تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادب

افسانہ نگاربیگ احساس کی یاد میں —- محمد حمید شاہد

by محمد حمید شاہد 09/09/2021
written by محمد حمید شاہد 09/09/2021
72

بیگ احساس بھی چلے گئے۔ ہندوستان سے اُن کے مرنے کی خبرہمارے ایک مشترکہ دوست نے ایک دِن پہلے دے دی تھی حالاں کہ وہ اس روز ہسپتال میں وینٹی لیٹر پر تھے اور ڈاکٹر وینٹی لیٹر ہٹانے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ اس روز سوشل میڈیا پر بھی ان کے مرنے پر افسوس ہوتا رہا۔ ایک زندہ آدمی کے مرنے کا افسوس۔ شام تک پہلی کی خبر کی تردید آگئی تو سب نے اُن کی جلد صحت اور سلامتی کے لیے ہاتھ اٹھا لیے۔ ان کی بیماری کی خبریں کئی روز سے آرہی تھیں۔ بتایا گیا تھا کہ وہ کئی دنوں سے وینٹی لیٹر پر بے سدھ پڑے تھے۔ دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ بولنا سننا کچھ نہ تھا مگر جس روز ان کی موت کی خبر چلی، وہ زندہ تھے۔ اُس سے اگلے روز یعنی ۸ ستمبر۲۰۲۱ء کی صبح ساری اُمیدیں دم توڑ گئیں۔ وینٹی لیٹر الگ ہوا اور وہ چل بسے۔

افسانہ نگار بیگ احساس کو میں نے بہت پہلے پڑھا تھا مگر اُن سے دوستی کو یہی نو دس برس ہو چلے ہیں۔ کوئی موقع ہی نہیں نکلا کہ اُن سے ملاقات ہو پاتی۔ مگر جب سے انٹر نیٹ پر بات کرنے کی صورتیں نکلی ہیں، انہی وسیلوں سے بات ہوتی رہی کبھی وائس کال، کبھی ٹیکسٹ میسج۔ جس طرح افسانہ لکھتے ہوئے دھیمے انداز میں آگے بڑھتے تھے، بالکل ایسے ہی ہمارا تعلق بھی آگے بڑھا۔ پہلے اُن کا میسج ملا کہ ’’میں بیگ احساس ہوں اور آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ بس پھر کیا تھا ہم میں بات چیت کا سلسلہ چل نکلااور ایسی بے تکلفی ہوئی کہ محسوس نہیں ہوتا تھا کہ ہم کبھی نہیں مل پائے تھے اور نہ ہی آئندہ مل پائیں گے۔

بیگ احساس عثمانیہ یونیورسٹی ا ور حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی سے منسلک رہے۔ ان یونیورسٹوں میں وہ شعبہ اردو کے صدر کے طور پر خدمات سر انجام دیتے رہے۔ انہیں ماہر تعلیم کی حیثیت سے جانا جاتا ہے اورادبی نقاد کے طور پر بھی مگر میرے لیے اور شاید ساری ادبی دنیا کے لیے ان کا سب سے نمایاں اور اہم حوالہ افسانہ نگاری ہے۔ بیگ احساس نے گیان چند کے مشورے اور نگرانی میں کرشن چندر کی شخصیت اور فن پر ۱۹۹۷ء میں پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا؛ جی اُس زمانے میں کہ جب بہ قول اُن کے’’کرشن چندر کے نام پر سب ناک بھوں چڑھاتے تھے۔ ‘‘ بیگ احساس کا کہنا تھا کہ اُس زمانے میںخود انہیں بھی راجندر سنگھ بیدی، منٹو، قرۃ العین حیدر اور انتظار حسین زیادہ اپیل کرتے تھے۔ ‘‘ خیر یہ مقالہ انہوں نے محنت سے لکھا اور بعد ازاں ۱۹۹۹ میں یہ شائع ہوا اور کرشن چندر کی زندگی اور فن پر ایک حوالے کی کتاب بن گیا۔ بیگ احساس اقبال اکیڈمی حیدر آباد(انڈیا) کے رسالے ’’اقبال ریویو‘‘ اور ادارہ ادبیات اردو حیدر آباد (انڈیا) کے ماہنامے ’’سب رس‘‘ کے مدیر بھی رہے۔ ۲۰۱۳ میں ’’سب رس‘‘ کا پہلا شمارہ ان کی ادارت میں ہی شائع ہوا تھا اور اس پرچے کی ادارت کا زمانہ اُن کی زندگی کے آخری برسوں تک چلا آتا ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ اُن کی بڑی اور اہم شناخت افسانہ لکھنے والے کی ہے اور رہے گی۔

