تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترین

جدیدیت اور تعلیم: انسانی تنزل کے چند پہلو

by ویب ڈیسک 07/04/2017
written by ویب ڈیسک 07/04/2017
147

جدیدیت اپنے نظری حوالے سے پیچیدہ  بیان کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ نو آبادیات کے سیاسی اور مقامی ثقافتی مظاہر نے جس طرح  نظام تعلیم میں اپنی صورت گری کی ہے اس کی وجہ سے کسی نتیجے تک پہنچنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ جدیدیت، تاریخ کے متعلق کوئی واضح مؤقف نہیں رکھتی بلکہ اپنے سیاسی اور معاشی مظاہر میں تاریخ کے خاتمے کی مدعی ہے۔ تاریخ اور وقت میں انسانی دائرہ اختیار یعنی انسانی جدوجہد کے مفاہیم اور معانی کیا ہوں گے اس کے متعلق جدیدیت کا کوئی اصولی اور واضح موقف نہیں ہے الا یہ کہ کچھ سیاسی اور معاشی کامیابیوں کو تاریخ کا اختتام کہہ دیا جائے۔ مابعد نو آبادیات روایتی تصور انسان کی کایا کلپ ہوئی ہے اور اس کے نتیجے میں معاشرتی سطح پر جو ٹوٹ پھوٹ ہوئی اور جو ٹکراؤ مسلم معاشرے میں جاری ہے وہ ایک گہرے مطالعے کا متقاضی ہے۔ ہم کوشش کریں گے کہ روایتی تصور انسان کی تبدیلی جن تاریخی عوامل میں ہوئی ان کو نشان زد کر سکیں۔  ثقافتی مظاہر اور تہذیبی امتیازات تیزی سے ایک mass سطح پر بے چہرہ تجرید میں ڈھلتے جا رہے ہیں۔ ادب کی سطح پر کافکا کا کام اس کی بہترین مثال ہے۔ جدید ریاست اور اس کی ادارتی درجہ بندی کی چھتری تلے، سماج کی بنت اور انسانی تعلق قانون کے ذریعے “کنٹرول” کیے جا رہے ہیں۔ قانون اور نظام تعلیم کے ذریعے ایسا انسان سامنے آ رہا ہے جو کسی بھی روایتی قدر اور روایتی تعبیر کو در خور اعتنا نہیں سمجھتا۔ جدید تعلیم ایک سیاسی فیصلہ ہے جو فرد کی تخلیقی صلاحیتوں اور اظہار ذات کے معاملے کو معاشی سطح سے دیکھنے کا نام ہے۔ مارکیٹ سے جنم لینے والے عوامل پورے نظام تعلیم کو گھیرے ہوئے ہیں۔ سیٹھ اور اس کی کمپنی اس صورت حال میں اپنا فائدہ حاصل کرنے کے درپے رہتے ہیں۔ ذہانت کو اوسط درجے کی ذہانتوں سے ممیز کر کے تربیت کے ایک خاص نظام سے گزار کر جب سامنے لایا جاتا ہے تو ایسا شعور ہر قسم کی روایتی حد بندیوں اور روایتی علمیات کو اپنے شعور میں جگہ دینے کی بجائے ان میں تضادات تلاش کرنے کی مہم پر چل نکلتا ہے۔ ہمارے کلاسیکی متون میں معاشرتی اقدار اور نظم اجتماعی کے لیے جو اصول موجود ہیں۔ ان کو ہم قرون اولی کی مثالوں سے سمجھتے ہیں اور سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

