تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
دیگرعلم و ادب

محمد حمید شاہد — ہے آدمی بجائے خود اک محشر خیال

by محمد حمید شاہد 09/07/2021
written by محمد حمید شاہد 09/07/2021
144

سب مانتے ہیں کہ ایک لکھنے والے کا تخیل جتنا ہرا بھرا ہوگا، اتنا ہی وہ اِنسانی نفسیات کے قریب ترین صورت حال کو گرفت میں لے لینے پر قادر ہو گااور پڑھنے والا بہ قول غالب یہ محسوس کرے گا’’میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دِل میں ہے‘‘۔ متخیلہ کے عقب میں خیال ہوتا ہے اور خیال کی تشکیل میں زندگی کا تجربہ، مطالعہ اور مشاہدہ کام کر رہا ہوتاہے۔ افسانہ لکھتے ہوئے یہ ضروری نہیں ہوتا کہ جو آپ لکھ رہے ہیں، ویسا ہی عین مین آپ کے تجربے یا مشاہدے میں آیا ہو، بلکہ یہ ضروری ہوتا ہے کہ ایسا ہونا ممکن ہے۔ جب میں یہ کہتا ہوں کہ ایسا ہونا ممکن ہونا چاہیے تو اس کا یہ مطلب قطعاً نہیں ہے کہ ایسا طبعی صورت میں ہوتا ہوا نظر آئے یا آ سکتا ہو بلکہ اس کا مطلب ہے کہ احساس اور خیال کی سطح پر اسے ہوتا دیکھا جا سکتا ہو۔

میں نے قاضی افضال حسین کے ایک مضمون میں پڑھا تھا کہ جب عصمت چغتائی کا افسانہ ’’لحاف‘‘ پہلی بار چھپا تو اس کا آخری جملہ یوں تھا: ’’ایک اِنچ اُٹھے ہوئے لحاف میں، میں نے کیا دیکھا، تو کوئی مجھے لاکھ روپے بھی دے تو میں نہیں بتائوں گی۔ ‘‘منٹو نے یہ افسانہ پڑھا اور اس جملے پر معترض ہوئے کہ یہ ایک بچی کی زبان سے کہلوایا گیا ہے جو خلاف حقیقت ہے۔ حسبِ عادت یہ اعتراض عصمت چغتائی نے رد کر دیا مگر جب یہ افسانہ آخری شکل میں چھپا تو اسے عصمت نے یوں بدل لیا تھا: ’’قلابازیاں لگانے میں لحاف کا کونا فٹ بھر اُٹھا۔۔۔ اللہ میں غڑاپ سے اپنے بچھونے میں۔‘‘ بہ قول قاضی افضال حسین یہ بدلا ہوا اختتام راوی کی عمر کی مناسبت سے بالکل ٹھیک تھا۔ اب آپ دیکھیں کہ عصمت بچی تھی نہ منٹو اُس بچی جیسا جو غڑاپ اپنے بچھونے میں گھس گئی تھی، مگر دونوں کا تخیل اتنا ہرابھرا تھا، کہ وہ ایک بچی کی نفسیات کے مطابق صورت حال کو آنک سکتے تھے۔ عصمت نے ابتدائی طور پر حقیقت کو سمجھنے میں اگر ٹھوکر کھائی تو منٹو کے معترض ہونے پر، اس پر پھر سے غور کیا اور ایک بچی کی نفسیات کو اپنے جملے میں قائم کر لیا تھا۔

یادرہے ایک افسانہ نگار کو زبان کا تخیلی اور حساس ترین سطح پر تخلیقی اظہار کرنا ہوتا ہے اور اسی سے وہ اپنے قاری کی متخیلہ کو تحریک دِے کر ایک حقیقت کا تماشا اس کے سامنے سجا دِیتا ہے۔ میں نے ایک جگہ لکھا تھا کہ میں فکشن لکھتا ہوں اور وہ سچ ہو جاتا ہے، تو اس کامطلب بھی یہی ہے کہ جتنا ہرا بھرا تخیل ہو گا اتنا ہی وہ اس حقیقت کے قریب تر ین ہو جائے گا جو ہماری زندگیوں کو ایک نہج پر ڈالتی ہے۔ جی، حقیقت نہیں حقیقت کا تماشا۔ یہاں مجھے غالب کی ایک معروف غزل کا مطلع یاد آگیا ہے:
بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

