تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادبکتابوں پر تبصرے

یونس جاوید کا کڑوا سچ: صرف ایک آنسو — محمد حمید شاہد

by محمد حمید شاہد 29/06/2021
written by محمد حمید شاہد 29/06/2021
178

خوشونت سنگھ کی دلچسپ آپ بیتی کا نام ہے “سچ، محبت اور ذرا سا کینہ”۔ پہلے پہل مجھے اس کتاب کا نام بہت اچھا لگا تھا تاہم کچھ ہی دنوں بعد یہی نام مجھے کھلنے لگا کہ کسی آپ بیتی میں محض اتنا ہی سچ ہوتا ہے جتنا لکھنے والے کو گوارا ہو۔ کہہ لیجئے ذرا سا سچ۔ ہاں کینہ، نفرت اور دوسروں کی قامت کم کرنے کے حیلے زیادہ ہوتے ہیں۔ باقی رہی محبت تو یہ بھی حسب ضرورت ہی ہوتی ہے کہ لکھنے والے کو اس نفرت سے بھی تو نمٹنا ہوتا ہے جس کا شکار وہ اپنی زندگی میں رہا۔ آپ بیتی کی صورت میں بدلہ چکانے کا موقع نکل آیا ہوتا ہے۔ شاید یہی سبب رہا ہوگا کہ مشفق خواجہ نے “سخن در سخن” میں لکھا تھا:

 “آپ بیتی ایک عجیب و غریب صنف ادب ہے جس کا موضوع بظاہر تو لکھنے والے کی اپنی ذات ہوتی ہے لیکن بحث عموماً دوسروں کے کردار سے کی جاتی ہے۔ آپ بیتی کو یادوں اور یادداشتوں کا مجموعہ کہا جاتا ہے لیکن آپ بیتی میں یادوں اور یادداشتوں کی ترمیم شدہ یا حسب منشا صورت ہی نظر آتی ہے۔ حافظہ اول تو کام نہیں کرتا اور اگر کرتا ہے تو مصنف کی مرضی کے مطابق مواد فراہم کرتا ہے۔ “

یہ تمہید میں یوں باندھ بیٹھا ہوں کہ میرے سامنے ایک مختصر سی کتاب پڑی ہے؛ محض ایک سو چالیس صفحات کی کتاب۔ یہ بھی ایک آپ بیتی ہے۔ میں یہ کتاب ابھی ابھی پڑھ کر فارغ ہوا ہوں اور کہنے پر مجبور ہوں کہ یہ کتاب نہیں ایک دہکتا تنور ہے۔ ایسا تنور جسے دہکانے کے لیے مصنف نے ایک اور ادبی شخصیت کےعظمت کے چوبی مینار کو توڑ پھوڑ کر اس تنور میں جھونک دیا ہے۔ یہ کتاب مجھے کسی اور وسیلے سے ملتی تو شاید میں اس پر کچھ نہ لکھتا، ایک طرف رکھ دیتا کہ جس شخصیت کی عظمت کا بت اس میں توڑنے کے جتن ہوئے ہیں میں ان کا زندگی بھر احترام کرتا آیا ہوں۔ میں نے انہیں پڑھا ہے اور ہمیشہ ان کے بارے میں مثبت رائے قائم کی ہے۔ عین آغاز میں کسی آپ بیتی کے بارے میں جو کچھ میں کہہ آیا ہوں اسے سامنے رکھا جائے تو جو کچھ اس کتاب میں کہا گیا ہے اس میں سے بیشتر پر شک لازم ٹھہرتا ہے۔ مگر اس کے باوجود اپنے شک اور یقین کو ایک طرف رکھ کر اگر میں اس کتاب کے کچھ مندرجات مقتبس کرنے جا رہا ہوں تو اس کا سبب یہ ہے کہ مجھ سے مصنف نے کتاب عطا کرتے ہوئے وعدہ لے رکھا ہے کہ میں اس پر اپنا ردعمل ضرور دوں گا۔ میرا پہلا رد عمل تو یہی ہے کہ خدا کرے اس کتاب میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ سچ نہ ہو۔  

