Connect with us

تازہ ترین

”یاد مفارقت” اک ادھوری زندگی کی داستاں —– نوشین قمر

Published

on

سعید نقوی صاحب کو میں بحیثیت مترجم کے زیادہ اور شاعر و افسانہ نگار کی حیثیت سے کم ہی جانتی ہوں۔ حال ہی میں ایک ناول Memory of Departure کو ملنے والے نوبل انعام کا چرچا رہا۔ سوئیڈش اکیڈمی کا کہنا ہے کہ انھوں نےعبد الرزاق گرناہ کے ناول کو نوبل انعام نوآبادیاتی اثرات اور مختلف ثقافتوں اور براعظموں کے درمیان پھنسے پناہ گزینوں کے مستقبل کے حوالے سے کام پر دیا ہے۔ بھلا ہو سعید نقوی صاحب کا کہ انھوں نے اس ناول کا ترجمہ ”یاد مفارقت” کے نام سے کیا جو دوسری مرتبہ شائع ہو چکا ہے۔ ابتدائی تعارف میں انھوں نے اس ناول کے پس منظر اور کہانی کا مختصر تعارف پیش کیا ہے۔ مجھے یہ ناول پڑھنے سے پہلے مشرقی افریقہ کے بارے میں کچھ نہ کچھ جاننا تھا تاکہ میں اس ناول کی نئی فضا کو سمجھ سکوں کیوں کہ میں اپنی مٹی سے جڑی کسی کہانی کی بجائے ایک نئی تہذیب، ایک نئے چلن، ایک دوسرے ملک کی کہانی کو پڑھنے لگی تھی۔ یہ تجربہ میرے لیے بالکل نیا تھا کیوں کہ مترجم نے الفاظ و زباں سے لے کر وہاں کے ماحول تک کو ترجمہ کر دیا تھا۔

ایک ننھا سا کچا ذہن کس طرح اپنی پیدائش سے لے کر جوانی تک کے واقعات کو یاد رکھے ہوئے ہے جب وہ محض پندرہ سال کا تھا تو اسے مرد ہونے کا سرٹیفیکیٹ جاری کر دیا جاتا ہے۔ اسے خدا سے ڈرایا جاتا ہے۔ اسے بارہا والد کی طرف سے اپنے کردہ ناکردہ گناہوں کی معافی مانگتے رہنے کی نصیحت کی جاتی ہے۔ جو بچپن ہی سے اپنی ماں کے حالات پر صرف آنسو ہی بہا سکتا ہے۔ اپنے باپ کے ہاتھوں ماں کی ہونے والی مار، باپ کا گھر کے دیگر افراد سے رویہ اور جیل میں قید ہوجانا کہ اس نے ایک معصوم بچے کے ساتھ زیادتی کی تھی، اس کے بھائی کا غلط کاموں میں پڑنا اور اسے بھی ویسا ہی کرنے پر اکسانا، اس کی بہن کا گھر سے باہر رہنا، بھائی کی موت کا منظر آنکھوں کے سامنے دیکھنا اور سمجھنا کہ اسے اس کے گناہوں کی سزا ملی ہے، والد کو راتوں میں نشے میں دھت اٹھا کر گھر لانا، گلی محلے کے لوگوں اور عورتوں بچوں کے ساتھ ہونے والے غیر شرعی کاموں کو دیکھنا، خود سے کچھ کرنے کی ٹھان کر دوسرے شہر اپنے ماموں کے گھر جانا اور وہاں اس کی بیٹی کے عشق میں گرفتار ہوجانا، دھتکار کر وہاں سے نکال دیے جانا اور ایک رقعے کی آس میں یہ امید رکھنا کہ وہ ایک دن ضرور واپس لوٹے گا۔ پورا ناول ایسے ہی تانے بانے سے جڑا حسن قمر کی کہانی اسی کی زبانی سناتا ہے۔ ناول نگار کے ہاں نفسیات کو سمجھنے کا ایک ہنر موجود ہے جو اس کردار کی شکل میں بخوبی عیاں ہوتا ہے۔ میری نظر میں چند واقعات یا ناول کے کچھ حصے ایسے ہیں جن پر میں خصوصاََ بات کرنا چاہتی ہوں۔ پہلا اس علاقے کا تعارف کروانا جہاں سے یہ کہانی شروع ہوئی اور دوسرا اس کردار کے ذریعے آزادی کی جس جدوجہد کی بات کی گئی ہے اور کچھ ہی سالوں میں نوآبادیاتی زمانے سے نکلنے والے یہ لوگ ابھی بھی ایک غلامانہ ذہنیت رکھے ہوئے ہیں اس کو سامنے لانا۔ ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والا یہ کردار کینگی کے ایک ساحلی علاقے پر اپنے خاندان کے ساتھ رہتا ہے” جہاں محنت کش و نامراد لوگ رہتے تھے۔ جہاں دیدہ طوائفیں اور رنگ دار ہیجڑے تجارت کرتے تھے، جہاں بدمست شرابی سستی شراب کی تلاش میں آتے، جہاں کی گلیاں راتوں کو بےنام درد کی کراہ سے گونجا کرتی تھیں۔۔۔ عربوں ہندوستانیوں اور یورپیوں کے ہاتھوں افریقیوں سے زیادتی اور جبر کی تاریخ کے پس منظر میں بہتر حالات کی امید جہاں کی فکر کی معصومیت تھی۔۔۔ آزادی کے تین سال بعد یہ بات صاف ہو گئی تھی کہ ہمیں مستقبل کہیں اور تلاش کرنا ہو گا۔ ”

