تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادب

فیض، اردو افسانہ اور حقیقت نگاری — محمد حمید شاہد

by محمد حمید شاہد 13/02/2021
written by محمد حمید شاہد 13/02/2021
153

آپ کو فیض احمد فیض کا منشی پریم چند کی حقیقت نگاری کو نہایت بے دردی سے مسترد کر دینا تو یاد ہی ہو گا۔ نہیں تو یوں ہے کہ کچھ اشارے دے کر میں آپ کی یادداشت چمکائے دیتا ہوں۔ فیض کی یہ گفتگو آل انڈیا ریڈیو لاہور سے 18 جون 1941 ء کو نشر ہوئی تھی اور انہوں نے آغا عبدالحمید کو ان کے پریم چند کے حوالے سے “مجلس” میں چھپنے والے ایک مضمون پر آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا تھا :

” تم نے تو اس تحریرمیں پریم چند کو ٹالسٹائی بنا دیا اور دستو ئیوفسکی کا یوں ذکر کیا کہ وہ بھی چھوٹا معلوم ہونے لگتا ہے۔”

آغا عبدالحمید نے لاکھ وضاحتیں کیں اور ہزار دلیلیں دیں مگرفیض کا اصرار تھا کہ پریم چند کی حقیقت نگاری بہت حد تک محدود تھی۔ فیض کے مطابق:

‘حقیقت ایک جامع چیز ہوتی ہے اور اس کی وضاحت وہی شخص کر سکتا ہے جس کے ذہن میں سماج کا مجموعی تصور موجود ہو جبکہ پریم چند کے ذہن میں یہ تصور موجود ہی نہیں تھا۔ پریم چندصرف ایک ہی طبقے کی زندگی کو نمایاں کرکے دکھانے کے قابل تھے۔’

فیض صاحب کا اعتراض یہ بھی تھا:

‘پریم چند زندگی کے بہت سے پہلوؤں کے متعلق نہ صرف خاموش رہتے تھے بلکہ ان سے دانستہ چشم پوشی بھی کر لیا کرتے تھے۔’

یوں انہوں نے صاف صاف فیصلہ سنا دیا تھا کہ منشی پریم چند اور جو کچھ بھی ہوں حقیقت نگار ہر گز نہیں کہلائے جاسکتے تھے۔

یا د رہے یہ پریم چند کی وہی حقیقت نگاری ہے جس کی نظیر سید سبط حسن کو کہیں اور نہیں ملتی تھی۔ “افکار تازہ” میں آپ نے وہ تحریر یقینا دیکھی ہوگی جس میں سبط حسن نے پریم چند کی طرف سے پیش کیے گئے کسانوں کی آزادی کے تصور کو بہت سراہا تھا انہوں نے اس کی تعبیر کے باب میں کہا تھا کہ اس سے ان کی مراد سیاسی یا اقتصادی آزادی نہیں بلکہ تخلیقی عمل کی آزادی یعنی بشری آزادی تھی۔ سبط حسن کا موقف تھا کہ پریم چند کا یہ تصور روسو کی رومانیت نہیں بلکہ عین حقیقت شناسی تھی۔ انہوں نے اس کو ایک عظیم فن کار کی پرواز تخلیق کی معراج قرار دیا تھا۔ پریم چند کے ہیگل اور مارکس کے فلسفہ بیگانگی سے واقف ہونے کی بابت سید سبط حسن کو شک تھا تاہم وہ اس پر یقین رکھتے تھے کہ پریم چند کسانوں کے آزاد تخلیقی عمل کا موازنہ پرولتاریہ کے غیر آزاد تخلیقی عمل سے کیاکرتے تھے جس نے محنت کرنے والوں کو ہرقسم کی روحانی اور جسمانی آزادی سے محروم کر کے سرمائے کا غلام بنا دیاتھا۔

ایک ہی طبقے کی بھرپور نمائندگی پر پریم چندکو سید سبط حسن کا عین حقیقت شناس کہناجب کہ فیض کا اس طرز عمل کو سراسر ناقص قرار دے کر اسے حقیقت نگار ہی نہ ماننا یقینااب آپ کو بھی میری طرح کھلنے لگا ہو گا۔

