تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
سماجیصنف/ جینڈرعلمیکالمکلچر، آرٹ

پوسٹ ماڈرن فیمنزم : ایک تقابلی جائزہ (2) — وحید مراد

by وحید مراد 11/06/2021
written by وحید مراد 11/06/2021
419

پوسٹ ماڈرن فیمنزم (Postmodern Feminism):

پوسٹ ماڈرن فیمنزم کا بنیادی مقصد معاشرے میں پائے جانے والے ان پدرسری اصولوں کو غیر مستحکم کرنا ہے جو صنفی عدم مساوات کا باعث بنتے ہیں۔ عام فیمنزم سے اسکے تین بنیادی اختلافات ہیں۔ پہلا یہ کہ مین اسٹریم فیمنزم کے جدید تصورات خواتین اورمردوں کے مابین صنفی اختلافات پر زور دیتے ہیں جبکہ ہر صنف کے اندر موجود اختلافات کو نظر انداز کرتے ہیں۔

خواتین کے مابین پائے جانے والے اختلافات کو قبول کرنے اور انکے حق میں اظہار کرنے کیلئے پوسٹ ماڈرن فیمنزم، نظریہ لزومیت (essentialism)، عالمگیر سچائیوں (universal truths) اور فلسفہ کومسترد کرتا ہے۔ اسکا خیال ہے کہ یہ نظریات تمام عورتوں پر آفاقی سچائیوں کا اطلاق کرتے ہوئے انکے انفرادی تجربات کو محدود کرتے ہیں اور انکے پس منظر میں وہ مردانہ توقعات بھی شامل ہوتی ہیں جن کے تحت وہ عورت کو ایک خاص کردار میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ [i]

پوسٹ ماڈرن فیمنزم کا دوسرا اختلافی نکتہ یہ ہے کہ ‘صنف’ کا تصور ایسے ڈسکورس سے تشکیل پاتا ہے جسے ہم وقت کے ساتھ ساتھ سیکھتے اور اپناتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ‘صنف’ نہ فطری چیز ہے اور خلقی وجبلی بلکہ اسکے بجائے یہ اس طرح تشکیل پاتی ہے جس طرح ہم گفتگو کرتے ہیں یا اپنا عکس خود دوسروں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

پوسٹ ماڈرن فیمنزم کا تیسرا دعویٰ یہ ہےکہ خواتین کی مختلف معاشرتی خصوصیات کی وجہ سے ‘پدسری’ کا اثر مختلف انداز سے ہوتا ہے مثلاً ایک مڈل کلاس سفید فام عورت کی نسبت ایک غریب سیاہ فام عورت پر اسکے اثر کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ یہ نظریہ تھیوری آف انٹرسیکشنلیٹی (intersectionality) سے اخذ شدہ ہے جس کے تحت اس بات کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے کہ حیاتیاتی، معاشرتی اور ثقافتی درجہ بندی بیک وقت متعدد سطحوں پر کس طرح عمل کرتی ہے۔ یہ ایک ایسا فریم ورک ہے جو ہمیں اس بات کی پہچان کرنے کے قابل بناتا ہے کہ کس طرح ناانصافی اور عدم مساوات کے نظام ہر سطح پر موجود ہیں۔ [ii]

پوسٹ ماڈرن فیمنزم دراصل پوسٹ ماڈرن نظریہ اور فیمنسٹ تھیوری کا ملاپ ہے اور اس میں تنقید و تجزیہ کیلئے مباحثوں، کئی ڈسکورس تخلیق کرنے، متن کو ڈی کنسٹرکٹ کرنے (deconstructing) اور موضوعیت (subjectivity) کو فروغ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ معاشرے میں پائے جانے والے تضادات پر توجہ مبذول کراتے ہوئے اس بات کا تجزیہ کرتا ہے کہ زبان صنفی امتیازات اور تعصبات کو کس طرح متاثر کرتی ہے لیکن سب فیمنسٹ اسے قبول نہیں کرتے۔ کچھ کا خیال ہے کہ فیمنسٹ تھیوری جنسی تعصبات (Sexism) پر جو شدید حملہ کرتی ہے اسکی شدت کوپوسٹ ماڈرن فیمنزم کے ذریعے کمزور کردیاجاتا ہے۔ [iii]

