’’خلط ملط‘‘ استاد، شاعر، نقاد اوراردوکے انتہائی وقیع جریدے ’’نقاط‘‘ کے مدیر قاسم یعقوب کا پہلا ناول ہے۔ قاسم یعقوب دس جون انیس سواٹھہتر کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کی شاعری کا پہلامجموعہ ’’ریت پہ بہتا پانی‘‘ اورغزلوں کا مجموعہ ’’دیکھ چکا موج موج‘‘ اور ’’اردو شاعری پر جنگوں کے اثرات‘‘ قارئین سے بھرپور داد حاصل کرچکی ہیں۔ لسانیات پر بھی وہ ایک عمدہ کتاب’ تصنیف کرچکے ہیں۔ قاسم یعقوب میں اپنے ادبی سفرکا آغاز بھی فیصل آباد سے ہی کیا۔ گذشتہ دس پندرہ سال سے وہ اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ ان کے ہاں فکروفن، دونوں کی کشمکش جاری رہتی ہے۔ وہ ایک وقت میں تنقیدوفکر کو وقت دینے لگتے ہیں اور پھر یکدم شعر کے باطن میں ظہور کر تے دکھائی دیتے ہیں۔ اس بار وہ فکشن کی صورت میں اپنی فکرکو سامنے لائے ہیں۔ ’’خلط ملط‘‘ ان کا پہلا ناول ہے۔ اگرچہ ناول میں انہوں نے تکنیک کا کوئی تجربہ نہیں کیا مگر دو بالکل مختلف کہانیوں کو یکجا کرکے ایک منفرد تخلیقی تجربہ ضرورکیا ہے، یہ فیصل آبا دشہرکی گلیوں پر پہلا ناول بھی ہے۔
فیصل آبادسے کئی عمدہ ادبی جرائدکا اجراہوا۔ جن میں’’آفرینش‘‘، ’’الکلام‘‘ اور ’’خیال‘‘ شامل ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی تین چار شماروں سے زیادہ جاری نہ رہ سکا۔ ایک اورعمدہ جریدہ ’’زرنگار‘‘ علامہ ضیاالحسن ضیا کے انتقال کے بعد بند ہوگیا۔ فیصل آباد سے محمدعابدمثال پبلشرزکے نام سے بہترین اور معیاری ادبی کتب شائع کررہے ہیں۔ عامر سہیل کے وقیع ادبی جریدے ’’انگارے‘‘ کا سنچری نمبربھی مثال نے شائع کیا۔ لیکن اس کے بعد انگارے کاکوئی شمارہ منظرعام پر نہیں آیا۔ قاسم یعقوب کے ’’نقاط ‘‘ کے سترہ شمارے شائع ہوچکے ہیں اور جلد اس کااٹھارواں شمارہ شائع ہونے والاہے۔ نقاط کا شاندار ’’نظم نمبر‘‘ اور یادگار ’’کتا ب نمبر‘‘ بھی شائع ہوئے۔ ’’نقاط‘‘ سنجیدہ ادب کا بہترین جریدہ ہے اوراس جریدے کے ذریعے قاسم یعقوب خود کو بہترین مدیر ثابت کرچکے ہیں۔ قارئین ’’نقاط‘‘ کاانتظارکرتے ہیں۔
مشہور افسانہ وخاکہ نگاراورمصنف عرفان جاویدکاکہناہے۔ ’’اساتذہ ادب کے نزدیک ایک فن پارے کے شاہ پارہ بننے میں تکرارِافادہ، آفاقی موضوع دیرتک یاد رہنے کی خوبی، ماہرانہ بنت کاری اوربرجستگی اہم لوازم ہیں۔ ’’خلط ملط‘‘ ایک ایسافن پارہ ہے، جس میں یہ تمام لوا زمات بہ خوبی موجودہیں۔ قاسم یعقوب اس قبیل سے جنھوں نے فکشن میں اپنی سب سے اہم خوبی اظہارپالی ہے۔ انھوں نے لائل پورکے شہری لوکیل سے انسانی فطرت کی بوالعجبیوں، غیراختیاری حالات وواقعات کے حیاتِ بشرپراثرات، فکروتدبرپربالعموم سرشتِ آدم کے غالب آجانے اوردیگراہم موضوعات پروسیع ترتناظرمیں خاصی گیرائی سے خامہ فرسائی کی ہے اورخوب کی ہے۔ ‘‘
