Connect with us

تازہ ترین

استبنول: اک شہرِ ذیشان —- عبداللہ

Published

on

عزیزم!
میں نے پچھلے خط میں ذکر کیا تھا کہ کچھ مقامات ایسے ہیں جنہیں میں دیکھنا اور کھوجنا چاہتا ہوں بلکہ وہاں بس جانے کو جی چاہتا ہے۔ کسی بھی مقام کے بارے ہماری دلچسپی یا تو اس کی موجودہ ترقی اور ظاہری شان و شوکت کے سبب ہوتی ہے یا پھر اس مقام کی تاریخی حیثیت ہمیں اس کے سحر میں کھو جانے پر مجبور کرتی ہے۔ چونکہ ظاہری شان و شوکت تو عارضی ہے اور کبھی بھی ختم ہو سکتی ہے لیکن کچھ مقامات کی تاریخی حیثیت اور اہمیت ہمیشہ برقرار رہتی ہے چاہے وہ کھنڈرات میں ہی کیوں نہ بدل جائیں۔ تاریخ ایک ایسی شے ہے جس میں سے دیگر سارے علوم و فنون نے جنم لیا یا پھر انہیں توانائی ملی اور ان کی نشوونما ہوئی۔ چونکہ آغاز میں انسان کو اپنے ماضی سے کوئی سروکار نہیں تھا، اسے بیتے وقت کے اثرات و نتائج کا شعور ہی نہیں تھا اس لیے کئی زمانوں تک انسان تاریخ سے بے بہرہ رہا۔ جب تہذیبیں وجود میں آئیں اور انسان نے ترقی کے مدارج طے کیے تو اس نے اپنے ماضی کو بھی کریدا اور تاریخ مرتب کرنے کی کوشش کی۔ اکثریت کے نزدیک تاریخ کا آغاز یونانیوں سے ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں قدیم ترین تاریخ ہمیں ایک یونانی شخص ہیروڈوٹس کی ملتی ہے جو 450 قبل مسیح میں لکھی گئی۔ اسی طرح تھائی سی ڈائڈس (Thycididus) نے بھی ایک نصیحت آمیز تاریخ لکھی؛ یہ شخص بھی یونانی تھا۔ بہرحال تاریخ ایک ایسا موضوع ہے جسے ہر زمانے میں اہمیت حاصل رہی ہے، قران نے بھی گزشتہ اقوام کے حالات و واقعات بیان کر کے پڑھنے والوں کو غور و فکر کی دعوت دی ہے۔ لہذا کسی مقام کو اس کی ظاہری شان و شوکت سے پہچاننے کی بجائے اسے تاریخی حیثیت سے جاننا زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب تم تاریخ کو باامر مجبوری نہیں بلکہ شوق و ذوق سے ماخذی، سائنسی اور پروجکٹ میٹھڈ یعنی منصوبی طریقے سے جانچنے کی کوشش کرو گے۔

میرے دوست! ایک ایسا شہر مجھے اپنی جانب کھینچتا ہے جو موجودہ دور میں اپنی خوبصورتی، دلکش نظاروں اور حسین ترین مساجد سے مالا مال ہے، لیکن اس کی تاریخی حیثیت شاید اس سے بھی زیادہ شاندار اور دلکش ہے۔ قسطنطنیہ (استانبول) کا نام تو یقیناً تم نے سن رکھا ہو گا؛ یہی وہ شہر ہے جس نے عروج و زوال کے لاتعداد مناظر دیکھے۔ یہ وہ شہر ہے جسے مسلمانوں نے نہایت شدت سے چاہا اور اس کی خاطر ہزاروں جانیں قربان کیں۔ ایسا بھی کیا تھا اس شہر میں آخر کہ یوں جوق درجوق لوگ اس جانب کھینچتے چلے آتے تھے؟ اسلامی دنیا کی بات کروں تو رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا تھا، "تم ضرور قسطنطنیہ کو فتح کر لو گے اور فوج بھی خوب ہے اور اس کا امیر بھی”۔ اسی طرح ایک بار فرمایا، "میری امت کی پہلی فوج جو قیصر کے شہر پر حملہ آور ہو گی، اللہ نے اسے بخش دیا ہے”۔ یہی وہ آرزو تھی جس نے مسلمانوں کو گیارہ مرتبہ اسے فتح کرنے کی کوشش پر اکسایا۔ لہذا 48 ہجری میں ہی پہلی کوشش حضرت امیر معاویہ رض نے کی اور ایک بحری بیڑا بھیجا جس میں متعدد صحابہ کرام موجود تھے۔ مشہور صحابی حضرت ابو ایوب انصاری ر ض اسی محاصرے میں شہید بھی ہوئے۔ پھر عمر بن عبدالعزیز کے دور میں قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا گیا۔ اسی طرح خلیفہ ہشام، مہدی عباسی، ہارون الرشید، عبدالملک، سلطان بایزید یلدرم اور آخری مرتبہ سلطان مراد ثانی نے اس بے مثال شہر کا محاصرہ کر کے اسے فتح کرنے کی کوشش کی۔ لیکن ان سب کی قسمت میں قسطنطنیہ نہیں تھا۔