پوسٹ ماڈرن فیمنزم میں مرد-عورت کٹیگری کو اہم درجہ بندی کے طورپر قبول کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگ سیمون دی بووا کے اتباع میں عورت کو ‘دوسرا کردار role of other’ کی حیثیت سے دیکھتے ہوئے معاشرے کے ڈھانچے اور غالب نظم( پدرسری) کے مختلف پہلوئوں پر تنقید کرتے ہیں۔ تاہم بہت سے پوسٹ ماڈرن فیمنسٹ، فیمنزم کے لیبل کو مسترد کرتے ہیں۔ انکے خیال میں وہ تمام آئیڈیالوجیز جو ‘ازم’ کہلاتی ہیں وہ لزومیت (essentialist) کے تصور کی عکاسی کرتی ہیں جبکہ پوسٹ اسٹرکچرل فیمنزم اورپوسٹ ماڈرن فیمنزم کی توجہ کا مرکز تنوع کی حتمی قبولیت(ultimate acceptor of diversity)، متعدد سچائیاں(multiple truths)، متعدد کردار (roles) اور متعدد حقائق (realities) ہیں۔ اس میں عورت بننے کی یک طرفہ نوعیت (one-way to be a women) اور ‘ لازمی فطرت essential nature’ کی نفی کی جاتی ہے۔ [iv]

فیمنسٹ آئیڈیالوجیز کا تقابلی جائزہ:

پوسٹ ماڈرن فیمنزم کا نقطہ نظردیگر فیمنسٹ آئیدیالوجیز سے نظریاتی طورپر الگ ہے۔ لبرل فیمنزم کی توجہ بنیادی طورپر ‘مساوی مواقعequal opportunity’ اور’میدان کو برابر کرنے leveling the playing field’پر مرکوز ہے۔ یہ علم کی نوعیت (nature of knowledge) یا انسانی تعامل کی ساخت (structure of human interactions)پر سوال اٹھانے کے بجائے اس ڈھانچے کے اندر وقوع پذیر ہونے واقعات(events) پر بات کرتا ہے۔ یہ جان لئے جانے والے واحد سچ (single knowable truth) کےمفروضہ کو قبول کرتے ہوئے، اس یقین کے ساتھ اس راہ پر گامزن ہے کہ تحقیق کے قبول شدہ طریقہ کار (accepted methodologies)کو استعمال کرتے ہوئے مختلف طریقے استعمال کئے جا سکتے ہیں۔

ریڈیکل فیمنزم کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ معاشرے میں مرد-عورت کی تقسیم کتنی گہری ہے؟ مردانہ تسلط کے معاشرے میں عورت کو مخصوص صنفی کردار ادا کرنے پر کس طرح مجبور کیا گیا اور عورت کی جنس کو مردانہ مفاد کیلئے کس طرح استعمال کیا گیا۔ خواتین کو تمام شعبہ ہائے زندگی میں امتیازی سلوک اور جبر کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان کے نزدیک مرد اور عورت دو الگ انواع (species)ہیں جن میں کوئی قدر مشترک (commonality) نہیں اس لئے خواتین کو خواتین کے درمیان رومانوی تعاملات تلاش کرنے چاہیے۔ تبدیلی کیلئے ریڈیکل لزبئین فیمنزم کی تجویز ہے کہ عورتوں کی الگ کمیونیٹیز بنا کر وہاں ذو جنسیت (نر اور مادہ دونوں خصوصیات و کرداروں کا اظہار androgyny, bisexuality) کو اپنا لیا جائے۔

پوسٹ ماڈرن فیمنزم اورجولیا کرسٹیوا :