افسانہ و ناول نگارمحمدحمیدشاہد کہتے ہیں۔
’’یہ ناول مجھے کئی حوالوں سے اچھا لگا۔ اس کاپلاٹ خوب ہے۔ کرداروں کی تشکیل اورکہانی میں ان کا متعارف ہوناعمومی طور پر بہت کامیابی سے ہوا ہے۔ آپ ان وجودی مسائل کوبھی گرفت میں لینے میں کامیاب رہے ہیں جوناول کی کہانی کو محض اور صرف واقعات کامجموعہ نہیں رہنے دیتے، انسانی صورتِ حال کی تطہیرکاوسیلہ بھی بنادیتے ہیں۔ ‘‘
ناول نگاراختررضاسلیمی نے ’’خلط ملط‘‘ کے بارے میں لکھاہے۔
’’ قاسم یعقوب نے ایک سماجی سائنس دان کی طرح ہماری توجہ ان مسائل کی طرف مبذول کرائی جوہماری روزمرہ زندگی کاحصہ ہے لیکن ان کی طرف دیکھنے، ان پرغورکرنے سے ہم ہمیشہ کتراتے ہیں۔ بدن اور مذہب کی کشمکش سے تشکیل پاتی یہ کہانی نہ صرف آخرتک ہمیں باندھے رکھتی ہے بلکہ ناول ختم کرنے کے بعدبھی ہمارے ساتھ رہتی ہے۔ لائل پورکی دھندلی گلیاں اوران میں چلتے پھرتے سایہ نماکردارایک ایسے شہرکی کہانی سناتے ہیں جس کاہم نے ابھی تک صرف روشن چہرہ ہی دیکھااورسناہے۔ عموماً کہا جاتاہے کہ ایک ناول توہرشخص لکھ سکتاہے کہ ایک زندگی بہرحال ہرشخص جیتا ہے، مجھے امید ہے کہ قاسم اس مقولے کوغلط ثابت کرنے کے لیے ہمیں کم ازکم ایک اورناول ضروردیں گے۔ میں انھیں ناول کی وسیع وعریض دنیا میں خوش آمدید کہتا ہوں۔ ‘‘
پرویزانجم کے مطابق
’’ لائل پورکے گھنٹہ گھرلوکیل پرغالباً یہ پہلاناول ہے۔ قاسم یعقوب نے بازاروں کی نفسیات کی گمبھیرتاکوسمجھنے کی کامیا ب کوشش کی ہے۔ مجھے اس کہانی نے اپنے سحرمیں رکھا۔ کچھ کردارخلط ملط ہونے سے بچ گئے اورکچھ زندگی کی سفاکی کی بھینٹ چڑھ گئے۔
ناول کاانتساب قاسم یعقوب نے’’اپنے تخلیقی وجودکی ان کہی کے نام‘‘ کیاہے اورابتدا میں میلان کنڈیراکا معنی خیزجملہ ’’اورزندگی کی قیمت کیاہو سکتی ہے، جب زندگی کی پہلی آزمائش کے لیے خود زندگی ہو۔‘‘ درج کیاہے۔ ناول ’’خلط ملط‘‘ کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیاہے۔ جنہیں چند جملوں سے واضح کیا گیا ہے۔ پہلا صبح، ’’میں خداکے ہاتھوں سے گرکرٹوٹاپیالہ ہوں جو اپنے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو ڈھونڈتا پھرتاہے‘‘دوسرادوپہر’’ کوئی ٹکڑامل کراپنی ٹوٹی ہوئی جگہ سے جوڑبناتاہے توازلی تسکین اورابدی سرشاری کااحساس ملتاہے جیسے تم! ہاں پیارے! جیسے تم ملتے ہوتوکچھ ایساہی لگتاہے جیسے میں تھوڑا سا مکمل ہوگیا ہوں‘‘ اورتیسراشام’’ تکمیل کی اس مسافت میں ایک سوال بوندبوند مجھ سے رِستاہے اتنی بڑی کائنات میں ٹوٹے ہوئے پیالے کے ٹکڑے کہاں کہاں بکھرے پڑے ہیں کیا خبر، کب ہم اپنے باقی ماندہ ٹکڑوں کوپاسکیں جانے کب ہمیںازلی تسکین مل سکے اورجانے کب خداکی پیاس بجھے ہاں پیارے!ہم خداکے ہاتھوں سے گرکرٹوٹے ہوئے پیالے ہیں‘‘۔
صبح، دوپہر اورشام کے ان تین حصوں اوران کے آغازپردیئے گئے جملوں سے ناول کی کہانی کاربط بہت خوبصورتی سے عیاںکیاگیاہے اور انسان کی حقیقت واضح کی گئی ہے۔ قاسم یعقوب کی کردارنگاری بہت اچھی ہے۔ ناول کے کئی کرداراردوادب میں ہمیشہ یادرکھے جائیں گے۔ وہ کہانی کے اندر کہانی کہنے کے فن سے بھی آشناہیں۔ ناول کامرکزی کردارپینتیس سالہ غیرشادی شدہ بینکررئیس ہے۔ جومختلف ذہنی الجھنوں کاشکارہے۔ اس کا چھوٹا بھائی وقاص اوربھابی نورین ناول کے اہم کردارہیں۔ رئیس کے بینک کی کولیگ صغریٰ ایک سمجھدارخاتون ہے، جورئیس کی ذہنی پریشانیوں کو دور کرنے میں کوشاں رہتی ہے۔ اس کے شوہرظفرمرادکے بھی رئیس سے اچھے مراسم ہیں۔
ناول کے دوسرے حصے کااہم ترین کردارراجہ ہے، جس کااصل نام ملک آفتاب ریاض ہے۔ راجہ انڈوں کاتھوک بیوپاری ہے۔ راجہ کابھائی جیساملازم قادر اور لیڈی ڈسپنسرخالدہ اس حصے کے دیگراہم کردارہیں۔ ناول کابنیادی پلاٹ بین المسالک شادیوںکے مسائل کے بارے میں ہے۔ اس کے ساتھ کئی ذیلی موضوعات بھی پورے ناول میں چلتے رہتے ہیں۔ رئیس نجی بینک میں منیجر تھا۔ وہ خاموشی سے ایگورافوبیا کے خو ف میں مبتلاہوتاجارہاتھا۔ یہ ایک خطرناک نفسیاتی مرض ہے مگروہ ابھی ابتدائی مرحلے میں تھا۔ وہ ذمہ داری سے نہیں بھاگتاتھالیکن ہجوم اوررش والی جگہوں سے پرہیزکرتاتھا۔ بینک میں زیادہ رش ہونے پروہ اپنے چھوٹے سے آفس میں گھس جاتااورکسی کواندرنہ آنے کاکہہ دیتا۔ زیادہ خوف محسوس ہونے پرکاؤنٹرسیکشن کی طرف بالکل نہ جاتااورہجوم کے کم ہونے کاانتظارکرتا۔ صغریٰ نے دوسالہ رفاقت میں ایسے کئی واقعات دیکھے تھے، جب رئیس اکیلے ہونے کے شوق میں دور نکل جاتا اوراپنے آپ سے باتیں کرنے لگتا۔ صغریٰ اس سے باتیں کرکے اس کاخوف کم کرتی، دیرسے گھرپہنچنے پرگھروالے بھی صغریٰ کوفون کرکے بتاتے۔ رئیس چھوٹے بڑے کاکوئی خیال نہیں کرتا، حتیٰ کہ آفس کے خاکروب سے مصافحہ کرنے میں بھی اسے کوئی عارنہیں ہوتا۔