جی، یہ دنیا، یہ زندگی، وہ جو ہم دیکھتے ہیں اور وہ جو ہم دیکھنا چاہتے ہیں یا پھر نہیں دیکھنا چاہتے مگر دیکھتے رہنے پر مجبور ہیں، سب ایک تماشاہی تو ہے اور ہم اس تماشے میں ایک پتلی کی طرح ہیں۔ ایک افسانہ نگار کے لیے حقیقت کا تصور (چاہے وہ دیکھی بھالی ہو یا ان دیکھی )، اس حقیقت سے انسانی سطح پر وابستہ ہونے کے بعد ہی قائم ہوتا ہے۔ محض بے جان پتلی ہو کر نہیں، ایک جیتا جاگتا زندہ وجود مگر پتلی۔ ’’اسیر ذہن‘‘ میں محمد سلیم الرحمن نے جون میک مرے کا ایک مضمون شامل کیا تھا’’ حقیقت اور آزادی‘‘، اس میں اس مصنف نے لکھا تھا کہ ہمارے روّیوں کو براہ راست معین کرنے والی یا ہماری زندگی کے دھارے کو گرفت میں رکھنے والی حقیقت ہوتی ہے نہ حقیقی چیزیں، بلکہ زندگی کا دھارا وہ چیزیں متعین کرتی ہیں جنہیں ہم حقیقت یا حقیقی سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ ایک فکشن لکھنے والا یہیں سے اس حقیقت کو گرفت میں لیتا ہے جس نے ہماری زندگی کا رُخ متعین کیا ہوتا ہے، یہی فکشن کا واقعہ ہے اور اگر اسے تخلیقی سطح پر قائم کر لیا جائے تو یہ واقعہ قاری کی متخیلہ کو بھی اسی رُخ پر تحریک دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

Facebook Comments Box
محمد حمید شاہد
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
محمد حمید شاہد

محمدحمید شاہد اردو کے معروف افسانہ نگار، ناول نگار اور نقاد ہیں ۔ آپ 23 مارچ 1957 کو پنڈی گھیب ضلع اٹک (پنجاب) پاکستان میں پیدا ہوئے ۔ پنڈی گھیب سے میٹرک کے بعد زرعی یونیورسٹی لائل پور(فیصل آباد) سے ایف ایس سے کے بعد ایگری کلچر مضامین میں گریجویشن کی اور ایک بنکار کی حیثیت سے بتیس سال عملی زندگی سے وابستہ رہے۔ اس عرصے میں اندرون ملک شہر شہر گھومے، دیہی زندگی کو قریب سے دیکھا اور کئی ممالک کا دورے بھی کیے ۔ محمد حمید شاہد کی ادبی زندگی کاآغاز یونیورسٹی کے زمانے سے ہی ہو گیا تھا ۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے مجلہ "کشت نو" کے مدیر رہے۔ پہلا افسانہ بھی اسی زمانے میں لکھا۔ پہلی کتاب " پیکر جمیل" بھی یونیورسٹی کے زمانے میں لکھی ۔ افسانوں کا پہلا مجموعہ "بند آنکھوں سے پرے "تھا جب کہ "جنم جہنم"،"مرگ زار"اور "آدمی" آپ کے افسانوں کے دیگر مجموعے ہیں۔ "محمد حمید شاہد کے پچاس افسانے" معروف بزرگ ادیب اور شاعر ڈاکٹر توصیف تبسم کا منتخب کردہ ہے جب کہ محمد حمید شاہد کے نائن الیون کے پس منظر میں لکھے ہوئے منتخب افسانوں کو "دہشت میں محبت" کے نام سے غالب نشتر نے مرتب کیا تھا۔ محمد حمید شاہد کا ناول"مٹی آدم کھاتی ہے" کے نام سے چھپا اور مقبول ہوا ۔ فکشن کی تنقید محمد حمید شاہد کی ترجیحات کا ایک اور علاقہ ہے ۔ "ادبی تنازعات"،"اردو افسانہ:صورت و معنیٰ"، "اردو فکشن: نئے مباحث"،"کہانی اور یوسا سے معاملہ " کے علاوہ "سعادت حسن منٹو:جادوئی حقیقت اور آج کا افسانہ" اس حوالے سے چند معروف کتب ہیں ۔ اردو نظم پر تنقید کی کتاب"راشد ،میراجی، فیض" کے علاوہ آپ کی نثموں کی کتاب لمحوں کا لمس اور بین الاقوامی شاعری کے تراجم پر مشتمل کتاب "سمندر اور سمندر" بھی بہت معروف ہیں۔ حکومت پاکستان نے محمد حمید شاہد کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کے لیے صدارتی سول ایوارڈ "تمغہ امتیاز" 2017 کو دیا۔

previous post
باغبان اورنندیا چور: نوبل انعام یافتہ ٹیگورکی نظمیں اورعظیم گلزارکے تراجم — نعیم الرحمٰن
next post
دبستان روایت: حالیہ بحث اور میرا موقف — سجاد میر‎‎

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...

06/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.