پوسٹ ماڈرن فیمنزم کے سلسلے میں کئی اسکالرز نے کام کیا لیکن ان میں جولیا کرسٹیوا(Julia Kristeva) کا کام بہت اہم ہے۔ اس نے یہ نظریہ مسترد کیا کہ حیاتیاتی مرد اور عورت، بالترتیب مذکر اور مونث ہوتے ہیں۔ اس بات پر زور دینا کہ مرد اور عورت اپنی اناٹومی(anatomy) کی وجہ سے مختلف ہوتے ہیں، دونوں کو ایک جابرانہ ڈھانچے (repressive structure) میں فٹ ہونے پر مجبور کرنا ہے۔ جولیا کرسٹیوانے فیمنزم کے لیبل کو تو قبول کیا لیکن اسے مستقل طورپر ‘عورت کا نقطہ نظرwomen perspective’ قرار دئے جانے کو مسترد کیا۔ فیمنسٹ تھیوری کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے اسکی فلسفیانہ کاوش کا ایک اہم کردار ہے اوروہ عورت کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے بھی کوشاں ہے لیکن مین اسٹریم فیمنزم کے ساتھ اسکاتعلق مبہم سمجھا جاتا ہے یہی وجہ ہےکہ بہت سے فیمنسٹ اسکالر اسے فیمنزم کانقاد تصور کرتے ہیں۔

کرسٹیوا کےخیال میں کسی فرد کو’ عورت’ قرار دینا جس قدر لغو ہے اسی قدر اسے ‘ مرد’ قرار دینا بھی مضحکہ خیز ہے۔ ایک فرد کو تقریبا یا کسی قدر(almost) عورت قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ ابھی بہت سے مقاصد ہیں جو خواتین کو حاصل کرنا ہیں مثلاً اسقاط حمل و مانع حمل کی آزادی، بچوں کیلئے ڈے کئیر سنٹرز، ملازمت میں مساوات وغیرہ وغیرہ۔ جب تک یہ مقاصد حاصل نہیں ہوجاتے ‘عورت’ کو ایک نعرے یا اشہار کے طورپر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر گہرائی میں دیکھا جائے تو ‘عورت’ جیسی کوئی چیز نہیں پائی جاتی بلکہ شاید یہ ایسی چیز ہے جس کا نظام وجود (order of being)سے کوئی تعلق ہی نہیں پایا جاتا۔ کرسٹیوا عورت کے مسائل کو دیگر اقلیتی گروہوں کے مسائل کی طرح دیکھتی ہے جیسے یہودی بطور مذہبی اقلیت، ہم جنس پرست، نسلی و لسانی اقلیتیں وغیرہ۔ دیگر پوسٹ ماڈرنسٹ فیمنسٹ اسکالرز کی طرح وہ بھی زبان کے استعمال کو ایک خاص اہمیت دیتی ہیں۔ [v]

پوسٹ ماڈرن ازم کی تعریف شاید اس طرح کی جا سکتی ہے کہ یہ معاشرے میں عدم استحکام (destabilization)کی ایک ایسی صورتحال ہے جوزبان، علم، تصورات، خیالات، نسل، جنس اور ثقافت کے تنوع (diversity)کے ذریعہ پیش آئی۔ علم کے تنوع سے سچائی کے بارے میں تشکیک(skepticism) پروان چڑھتی ہے اور’ہم جنس پرستی’ کے حوالے سے پائی جانے والی کشادگی(openness) کی وجہ سے جنسی شناخت (sexual identity)کے بارے میں غیر یقینی صورتحال جنم لیتی ہے۔ پیشہ ورانہ انتخاب(choice) کے حوالے سے لوگوں کی رضامندی(willingness)، مخالف جنس اور دیگر گروہوں کے بارے میں پہلے سے مختص کردار(reserved roles) کے بارے میں کئی نئے امکانات پیدا کرتی ہے لیکن اسکے ساتھ ساتھ بدنظمی اور عدم استحکام کا باعث بھی بنتی ہے۔ اب سوال اور مسئلہ یہ کہ اس تنوع کےساتھ کیسے زندہ رہا جائے؟ تنوع کے اس ماحول میں بطور فرد اور قوم کس طرح نفسیاتی طورپر مستحکم رہا جائے؟ [vi]