رئیس کے چھوٹے بھائی وقاص کانورین سے رشتہ خالہ نے تلاش کیاتھا۔ شادی گھر والوں کی پسندسے ہوئی تھی مگراس میں وقاص اورنورین کی رضامندی بھی شامل تھی۔ منگنی کے بعدان کی محبت اتنی بڑھی کہ وہ بھول گئے انھیں روایتی طریقے سے ملایاگیاہے۔ دونوں گھرانوں کے رہن سہن میں تو فرق نہیں تھامگران کے مسلک الگ تھے۔ وقاص دیوبندی مسلک سے تعلق رکھتاتھا۔ نورین شیعہ خاندان سے تھی۔ دونوں گھرمسلک کے حوالے سے شدت پسند نہیں تھے۔ وقاص کے والدنے خود اہل حدیث سے شادی کی تھی۔ اس لیے الگ مسالک رشتے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکے۔ دونوںخاندان مسلک سے زیادہ دین کی اقدار اورکردارکواہمیت دیتے تھے۔ وقاص کی تربیت میں بھی مسلک کاکوئی کردارنہیں تھا۔ وقاص کی پارٹنرشپ میں گارمنٹ فیکٹری تھی۔ شادی سے پہلے گھرکی ہرخبروہ نورین کودیتا، اس سے فیکٹری کے معاملا ت تک زیربحث لاتا۔ نورین کوپتہ تھاکہ فیکٹری میں کتنے ملازم ہیں اورآج کل کس طرح کے ایکسپورٹ پرکام ہورہاہے۔ نورین گوجرانوالہ میںسرکاری اسکول میں انگلش ٹیچرتھی۔ وہ شادی کے بعدبھی ٹیچنگ چھوڑنا نہیں چاہتی تھی۔ مگروقاص نے اسے جاب کی اجازت نہیں دی۔ اس نے لائلپورآتے ہی نوکری سے استعفیٰ دیدیا۔ شادی بہت دھوم دھام سے ہوئی۔ شادی کے بعد وقاص ایک ان دیکھی خوشی وقاص کواندرہی اندرتوانااورطاقت ورکیے جارہی تھی۔ وہ نورین کے بدن کی خو شبومیں روزنہاکرفیکٹری کی طرف روانہ ہوتا۔ وہاں پہنچ کراسے ہرکام میں اکتاہٹ محسوس ہوناشروع ہوجاتی اور گھرپہنچنے کی جلدی ہوتی گھر آکروہ نورین کے پہلوسے چپک کربیٹھ جاتا۔ دو مہینے گزرنے پروہ ہوش میں آنے لگا۔ چارپانچ سال سے وہ اوراس کاپارٹنرعامرغفار، مفتی عنایت اللہ سے ملنے جایاکرتے تھے، جوان کے محلے ہی میں ایک مسجد کی امام رہ چکے تھے۔ انہوں نے اب کنال روڈ پرایک بڑامدرسہ بنالیا تھا۔ وقاص کانکاح بھی مفتی صاحب نے پڑھایاتھا۔ عموماً نکاح لڑکی والے پڑھواتے ہیں مگروقاص نے مفتی صاحب کی محبت میں انہیں ساتھ لانے پراصرارکیااورانہی سے نکاح پڑھوایا۔ مفتی صاحب نے پہلی باروقاص کو فون کرکے بلایاتھا۔ وہ جب عامرغفارکے ساتھ ان کی خدمت میں حاضرہواتومفتی صاحب بہت ناگواری سے ملے۔ وہ بہت پریشان تھے کہ وقاص نے ایک شیعہ لڑکی کانکاح ان سے پڑھوادیا تھا اورانھیں بتایابھی نہیں۔ وقاص کے سامنے انھوں نے غصے پرقابورکھااورسارازوراسے یہ سمجھانے میں صرف کیا کہ سنی العقیدہ مسلمان کا نکاح شیعہ عقیدہ رکھنے والی سے ہوہی نہیں سکتا۔ دونوں مسلک ایک دوسرے کاکفونہیں بن سکتے۔ اس نے انہیں بھی گناہگار کیا۔ وقاص ان باتوںسے بہت پریشان ہوا، اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کس سے مشورہ کرے اگلے دوتین ہفتے بھی وہ مفتی صاحب کے پاس جاتارہا۔ جو اسے بار بار نکاح فسخ کرنے کوکہتے رہے آخر ی دفعہ توباقاعدہ غصے میں آگئے اوراسے آئندہ نہ آنے کاکہہ کراٹھ گئے۔ وقاص جہاں بہت پریشان رہنے لگاو ہیں اس نے نورین سے فاصلہ پیداکرنابھی شروع کردیا۔ مفتی صاحب سے آخری ملاقات میں ان کی ناراضی نے اسے نورین سے مکمل متنفرکردیا۔ اگلے کچھ دنوں تک نورین، وقاص کے مسلکی سوالات کی زدمیں رہی۔ وہ سوچتی کہ ان کے رشتے میں توجذبے، خیالات اورجنسی تقاضے سب مل کر ایک ہو جاتے ہیں کیا مسلک کی بنیاد پر جو اسے پہلے سے معلوم تھا، وقاص ہررشتہ ناطہ ختم کرناچاہتاہے؟وہ روزانہ اس سے طرح طرح کے سوالات کرتا اور اسے اسلام سے خارج سمجھتا۔
رئیس بینکوں کے عزائم سے بخوبی آگاہ تھا۔ انھوں نے صارف کے نام پرریاستوں کوبھی گروی رکھاہواہے۔ بینک میں داخل ہوتے ہی انسا ن انسان نہیں رہتا صارف بن جاتاہے۔ ایسانہیں کہ اگرکسی کے پاس پیسہ نہیں تواسے بینک گارڈاندرجانے نہیں دے گا۔ نئے مالیاتی نظام میں کسی کابینک سے واسطہ ہے یا نہیں، سب صارف ہوچکے ہیں۔ رئیس کے حوالے سے ناول میں بینکنگ کی خامیوں اورخوبیوں پربھی سیر حاصل بحث کی گئی ہے جودلچسپ بھی ہے اور معلوماتی بھی، قاری کواس سے بینکنگ کوسمجھنے میں مددملتی ہے۔ بینکاری میں مالی صارفین کے تحفظ کابہت خیال رکھاجاتاہے۔ سرمایے کی گردش صرف اپنی رفتارکودیکھتی ہے۔ اس اس چیزسے غرض نہیں ہوتی کہ سرمایہ دینے اورلینے والا کون ہے اوراجتماعی نفع ونقصان کیاہے؟ اجتماعیت کاسارادارومدارسرمائے کی گردش پرہے اسی لیے بینک کاری نظام نے مقامی ذہنوں کو قابومیں رکھنے کے لیے اسلامی بینکاری کومتعارف کرایا اوراسلامی معاشی قوانین وضع کرناشروع کردیے۔
نورین نے اپنی دوست صوبی کے مشورے پرروقاص کے رویے کے بارے میں رئیس بھائی کوبتانے کافیصلہ کیا۔ رئیس کبھی ان کے معاملات میں دخل نہیں دیتاتھا۔ تاہم نورین کے پاس کوئی اورحل نہیں تھا۔ اس نے رئیس سے کہاکہ ہماری شادی کودوسال ہوگئے مگرانھیں میری بالکل پروانہیں۔ میرانام نورین زہراہے میں شیعہ فیملی سے تعلق رکھتی ہوں۔ وقاص کواس بات کاعلم شادی سے پہلے ہی تھا۔ آپ کے اورمیرے والدین نے بھی رشتہ کرتے ہوئے مسلک پرزورنہیں دیاتھا۔ ہم نے ایک دوسرے کوپسندکیااورکبھی بھی اپنے عقائدکودوسرے پر تھوپنے کی کوشش نہیں کی۔ وقاص نے شادی کے دوماہ بعد ہی کہناشروع کردیاکہ میں خود گھرچھوڑکرچلی جاؤں۔ کہاں جاؤں؟صرف اس وجہ سے عقائد سے اختلاف رکھتی ہوں۔ وہ مجھے کب کاچھوڑ چکے ہوتے، شایدآپ کے والدین کی طرف سے مزاحمت کاسامناہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتاکہ میں کیاکروں؟ رئیس پریہ باتیں بجلی بن کرگریں۔ اس نے کہاکہ آپ کے شیعہ ہونے سے کیاتعلق ہے، مجھے لگتاہے اس کے پیچھے کوئی اورہے۔