کچھ زیادہ دِن نہیں گزرے انہوں نے بتایا تھا کہ اُن کے کام کے حوالے سے کوئی کتاب چھپنے جا رہی ہے اور چاہا کہ میری کوئی تحریر اُس کا حصہ بنے۔ میں نے اُن کی افسانہ نگاری پر ایک مختصر سی تحریر لکھی اور انہیں بھیج دِی۔ وہ بہت خوش ہوئے۔ اس کے بعد اس کتاب کا کیا بنا ؛ میں نے پوچھا نہ اُنہوں نے اس کاذکر چھیڑا۔ بیگ احساس کی رحلت کی خبر آئی تو وہ تحریر یاد آئی۔ اسے ڈھونڈھ کر اپنے دوست کی یاد میں یہاں نقل کیے دیتا ہوں۔ :

’’ بیگ احساس کو تخلیقی سطح پر اُن سچے اور کھرے لوگوں میں شمار کیا جانا چاہیے جو عین ایسے زمانے میں بھی اپنے تخلیقی صلاحیتوں سے وابستہ رہنے کو ترجیح دے رہے تھے جب اُن کے ساتھی (جوق در جوق ایک فیشن میں) علامت اور تجرید کے نام پر خوب خوب دھول اُڑا کر نام کما رہے تھے۔ ’’حنظل‘‘ اور ’’دخمہ‘‘ جیسے افسانوں کے اہم مجموعے دینے والے بیگ احساس نے اپنے لکھنے کا آغاز گزر چکی صدی کی ساتویں دہائی میں کیا تھا۔ ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’خوشہ گندم ‘‘ 1979 میں شائع ہوا اور انہوں نے ’’حنظل‘‘ اور ’’دخمہ‘‘ جیسے افسانوں کے اہم مجموعے دے کر جو توقیر پائی وہ اس ہنگامے کی بنیاد پر نہ تھی جو جدید افسانے کی بنیاد پر اٹھایا گیا تھا اور اٹھایا جاتا رہا حتیٰ کہ اس گروہ کو ہانپ کانپ کربیٹھ جانا پڑا۔ جہاں یہ گروہ پہنچ گیا تھا وہاں ادب کا عام قاری تو کیا، فکشن کا خاص قاری بھی ان کے پیچھے نہیں گیا تھا۔ فکشن کا قاری ہمیشہ کہانی سے وابستہ رہا۔ جی، اُس کہانی سے جس کے بھید بھنور افسانے کے متن میں خوشبو کی طرح رچ بس جاتے ہیں۔ یہ کہانی بیگ احساس کے پاس تھی۔