اسکا جواب جولیاکرسٹیوا اپنی کتاب(Strangers to Ourselves) میں اس طرح دیتی ہے کہ ‘ تنوع خواہ وہ خیالات ونظریات میں ہو یا افراد اور اقوام میں، اسکے ساتھ رہنے میں مشکل اس لئے پیش آتی ہے کہ ہم اپنی ذات کے اندرپائے جانے والے دوسرے پن(otherness) کو تسلیم نہیں کرتے۔ ہم اپنے شعور میں پائے جانے والے رجحانات، میلانات اور خواہشات کوافراد اور گروہوں کی حیثیت سے نہیں پہچانتے۔

اپنے آپ کا نفسیاتی تجزیہ ہمیں اس قابل بنا سکتا ہے کہ ہم اپنی متنوع خواہشات اور رجحانات کو سمجھتے ہوئے افراد اور اقوام کے تنوع کا سامنا کرسکیں۔ اگر ہم گہرائی کے ساتھ اپنے اندر جھانکیں تو ہمیں بے شمار عجیب و غریب قسم کے خیالات و نظریات کے ساتھ اپنے عیب(flaws) اورانجانا پن (foreignness) نظر آئے گا۔ اگر ہم اپنے ناخوشگوار اور خطرناک احساسات کو پہچان لیں تو دوسروں کے اجنبی پن کے بارے میں ہمارا خوف کم ہوجائے گا اور اس طرح ہم ان کے اندر پائے جانے والے تنوع کے ساتھ زندگی گزارنے کیلئے بھی راضی ہو سکتے ہیں۔ یہ صرف آج کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری تاریخ انسانیت میں لوگوں کو مخالفین اور اجنبیوں کا سامنا کرنے میں مشکل پیش آتی رہی ہے۔ شاید حقیقت یہ ہے کہ اجنبیت خود ہمارے اندر پائی جاتی ہےاور اس دوسرے پن(otherness) اوربیرونی پن(foreignness) کا احساس ہی تنوع کے ساتھ گزارا کرنے میں ہمارا محرک بن سکتا ہے۔ [vii]

میری فرگ اور جوڈتھ بٹلر کے صنفی نظریات:

پوسٹ ماڈرن فیمنزم کو دیگر آئیڈیالوجیز سے الگ کرنے والا نقطہ نظر یہ ہے کہ جنس اور صنف، زبان کی تشکیل کردہ (language construct)ہے۔ یہ نظریہ خاص طور پر میری جو فرگ(Mary Joe Frug) اورجوڈتھ بٹلر(Judith Butler) نے اپنی کتاب’Gender Trouble’ میں پیش کیا۔ جوڈتھ بٹلر نے سیمون دی بووا (Simone de Beauvoir)، مشیل فوکو(Michel Foucault)، جاک لاکن(Jacques Lacan) اور لوس ایرگارے(Luce Irigaray)کے کام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ‘صنف’ ایک لازمی، حیاتیاتی اعتبار سے طے شدہ معیار(determined quality) یا موروثی شناخت (inherent identity)نہیں بلکہ معاشرتی اصولوں (societal norms) پر مبنی، ان سے تقویت پانے والا (reinforced)اور بار بار انجام دئے جانے والا(repeatedly performed) عمل ہے۔ صنف کی یہ باربار دہرائی جانے والی کارکردگی(performance) ایسا مظاہرہ کرتی ہے جس سے صنف کا خیال اور دو فطری مخالف جنسوں کی ضرورت کا وہم پیداہوتا ہے۔ سادہ الفاظ میں یہ کہہ سکتے ہیں صنف محض نقالی، تخمینہ اور ایک قسم کی تقلید ہے جس کی کوئی اصل نہیں۔ افراد، عورت اور مرد ہونے کے بجائے، عورت اور مرد کی طرح کردار ادا کرتے ہوئے دو الگ زمرے تخلیق کرتے ہیں اور اگر وہ یہ کردار نبھانے میں ناکام رہتے ہیں تو انہیں واضح طورپر منفی نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ [viii]

