تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتنقیدعلم و ادب

دو الگ تہذیبیں اور نیلم احمد بشیر کی کہانی — محمد حمید شاہد

by محمد حمید شاہد 25/07/2021
written by محمد حمید شاہد 25/07/2021
103


نیلم احمد بشیر اردو ادب کا ایک معتبر نام ہیں۔  انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیت کو افسانے اور ناول میں آزمایا اور قلم رواں رکھنے کے لیے سفرنامے اور مضامین لکھے۔  وہ فرد کی فکری آزادی اور امن کے لیے یہاں وہاں لکھتی رہتی ہیں اور جب جی چاہتا ہے شاعری کی طرف بھی نکل جاتی ہیں۔  آج حلقہ ارباب ذوق راولپنڈی کے تنقیدی اجلاس میں آپ سب احباب نے ان کا تازہ افسانہ “رہ یار” ملاحظہ فرمایا۔

آصف اقبال، صلاح الدین درویش، مریم مجید ڈار، سلیم اختر ڈھیرا، نوید اقبال، سیمیں درانی، فریدہ حفیظ، ناہید اختر، عدیل کاظم، روشین عاقب، محمد ریاست، نرگس جہانزیب، فارحہ ارشد، فاطمہ عثمان، جی حسین، روبینہ فیصل، ضویہ حسین، عدیل کاظمی، منیر احمد فردوس، عتیق رحمٰن، سعید اختر ملک، قمر سبزواری، معافیہ شیخ، فاخرہ نورین اور دوسرے احباب نے نیلم کے افسانے پر بہت عمدہ گفتگو کی۔  

نیلم احمد بشیر کے اس افسانے میں کوئی ہیچ پیچ نہیں ہے۔  سیدھا سادا بیانیہ ہے، کہیں کوئی تخلیقی جملہ نہیں جو ہمیں روکتا ہو، سماجی حقیقت نگاری کا اسلوب اور ایک موضوع کو پہلے سے سوچ کر اس پر اپنا نقطہ نظر دیتے ہوئے واقعات کا مربوط مجموعہ۔  کردار نگاری یا ماحول کو الگ سے بنانے پر توجہ نہیں رہی۔ واقعات روایت کرتے ہوئے جس قدر کرداروں کو اپنی شباہت بنانا تھی بناتے گئے ہیں تاہم نبیلہ کی بیٹی شرمین کے مزاج اور رویوں کو نشان زد کرنے کے لیے فلیش بیک میں دو واقعات ایزاد کر دیے گئے ہیں۔  پہلے واقعے میں شرمین آٹھ نو سال کی تھی اور اسے سوئمنگ کے مقابلے مین شرکت کرنا تھی مگر وہ پورے لباس کے ساتھ اس میں شرکت پر بضد تھی۔  یاد رہے شرمین جس ماحول میں اس عمر کو پہنچی تھی وہ پاکستان کا نہیں امریکہ کا ہے اور یہیں قاری کو پہلا جھٹکا لگتا ہے۔  محض قاری ہی کو نہیں، ایسا جھٹکا شرمین کے باپ کو بھی لگا تھا اور اس نے شرمین کی ماں کو لگ بھگ جھِلا کر کہا تھا: “تمہاری یہ ملانی بیٹی بڑی بہادر اور ضدی ہے۔ اپنی منوا کر رہتی ہے” میں نے “جھلا کر” اس لیے کہا کہ یہاں مجھے “ملانی” اور “ضدی” جیسے الفاظ پڑھنے کو ملے ہیں۔  

دوسرا واقعہ یونیورسٹی کے زمانے کا ہے جب شرمین پری میڈ کورسز لے رہی تھی اور سیکس ایجوکیشن اور ری پروڈیکٹو سسٹم کی کلاس میں کچھ لڑکے تعلیم دینے کو ولینٹر ہو کر اپنے میل آرگنز ڈسپلے کرنے کے لیےاپنی اپنی پینٹیں”باجماعت” اپنےپاؤں میں گرا چکے تھے اور شرمین اپنےآپ کو افسانہ نگار کے لفظوں میں”کمفرٹیبل محسوس نہیں کر رہی تھی۔ “

ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ یہ واقعہ امریکہ میں ہوا اور شرمین وہاں نئی نئی نہیں گئی تھی جس کے لیے سیکس ایجوکیشن کا یہ پہلا موقع نہ رہا ہوگا۔  ایسا نہیں ہے کہ جو کچھ افسانے میں کہا گیا ایسا ہونا ممکن نہ تھا، بلکہ یوں ہے کہ جس طرح واقعہ بیان ہوا ہے وہ یہاں بنایا ہوا واقعہ لگتا ہے۔  