وقاص ملک کی ایک بڑی جامعہ کاطالب علم رہاتھا۔ اس نے بزنس کی اعلیٰ ڈگری حاصل کی۔ ذاتی بزنس کررہاتھا۔ اس کی گارمنٹ فیکٹری جو دوست کے ساتھ پارٹنرشپ کی بنیادپربنائی گئی تھی۔ خوب عمدگی سے چل رہی تھی۔ وہ مفتی صاحب کی ہربات کوحرفِ آخرمانتاتھامگریہاں اسے عقائداورفطرت کے درمیان ٹکراؤکاسامناتھا۔ نورین سے اس کی محبت اس کے عقائدکے راستے میں حائل ہورہی تھی۔ مفتی صاحب کے مطابق غیرکفومیں کیانکاح اسے فسخ کرنے کاپوراحق حاصل تھا۔ وہ اسے مسلکی اختلافات تفصیل سے بتاتے اوراس کے بعض سوالات پربرہم بھی ہوجاتے۔ ایسے وقت میں جب نورین واپس گوجرانوالہ جانے کافیصلہ کرچکی تھی۔ رئیس کی طویل گفتگوکاوقاص پراثرہوتاہے اور وہ ایک مرتبہ پھرنورین کے قریب آجاتاہے۔
ناول’’خلط ملط‘‘ کے دوسرے حصے کامرکزی کردار راجہ ہے۔ منشی محلے کی گلی کے نکڑپرتھوک انڈوں کی دکان تھی۔ منشی محلے کاایک کوناڈگلس پورہ کولگتاہے۔ اس کے بالکل سامنے شہرکامشہوردھوبی گھاٹ ہے جس میں سیاسی جلسوں کی رونقیں دیکھنے والی ہوتی ہیں۔ انڈوں کی دکان ایک بوسیدہ مکان میں تھی۔ یہ دکان کوتوالی روڈسے گلی کومڑتے ہوئے بالکل کونے پرواقع تھی۔ یوں اس کاایک حصہ محلے اوردوسرابازارکی طرف کھلتاتھا۔ یہ مکان کسی سکھ خاندان کاتھا۔ تقسیم کے وقت وہ ہندوستان بھاگ گیاتواسے سرکارنے ایک مسلمان خاندان کوالاٹ کردیا مختلف ادوارمیں اس کے حصے بخرے ہوتے رہے۔ خریداروں نے تقریباً سارامکان گراکرنیابنادیاتھا۔ یہ حصہ جوابھی تک اپنی قدیم حالت میں موجودتھا، ایک بچ ہوئے کمرے پرمشتمل تھا۔ یہ اب ایسے مسلمان خاندان کی ملکیت تھا، جووراثتی جھگڑوں کی وجہ سے اسے فروخت نہیں کر پارہاتھا۔
اس چھوٹے سے بوسیدہ کمرے میں تھوک انڈوں کاکاروبارکرنے والاایک نوجوان راجہ تھا۔ اس کے باپ نے بیس سال قبل یہ کاروبار شروع کیاتھا۔ تب سے یہ بچا کھچا کمرہ اسی کے قبضے میں تھا۔ رواثتی آتے اورمعمولی ساکرایالے کرچلے جاتے۔ دوسال سے راجہ دکان پر بیٹھنے لگاتھا۔ اردگرددکانوں کے سب لوگ تھوک ریٹ پرانڈے راجے سے ہی خریدتے۔ راجہ نے باپ کی اجازت سے ایک ملازم رکھ لیا۔ سترہ سالہ عبدالقادراسے مل گیاجوڈگلس پورے کا رہائشی تھااوراپنے ہی محلے کے ایک ہوٹل پرکام کرتاتھا۔ قادرنے آتے ہی دکان کولش پش کردیا۔ بوسیدگی کالبادہ اتارپھینکا۔ طاقچوں کودھوکران میں مٹی کے گلاس رکھ دیے۔ مٹی کی دیواریںجوکھوکھلی ہوچکی تھیں، گارے کالیپ کر کے ان کے رخنے بندکردیے۔ چنددن بعد راجہ کاباپ اس طرف آیاتوحیران رہ گیا۔ اتنی نفاست تواس نے اپنی جوانی میں بھی نہیں کی تھی۔ راجہ کوقادرکاسب سے بڑافائدہ یہ تھاکہ وہ کئی گھنٹوں کے لیے نکل جاتااوردوستوں کے ساتھ آوارہ گردی کرتا۔ لیکن قادرکے ساتھ اس کا رویہ چھوٹے بھائیوں جیساتھا۔
قادر کابہنوئی اس کی بہن کے ساتھ بہت مارپیٹ کرتاتھا۔ ڈیلیوری کے وقت وہ اسے ماں باپ کے گھرچھوڑگیا۔ یہاں ایک اورکردارخالدہ ڈسپنسرناول میں داخل ہوتاہے۔ خالدہ اڑتیس انتالیس سالہ تجربہ کارنرس تھی۔ وہ اسپتال گائنی وارڈمیں کام کرچکی تھی اورزچہ بچہ کے امورسے بخوبی واقف تھی۔ وہ اپنے کلینک میں بچوں کی پیدائش کراتی تھی اورایسے والدین جوبچے سے نجات چاہتے تھے۔ ان کاکام بھی کر تی تھی۔ قادرکی بہن کوخالدہ کے کلینک لے جایا گیا۔ لیکن زچہ اوربچہ دونوں ڈیلیوری کے دوران انتقال کرگئے۔ راجہ نے اس موقع پرقادر کا پوراساتھ دیااور بہن کی آخری رسومات میں بھی شریک ہوا۔ یہاں قادر اوراس کے ماں باپ کاکہناتھاکہ ان کی بیٹی اورنواسے کوخالدہ نے مارا ہے۔
یہ تمام معاملات لائلپورکی گلیوں اورمحلوں میں چلتے ہیں۔ قاری خود کواس تمام ماحول کاحصہ محسوس کرتاہے۔ ’’خلط ملط‘‘ کے تمام کرداررئیس، وقاص، صغریٰ، نورین، راجہ، قادر، خالدہ ڈسپنسرپڑھنے والے کے جانے پہنچانے ہیں۔ وہ انہیں یاایسے دوسرے کرداراپنے اردگرد دیکھتا رہا ہے اوراس میں پیش کیے گئے مسائل اورمشکلات بھی پڑھنے والے کے لیے نئی نہیں ہیں۔ وہ آس پاس ایسے مسائل کودیکھتا رہتاہے۔ قاسم یعقوب کاسیدھاسادہ اسلوب اوربیانیہ قاری کے دل میں اترجاتاہے اوروہ کسی فلم کی ماننداس کے واقعات کودیکھنے لگتاہے۔ کسی کردارسے انس اورکسی سے نفرت کابھی شکارہوتاہے۔ ناول کی دلچسپی کسی بھی مرحلے پرکم نہیںہوتی اورآگے کیاہوا؟ کاسوال اسے ختم کیے بناچھوڑنے نہیں دیتا۔
قدیم زمانے کاانسان عورت کے تصورکوپوری کائنات کی روشنی کہتاتھا۔ اس کے نزدیک چانداورسورج دونوں عورت تھے اوریہ ستارے چاند کے بچے۔ چاند نے کچھ دیربعدمحسوس کیاکہ چونکہ وہ رات کونکلتاہے، لہٰذااس کی روشنی کم ہے۔ اس نے ستاروں کوجنم دے کراپنی توسیع کی اوراپنے وجود کے اردگرد اکٹھا کرلیاسورج کواس کی ضرورت نہیں تھی۔ اس نے بھی پہلے پہل بچوں کوجنم دیاتھامگربعدمیںانھیں نگل لیا۔ سورج کے اصرارکے باوجود چاند نے اپنے بچوں کونہیں کھایااوران کوزندہ رکھا۔ یوں مامتاکاتصورچاند سے منسوب ہوگیا۔ جب سے کائنا ت بنی ہے عورت کاکردارتخلیقِ حیات ہی رہاہے۔ خالدہ بیک وقت سورج اورچاندکے روپ میں تھی۔ وہ بچوں کی پیدائش میں مدد بھی کرتی اورانھیں ماربھی رہی تھی۔ اس کاکردارایک طرف مسیحائی تھا، وہ سینکڑوں بچوں کوزندگی کاراستہ مہیاکرنے میں معاون بنی تھی۔ دوسرے طرف اس نے اجڑے گھروں کوبسانے اورگناہ کاریوں پرپردہ ڈالنے کادھندہ بھی شروع کررکھاتھا۔
قادر سے یہ جان کرکہ خالدہ نے اس کی بہن کوماراہے۔ راجہ نے اپنے دوستوں کی مدد سے اس کے خلاف ایف آئی آرکٹوادی۔ پھراس کے والدین سے مشورے کے بعدڈیڑھ لاکھ کے عوض ایف آئی آر واپس بھی لے لی۔ خالدہ سے کچھ پیسہ وصول بھی کیا۔ لیکن بیشتررقم وصول نہ ہوسکی۔ لیکن اس دوران راجہ اورخالدہ کے تعلقات کافروغ ہوا۔ راجہ نے خالدہ کے لیے کچھ کام بھی کیے اورخالدہ نے اپنے پاس آنے والی چندلڑکیاں راجہ کوپیش کیں۔
قادر نے دکان کے کام کے ساتھ غیرروایتی تعلیم جاری رکھنے کافیصلہ کیا۔ وہ اپنے حالات کے مطابق کسی اسکول میں نہیں جاسکتاتھا۔ اسے ہرحال میں اپنا گھر چلانا تھا۔ قادرکوایک استاد مل گیاجوکسی تعلیمی ادارے میں روایتی استاد نہیں تھا۔ ڈی سی آفس میں ملازم تھا۔ اسے ادبیات، سماجیات اورفلسفہ سے بھی لگاؤتھا۔ وہ کالجوں کے کئی اساتذہ سے زیادہ علم رکھتاتھا۔ قادرروزانہ رات کودکان بندکرکے اس کے گھرچلاجاتا۔ طرح طرح کے سوالات کرتا۔ پرانی کتابیں واپس کردیتااوربیگ بھرکرنئی لے آتا۔ دنیامیں بہت سارے پیشے ہیں جن کاکسی ڈگری سے کوئی واسطہ نہیں۔ تعلیمی ادارے علم نہیں دیتے بلکہ دنیاداری سمجھاتے ہیں۔ استادقادرسے کہتاکہ سب سے بڑاعلم تمہارے اندراوراردگرد پڑاہے کتابیں بھی اپنے آپ کوپڑھنے کانام ہے۔ افلاطون کی اکیڈمی کوئی باقاعدہ تعلیمی ادارہ نہیں تھا، جس سے ارسطونکلاتھا۔
ناول ’’خلط ملط‘‘ کے آخری حصے میں پہلے دوحصوں کے کرداروں اورواقعات کوخوبصورتی سے مربوط کیاگیا اورقاری کے ذہن میں پیداہونے والے ہر سوال کاجواب دیاہے۔ بین المسالک شادیاں ہونے چاہئیں یانہیں؟ علماء کاکرداران شادیوں اوردوخوش وخرم انسانوں کوالگ کرنے میںدرست ہے یانہیں؟نورین اور وقاص کی شادی کاانجام کیاہوا؟ رئیس کی ذہنی پراگندگی دورہوئی یانہیں؟رئیس نے بینک کی ملازمت جاری رکھی یانہیں؟راجہ، خالدہ سے قادرکی بہن کی موت کے عوض ڈیڑھ لاکھ روپیہ لے سکا؟
مجموعی طور پر’’خلط ملط‘‘ ایک دلچسپ اورقابلِ مطالعہ ناول ہے۔ جوہمارے آس پاس پھیلی زندگی اوراس کے حقیقی کرداروں پرمشتمل ہے۔ اس پہلے ناول کے بعدقاسم یعقوب کے قلم کااگلے شاہکارکاانتظاررہے گا۔