بٹلر کے مطابق ہم جو متفاوت شناخت(heterosexual identity) کا کردار ادا کرتے ہیں وہ ہماری کارکردگی سے قبل نہ مردانہ نسبت کا جوہر(essence of masculinity) ہوتاہے اور نہ نسوانیت (femininity)کا۔ ہم محض متفاوت شناخت کے ضوابط (regulatory heterosexual binarism) کی خدمت بجا لانے کے لئے اس کردار کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ علم کی دوسری اقسام کی طرح صنف بھی کسی عالمگیر سچائی کی پیداوار نہیں بلکہ زبان اور ڈسکورس کی طاقت کی پیداوار ہے اس لئے متفاوت جنس کا خیالی تصور(fantasized ideal) ہمیشہ مثالی اندازوں کے مطابق پورا نہیں اترتا اور اسکی کارکردگی کو ہمیشہ ناکامی کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔ پس بٹلر کے مطابق صنف ایک ایسی پرفارمنس ہے جو کسی زمرے میں استقامت کے ساتھ قائم رہنے کے بجائے صرف اپنے دعوے کی وضاحت کرنے کے حکم کی تعمیل کرتی ہے۔ اس لئے تمام نسائی ماہرین کو چاہیے کہ کسی بھی صنفی  زمرے میں کسی صنف کے ناموزوں رویے (manner of dissonance)کو قبول کرتے ہوئے تمام صنفی شناختوں میں اسکی تحلیل (dissolution) اور مرتکز ہونے کے میلان(convergence) کا خیر مقدم کریں۔ [ix]

میری جو فرگ(Mary Joe Frug) کے مطابق پوسٹ ماڈرن ازم کا ایک اصول یہ ہے کہ انسانی تجربات زبان کے اندر ہوتے ہیں۔ طاقت کا استعمال براہ راست جبر کی صورت میں بھی ہوتا ہے اور زبان بھی اسے مختلف اندا ز سے ایک جابرانہ شکل دیتی ہے۔ زبان میں جبر کے اظہار میں اضافے اور کمی کرنے کے دونوں امکانات پائے جاتے ہیں۔ میری جوفرگ کا مزید کہنا ہے کہ چونکہ زبان ہمیشہ تعبیر مزید کیلئے کھلی ہوتی ہے اس لئے اسے جبر کے حق میں یااسکے خلاف استعمال کرنے کا عمل ہی سیاسی جدوجہد کا ایک ممکنہ نتیجہ خیز مقام ہے۔

فرگ کا بیان کردہ دوسرا پوسٹ ماڈرن اصول یہ ہے کہ جنس کوئی فطری چیز نہیں اور نہ ہی یہ کوئی طے شدہ، متعین یا قطی چیز ہے۔ بلکہ جنس، نظام معنی کا ایک حصہ ہے جو زبان سےتشکیل پاتا ہے۔ فرگ کا استدلال ہے کہ ثقافتی میکنزم۔ ۔ ۔ خواتین کے جسم کومعنی عطا کرتا ہے اور پھر یہی ثقافتی میکنزم، اصناف کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کو قدرتی قرار دیتے ہوئے ان معنی کی وضاحت بھی کرتا چلا جاتا ہے۔ [x]