بات کچھ یوں ہے کہ قسطنطنیہ کی بنیاد کانسٹنٹائن نے رکھی تھی اور یہ شہر ثقافتی، تہذیبی، علمی اور مذہبی مرکز کے طور پر ابھرا۔ چونکہ یہ ایک تکونی صورت میں ہے اور اس کی دو جانب قدرتی طور پر سمندر ہے اس لیے یہ صدیوں تک ہنوں، بلغاریوں، روسیوں، ایرانیوں، عربوں اور ترکوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑا رہا؛ کوئی بھی اسے فتح نہ کر سکا۔ اس کی ایک اور وجہ یونانی آتش (Greek Fire) تھی، یہ ایک ایسی طاقت تھاجس کا توڑ کسی بھی بحری حملہ آور کے پاس نہیں تھا۔ یہ ایسا مرکب تھا جس پر پانی ڈالنے سے یہ مزید بھڑکتا تھا اور یونانی اسے بحری آگ بھی کہتے تھے۔ یہ قسطنطنیہ کا سب سے بڑا راز تھا اور اس کا نسخہ نہایت خفیہ رکھا جاتا تھا۔ اسے کلینی کوس نامی شخص نے دریافت کیا۔ یہی وجہ تھی کہ حملہ آور تمام افواج اس آتش سے ہمیشہ خوفزدہ رہتیں اور یہ شہر کبھی فتح نہ ہو سکا۔ چونکہ کچھ بھی یہاں لازوال نہیں، یوں گیارہ سو سال تک ناقابل شکست رہنا والا یہ شہر قسطنطنیہ، 1453 میں ایک 21 سالہ سلطان محمد، جسے فاتح بھی کہا جاتا ہے کے ہاتھوں حیران کن طور پر فتح ہو گیا اور مغربی دنیا آج بھی اس عجیب فتح پر حیران ہے۔ طویل محاصرے کے بعد اس سلطان محمد ثانی نے ہزاروں فوجی قربان کرنے کے بعد اس شہر بے مثال می‌ قدم رکھا اور سیدھا ہاجیہ صوفیا محل میں داخل ہوا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے داخل ہونے سے پہلے اپنے سر پر تھوڑی خاک ڈالی جو غرور اور تکبر سے عاری ہونے کی علامت تھی۔ اس نے شہر عظیم کی تباہی کے مناظر دیکھ کر سعدی کا مشہور فارسی شعر، "بوم نوبت میزند بر طارم افراسیاب۔۔۔ پرده داری میکند در قصر قیصر عنکبوت” پڑھا جس کا معنی ہے "اُلو افراسیاب کے میناروں پر نوبت بجائے جاتا ہے۔۔۔ قیصر کے محل پر مکڑی نے جالے بن لیے ہیں” ۔