میں نے ابھی تک یہ تو بتایا ہی نہیں کہ جس کتاب کا ذکر میں کرنے جارہا ہوں وہ کس کی ہے اور کتاب کا نام کیا ہے۔ مصنف سے آپ بخوبی آگاہ ہوں گے۔ لیجئے میں نام لیے دیتا ہوں: یونس جاوید۔ جی جی، وہی پی ٹی وی کی کلاسک ڈارمہ سیریل “اندھیرا اجالا” لکھنے والے یونس جاوید۔ 65 اقساط مشتمل یہ ڈرامہ محض یونس جاوید کی وجہ شہرت نہیں ہے، یہ عرفان کھوسٹ، جمیل فخری، قوی خان، عابد بٹ، نذیر حسینی جیسے معروف اداکاروں کو بھی ایک نئی پہچان دے گیا تھا۔ یونس جاوید نے کئی اور مقبول ڈراموں کے سلسلے دیے جیسے” پت جھڑ”، “رنجش”، “خواب عذاب”، “مٹھی بھر آسمان”، “شہر مراد “، “تاحد نگاہ” اور تیس قسطوں پر مشتمل ڈرامہ سیریل “سل”۔ ان ہی میں ٹیلی فلم” نامہربان لمحہ” اور 70 منٹ سے لیکر 100 منٹ کی طوالت والے ڈراموں “کانچ کا پل”، “دھوپ دیوار”، “رگوں میں اندھیرا”، “ایک محبت کی کہانی”، “عہد وفا”، “دیار عشق” کو بھی شامل کر لیجئے اور معمول کے دورانیے والے “دستک” اور “ایک چہرہ یہ بھی” جیسے ڈرامے بھی۔ یونس جاوید نے کئی پنجابی کھیل بھی لکھے جس میں 39 اقساط پر مشتمل ڈرامہ “کیہ جاناں میں کون؟” ابھی تک ہماری یادداشت میں محفوظ ہے۔

آپ بیتی ایک عجیب و غریب صنف ادب ہے جس کا موضوع بظاہر تو لکھنے والے کی اپنی ذات ہوتی ہے لیکن بحث عموماً دوسروں کے کردار سے کی جاتی ہے۔

یونس جاوید عمدہ فکشن لکھنے والے ہیں اور “آخر شب”، “ستونت سنگھ کا کالا دن”، “کنجری کا پل” نامی ناولوں کے علاوہ ” تیز ہوا کا شور”، “میں ایک زندہ عورت ہوں” اور “آوازیں”جیسی افسانوں کی کتب ان کےکریڈٹ پر ہیں۔ حلقہ ارباب ذوق پر ان کا کام تاریخی نوعیت کا ہے اور خاکے اور آپ بیتی ان کے علاوہ۔ گویا یہ شخص مسلسل قلم رواں رکھے ہوئے ہے۔ جس کتاب کا میں ذکر کرنے جا رہا ہوں وہ یونس جاوید کی زندگی کا ایک باب ہے جس کا پہلے نام “پورٹریٹ” رکھا گیا تھا اور اس نئی اشاعت میں اس کانام “صرف ایک آنسو!” ہو گیا ہے۔

میں نے کہا نا ! میں اس کتاب پر نہیں لکھنا چاہتا تھا مگر یونس جاوید نے کتاب مجھے عطا کرنے کے بعد مجھ سے وعدہ لیا ہے کہ میں اس پر ضرور لکھوں گا۔ باتوں باتوں میں انہوں نے شکایت کی کہ جس شخصیت نے انہیں عمر بھر خون کے آنسو رلائے ہیں سب اس شخصیت کے رعب میں رہے ہیں اور ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ وہ ستم جو انہوں نے ڈھائے، وہ کسی کی نظر میں نہیں اورہر کہیں ان (یعنی یونس جاوید) کی قامت کو کوتاہ کرکے دکھایا جاتا رہا ہے۔ ان ہی کے لفظوں میں “مجلس ترقی ادب کا محض ایک کلرک اور کچھ نہیں جب کہ وہ مجلس میں واحد شخص تھے جس نے پی ایچ ڈی کر رکھی تھی۔ “