خیر ان جھٹکوں کو ایک طرف رکھتے ہیں اور ماننا پڑتا ہے کہ نیلم احمد بشیر اس سادہ کہانی میں اپنے قاری کو اس گھمبیر مسئلے کو سمجھانے میں کامیاب رہتی ہیں جودو تہذیبوں کو مختلف کرتا ہے۔  اس مسئلے کو سمجھانے کے لیے نیلم نے محض واقعات کو کہانی میں ڈھالنے پر اکتفا نہیں کیا کچھ بیانات سے بھی مدد لی ہے، جیسے پہلے صفحے کے دوسرے پیراگراف میں، وہاں جہاں شرمین کے گھر کا ماحول بتانا مقصود ہوتا ہے اور اسے امریکہ کے کسی عام گھر کے ماحول سے الگ کرکے دکھانا ہوتا ہے تو شرمین کی ماں نبیلہ کو یہ سوچتے ہوئے دکھایا جاتا ہے کہ”اس کی بیٹی کتنی اچھی ہے امریکہ میں پلی بڑھی مگرہمیشہ والدین کے بتائے ہوئے راستوں ہی پر چلنے کی کوشش کی۔ ” اس ایک جملے سے

۔ امریکی کلچر کے بارے میں “اچھا” نہ ہونے کا خیال قاری کے دل میں ڈال دیا گیا۔

۔  یہ بھی بتا دیا گیا ہے امریکی بچے ماں باپ سے بغاوت کرنے والے ہوتے ہیں

۔  یہ بات محض بچوں کے “کردار” کی وضاحت نہیں کرتی اس ثقافتی ڈھانچے پر ایک تبصرہ ہو جاتی ہے کہ یہاں برائی محض امریکی بچوں میں نہیں ہے پورے سماجی ڈھانچے میں ہے۔  

یہ سلسلہ یہاں رکتا نہیں وہ لکھتی ہیں:

۔ “اس نے(یعنی شرمین) نے اپنی فیملی کی مشرقی روایات کا ہمیشہ پاس رکھادیگر امریکن بارن بچوں کی طرح کبھی حد سے تجاوز نہ کیا۔  نہ شراب پی۔  نہ ڈرگز لیں۔ نہ بے راہ روی اختیار کی۔  ” وغیرہ وغیرہ

یوں لگتا ہے افسانہ نگار نے اپنے اس کردار کا نام بھی سوچ سمجھ کر رکھا ہے:”شرمین” کہ اسے انہوں نے غیرمعمولی طور پر بلکہ اس افسانے کے ایک اور ضمنی کردار گیتا کے لفظوں میں”بے وقوفی کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے ” مشرقی شرم و حیا کا پیکر” بنا کر دکھانا تھا۔

مشرق کی تو گیتا بھی ہے مگر اس کا رد عمل وہ نہ تھا جو شرمین کا تھا یہیں سے مزاج کی تشکیل کا وہ رُخ بھی افسانے میں غیر اعلانیہ داخل ہو جاتا ہے جو مذہب تشکیل دیتا ہے۔ ایک نسل انسانی کے ارتقا کا سبب ہونے والے شولنگ کی پوجا کرنے والےاور دوسرے اپنی مذہبی تعلیمات کے سبب، گویا یہ مذہب ہی ہے جس نےنبیلہ کی بیٹی کو شرمین بنا دیا تھا۔  

مجموعی طور پر افسانہ اسی تہذیبی فاصلے کو نشان زد کرتا ہے اور جب آخر پر پہنچتا ہے تو بہ حیثیت قاری ہم امریکیوں کے بارے میں کچھ اچھی رائے نہیں رکھ رہے ہوتے۔  اتھلے، بگڑے ہوئے، جاہل، بے وقوف، لا علم اور سیلف سنٹرڈ۔  یہ الفاظ میں نے اپنے پاس سے نہیں لکھے اس افسانے میں امریکیوں کے لیےیہی استعمال ہوئے ہیں۔ ہمیں یقین دلانے کے لیے افسانہ نگار نے ایک سفید فام امریکی لڑکےسے یہاں تک کہلوا دیا ہے کہ:

“امریکن معاشرہ ایک محدود دائرے میں گھومتا ہے۔  ہماری اپنی کوئی تہذیب یا فلسفہ حیات نہیں۔ نہ ہم جسموں اور رشتوں کی عزت اور تکریم کرتے ہیں۔ “