پوسٹ ماڈرن فیمنسٹ اسکالرز میں لیوس اریگارے (Luce Irigary)، کیتھرائن اےمیک کینن (Catharine A MacKinnon)، جونا جے ہاروے (Jonna J. Harway)، ڈورس لیسنگ (Doris Lessing)، سیلا بن حبیب (Seyla Benhabib)، سوزن ہیک مین (Susan Hekman) اور دیگر بھی شامل ہیں لیکن سب کے خیالات کا احاطہ کرنا یہاں ممکن نہیں۔

اس مضمون کا تیسرا حصہ اس لنک پہ پڑھیں


References

[i] Wallin, Dawn C (2001). Postmodern Feminism and Educational Policy Development. https://mje.mcgill.ca/article/view/8552

[ii] “Post-modern Feminism” Tutor2u. Retrieved from https://www.tutor2u.net/politics/reference/post-modern-feminism

[iii] Tong, Rosemarie (1989). “Feminist thought: a comprehensive introduction” Retrieved from https://archive.org/details/feministthoughtc00tong

[iv] Butterick, George F. (1980) “Charles Olson and the Postmodern Advance” Retrieved from https://core.ac.uk/download/pdf/61172717.pdf

[v] Tong, Rosemarie (1989). “Feminist Thought: A Comprehensive Introduction”. Retrieved from https://pages.uoregon.edu/munno/OregonCourses/REL408W03/REL408TongSummaries/TongSummaries.htm

[vi] Whelan, Winifred(2006) “Postmodernism in the work of Julia Kristeva” Retrieved from https://www.tandfonline.com/doi/abs/10.1080/0034408990940304

[vii] Kristeva, Julia (1989) “Strangers to ourselves” Translated by Leon S, Roudiez. Retrieved from https://www.ces.uc.pt/ficheiros2/files/Julia_Kristeva_Strangers_to_Ourselves.pdf

[viii] Butler, Judith(1995) “Feminist Contentions: A Philosophical Exchange” Retrieved from https://edisciplinas.usp.br/pluginfile.php/4914435/mod_resource/content/0/%5BSeyla_Benhabib%20et%20al%5D_Feminist_contentions__.pdf

[ix] Butler, Judith(1995) “Feminist Contentions: A Philosophical Exchange” Retrieved from https://edisciplinas.usp.br/pluginfile.php/4914435/mod_resource/content/0/%5BSeyla_Benhabib%20et%20al%5D_Feminist_contentions__.pdf

[x] Frug, Mary Joe (1992). “A Postmodern Feminist Manifesto (An Unfinished Draft)”. Retrieved from https://www.jstor.org/stable/1341520?seq=1