یونس جاوید کےپی ایچ ڈی تک پڑھے چلے جانے کی کہانی بھی بہت دلچسپ ہے۔ باپ نے بیٹے کو حافظ قرآن بنانے کے لیے مسجد چینیانوالی کوچہ چابک سواراں، اندرون موچی دروازہ ڈلوا دیا تھا۔ قرآن پاک حفظ کیا۔ حافظ ہو کر نماز تراویح میں امامت بھی کی۔ بہت عرصہ مسجد اور باپ کی دکان کا ہو کر رہے مگر آگے پڑھنے کا شوق انہیں بے چین رکھتا تھا۔ چھپ چھپ کر پڑھتے رہے۔ میڑک، ایف اے، بی اے، ایم اےاور پی ایچ ڈی ان سب مراحل کی داستان دلچسپ ہے۔ وہ مجلس ترقی ادب میں ملازم تھےاور تعلیم کی انہی ڈگریوں کے سبب وہاں کے لوگ ان سے کینہ رکھنے لگے تھے۔ جی، یونس جاوید کایہی خیال ہے اور اس کا سبب ان کی نظر میں یہ رہا ہے کہ اس باب میں صدر مجلس سمیت سب سے وہ آگے نکل گئے تھے۔

وہ صدر مجلس جو اس خود نوشت میں سب سے زیادہ نشانے پر رہے ہیں وہ قاسمی صاحب ہیں۔ جی، احمد ندیم قاسمی صاحب؛ اردو ادب کی نامور ترقی پسند شخصیت۔  فنون جیسے شہرہ آفاق ادبی رسالے کے مدیر، شاعر، افسانہ نگار، صحافی اور کالم نگار۔ چوں کہ وہ اس دنیا میں نہیں ہیں لہذا اس خود نوشت میں جو کچھ ہے اسے یونس جاوید کا سچ کہا جا ئے گا جب تک کہ کوئی اور گواہی دینے کو سامنے نہ آئے۔ خیر، یہ کوئی عدالتی مقدمہ تو ہے نہیں، ایک کتاب کا قصہ ہے جو چھپ کر قارئین کی دسترس میں ہے اور یونس جاوید کا کہنا ہے کہ یہی سچ ہے۔ ایک کمزور اور بے وسیلہ آدمی کا سچ جسے ایک بڑے آدمی کی خوشنودی کے لیے ہمیشہ جھٹلایا جاتا رہا۔ لیجئے یونس جاوید کے اس سچ کچھ جھلکیاں :

۔ پی ایچ ڈی کا نوٹیفکیشن ملنے پر یونس جاوید نےقاسمی صاحب کے لیے بطور خاص کیک بنوایا مگر جب کیک لے کر حاضر ہوئے تو قاسمی صاحب نے منصورہ احمد کی موجودگی میں بہت بے زاری کا ردعمل دیا۔ بہ قول یونس جاوید پی ایچ ڈی کرنے سے منصورہ کے راستے میں مشکلات کھڑی ہو گئی تھیں۔

– یونس جاوید لکھتے ہیں کہ شروع میں قاسمی صاحب سٹاف کے ساتھ نرم دل اور نرم خو تھےمگر انیس سو پچھتر کے بعد وہاں ایک خاتون منصورہ حبیب آئیں، جو نام بدل کر منصورہ احمد ہوگئیں۔ وہ برقع پہن کر آئی تھیں جسے سال کے اندر اندر ایک طرف رکھدیا گیااور بہ روایت یونس جاوید قاسمی صاحب کی ناظم والی کرسی پر براجمان ہو گئیں۔ وہ اسے منع نہیں کرتے تھے، انجوائے کرتے اور مسکراتے رہتے تھے۔ وہ مجلس میں کچھ نہ تھیں اور سب کچھ ہو گئی تھیں۔ جو وہ کہتیں قاسمی صاحب وہی کرتے تھے۔

۔ اس خود نوشت میں یہ بھی بتایا گیا ہے منصورہ احمد کے لیے قاسمی صاحب نے یونس جاوید کو مجلس سے نکال باہر کرنے کے کئی جتن کیے تھے۔ چوں کہ یونس جاوید کی تنخواہ بڑھتے بڑھتے قاسمی صاحب سے زیادہ ہونے جا رہی تھی لہذا مجلس کے اخراجات میں کمی کا طریقہ قاسمی صاحب کو یہ سوجھا تھا کہ یونس جاوید مجلس سے نکال باہر کیےجائیں۔ اس کے لیے سمری تیار کروائی گئی۔ یہ الگ بات کہ پروین ملک کے وسیلے سے ایک ایسا سلسلہ بنا کہ ان کا وار خالی گیا تھا۔

