مجھے لگتا ہے جیسے میری زندگی کا ہر آنے والا دِن، بسر کیے جاچکے دنوں سے مختلف ہوتا ہے۔ یوں نہیں ہے کہ ایسامجھے اب لگتا ہے، اس کا احساس تو مجھے ہمیشہ سے رہا کہ کچھ ہے جو جاچکے کل میں نہیں تھا اور کچھ تھا جو ہمیشہ کے لیے مجھ سے الگ ہوتا یا چھنتا رہا ہے۔ دن آتے ہیں، بہ ظاہر ایک جیسے دن مگر مجھ پر ہر بار الگ دھج سے منکشف ہوتے ہیں، کبھی شدید حیرت میں مبتلا کرتے ہوئے، کبھی تیز دھار کٹاری کی طرح کاٹ کاٹ کر رکھتے ہوئے اور کبھی یوں، جیسے انہوں نے میرے اندر سے کسی خوشی کاخزینہ دریافت کر لیا ہو۔ ایسا سیال خزینہ جوبدن بیچ سے فوارے کی صورت پھوٹ نکلے گا۔ مجھے لگتا ہے جیسے میری زندگی کا ہر آنے والا دِن، بسر کیے جاچکے دنوں سے مختلف ہوتا ہے۔ یوں نہیں ہے کہ ایسامجھے اب لگتا ہے، اس کا احساس تو مجھے ہمیشہ سے رہا کہ کچھ ہے جو جاچکے کل میں نہیں تھا اور کچھ تھا جو ہمیشہ کے لیے مجھ سے الگ ہوتا یا چھنتا رہا ہے۔ دن آتے ہیں، بہ ظاہر ایک جیسے دن مگر مجھ پر ہر بار الگ دھج سے منکشف ہوتے ہیں، کبھی شدید حیرت میں مبتلا کرتے ہوئے، کبھی تیز دھار کٹاری کی طرح کاٹ کاٹ کر رکھتے ہوئے اور کبھی یوں، جیسے انہوں نے میرے اندر سے کسی خوشی کاخزینہ دریافت کر لیا ہو۔ ایسا سیال خزینہ جو بدن بیچ سے فوارے کی صورت پھوٹ نکلے گا۔
مجھے یہ بھی لگتا ہے کہ اگر میرے عصبی ریشوں میں اس درجے کی تانت نہ ہوتی جس درجے کی تانت دو کناروں پر بندھی اس رسی میں ہوتی ہے جس پر بازی گرلڑکی کو جان کی پروا کیے بغیر چلنا ہوتا ہے یا، میرے اعصاب میں کبھی کبھی ایسا جھول نہ پڑتا جیسا کسی مضبوط ٹہنی سے بندھی اس رسی کا ہوتا ہے جسے ایک الہڑ مٹیار جھولنے اور آسمان کو چھونے کے لیے لمبا ہلارا لینے کو پینگ بنا لیتی ہے، تو مجھ پر بیتنے والے دن کب کے ایک جیسے ہو کر بوسیدہ ہو چکے ہو تے۔ خدا کا شکر ہے کہ اس نے میرے اندر عجب طرح کی بے چینی، نہ ختم ہونے والا اضطراب، ہلکورے لیتی سرمستی اور شدید تکلیف دہ اور مشتعل کر دینے والے حالات کو برداشت کیے چلے جانے کی ہمت اور حوصلہ رکھ دیا ہے کہ ایسے ہی لمحوں میں مجھ پر تخلیق کا بھیدوں بھرا دریچہ کھل جاتا ہے۔
جی، میں عرض کر چکا ہوں کہ مجھ پر گزرنے والا ہر دن، ہر پہر، بلکہ ہرہر لمحہ اپنی مٹھی میں بند کچھ نہ کچھ نئے کو منکشف کرتا رہا ہے۔ یہیں اپنے ہاں اس احساس کے غلبے کا اعتراف بھی کرنا ہے جو وقت کے بہائو کے باب میں ہے۔ اس کا بہائو یوں نہیں ہے جیسے گھڑی کی سوئیاں ایک آہنگ میں چلتی ہیں کہ مجھ پر گزرنے والا وقت ایک آہنگ یا ایک تنائو میں رہتا ہی نہیں ہے، شاید یہی سبب ہوگا کہ میرے وجود میں کہیں اندر اتھل پتھل ہوتی رہتی ہے اور میں ہر نئے لمحے میں وہ نہیں رہتا جو پہلے لمحے میں ہوتا ہوں۔ میں نے اپنے تخلیقی عمل کو بھی اسی (سید اشرف کے لفظوں میں٭) ’مسلسل نئے پن‘ سے فیض حاصل کرتے پایا ہے۔ تخلیقی عمل کا یہ جوار بھاٹا چاند کی چودھویں رات کے سمندر کے بیچ کے پانیوں کو موج در موج اٹھتے اور ساحل پر سر پٹخنے جیسا ہے اور ایسا بھی کہ ساحل ہر بارنیا ہو جاتا ہے۔
