تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسی

عمران خان اور تبدیلی کا خواب —- گل رحمان ہمدرد

by دانش ڈیسک 05/03/2021
written by دانش ڈیسک 05/03/2021
168

عمران خان کی اخلاقی جراءت کومیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ کل کی تقریر میں وہ عزم وہمت کے پہاڑ نظر آۓ۔ انہوں نے لگی لپٹے بغیر یہ بات کہی کہ دو سابق فوجی آمروں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے اس ملک میں کرپشن بڑھی۔ جنرل ضیاء الحق جس نے 1985 میں غیر جماعتی انتخابات کرواکر نظریاتی سیاست اورسیاسی پارٹیوں کو قتل کیا اور اس ملک میں الیکٹیبلز کی سیاست کی بنیاد رکھی۔ بعد میں جنرل ضیاء کی پیدا کردہ یہ کرپٹ الیٹ اتنی طاقتور ہوگٸ کہ سیاسی پارٹیاں مجبور ہوگیٸں کہ اپنے نظریاتی ورکرز کے بجاۓ انہی الیکٹیبلز کو ٹکٹ دیں۔ سیاست میں کرپشن اور پیسے کا عمل دخل اس قوم کو جنرل ضیاء کا تحفہ ہے۔ بعد میں ایک اور فوجی آمر جنرل مشرف نے ان کرپٹ عناصر کودوہزار چھ۔ سات میں این آر او دے کر کرپشن کے اس عمل کو قانونی واخلاقی جواز بخش دیا۔ ۔ ۔ ۔

عمران خان نے قوم کو جھنجھوڑتے ہوتے ہوۓ کہا کہ کیا کرپشن ختم کرنا صرف میری ذمہ داری ہے ؟قوم جب کرپشن کرنے والوں پر پھول برساۓ گی تو صرف قانونی عمل کے زریعہ کرپشن ختم نہیں کی جاسکتی۔ اس نے درست طور پر قوم سے اپیل کی کہ کرپٹ ٹولہ پرپھول نہ برساٸیں۔ ان کا سماجی باٸکاٹ کریں۔ ۔ ۔

الیکشن کمیشن پر بھی کپتان نے خوب تنقید کی کہ وہ شفاف انتخابات منعقد کرنے میں ناکام ہوچکا ہے۔ ووٹ کو عزت دو کانعرہ لگانے والوں نے پیسے کے بل بوتے پر ووٹ کی بے توقیری کی۔ عمران خان نے ایک اہم سوال یہ بھی پوچھا کہ جو شخص کروڑوں روپے دے کر سینیٹربنا ہے ,وہ یہ پیسے ریکورکہاں سے کرے گا؟۔ ظاہر ہے کرپشن سےہی۔
عمران خان کا یہ اعلان بھی خوب تھا کہ حکومت میں رہوں یا نہ رہوں کرپٹ مافیا کے خلاف خون کے آخری قطرہ تک لڑوں گا۔ میں پوری قوم کوسڑکوں پر نکالنے لگا ہوں۔ اپنے اراکین اسمبلی کے بارے میں کہا کہ وہ اگرمجھے ووٹ نہیں دہتےتو یہ انکاقانونی اور اخلاقی حق ہے۔ اس پر مجھے خوشی ہوگی اگر وہ اس حق کو استعمال کریں میرےخلاف۔ ۔
کوٸ شبہ نہیں کہ عمران خان نے کم بیک کیا ہے۔ ایک عرصہ بعد ہمیں کپتان اپنے اصل روپ میں نظرآۓ۔ اپنے تمام مخالفین پرانہیں اخلاقی برتری حاصل ہے۔ یہی اس کا اثاثہ ہے۔ اوراسی کو لیکر اب وہ اپنی کور کنسٹچیونسی میں جارہے ہیں جہاں اس ملک کے پنسٹھ فی صد نوجوانوں کی اکثریت اپنی پوری شعوری قوت اور مکمل کمٹمنٹ کے ساتھ اپنے لیڈر کے ساتھ کھڑی ہے۔

جو لوگ سماجی علوم پر نظر رکھتے ہیں ,وہ جانتے ہیں کہ نظام تبدیل کرنا ایک سماجی عمل ہوتا ہے۔ یورپ کے ممالک تین چارسو سالوں کے ارتقاء کے بعد اس مقام تک پہنچے ہیں۔ خود نبی کریم ص کو تاٸیس سال لگے تھے۔ پھر بھی کچھ اصلاحات خلفاۓ راشدین کے دور میں جاکر کہیں ہوٸیں۔ عمران خان سے یہ توقع تو نہیں کہ وہ پانچ یا دس سالوں میں اس کرپٹ نظام کی اصلاح کردے گا کہ علمِ سماجیات کی رو سے یہ ممکن ہی نہیں۔ لیکن یہ توقع تو بہرحال رکھی جا سکتی ہے کہ تبدیلی کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ بلکہ انہوں نے تبدیلی کی بنیاد رکھ ہی دی ہے اکتوبر دوہزار گیارہ سے۔ تبدیلی آہستہ آہستہ ارتقاٸ انداز سے نفوذ پزیر ہوتی ہے۔ ماٸکیروسوشیالوجسٹ اسٹڈیز بتاتی ہیں کہ بیسویں صدی کی آخری دہاٸ کی جمہوری حکومتوں اور اکیسویں صدی کے پہلی دہاٸ کی فوجی حکومت کی بنسبت آج کا پاکستان بہت بہتر ہوچکا ہے۔ تبدیلی ایک ہمہ گیر عمل ہے جو سماج کے تما م شعبوں میں غیرمرٸ انداز میں جاری وساری رہتی ہے۔ جب سماج میں یہ تبدیلی آرہی ہوتی ہے تو اہل بصیرت کے سوا کسی کو نظر نہیں آتی۔ لیکن جب ایک طویل عرصہ کے بعد اس تبدیلی کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوجاتے ہیں تو تب عام لوگوں کو بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ اس تبدیلی کی بنیاد کب سے پڑنی شروع ہوٸ۔

پاکستانی سیاست میں تبدیلی کی بنیاد عمران خان نے اکتوبر دوہزار گیارہ کے اپنے لاہور کے تاریخی جلسہ سے رکھ دی ہے۔ وقت آگے بڑھتا رہے گاعمران خان کبھی حکومت اور کبھی اپوزیشن میں رہے گا اور تیس چالیس سال بعد ہم اس پاکستان کو دیکھ سکیں گے جس کا خواب عمران خان نے 1996میں دیکھا تھا۔ داٸمی تبدیلی کےلیۓ عمران خان پاکستانی سیاست میں ناگزیر تھا اور اب بھی ناگزیر ہے۔ یہاں میں یہ بھی واضح کردینا چاہتا ہوں کہ تبدیلی کے اس عمل میں عمران خان کے علاوہ دو اور شخصیات کا بھی بنیادی کردار رہا ہے۔ ان میں سے ایک جماعت اسلامی کے قاضی حسین احمد ہیں اور دوسرے پاکستان عوامی تحریک کر سربراہ علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری ہیں۔ پاکستان کی تاریخ عمران خان کے ساتھ ساتھ ان دوشخصیات کی جہد مسلسل کو بھی خراج تحسین پیش کرتی رہے گی۔

Facebook Comments Box
Imran KhanpmlnPoliticsPPPPTIاعتماد کا ووٹعمران خان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ڈاکٹر رشید امجد: اُردو افسانے کا ایک عہد رخصت ہوا —- محمد حمید شاہد
next post
حقوق نسواں، عورت مارچ اور ہماری ذمہ داریاں —- محمد ابوبکر شیخ

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.