۔ قاسمی صاحب کے اعصاب پر منصورہ احمد کے سوار ہونے کے ایک اور واقعے میں پروین شاکر کا نام آتا ہے۔ یہ واقعہ یونس جاوید نے بہت تفصیل کے ساتھ لکھا ہے۔ مختصراً یہ کہ بہ قول یونس جاوید قاسمی صاحب سے کوئی ملنے آتا تو وہ اسے کہتے “شعر کی راجدھانی پر اب منصورہ کی حکمرانی ہے” پنجاب یونیورسٹی سے چھ سات لڑکیاں انہیں ملنے آئیں تو بھی انہوں نے یہی کہا:”مجھ سے تو آپ بعد میں مل لیجئے گا پہلے اس عظیم شاعرہ سے ملیں” یہ محفل چل رہی تھی کہ اچانک پروین شاکرآگئیں اور محفل کا رنگ بدل گیا۔ وہ اپنے عمو سے محض چند منٹوں کے لیے ملنے آئی تھیں مگر لڑکیوں کی ساری توجہ اب ادھر تھی۔ پروین شاکر اجازت لے کر جانے لگیں توساری لڑکیاں بھی ساتھ ہولیں اور انہیں رخصت کرکے خود بھی چلی گئیں۔ اس واقعہ کو منصورہ احمد نے اپنی توہین گردانا۔ طیش میں آگ بگولا قاسمی صاحب سے مطالبہ کیا کہ پروین شاکر کواسی وقت خط لکھیں کہ وہ اپنے کیے کی معافی مانگے۔ اور دلچسپ بات یہ کہ قاسمی صاحب نے یہ خط لکھ بھی دیا تھا۔

۔ قاسمی صاحب منصورہ کو خوش کرنے کے کیسے کیسے جتن کیا کرتے تھے اس کا ایک انتہائی تکلیف دہ واقعہ محترمہ جمیلہ ہاشمی کی وفات سے جڑا ہوا ہے۔ ان کی میت بہاولپور (خانقاہ) لے جائی جا رہی تھی۔ لاہور سے میت کی رخصتی سے پہلے محمد کاظم کی گاڑی پر قاسمی صاحب اور یونس جاوید جمیلہ ہاشمی کی کوٹھی پر پہنچے تھے۔ دفتر سے منصورہ احمد بھی ساتھ ہو لی تھیں مگر وہ راستے میں اپوا کالج کے سامنے اتر گئی تھیں۔ وہاں عائشہ صدیقہ اپنی ماں کی رحلت پر دل گرفتہ تھیں۔ قاسمی صاحب جمیلہ ہاشمی کی میت کے قریب پہنچے توعائشہ صدیقہ اس دکھ میں سہارے کے لیے روتے روتے قاسمی صاحب کی طرف بڑھیں۔ قاسمی صاحب فوراً پیچھے ہٹ گئے۔ کاظم صاحب نے عائشہ کو سہارا دیا۔ ان کے سر پر ہاتھ رکھا اور تسلی دی۔ تکلیف دہ واقعہ اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔ جب میت ایمبولیس میں رکھ کر لے جائی جا چکی تو محمد کاظم، قاسمی صاحب اور یونس جاوید واپس ہو لیے تو راستے میں منصورہ کو بھی ساتھ لےلیا گیا۔ قاسمی صاحب منصورہ کو وہاں کی بابت بتاتے رہے اور جب دفتر پہنچ کر گاڑی سے اترے تو باقاعدہ ایکٹ کرکے شوخی سے بتایا کہ کیسے عائشہ روتے ہوئے ان کی طرف بڑھی تھی اور کیسے وہ تیزی سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔ یہاں عین مین یونس جاوید کے الفاظ مقتبس کر رہا ہوں۔

” وہ عجب طرح کی ہنسی کو چہرے پر پھیلا کر منصورہ سے کہنے لگے؛”میں نے سوچا یہ بڈاوا کہیں مجھے دبوچ ہی نہ لے۔ ” (میں بہ اصرار یہ اقرار کرتا ہوں کہ ان کے الفاظ یہی تھے)اس کے بعد وہ کھل کر ہنسے۔ منصورہ کا چہرہ بھی گلنار ہوگیا۔ ۔ ۔ یہ منظر میرے اور کاظم صاحب کے لیے دردناک تھا۔ ”    