یہاں اس دور کے مغربی ممالک کے ہاتھوں انسانوں کی نسل کشی کے واقعات کی تاریخ بھی ایک بار ذہن کے نہاں خانوں میں گھوم جاتی ہے دوسری جانب ان کا کاروباری طریقہ کار بھی واضح ہوجاتا ہے کہ وہ زیر کردہ علاقے کی زمین کو کس طرح اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے تھے۔ وہاں کے لوگوں کو کیسے غلام بناتے اور انہیں غیر اخلاقی اور غیر قانونی کاموں کے لیے استعمال کرتے۔ اس ناول میں حسن کی زبا ن سے ادا کردہ یہ تعارف اس دور کی جابرانہ تصویر دکھا جاتا ہے۔ دوسری جانب ایک اور واقعہ ایساہے جب حسن اپنے والدین سے اجازت ملنے کے بعد اپنے ماموں کے گھر جانے کی تیاری کر رہا ہوتا ہے اسی دوران ایک نئے قانون کی خبر سننے کو ملتی ہے کہ ”آبادی کے نسلی تناسب کے اعتبار سے اسکولوں میں داخلے اور نوکریوں کا کوٹہ مقرر ہوا ہے۔ اس کے نفاذ کے لیے عوام سے اپنی نسلی شناخت کی اندراج کی ہدایت کی گئی۔ انھیں نئے شناختی کارڈ جاری کیے جائیں گے جن میں نام، عمر، پتا اور نسل کا اندراج ہو گا۔ نسل کے بارے میں جواب دہی سے انکار برطانوی تسلط کے خلاف احتجاج کا ایک طریقہ تھا، اتحاد اور قومی یک جہتی کی ایک علامت۔” حسن اس شے سے ناواقف تھا کہ حکومت اس مخلوط کمیونٹی کا مسلہ سنجیدگی سے سلجھانے کے لیے یہ اقدام کر رہی ہے اور بغیر کارڈ کے کوئی سرکاری کام سر انجام نہیں دیا جا سکے گا۔ حسن احتجاج کے طور پر کارڈ بنواتے وقت ایک جھوٹا نام لکھوا آیا۔ ایک موقعے پر جب کارڈ چیک کرنے والے اس سے بدتمیزی سے پیش آنے لگتے ہیں اور اس سے کارڈ طلب کرتے ہیں تو وہ انہیں چیلنج دینے کے انداز میں مخاطب کرتا ہے کہ کم از کم نام تو پڑھ لیتے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ شاید ان پڑھ تھے۔ اس واقعے کے ساتھ ہی ایٹلے ہیلٹ کا بیان یہ یاددہانی کرا جاتا ہے کہ شاید اسی نسلی شناخت کے حوالے سے عبدالرزاق نے اپنے دکھ کو بیان کرنے کی کوشش کی ہوگی۔

ایٹلے ہیٹ لینڈ ڈان بکس اینڈ آتھرزمیں لکھتے ہیں کہ :

”عرب اور ہندوستانی نسل سے تعلق رکھنے والے مسلمان مصنف عبد الرزاق گرناہ خود کو افریقی سمجھتے ہیں۔ تاہم تمام سیاہ فام افریقی صورتحال کو اس نظر سے نہیں دیکھتے۔ عبد الرزاق کی طرح کینیا سے تعلق رکھنے والے مرحوم مورخ پروفیسر علی مزروعی بھی عرب شکل و صورت کے تھے۔ انہوں نے بھی افریقی ثقافت کے لیے بہت کام کیا ہے لیکن ہر کوئی ان دونوں افراد کو مکمل طور پر اس زمین کا بیٹا نہیں سمجھتا۔ یقینی طور پر انہیں لوگوں سے یہ سن کر افسوس ہوتا ہوگا کہ وہ افریقی نہیں ہیں۔ ”