یوں ہم دیکھتے ہیں کہ افسانہ نگار اپنی تہذیب کی برتری اور اچھائی کی پرزور وکیل ہو گئی ہیں اور اس کی گواہی انہوں نے اس امریکی لڑکی سے بھی ہتھیا لی ہے جس نے میڈیکل کی کلاس میں ایک روز اپنی پینٹ پائوں میں گرا لی تھی اور جو میڈیکل کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر میل اسٹرپر بن گیا تھا اور اب دونوں تہذیبوں کے مطالعے کے بعد مشرقی تہذیب کے حق میں گواہی دے رہا تھا۔  پہلے سے موضوع طے کرکے افسانہ لکھنے کی مشکل یہ ہوتی ہے کہ آپ کو واقعات کے قدرتی بہاؤ کے بجائے سارا دھیان موضوع پر دینا پڑتا ہے یہاں بھی ایسا ہی ہوا ہے اور کہانی کے کردار اور واقعات اپنی اصل شباہت میں سامنے آنے کے بجائے اس صورت میں سامنے آئے ہیں جو اس موضوع کو ساتھ لے کر چل سکتے تھے۔  تاہم میں اسےنیلم بشیر احمد کی کامیابی سمجھتا ہوں کہ اس افسانے پر اتنا اہم مکالمہ ہوا۔  

میں آخر میں حلقہ کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ مجھے آج کے اجلاس میں شریک ہونے اور احباب کی گفتگو سے بہت کچھ اخذ کرنے کا موقع دیا۔

(حلقہ ارباب ذوق راولپنڈی کے تنقیدی اجلاس میں نیلم احمد بشیر کے افسانے “رہ یار” پر شرکا کی گفتگو کے بعد صدر اجلاس محمد حمید شاہد کا صدارتی خطبہ)

Facebook Comments Box
Neelam Ahmad Bashirنیلم احمد بشیر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
محمد حمید شاہد

محمدحمید شاہد اردو کے معروف افسانہ نگار، ناول نگار اور نقاد ہیں ۔ آپ 23 مارچ 1957 کو پنڈی گھیب ضلع اٹک (پنجاب) پاکستان میں پیدا ہوئے ۔ پنڈی گھیب سے میٹرک کے بعد زرعی یونیورسٹی لائل پور(فیصل آباد) سے ایف ایس سے کے بعد ایگری کلچر مضامین میں گریجویشن کی اور ایک بنکار کی حیثیت سے بتیس سال عملی زندگی سے وابستہ رہے۔ اس عرصے میں اندرون ملک شہر شہر گھومے، دیہی زندگی کو قریب سے دیکھا اور کئی ممالک کا دورے بھی کیے ۔ محمد حمید شاہد کی ادبی زندگی کاآغاز یونیورسٹی کے زمانے سے ہی ہو گیا تھا ۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے مجلہ "کشت نو" کے مدیر رہے۔ پہلا افسانہ بھی اسی زمانے میں لکھا۔ پہلی کتاب " پیکر جمیل" بھی یونیورسٹی کے زمانے میں لکھی ۔ افسانوں کا پہلا مجموعہ "بند آنکھوں سے پرے "تھا جب کہ "جنم جہنم"،"مرگ زار"اور "آدمی" آپ کے افسانوں کے دیگر مجموعے ہیں۔ "محمد حمید شاہد کے پچاس افسانے" معروف بزرگ ادیب اور شاعر ڈاکٹر توصیف تبسم کا منتخب کردہ ہے جب کہ محمد حمید شاہد کے نائن الیون کے پس منظر میں لکھے ہوئے منتخب افسانوں کو "دہشت میں محبت" کے نام سے غالب نشتر نے مرتب کیا تھا۔ محمد حمید شاہد کا ناول"مٹی آدم کھاتی ہے" کے نام سے چھپا اور مقبول ہوا ۔ فکشن کی تنقید محمد حمید شاہد کی ترجیحات کا ایک اور علاقہ ہے ۔ "ادبی تنازعات"،"اردو افسانہ:صورت و معنیٰ"، "اردو فکشن: نئے مباحث"،"کہانی اور یوسا سے معاملہ " کے علاوہ "سعادت حسن منٹو:جادوئی حقیقت اور آج کا افسانہ" اس حوالے سے چند معروف کتب ہیں ۔ اردو نظم پر تنقید کی کتاب"راشد ،میراجی، فیض" کے علاوہ آپ کی نثموں کی کتاب لمحوں کا لمس اور بین الاقوامی شاعری کے تراجم پر مشتمل کتاب "سمندر اور سمندر" بھی بہت معروف ہیں۔ حکومت پاکستان نے محمد حمید شاہد کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کے لیے صدارتی سول ایوارڈ "تمغہ امتیاز" 2017 کو دیا۔

previous post
شناخت کا خودساختہ بحران اور دانشوروں کی کج فکری —- احمد الیاس
next post
سن ڈو کو (Tsundoku) — وحیدالرحمن خاں کی نظم

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.