۔ اس آپ بیتی میں قاسمی صاحب اور منصورہ کے حوالے سے اور بھی کئی قصے ہیں مگر ایک آخری واقعہ اختصار کے ساتھ مقتبس کیے دیتا ہوں۔ میرے لیے اس واقعے میں انتہا درجے کی اذیت بھری ہوئی ہے۔ قاسمی صاحب کا ایک حوالہ، بلکہ بڑا حوالہ ان کی ترقی پسندی ہے جس کا بنیادی نکتہ نچلے طبقوں کے حقوق کے لیے جدوجہد ہے مگر بہ قول یونس جاوید منصورہ احمد کی خواہش پر انہوں نےایک چپراسی بابا عبدالکریم سے اس لیے کواٹر خالی کروالیا تھا کہ وہ منصورہ کے مہمان کے لیے گھر سے چپاتیاں اور آملیٹ بنوا کر لا سکا تھا۔ اس کے گھر کے افراد کسی شادی میں گئے ہوئے تھے۔ منصورہ نے بابا عبدالکریم سے یہ بھی کہا تھاکہ ابھی کچھ دیر پہلے اس نے بابا کی دس سالہ نواسی صائمہ کو دیکھا ہے اسے بازار روٹیاں لینے بھیج دو۔ بابا کریم سنجیدہ ہو گیاتھا: “ہم بچی کو بازار نہیں بھیجتے کہ شمس کاری بازار کا ماحول ٹھیک نہیں۔” بس یہ سننا تھا کہ منصورہ کا پارہ آسمان پر تھا۔ وہیں سب کے سامنے کہہ دیا “جس مکان میں تم نے قبضہ کر رکھا ہے وہ چالیس ہزار ماہانہ پر بھی نہ ملے۔۔۔ اور تم نافرمانی کا پتھر سامنے رکھ کر کہتے ہو، لو سر پھوڑو۔” یونس جاوید لکھتے ہیں ایسے میں قاسمی صاحب کو منصورہ کی فکر لاحق تھی کہے جاتے تھے: “بیٹی غصہ نہ کرو۔۔۔ تمہارا بی پی شوٹ کر جائے گا۔” اور منصورہ نے پلٹ کر کہا تھا “میں جیوں یا مروں آپ کو کیا۔ آپ میں دم خم ہوتا تو کھڑے کھڑے اس شخص کو نکال باہر کرتے۔” یونس جاوید لکھتے ہیں کہ قاسمی صاحب نے کانپتے ہوئے ہاتھوں کو جوڑ کر کہا تھا “کیوں خود پر ظلم کرتی ہو جو تم کہو گی وہی ہوگا۔”

پھر وہی ہوا جو منصورہ نے چاہا تھا۔ عبدالکریم سے کواٹر خالی کروالیا گیا۔ بابا بیمار تھا اور بیمار ہوا۔ اس کے اندر جینے کی خواہش ختم ہوئی اور وہ مر گیا۔ کہانی یہاں بھی ختم نہیں ہوئی۔ قبرستان تک دفتر کی گاڑی لے جانے پر جو ہنگامہ ہوا وہ بھی کم تکلیف دہ نہیں ہے۔

کئی اور واقعات کی طرح شبنم شکیل کے حوالے سے جو واقعہ کتاب میں لکھا گیا ہے مجھ میں ہمت نہیں ہے کہ اسے یہاں رقم کروں۔ میں نے کتاب پڑھ لی تو یونس جاوید کو فون کیا۔ آپ نے یہ سب کیسے لکھ لیا۔ کہنے لگے بہت کم لکھا ابھی بہت کچھ باقی ہے۔ مگر آپ کو دیانت داری سے اس پر رد عمل دینا ہوگا۔

لیجئے یونس جاوید میں نے وعدہ پورا کیا۔ آپ کو شکایت رہی تھی کہ آپ کی آواز دب کر رہ گئی ہے۔ اور آپ کا خیال تھا کہ شاید میں بھی کچھ کہہ نہ پاؤں گا۔ آپ کا خیال درست ہے کہ میں اپنی جانب سے اس کتاب پر کچھ نہ کہہ پایا۔ تاہم یونس جاوید! اگر یہ محض بدلہ چکانے کا عمل نہیں ہے اور آپ کے سچ کی تصدیق کے لیے کوئی اور بھی آگے بڑھتا ہے تو جو میں نے کہنا ہے وہ خود بخود متن ہونے لگے گا۔ کچھ واقعات کی بھنک، جو اس کتاب کا حصہ ہیں، قاسمی صاحب کی زندگی میں ہی میرے کانوں میں پڑتی رہی مگر میں سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے والا نہیں ہوں اس لیے انہیں لائق اعتنا نہ جانا۔ اب یہ لکھی ہوئی صورت میں پڑھنے کو ملی ہیں۔ ایسے میں یہ خیال رہ رہ کر آرہا ہے کہ سچ یک طرفہ نہیں ہوتا۔ یہ اوروں کی تصدیق کا ہمیشہ محتاج رہتا ہے۔ کوئی اور تصدیق نہ کرے تو یک طرفہ بیان کینے کی ٹوکری میں لڑھک کر تلف ہو جایا کرتا ہے۔ اور ہاں یونس جاوید نے اس کتاب کے دیباچے میں یہ بھی کہہ رکھا ہے:

” میں نے اپنے تئیں، صرف دس فی صد سچ لکھا ہے، نوے فی صد گندگی پر پردہ ڈال دیا ہےکہ غلاظت میرا شیوہ نہیں ہے نہ ہی گندگی سے دوسروں کے لیے حظ کا سامان کیا ہے۔ “

یونس جاوید کی آپ بیتی “صرف ایک آنسو!”دوست پبلی کیشنز اسلام آباد نے شائع کی ہے جس کا سرورق خالد رشید کا بنا ہوا ہے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Facebook Comments Box
featuredاحمد ندیم قاسمی، منصورہ احمد، یونس جاوید
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
محمد حمید شاہد

محمدحمید شاہد اردو کے معروف افسانہ نگار، ناول نگار اور نقاد ہیں ۔ آپ 23 مارچ 1957 کو پنڈی گھیب ضلع اٹک (پنجاب) پاکستان میں پیدا ہوئے ۔ پنڈی گھیب سے میٹرک کے بعد زرعی یونیورسٹی لائل پور(فیصل آباد) سے ایف ایس سے کے بعد ایگری کلچر مضامین میں گریجویشن کی اور ایک بنکار کی حیثیت سے بتیس سال عملی زندگی سے وابستہ رہے۔ اس عرصے میں اندرون ملک شہر شہر گھومے، دیہی زندگی کو قریب سے دیکھا اور کئی ممالک کا دورے بھی کیے ۔ محمد حمید شاہد کی ادبی زندگی کاآغاز یونیورسٹی کے زمانے سے ہی ہو گیا تھا ۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے مجلہ "کشت نو" کے مدیر رہے۔ پہلا افسانہ بھی اسی زمانے میں لکھا۔ پہلی کتاب " پیکر جمیل" بھی یونیورسٹی کے زمانے میں لکھی ۔ افسانوں کا پہلا مجموعہ "بند آنکھوں سے پرے "تھا جب کہ "جنم جہنم"،"مرگ زار"اور "آدمی" آپ کے افسانوں کے دیگر مجموعے ہیں۔ "محمد حمید شاہد کے پچاس افسانے" معروف بزرگ ادیب اور شاعر ڈاکٹر توصیف تبسم کا منتخب کردہ ہے جب کہ محمد حمید شاہد کے نائن الیون کے پس منظر میں لکھے ہوئے منتخب افسانوں کو "دہشت میں محبت" کے نام سے غالب نشتر نے مرتب کیا تھا۔ محمد حمید شاہد کا ناول"مٹی آدم کھاتی ہے" کے نام سے چھپا اور مقبول ہوا ۔ فکشن کی تنقید محمد حمید شاہد کی ترجیحات کا ایک اور علاقہ ہے ۔ "ادبی تنازعات"،"اردو افسانہ:صورت و معنیٰ"، "اردو فکشن: نئے مباحث"،"کہانی اور یوسا سے معاملہ " کے علاوہ "سعادت حسن منٹو:جادوئی حقیقت اور آج کا افسانہ" اس حوالے سے چند معروف کتب ہیں ۔ اردو نظم پر تنقید کی کتاب"راشد ،میراجی، فیض" کے علاوہ آپ کی نثموں کی کتاب لمحوں کا لمس اور بین الاقوامی شاعری کے تراجم پر مشتمل کتاب "سمندر اور سمندر" بھی بہت معروف ہیں۔ حکومت پاکستان نے محمد حمید شاہد کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کے لیے صدارتی سول ایوارڈ "تمغہ امتیاز" 2017 کو دیا۔

previous post
مغرب کا تاقیامت عالمی اقتدار : جاوید غامدی اور خورشید ندیم کی “علمی” دریافت؟ — ڈاکٹر غلام شبیر
next post
مایا اور مجنون —- محمد شیراز دستی

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.