کسی بھی شہری کے لیے اس کی ملکی شناخت بہت معنی رکھتی ہے جس کی جھلک اس واقعے کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہے۔ پھر وہ علاقے جہاں انسان نے اپنی زندگی کے اچھے برے تمام تر حالات اپنے خاندان کے ساتھ گزارے ہوں وہ انھیں ان کی اصل کے ساتھ ہی قبولتا ہے اور اس میں شرم محسوس کرنے کی بجائے اس سے جڑے مثبت واقعات کو اپنے فخر کے طور پر پیش کرتا ہے۔ جیسے اپنے ماموں کی طرف نیروبی جاتے ہوئے ایک طرح حسن خود کو سمجھاتا رہا کہ وہ یہ ظاہر نہ ہونے دے کہ وہ مضافات کا رہنے والا ہے اور ابھی شہر میں وارد ہوا ہے۔ وہ خود کو یاددہانی کرواتا رہتا ہے کہ اس کا ساحلی قصبہ اس وقت سے بھی زیادہ پرانا ہے جب نیروبی محض ایک خیال ہو گا۔ اور وہ لوگ” چین سے اس وقت بھی تجارت کر رہے تھے جب ریلوے وجود میں آئی جس نے خود پسند مشینوں کو جنم دیا۔ ”

ناول میں حسن اور موسی موینی کی ریل میں ہونے والی گفتگو اور ان کے اپنے ملک کے حوالے سے بیان کردہ خیالات ان کی آزادی کی لگن اور ایک آزاد شہری کی حیثیت سے خود کو منوانے کے شوق کو واضح کرتے ہیں۔ وہ یہ علم ضرور رکھتے ہیں کہ کن ممالک کے ساتھ ہمدردانہ رویہ روا رکھنا ہے اور کون ہمارے دشمن تھے۔ ایک طرف ہندوستانیوں اور قبائل کے خلاف موسی کی نفرت اور دوسری جانب حسن کا دو ٹوک انداز کہ ہم وہ لوگ ہیں جو چاہتے ہیں ”غیر ملکی ہمیں پسند کریں ہم پر حکومت کرنے والےافریقی آرٹ، افریقی تاریخ کو سراہیں۔۔۔ ہم ان سے التجا کرتے ہیں کہ ہمیں بھی انسان سمجھیں، لیکن ہندوستانیوں کو ہم ڈھونڈ ڈھونڈ کر باہر نکالتے ہیں۔” دونوں ایک دوسرے کے جذبات پر قابو پاتے ہوئے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ہم نے خود ہی کچھ کرنا ہے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اپنے ملک، اس کے حالات اور تاریخ سے متعلق علم ہونا، صحیح غلط کی پہچان ہونا اور ایک ایسا ذہن رکھنا جو درست اور غلط کی پہچان رکھتا ہو بھی بہت معنی رکھتا ہے کیوں کہ یہی اذہان مل جائیں تو ایک انقلاب لا سکتے ہیں۔

حسن قمر کی زبانی یہ چند بنیادی مسائل اور ان کا بیان اور افریقیوں کے مسائل کو اجاگر کرنا، نسل کشی جیسے قبیح جرم اور اس دوران کام کرنے والے افراد کے پیشے کو موضوع بنانا اور اس کے افراد پر مختلف اثرات کو اس طرح پیش کرنا کہ اس سے ایک نسل سے دوسری نسل کس طرح متاثر ہوتی چلی جاتی ہے اورمعاشرتی سطح پر اس سے پیدا ہونے والے مسائل کو بھی دیکھا جا سکے۔ عبدالزاق نے گویا ایک جگ بیتی کی شکل میں یہ ناول ادبی دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اور اردو دنیا سے متعارف کروانے والے سعید نقوی صاحب بلاشبہ داد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اس زبان کو، اس کی تہذیب کواور وہاں کے ماحول کو ہمارے سامنے جوں کا توں پیش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انھوں نے حسن قمر کی انگلی تھام کر ہمیں ایک سیر کروائی ہے۔ جو مشترکہ مسائل کو محسوس کرتے ہوئے جانے کہاں سے کہاں لے گئے ہیں۔ اسے پڑھیے کہ غلام اقوام کے دکھ ہمیشہ ایک جیسے ہی ہوا کرتے ہیں۔

Advertisement

Trending