بیگ احساس کے پاس محض کہانی نہ تھی، انتہائی مناسب زبان بھی تھی اور ایسا حوصلہ بھی کہ وہ تخلیقی تجربے کی کٹھالی میں کہانی اور زبان، دونوں کو سہار پگھلا کر فکشن کے لیے خاص بیانیے میں ڈھال سنوار لیں ؛ جی، بالکل یوں جیسے کوئی مشاق سنیارا سونا پگھلا کرکسی بھی مٹیار کا دِل ہتھیانے والا زیور ڈھال سنوار لیتا ہے۔ بیگ احساس کو ڈھنگ سے جاننا ہواور یہ بھی جاننا ہو کہ وہ کیسے اپنے ہم عصروں سے الگ اور نمایاں ہوئے تو ’’دخمہ‘‘ کے افسانے پڑھیے۔ ان افسانوں میں وہ اپنے بیانیے کو صاف رواں رکھ کر اور کہانی کو دھتکارے بغیر گراں قدر معنیاتی نظام قائم کرنے کے حیلے کرتے نظر آتے ہیں اور لطف کی بات یہ ہے کہ اس کوشش میں وہ کامیاب بھی نکلتے ہیں۔ ان کی ہر کہانی کا ظاہری ڈھانچہ ادب کے عام قاری لیے ہے۔ اس میں واقعات کا ایک سلسلہ ایک خاص ترتیب میں جڑ کر کہانی کے متن میں ڈھلتا ہے۔ وہ اس میں کوئی رخنہ رکھے بغیر اسے مکمل کرتے ہیں یوں جیسے کہانی سے وفاداری کا حق ادا کر رہے ہوں۔ تاہم اس کہانی کو مرتب کرتے ہوئے ان کا قلم تخلیق کے معجزے کچھ اس طرح دکھاتا ہے کہ اسی متن کے اندر ہی اندر ایک ڈیپ اسٹریکچر بنتا چلا جاتا ہے جس میں اتر کر فکشن کا خاص قاری زندگی کی تفہیم نو پاتا ہے۔ ان افسانوں میں انسانی جبلت کے تضاد ات اُن کا موضوع بنے ہیں اور بار بار بنے ہیں مگر ہر بار نئے کرداروں کو ایک الگ ماحول میں رچا بسا دکھا کر بنے ہیں۔ ہر نسل اپنا مزاج لے کر آتی ہے۔ اس کے اپنے مسائل ہوتے ہیں جو اس مزاج کی تشکیل کرتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ نئی پرانی نسلوں میں رگڑ اور تنائو پیدا ہوتا ہے۔ یہ ہر دو پیڑھیوں کا بُعد اور تقابل بھی بیگ احساس کے ہاں موضوع ہواہے۔ مذہب، سیاست اور تصادم کل کا موضوع تھے، آج یہی بریکنگ نیوز بن رہے ہیں اورآنے والے وقت کے چہرے پر بھی اسی موضوع کے سرخ چھینٹے پڑتے دکھائی دیتے ہیں تو یہ کیسے ممکن تھا کہ بیگ احساس کے ہاں یہ موضوع نہ ہوتے۔ یہ موضوع ہوئے ہیں اور یوں ہوئے ہیں کہ آنکھوں کے سامنے ہونے والا تماشا اور ہماری حسوں پر یلغار کرتی لمحہ رواں کی حقیقتیں محض بیان ہو کر نہیں رہ گئیں، فکشن کی دانش عطا کرتی کہانیوں میں ڈھل گئی ہیں۔ کہنا یہ ہے کہ ’آج‘ کو لکھنا محض ترقی پسندوں کو ہی محبوب نہیں تھا، بیگ احساس کا مسئلہ بھی ہوا ہے جو ترقی پسندی کی نیت باندھ کر افسانہ نہیں لکھتے تھے۔

بیگ احساس کے افسانوں میں کہیں مسجد کے ہمسائے میں مدتوں پہلے قائم ہونے والا میکدہ بند ہو رہا ہے اور کہیں کسی کو اپنا آبائی گھر چھوڑنا پڑ رہا ہے کہ اس کا رہن سہن تہمت ہو کر رہ گیاتھا۔ کسی کو اپنا مکان واگزار کروانے کے لیے ’مسکین‘ ہو جانا پڑتا ہے اور کہیں آئی سی یو سے پے اینگ روم میں منتقل ہونے والے کسی مریض اور اس کے بیٹے کی زندگی سانسوں کے درمیان اٹکی ہوئی ہے۔ کوئی ماں اپنی بیٹی سے اتنی خوفزدہ ہے کہ وہ اسے کم عمری میں بیاہ کر راستے سے ہٹا دیتی ہے اور کہیں کوئی مسلم نوجوان کسی کنویں کی مینڈھ پر کسی لکشمی کو دیکھ کر ’پگلا لڑکا‘ ہو جاتا ہے۔ کہیں کوئی باپ، وطن پلٹتے اپنے بیٹے آمد تک اپنے عاقبت نااندیش باپ کی لاش برف کی پگھلتی سلوں کے بیچ دیکھتے رہنے پر مجبور ہے اور کہیں طمث بہنے کے دنوں میں ناخن رنگنے اور نانی کی گود میں سر رکھ لینے والی لڑکی ہے جس نے اپنی ممتا کا لہو اس لیے کردیا تھا کہ یہاں روزی روٹی کمانے والے جوڑے کے لیے ’پولٹری فارم ‘ جیسا کوئی ’چائلڈ فارم‘ نہیں ہے۔ یہیں کہیں اپنے سہاگ کو بچانے کے جتن کرتی پتی ورتااستری ہے اور کہیں کوئی اپنوں کے ہجرت کر جانے کے بعد اپنے وطن سے اپنے رشتے کو از سر نو آنکنے والے بھی۔ گویا ہرافسانے میں ایک کہانی ہے اور ہر کہانی میں کچھ کرداروں کاتلخ ماجرا ہے۔ مگر ہر کہانی محض ماجرا نہیں ہے کہ افسانے میں ڈھلتے ہوئے وہ ہماری اپنی زندگیوں کی تفسیر بھی ہے۔ محض اور صرف زندگیوں کی طولانی تفسیر نہیں؛ ایسی نایاب دانش جس کی تظہیر کسی اور طرح تحریر میں آہی نہ سکتی تھی۔ فکشن کی یہ دانش بیگ احساس کے جادو اثر بیانیے میں ڈھلنے کو محتاج اور منتظر تھی ؛ اس کاا نتظار ختم ہوا اور اب یہ اُردو ادب کے ایک باب میں سماگئی ہے۔ ‘‘

