہتے ہیں مگر ہم یہ بھی نہیں کرپاتے۔

اب اتنا بہت سارا زمانہ گزر گرجانے کے بعد بنگال کے دریاوں اور جنگلوں کی یادوں کا تزکرہ چھیڑنے والے بھی خاموش ہوگئے اور سقوط ڈھاکہ میں چھنے ہوئے دنیاوی اسباب کا تذکرہ کرنے والے بھی بوڑھے یا اِس فانی دنیا سے رخصت ہوئے۔ اب تو اُس معرکے میں مرنے والے بھی کسی کو یاد نہیں۔ مگر ایک سوال آج بھی زندہ ہے جس نے میرے والد کو ہمیشہ تنگ رکھا۔ کیا واقعی دوقومی نظریہ ناکام ہوگیا؟ کیا واقعی قومیں وطن سے بنتی ہیں؟ میرے والد نے سولہ دسمبر گزار لیا تھا۔ انہوں نے وہ زہریلا گھونٹ پی لیا تھا۔ انکو سترہ دسمبر تنگ کررہا تھا۔ پاکستان کیلئے سترہ دسمبر کیسا ہوگا یہ وہ سمجھ نہیں پارہے تھے۔ سترہ دسمبر، جئے سندھ، جئے مہاجر، جئے پنجابی، جئے بلوچی، جئے پختون کے نعروں کے ساتھ ہوگا یا پھر پاکستان ایک وحدت بن پائے گا۔ کیا بھٹو، ایوب، اور یحییٰ کی خود غرض سیاست ہی پاکستان کی ریاست کے ہم معنی ہوگی؟ کیا پاکستان کی وحدت کی ضمانت صرف بندوق بردار فوجی، رینجرز اور ایجنسیاں ہونگی؟ اور اگر انکا دیا ہوا آہنی ڈھانچہ منہدم ہوا تو کیا پھر سے”جوئے بنگلہ‘‘ نما کوئی نعرہ لگاتے بندوق بردارسڑکوں پر نکل آئیں گے اور دوبارہ ”سولہ دسمبر“ کردیں گے؟

بحیثیت پاکستانی مجھے بھی صرف سترہ دسمبر ہی تنگ کرتا ہے، سولہ دسمبر نہیں۔ سولہ دسمبر تو گزر گیا، سترہ دسمبر جاری ہے۔ وہی چھوٹی چھوٹی قومیتیں ہیں اور وہی محرومیوں کے بیان ہیں۔ وہی طاقت اور نوکریوں کی رسہ کشی ہے وہی تقسیم در تقسیم ہوتا معاشرہ ہے۔ محرومیوں کے شکار گروہوں کو ریاست کی بے اعتنائی ویسے ہی علیحدگی پسندی کی طرف دھکیل رہی ہے کہ جیسے مشرقی پاکستان میں ہوا تھا۔ چھوٹی چھوٹی لسانی اِکائیوں میں اپنے ننہے منے علیحدہ ملک بنانے کا وائرس مکتی باہنی کی ہی طرح غیر ملکی اشاروں، گولیوں اور بندوقوں کا منتظر ہے۔ ریاست اس وائرس کو گولیوں سے ختم کرتی ہے لیکن اِس کی وجوہات پر کام نہیں کیا جاتا۔ نتیجتاً ظاہری طور پر امن ہوجاتا ہے مگر باطن کی بیماری بڑھتی رہتی ہے۔

سترہ دسمبر وہ تاریخ ہے کہ جب سولہ دسمبر گزر چکا ہے اور پاکستانیوں کا یہ اعتماد ختم ہوچکا ہے کہ پاکستان کبھی نہیں ٹوٹے گا۔ ”اب بچے ہوئے پاکستان کو جوڑ کر رکھنا ہوگا“ یہ جملہ سترہ دسمبر کی پیشانی پر لکھا ہے۔ جب یہ سوال کرو کہ ”کیسے جوڑ کر رکھا جائے گا؟“، تو اسکا جواب آتا ہے ”عسکری طور پہ مضبوط ریاست“۔ اتنی مضبوط کہ جسے کوئی مکتی باہنی، کوئی جنرل اروڑا نہ توڑ سکے؟ شائد ریاست اتنی مضبوط تو ہوگئی ہے مگر اتنی مضبوط نہیں ہوئی کہ اسے کوئی بھٹو، کئی ایوب اور کوئی یحییٰ بھی نہ توڑ سکے اور اتنی مضبوط بھی نہیں ہوئی کہ بغیر بندوق کے قائم رہ سکے۔ سولہ دسمبر گزر گیا مگر سترہ دسمبر ابھی جاری ہے۔ انسانی جانون کے ضائع ہونے کا صدمہ، مال و متاع کے چھننے کا غم، ہجرت کی تکالیف تو پچاس سال کی دھول تلے دب گئیں مگرستر ہ دسمبر کی پیشانی پر لکھا سوال آج بھی موجود ہے۔ جو سولہ دسمبر گزر گیا اسکا کڑوا گھونٹ تو ہم نے پی لیا مگر ہم نے اس سے آئندہ بچنے کیلئے کیا کیا؟

Advertisement

Trending