تاریخ میں متن اپنے آثار کے ساتھ ہی مستقبل کی طرف گامزن ہوتا ہے جدید تعلیمی متون جو کہ تعلیمی اداروں میں بچوں کو پڑھائے جا رہے ہیں ان کے عملی مظاہر اور آثار کو کہیں دکھایا جا سکتا ہے تو وہ آج کا مغرب ہے۔ سرمایہ داری کا پیدا کردہ انسان اس کرہ ارض پر اچانک نمودار نہیں ہوا اور نہ ہی یہ فطرت کے سر بستہ رازوں میں سے کوئی راز ہے۔ نشاۃ الثانیہ اور تحریک تنویر سے نمو پانے والا “جدید انسان” روایتی فکر کو نظری شکست دینے کے بعد ہی سامنے آیا ہے۔ چرچ کی آپسی جنگ میں کیتھولک تصور انسان پر “کیلونسٹ تصور انسان” نے جو فتح پائی ہے تو اس کے پیچھے بہرحال فکری اور کچھ معاشی حالات موجود ہیں۔ جدیدیت جن احوال کو “انسان” کے گرد بنتی ہے وہ ایسا جال ہوتا ہے جو “قانون” اور”تعلیم” کے تانے بانے سے تیار ہوتا ہے۔ برصغیر کی حد تک نوآبادیات کے اردو نصاب کے مطالعہ سے یہ گتھی سلجھ جاتی ہے کہ 1857 کے بعد کا مسلم شعور جن علامتوں کے سہارے اس کائنات کی تفہیم کرنا چاہتا ہے اس میں مابعدالطبیعی حقائق کی کتنی جگہ موجود ہے۔ جنگ آزادی کے بعد سے اب تک کی مذہبی فکر سر سری نظر میں ہی اپنا شجرہ نسب آپ پر آشکار کر دیتی ہے کہ اس کے سوتے کہاں سے پھوٹ رہے ہیں۔ “آزادی” اور ترقی” کی راہ میں آنے والی ہر مذہبی رکاوٹ کو مابعدالطبیعی حقائق سے کاٹ کر صرف زمینی مفادات تک محدود کر دیا جاتا ہے۔برصغیر کے مسلم شعور میں یہ تبدیلی کوئی ایک دن کا واقعہ نہیں ہے بلکہ پچھلے ڈیڑھ سو سال کے تعلیمی نظام کا منطقی نتیجہ ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں تعلیم کو فقط نصاب کی چند کتابیں سمجھا جاتا ہے۔ تعلیمی ادارے کے ڈسپلن سے لے کر اس کے نصاب اور پھر وہاں امتحانی نظام کی لگی چھلنی بلکہ دوسرے لفظوں میں رزق کے “تقدیری” معاملات کو چند نادیدہ ہاتھوں کے سپرد کر دینے کا عمل، اس تعلیمی نظام کی چند منازل ہیں۔ اس پورے تعلیمی نظام میں اخلاق کو ادارتی ڈسپلن کے نام پر قربان کر دیا جاتا ہے۔ بچے کے جذباتی اور نفسی احوال سے صرف نظر کر کے “ذہانت” کو تلاش کیا جاتا ہے اور پھر اس ذہانت کو ڈگری کی صورت ہاتھ میں تھما کر مارکیٹ کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔


خاندان  کے  ادارے  کو  مارکسسٹ  اور  لبرلز   یکساں  طور  پر  اپنے  تصور  عدل   کی  راہ  میں  رکاوٹ  سمجھتے  ہیں  لیکن  دونوں  کے  ہاں  اس  مخالفت   کی  وجہیں  مختلف  ہیں۔


جدید ادارتی درجہ بندی فاعل سے اس کا عمل چھین کر اسے ادارے کے حوالے کر دیتی ہے۔ اس پورے نظام میں فاعل غائب ہو جاتا ہے تاکہ طاقت کے مرکز کو چھپا کر ایسے مظاہر سامنے کر دیے جائیں جن کے ہونے نا ہونے سے کم از کم نظام کی داخلیت متاثر نہ ہو۔ جدید تعلیم ریاست کی طاقت کے بغیر متشکل نہیں ہوسکتی۔ ریاست تہذیب کی معاشرتی اقدار کو اپنے عصر میں موجود طاقت کے دوسرے حصہ داروں سے بچانے کی بجائے خود “اقدار” کو تخلیق کرتی ہے۔ اول اول نظام تعلیم برصغیر میں “اشرافیہ” کو پیدا کرنے میں معاون ہوا جو بعد ازاں دونوں طرف کے نظم ریاست کو چلانے والی انتظامیہ کے طور پر سامنے آئی۔ لارڈ میکالے کے منٹ کے مابعد نو آبادیات مطالعات ایک نقطے پر ضرور متفق ہیں۔ وہ یہ کہ نوآبادیاتی نظام تعلیم کم از کم ایسے شعور کو تخلیق کرتا ہے جس کے لیے ملکیت اور قانون کے معانی وہ نہیں ہیں جو کلاسیکی فقہی متون کی روایتی تعبیروں کے ذریعے مسلم معاشروں کی اقدار بنانے میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔ مستشرقین کے تمام مطالعات جو “مشرق” کو سامنے رکھ کر کیے گئے اگر ایڈورڈ سعید کے الفاظ مستعار لیے جائیں تو جو کچھ سامنے آتا ہے وہ یہ ہے۔