Facebook Comments Box
Baig AhsasBaig Ehsasافسانہ نگار بیگ احساسدخمہ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
محمد حمید شاہد

محمدحمید شاہد اردو کے معروف افسانہ نگار، ناول نگار اور نقاد ہیں ۔ آپ 23 مارچ 1957 کو پنڈی گھیب ضلع اٹک (پنجاب) پاکستان میں پیدا ہوئے ۔ پنڈی گھیب سے میٹرک کے بعد زرعی یونیورسٹی لائل پور(فیصل آباد) سے ایف ایس سے کے بعد ایگری کلچر مضامین میں گریجویشن کی اور ایک بنکار کی حیثیت سے بتیس سال عملی زندگی سے وابستہ رہے۔ اس عرصے میں اندرون ملک شہر شہر گھومے، دیہی زندگی کو قریب سے دیکھا اور کئی ممالک کا دورے بھی کیے ۔ محمد حمید شاہد کی ادبی زندگی کاآغاز یونیورسٹی کے زمانے سے ہی ہو گیا تھا ۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے مجلہ "کشت نو" کے مدیر رہے۔ پہلا افسانہ بھی اسی زمانے میں لکھا۔ پہلی کتاب " پیکر جمیل" بھی یونیورسٹی کے زمانے میں لکھی ۔ افسانوں کا پہلا مجموعہ "بند آنکھوں سے پرے "تھا جب کہ "جنم جہنم"،"مرگ زار"اور "آدمی" آپ کے افسانوں کے دیگر مجموعے ہیں۔ "محمد حمید شاہد کے پچاس افسانے" معروف بزرگ ادیب اور شاعر ڈاکٹر توصیف تبسم کا منتخب کردہ ہے جب کہ محمد حمید شاہد کے نائن الیون کے پس منظر میں لکھے ہوئے منتخب افسانوں کو "دہشت میں محبت" کے نام سے غالب نشتر نے مرتب کیا تھا۔ محمد حمید شاہد کا ناول"مٹی آدم کھاتی ہے" کے نام سے چھپا اور مقبول ہوا ۔ فکشن کی تنقید محمد حمید شاہد کی ترجیحات کا ایک اور علاقہ ہے ۔ "ادبی تنازعات"،"اردو افسانہ:صورت و معنیٰ"، "اردو فکشن: نئے مباحث"،"کہانی اور یوسا سے معاملہ " کے علاوہ "سعادت حسن منٹو:جادوئی حقیقت اور آج کا افسانہ" اس حوالے سے چند معروف کتب ہیں ۔ اردو نظم پر تنقید کی کتاب"راشد ،میراجی، فیض" کے علاوہ آپ کی نثموں کی کتاب لمحوں کا لمس اور بین الاقوامی شاعری کے تراجم پر مشتمل کتاب "سمندر اور سمندر" بھی بہت معروف ہیں۔ حکومت پاکستان نے محمد حمید شاہد کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کے لیے صدارتی سول ایوارڈ "تمغہ امتیاز" 2017 کو دیا۔

previous post
کشمیری صحافتی اداروں کے خلاف احتجاج —- غازی سہیل خان
next post
کہانی سناو پیارے – (۲) ——— خبیب کیانی

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.