صاحب! خدا لگتی کہوں تو افسانے میں حقیقت کا تصور شروع سے وہ نہیں رہا ہے جونئے نئے سائنسی اور مادی نظریوں کے انسانی نفسیات اور حواس پر شب خون مارنے کے بعد ہو گیا ہے۔ افسانے کا فسوں تو مادی حقیقتوں سے ذرا فاصلے پر ہی اپنا رنگ جماتا رہا ہے۔ یہ الگ بات کہ عین بیسویں صدی کے آغاز سے یہ احساس شدید ہو گیا کہ انسان عقلی اور مادی سہاروں اور حوالوں کے بغیر بہتر طور پر زندگی بسر نہیں کر سکتا۔ زندگی کی اس مجہول بہتری کے تصور کی زد میں انسان کی روحانی زندگی آگئی اور سچ پوچھیں تو ایک اعتبار سے مادی زندگی کے نئے تصور نے انسانی کے تخلیقی وجود کو ہی تلپٹ کرکے رکھ دیا تھا۔ انسانی تصور کی اڑان میں سو طرح کے رخنے پڑ چکے تھے۔ اردو افسانے کواپنی ابتدا ہی سے اسی نئے بنتے بگڑتے انسان سے معاملہ درپیش رہا۔ اردو تنقید عقلی اور اصلاحی رویوں پر زور دے رہے تھی لہذاافسانہ بھی ادبدا کر ادھر کو چل پڑا۔ کوئی مانے یا نہ مانے مگر یہ بھی واقعہ ہے کہ سائنسی رویے کلی طور پر انسانی جمالیات کا حصہ نہیں ہو سکتے اور اس کا سبب اس کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ سائنسی رویے اور مادی حقیقتیں سریت کو سرے سے مانتی ہی نہیں ہیں جب کہ سریت تخلیقی عمل کے محل سرا کا صدر دروازہ ہے۔

اچھا’ایسا بھی نہیں ہے کہ میں حقیقت کے سائنسی اور مادی تصور کو ادبی جمالیات سے کلی طور پر ہم آہنگ نہ ہونے کی وجہ سے تخلیقی عمل سے بارہ پتھر باہر کر رہا ہوں بلکہ سچ یہ ہے کہ میں افسانے کو حقیقت کے اس تصور کی طرف کھینچ لانے والوں کا ایک لحاظ سے احسان مانتا ہوں کہ انہوں نے انسانی لاشعور اور شعور میں ایک نئے طرح کے مگر مثبت تعلق کا علاقہ دریافت کرنے کی راہ دکھا دی تھی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ فطرت کو یکسر کاندھوں سے پیچھے اچھال کر بھول جانے والے واقعات اردو افسانے سے بے دخل ہوتے چلے گئے۔ تاہم سید سبط حسن اور فیض دونوں حقیقت کے جس تصور کو اہم گردانتے رہے ہیں میری نظر میں وہ حقیقت کا بہت اتھلا اور محدود تصور بنتا ہے۔ “ادب اور حقیقت” میں حسن عسکری نے بھی حقیقت کے اس تصور کورد کیا تھا ان کا کہنا تھا کہ آرٹسٹ کے لیے حقیقت نہ تو چھپر ہیں، نہ محل نہ کمیونسٹ کا اعلان نامہ۔ اس کے لیے توحقیقت ایک احساس ہے، ایک سنسنی ‘ایک سرمستی’ ایک ہسٹریا کا دورہ’ یا وہ جسے شکسپیئر نے ‘فائن فرینزی’ کہا تھا۔ حسن عسکری نے اس معاملے میں صاف صاف کہہ دیا تھا کہ آرٹسٹ کے لیے شعور اور حقیقت ایک چیز ہے۔ یوں دیکھیں تو حقیقت شاسی کے حوالے سے سید سبط حسن اور فیض احمد فیض کے ہاں حقیقت کے جو اختلافی علاقے دریافت ہوئے ہیں وہ اور بھی معمولی نوعیت کے لگنے لگتے ہیں۔ تخلیقی سطح پر حقیقت نگاری یہ نہیں ہے کہ ایک لکھنے والے نے زندگی کے کن کن گوشوں پر نظر کی اور کن کن طبقوں کو اہم جانا بلکہ میرے نزدیک تو حقیقت افروزی اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ لکھنے والا تخلیقی عمل کے دوران ایک بیکراں احساس کے زیر اثر ان عمیق جذبوں کو جگانے میں کامیاب ہو جائے جواس کی دھڑکنوں کو کائنات کے سینے میں گونجتی دھڑکنوں سے ہم آہنگ کردیں۔