اس تمام الجھے ہوئے عمل کو بیان کرنا مشکل ہے۔ کم از کم اتنا ہی مشکل اور الجھا ہوا ہے کہ جتنا وہ طریقہ ہے جسے بتدریج بڑھتا ہوا شعبہ علم اختیار کرتا ہے۔ تاکہ اپنے مقابلے میں آنے والے اور شعبوں اور اپنی روایات، طریق کار اور اداروں کے لیے استناد اور اپنے نظریات، شخصیات اور ذیلی تمدنی اداروں کے لیے تمدنی جواز حاصل کرے۔ (شرق شناسی از ایڈورڈ سعید) 

سرمایہ داری کا پیدا کردہ انسان وہ کسی قسم کی اٹھارٹی کو تسلیم کرنے کے لیے اپنے آپ کو آمادہ نہیں پاتا۔ یہ شعور ان تمام تصورات کی اجتماعی سطح پر تحدید شروع کر دیتا ہے جس میں مابعدالطبیعی عناصر پائے جاتے ہوں۔ سرمایہ داری کے تصور انسان کی تشکیل میں دوسرا معاون “قانون” ہے قانون جدید ریاست کی طاقت کے تناظر میں میں پیدا کی گئی “اقدار” اور مارکیٹ میں ملکیت اور سرمائے کے تصور عدل کو جواز دینے کا نام ہے۔ برصغیر میں انگریزوں کی آمد سے پہلے معاشی ڈ ھانچہ کم از کم نجی ملکیت کے ان قوانین سے متشکل نہیں تھا جس جو ہم آج دیکھ رہے ہیں۔ مارکس جیسے استعمار مخالف نے بھی برصغیر میں انگریزوں کے قبضے کو ہندوستانی سماج کے لیے بہترین فیصلہ قرار دیا تو اس کی وجہ یہی تھی کہ جب تک “جاگیر داری” قائم نہیں ہو گی اس وقت تک سماج کمیونزم کی طرف نہیں بڑھ سکے گا۔ قانون فرد کی ان روایتی اقدار سے “آزادی” فراہم کرتا ہے جو سرمائے کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہیں۔ خاندان کے ادارے کو مارکسسٹ اور لبرلز یکساں طور پر اپنے تصور عدل کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں لیکن دونوں کے ہاں اس مخالفت کی وجہیں مختلف ہیں۔ سماجی ساخت میں بڑی تبدیلی کا امکان ملکیت اور جنس کے قانون سے مشروط ہوتا ہے اور قانون ان کو اقدار سے نکال کر مارکیٹ کے حوالے کر دیتا ہے۔ معاہدہ عمرانی سے نمو پزیر انسان محبت اور مؤدت کے فطری جذبات کی بجائے سماجی معاملات قانون سے حل کرتا ہے۔ قانون اور تصور آزادی کے سیاق میں ایک ایسا انسان سامنے آتا ہے جسے “تکثیریت” کے نعرے سے جواز بخشا جاتا ہے اور اس جدید ریاست کا آئین معاشرتی مساوات کہتا ہے اور دوسری طرف یہی ریاست تشدد کے ذریعے ایک قوم بھی تشکیل دیتی ہے۔ قانون اور ڈسپلن ایک طرح سے انسانی ارادے کو ریاستی اختیار میں لینے کا نام ہے، اسی قانون اور ڈسپلن کے ذریعے کثیر الجہت زندگی یک رخا پن اختیار کر لیتی ہے۔ مگر ریاستی کارندے اس بات کا مسلسل پروپگینڈا کرتے ہیں کہ وہ غیر جانبدار ہے.

Facebook Comments Box
جدیدیتسرمایہ داری
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ویب ڈیسک

Daanish webdesk.

previous post
کتنی تصویروں کے ساتھ آئی ہے شامِ زندگی   – انور عباسی کی آپ بیتی حصہ 6
next post
صاحبانِ درد —— سجاد خالد

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.