Facebook Comments Box
absolute equalityabstract structureAlbert CamusAlex Callinicosanal driveandrogynyAngela McrobbieArtificial Intelligenceattackerbinary oppositionbinary oppositionsbisexualitybuzzwordCatharine A MacKinnonClaude Levi Straussdeconstructiondestabilizationdetermined qualityDick Hebdigediscursive system of representationDoris LessingefficiencyEnlightenmentepistemological and moral relativismepistemologyequal opportunityessence of masculinityexistence precedes essenceExistentialismfemininityflawsforeignnessFredric JamesonGender TroubleGilles DeleuzeGod is deadgrand narratives and ideologiesheterosexual identityhierarchiesIain Chambersinherent identityintersectionalityirreverenceJacques DerridaJacques LacanJaques LacanJean BaudrillardJean Paul SartreJean-Francois LyotardJonna J. HarwayJudith ButlerJulia KristevaJurgen Habermasknowledge claimslanguage constructlocal variationsLouis AlthusserLuce IrigarayMan is deadMartin HeideggerMary Joe FrugMaurice Merleau PontyMichel FoucaultModernismmultiple truthsnatural birthnothing is outside the textorder of beingothernessPastiche culturepenis envyperformativityPluralismplurality of languagePost-StructuralismPostmodernismpower ad counter powerproducer of cultureproducer of speciesRealismreductionismRoland BarthesrolesRoman JakobsonSecond SexSexismsexual identitySeyla BenhabibSimone de Beauvoirskepticismskepticism) اور جدیدیت سے منسلsocio symbolic contractSoren KierkegaardSteven ConnerStrangers to OurselvesStructuralismSusan Hekmanteleological notionthe existential angstThe Order of ThingsThe Postmodern Condition: A Report on Knowledgetheoretical constructionsvalue systemsvictimwomen perspectiveآفاقی تصوراتاخلاقیاتادارہ جاتی تنقیدادبی تنقیداستعداداسٹیون کانراقداری نظامالبرٹ آئن اسٹائنالبرٹ کیمیالیکس کالینیکوسانجانا پنانجیلا میکروبیانسان ختم ہوگیاانسانی فطرتای ان چیمبرزبائنری مخالفتبرگساںبشریاتپس جدیدیتپس ساختیاتپوسٹ اسٹرکچرل ازمپوسٹ ماڈرن ازمپوسٹ ماڈرن فیمنزمپوسٹ ماڈرن نظریہ علمتشکیکتکثیریتتھیوری آف انٹرسیکشنلیٹیثقافت کی تخلیقثقافتی درجہ بندیثنائی مخالفتٹی ایس ایلیٹٹیکنالوجیجاک لاکنجدیدیتجرجن ہیبر ماسجنسی تعصباتجنسی شناختجوڈتھ بٹلرجولیا کرسٹیواجونا جے ہاروےجیلس ڈیلوزجین برڈل یارڈچارلس ڈارونحقیقت پسندیحملہ آورخدا ختم ہو گیا ہےخود شعوری و خود پسندی کے رجحاناتدوسرے پنڈک ہیبجڈورس لیسنگڈی کنسٹرکشنروشن خیالیرولینڈ بارٹسرومن یاکبسنریڈیکل فیمنزمزبان کی کثرتیتژان پال سارترژان فرینسوالائی ٹارڈسائنسساختیاتسچائیسرمایہ یا ریاست کی خدمتسماجی علامتی معاہدےسورن کیارکیگارڈسوزن ہیک مینسیاسیسیلا بن حبیبسیمون دی بوواشکارطاقت اور انسداد طاقتطے شدہ معیارعدم استحکامعضو تناسل کی حسدعقلیتعلت و غایتعلمی دعووںعلمی واخلاقی اضافیتعمرانیاتعورت کا نقطہ نظرعیبفرائیڈفرنچ فیمنزمفریڈرک جیمسنفطری ولادتفلسفہفلسفہ سائنسفلسفی یاک ڈریڈافن تعمیرفنون لطیفہفنون لطیفہ ثقافتفیمنسٹ تھیوریک مہابیانیہکارکردگیکچھ بھی متن کے باہر نہیں ہوتاکلاڈ لیوی اسٹراسکمپوٹرکیتھرائن اےمیک کیننلبرل فیمنزملسانیاتلفظی تکرارلوئس التھاسرلوس ایرگارےمارٹن ہاڈیگرمارکسزممتعدد حقائقمتعدد سچائیاںمتعدد کردارمتفاوت شناختمذہبی عقیدےمردانہ نسبت کا جوہرمساوی مواقعمشیل فوکومصنوعی ذہانتمطلق مساواتمعاشرتی ترقیمعاشیمعاشیاتمقعدمورس مرلیو پونٹیموروثی شناختمیری جو فرگنٹشےنسل انسانی کی تخلیقنسوانیتنظام وجودنظریاتی تعمیراتنظریہ تخفیفنفسیاتہمارے حد علموجود جوہر سے پہلے ہےوجودی کربوجودیتورجینا وولف
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
وحید مراد

previous post
موسمی آفتیں: پانچ اہم سوال؟ (تیسرا باب) — بل گیٹس
next post
پوسٹ ماڈرن فیمنزم : ایک تقابلی جائزہ (3) — وحید مراد

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

کراچی سے حافظ نعیم الرحمٰن کے نام کھلا...

06/07/2025

30/03/2025

30/03/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.