میرے دوست! یہ شہر صرف اپنی روشنیوں کی بنا پر مجھے اپنی جانب نہیں کھینچتا، نہ ہی فقط اس کی بندرگاہ اور گولڈن ہارن کا دلدادہ ہوں- یہ بھی نہیں کہ ترقی کے مدارج طے کر چکے اس شہر عظیم کی موجودہ شان و شوکت مجھے متاثر کرتی ہے، بلکہ بات کچھ یوں ہے کہ جب بھی اس کا ذکر سنتا ہوں مجھے وہ تمام محاصرے یاد آ جاتے ہیں جو قسطنطنیہ کی خواہش میں سپہ سالاروں نے کیے، مجھے اقوال نبی صل اللہ علیہ وسلم یاد آ جاتے جو اس کی فتح کے بارے کہے گئے- میں تخیل میں ہاجیہ صوفیہ کو دیکھتا ہوں کہ جو عجائبات میں شامل تھا اور ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وہ ایک سنہری زنجیر کے ساتھ آسمان سے لٹکا ہوا ہو- یہی تو وہ شہر ہے جہاں سے حساب، موسیقی، فصاحت و بلاغت اور یونانی ادب باقی دنیا خصوصاً یورپ میں پھیلا- میں دیکھتا ہوں کہ اسی شہر نے عربوں کو رومی قانون اور یونانی ثقافت سے آشنا کیا، اطالویوں کو افلاطون کا فلسفہ معلوم ہوا- اس شہر عظیم، قسطنطنیہ نے دنیا کو دو اہم چیزیں عطا کیں؛ رومی قانون اور یونانی فلسفہ- مجھے گولڈن ہارن دکھائی دیتا ہے جہاں کی بندرگاہ پر دنیا بھر کے جہاز لنگر انداز ہوتے، مجھے وہ بہادر سورما جسٹینانی بھی دکھائی دیتا ہے کہ جس نے سلطان فاتح کے سامنے سیسہ پلائی دیوار جیسا کردار ادا کیا حتی کہ سلطان بھی کہہ اٹھا، "کاش یہ شخص میرے فوجی سرداروں میں ہوتا” – پھر مجھے یہی شخص حوصلہ ہارتے ہوئے بھی نظر آتا ہے جو زخمی ہونے پر میدان سے یہ کہتے ہوئے بھاگا کہ "میں اسی راستے پر جاؤں گا جو خدا نے ترکوں کے لیے کھول دیا ہے”- اپنا وقار کھو کر یہ شخص مجھے غلاطہ کے جزیرے میں اپنے ضمیر اور عوام کی ملامت سے لڑتا ہوا دکھائی دیتا ہے-

یہیں کہیں مجھے حسن نامی وہ بہادر بھی دکھائی دیتا ہے جس نے کئی تیر کھانے کے باوجود قلعے پر عثمانی جھنڈا لہرایا اور جنگ کا پانسہ ہی پلٹا دیا- مجھے راتوں رات پہاڑی سے چلا کر گولڈن ہارن میں اتاری جانے والی وہ ستر کشتیاں بھی نظر آتی ہیں جو آج بھی جدید دنیا کے لیے ایک حیران کن جنگی چال ہے، مجھے وہ آخری قسطنطین خود لڑتا ہوا نظر آتا ہے جسے قلعے سے نکلنے کے آسان مواقع ملے مگر وہ وہاں سے بھاگ کر خود کو بزدلوں کی صف میں شامل نہ کر سکا اور جنگ میں ہی مارا گیا، جس کے بعد کوئی قیصر پیدا نہ ہو سکا- دوسری جانب مجھے وہ ہنگری کا توپ بنانے والا یاد آتا ہے جس نے سلطان کے لیے جدید اور سب سے بڑی توپ "باسیلیکا” بنا کر قسطنطنیہ کی دیواروں کو تباہ کیا- مشہور زمانہ سلطان احمد کی نیلی مسجد، توپ کاپی محل، باسفورس…… یہ سب مل کر مجھے قسطنطنیہ کا مسافر بنا دیتے ہیں اور میں خیال کی پگڈنڈی پر چلتا ہوا قدیم قسطنطنیہ میں داخل ہو جاتا ہوں- مزید لکھا تو میں شاید قسطنطنیہ ہی رہ جاؤں لہذا یہیں اختتام کرتا ہوں-

تمہارا اپنا…
عبداللہ

Advertisement

Trending