انسانی فہم کے لیے اس کے ہونے کا احساس فی الاصل وہ علاقہ بنتا ہے جو بھیدوں سے بھرا ہوا ہے۔ ہونے کے مادی تصور پر قناعت کرنے والے افسانہ نگار حقیقت کے اس خارج سے جڑ جاتے ہیں جو بقول حسن عسکری شعور کا علاقہ ہیں۔ حقیقت کے اس جزوی علاقے کو اپنی کل کائنات بنا لینے والوں کا المیہ یہ رہا ہے کہ وہ نشاط ابدی سے بے گانہ ہو جاتے ہیں۔ جہاں جہاں اور جس جس نے حقیقت کے اس محدود تصور کے زیر اثر افسانہ نگاری کی وہ واقعہ نگاری کی سطح پر اتر آیا اور اس سطح کے نیچے جس روح کو تخلیقی عمل سے جاری ہو کر کائناتی حقیقتوں سے ہم آہنگ ہونا تھا ادھر متوجہ ہی نہ ہوسکا۔ یہ حقیقت سہی کہ انسان کو جسمانی سطح پر موت سے ہمکنار ہونا ہوتاہے اور یہ بھی بجا کہ انسان کو اس موت کے مکروہ پنجے سے نہیں بچایا جا سکتا مگر کیااس حقیقت کے زیر اثر یہ بھی لازم ہو گیا ہے کہ ہم انسان کے نصیب میں خود ہی تخلیقی جمالیاتی اور روحانی موت بھی لکھ دیں۔ فنا کے تصور کے ساتھ بقا کے تصور کو جوڑ لینے سے مادی حقیقتوں کی نفی نہیں ہوتی تاہم اس حقیقت کی محدود یت ختم ہو جاتی ہے۔ جو جو افسانہ نگار حقیقت کے محدود تصور کو غچہ دے کر کائناتی حقیقتوں سے جڑ گیا اس کے ہاں افسانے کا بیانیہ اکہرا نہیں رہا۔۔۔ اور یہی افسانے کی حقیقت نگاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فیض کی اسلام پسندی: دو ساتھیوں کی گواہی
Facebook Comments Box
Faiz Ahmad Faizfeaturedفیض احمد فیض
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
محمد حمید شاہد

محمدحمید شاہد اردو کے معروف افسانہ نگار، ناول نگار اور نقاد ہیں ۔ آپ 23 مارچ 1957 کو پنڈی گھیب ضلع اٹک (پنجاب) پاکستان میں پیدا ہوئے ۔ پنڈی گھیب سے میٹرک کے بعد زرعی یونیورسٹی لائل پور(فیصل آباد) سے ایف ایس سے کے بعد ایگری کلچر مضامین میں گریجویشن کی اور ایک بنکار کی حیثیت سے بتیس سال عملی زندگی سے وابستہ رہے۔ اس عرصے میں اندرون ملک شہر شہر گھومے، دیہی زندگی کو قریب سے دیکھا اور کئی ممالک کا دورے بھی کیے ۔ محمد حمید شاہد کی ادبی زندگی کاآغاز یونیورسٹی کے زمانے سے ہی ہو گیا تھا ۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے مجلہ "کشت نو" کے مدیر رہے۔ پہلا افسانہ بھی اسی زمانے میں لکھا۔ پہلی کتاب " پیکر جمیل" بھی یونیورسٹی کے زمانے میں لکھی ۔ افسانوں کا پہلا مجموعہ "بند آنکھوں سے پرے "تھا جب کہ "جنم جہنم"،"مرگ زار"اور "آدمی" آپ کے افسانوں کے دیگر مجموعے ہیں۔ "محمد حمید شاہد کے پچاس افسانے" معروف بزرگ ادیب اور شاعر ڈاکٹر توصیف تبسم کا منتخب کردہ ہے جب کہ محمد حمید شاہد کے نائن الیون کے پس منظر میں لکھے ہوئے منتخب افسانوں کو "دہشت میں محبت" کے نام سے غالب نشتر نے مرتب کیا تھا۔ محمد حمید شاہد کا ناول"مٹی آدم کھاتی ہے" کے نام سے چھپا اور مقبول ہوا ۔ فکشن کی تنقید محمد حمید شاہد کی ترجیحات کا ایک اور علاقہ ہے ۔ "ادبی تنازعات"،"اردو افسانہ:صورت و معنیٰ"، "اردو فکشن: نئے مباحث"،"کہانی اور یوسا سے معاملہ " کے علاوہ "سعادت حسن منٹو:جادوئی حقیقت اور آج کا افسانہ" اس حوالے سے چند معروف کتب ہیں ۔ اردو نظم پر تنقید کی کتاب"راشد ،میراجی، فیض" کے علاوہ آپ کی نثموں کی کتاب لمحوں کا لمس اور بین الاقوامی شاعری کے تراجم پر مشتمل کتاب "سمندر اور سمندر" بھی بہت معروف ہیں۔ حکومت پاکستان نے محمد حمید شاہد کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کے لیے صدارتی سول ایوارڈ "تمغہ امتیاز" 2017 کو دیا۔

previous post
فیمنزم کا قضیہ اور ہم — ضیاء الرحمن فاروق
next post
ہاتھ والی لکھائی کا مستقبل کیا ہے؟ ہینڈ رائٹنگ بمقابلہ کِی-بورڈ

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.