کبھی کبھی کہانی مجھے یوں گرفت میں لیتی کہ میرا وجود اندر ہی اندر ایک مدار میں، یا پھر ایک محور پر گھومنے لگتا ہے، کچھ ایسے جیسے چاٹی میں مدھانی کی زد میں آیا گھمائو۔ پوری طرح بلو کر رکھ دینا میرے ہاں تخلیقی عمل کا محبوب چلن رہا ہے۔ تاہم ایسا نہیں ہے کہ ہر بار ایسا ہوتا ہے، کبھی کبھی تخلیقی عمل چپکے سے بھی اپنا کام کر جاتا ہے، اُس تیز دھار کٹارکی طرح جو سوئے بدن کا کوئی حصہ ایک ہی وار میں کاٹ لے، اور جب تک یہ وار ہو نہ چکا ہو، بے سدھ پڑے وجود کو اس بھنک تک نہ پڑنے دے۔
میں نے ان مختلف اور لگ بھگ متصادم کیفیات کے بیچ پڑنے والے وقفوں کو پاٹنے کے لیے کچھ نہ کچھ پڑھتے رہنے کی عادت مستحکم کرلی ہے۔ تنقید لکھنا، اسی کا شاخسانہ ہے جب کہ فکشن لکھنا تخلیقی لمحوں کی عطا۔ مجھے لگتا ہے اگر یہ تخلیقی لمحے، اپنے نئے پن کے ساتھ، مجھ پر یوں مہربان نہ ہوتے تو میں کب کا تڑپ تڑپ کر مر گیا ہوتا۔ مجھے میرے فکشن نے مرنے سے بچا لیا ہے۔ اور یہ میرا فکشن ہی ہے جو مجھے بچائے رکھ سکتا ہے۔
اب اگر میں پلٹ کر دیکھتا ہوں تو صاف صاف نظر آتا ہے کہ تخلیق کار کی حیثیت سے میں جہاں جہاں اور جتناجتنا اکیلا ہوتا چلا گیا ہوں اتنا ہی میرے ہاں تخلیق ہونے والا فن پارہ مختلف ہوا ہے۔ اِسی تجربے کی اَساس پر میں نے یہ جانا ہے کہ تخلیقی عمل میں کسی سہارے اور مرعوبیت کے بغیر آگے بڑھنے سے ہی اپنے وجدان اور اپنی روح کو بیدار رکھا جاسکتا ہے۔
میں نے اپنی کتاب ’’اردو افسانہ :صورت و معنی ‘‘ میں جو بات کہی تھی وہ یہاں بھی دہراکر رخصت چاہتا ہوں۔ اور یہ بات یوں ہے کہ میں تخلیقی ریزوں کو الگ الگ نہیں بلکہ پورے تخلیقی تجربے کو ایک نامیاتی وحدت میں دیکھنے کی طرف مائل رہتا ہوں۔ یہ جومجھے عادت سی ہو چلی ہے کہ جب تک اَفسانہ مجھے اپنے پورے وجود کی چھب دکھا نہ دے میں اسے لکھنے بیٹھ نہیں سکتا تو اس کے پیچھے بھی غالباً طبع کا یہی میلان ہے۔
جب میں یہ کہتا ہوں کہ میں پہلے پورے افسانے کو اپنے اندر بننے دیتا ہوں ‘ اپنی جزیات سمیت‘ اور پھر اسے کاغذ پر منتقل کرتا ہوں تو اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں ہے کہ لکھتے ہوئے کہانی عین مین وہی رہتی ہے جیسی اس نے پہلے چھب دکھائی تھی۔ میرے ساتھ اکثر یہ ہوتا ہے کہ کہانی جوں جوں آگے بڑھتی توں توں نئی وسعتوں اور نئے نئے امکانات کے دریچے اس پر خود بہ خودکھلتے چلے جاتے ہیں۔ اور جب افسانہ مکمل ہوتا ہے تو اپنی کل میں اتنا نیا اور مختلف ہوتا ہے کہ خود مجھ پر حیرتیں ٹوٹ برستی ہیں۔ اقبال نے کہا تھا:’’ایک سر مستی و حیرت ہے تمام آگاہی‘‘۔ میرے افسانوں اور ناول کا یہ مجموعہ اسی سرمستی کی عطا اور انہی حیرتوں کا باغ ہے۔
اس مجموعے میں شامل کتب کی پہلی اشاعتوں کے باب میں ضروری معلومات یہاں درج کیے دیتا ہوں:
۱۔ افسانوں کی پہلی کتاب ’’بند آنکھوں سے پرے ‘‘ ۱۹۹۴ء میں الحمد پبلی کیشنز لاہور سے شائع ہوئی تھی، کتاب کا سرورق : آفتاب عالم نے بنایا تھا جب کہ پہلا فلیپ احمد ندیم قاسمی نے اور دوسرا ممتاز مفتی نے لکھا تھا۔ کتاب کا دیباچہ محمد منشایاد کا تھا۔ الحمد پبلی کیشنز نے یہ کتاب شرکت پرنٹنگ پریس لاہور سے طبع کروائی تھی۔
۲۔ افسانوں کا دوسرا مجموعہ ’’جنم جہنم‘‘ استعارہ اسلام آباد سے ۱۹۹۸ء میں شائع ہوا تھا۔ اس کے سرورق پر Neil Jeffries Diver کی پینٹنگ تھی۔ دیباچہ پروفیسر فتح محمد ملک نے لکھا تھا۔ استعارہ نے یہ کتاب، اے آر پرنٹرز، اسلام آباد سے طبع کروائی تھی۔
۳۔ ’’ مرگ زار ‘‘ میرے افسانوں کاتیسرا مجموعہ ہے جس کی پہلی اشاعت ۲۰۰۴ء میں اکادمی بازیافت کراچی سے ہوئی۔ پرنٹر کا نام کتاب پر نہیں ہے تاہم کمپوزنگ کرنے والے ادارے کا نام لیزر پلس، اردو بازار کراچی ہے۔ کتاب کا دیباچہ مبین مرزا نے لکھا ہے جب کہ پس سرورق پر ممتاز مفتی، احمد ندیم قاسمی، ڈاکٹر اسلم فرخی، پروفیسر فتح محمد ملک، ستیہ پال آنند، منشایاد اور رشید امجد کی آرا موجود ہیں۔
۴۔ افسانوں کا چوتھامجموعہ’’آدمی‘‘ مجموعہ ۲۰۱۳ ء میں مثال پبلشرز فیصل آباد نے بی ایچ پرنٹرز، لاہور سے طبع کروایا تھا۔ اس مجموعے کا سرورق Chennu سے مستعار ہے جب کہ پس سرورق دیباچے سے ہی چند سطریں دے دی گئی ہیں۔
۵۔ اس مجموعے میں شامل افسانوں کی پانچویں کتاب ’’سانس لینے میں درد ہوتا ہے‘‘ کا سال اشاعت، اب ۲۰۱۹ ہے، اس کتاب کے کچھ افسانے قبل ازیں ادھر ادھر جرائد میں چھتے رہے اور کچھ میرے افسانوں کے انتخاب’’دہشت میں محبت‘‘ کا حصہ بھی بنے مگر ایک کتاب میں ۲۰۱۹ میں مجتمع ہو پائے تھے، جسے بک کارنر جہلم نے بہت اہتمام سے شائع کیا تھا۔ کتاب کا سرورق سمیعہ سعد کا بنایا ہوا ہے۔
۶۔ اس مجموعے کی چھٹی اور آخری کتاب ’’مٹی آدم کھاتی ہے‘‘ میرا وہ ناول ہے جو ۲۰۰۷ء میں اکادمی بازیافت کراچی سے شائع ہوا تھا۔ اس ناول کادیباچہ شمس الرحمن فاروقی نے لکھا ہے۔ کتاب کے سرورق پر معروف بنگالی مصور منیرالاسلام کی ایک خوب صورت پینٹنگ ہے جب کہ پس سرورق کی عبارت شمس الرحمن فاروقی کے دیباچہ سے ہی ایک اقتباس پر مشتمل ہے۔
اپنی مصروفیات کے سبب ترتیب و تدوین کا یہ کام معرض التوا میں پڑا رہا۔ خدا کا شکر کہ برادر عزیز توقیر عباس مدد کو آئے۔ انہوں نے جس طرح اس مجموعے کا ایک ایک لفظ پڑھ کر متن کو خامیوں سے پاک کرنے کی پر خلوص کوشش کی ہے اس کے لیے میں ان کا احسان مند ہوں۔ میں برادرِعزیز افضال احمد کا احسان مند ہوں کہ انہوں نے ان کتب کو ایک مجموعے میں یکجا کرکے سنگ میل جیسے بڑے ادارے سے اشاعت کا اہتمام کیا۔
ان کہانیوں کو پڑھ کر آدمی پریشان ہو سکتا ہے…ہوا۔ لفظ سنوارنے والے کو داد دے سکتا ہے … دی۔ مسلسل نئے پن…تکرار کی حد تک نئے پن کو محسوس کرکے دنگ ہو سکتا ہے…وہ بھی ہوا۔ بس ایک چیز نہیں ہوئی کہ ان کہانیوں کو پڑھنے کا حق ادا نہیں ہوا…کوشش کے باوجود ابھی ان میں ڈوبنا ہے۔
سید محمد اشرف بنام محمد حمید شاہد(۱۴۔ ۱۔ ۱۷)
(یہ تحریر حال ہی میں سنگ میل سے شائع ہونے والے ’’مجموعہ محمد حمید شاہد:حیرت کا باغ‘‘ میں بہ طور مقدمہ شامل ہے)
