تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتنقیدعلم و ادبکتابوں پر تبصرے

 حمیدہ شاہین کی تنقید اور تخلیقی عمل —- محمد حمید شاہد

by محمد حمید شاہد 27/11/2020
written by محمد حمید شاہد 27/11/2020
102

حمیدہ شاہین نے ’’دستک‘‘، ‘‘دشت وجود‘‘ اور ’’میں زندہ ہوں‘‘ کے وسیلے سے ایک الگ دھج کی شاعرہ کے طور پر اپنی شناخت مستحکم کرنے کے بعد تنقید کے میدان میں قدم رکھا ہے اور اپنی دوکتابوں ’’مطالعہ‘‘ اور ’’حرف کے روبرو‘‘ میں اُن سوالات کو بہ طور خاص موضوع بنایا ہے جن کے مقابل ہر جینوئین لکھنے والے کو ہونا پڑتا ہے۔ پہلا سوال تو یہی ہے کہ کیا زندگی اہم ہے یا اس کے سوالات؟ یہاں زندگی سے مراد زندوں کی طرح زندہ رہنا نہیں بلکہ کسی مصلحت اور کسی اقرار اور اطاعت کے خوش نما حصار میں مقید ہو کر سانسیں بھرنا اور مر جانا ہے جب کہ اپنے سوالات کے ساتھ جینا، نئی نئی راہیں تلاش کرنا اور وقت کا ساتھ دیتے ہوئے اس سے آگے نکلنے کی سعی کرنا تخلیقی سطح پر جینا ہے۔ حمیدہ شاہین نے اپنی تنقید میں شاعروں اور ادیبوں کو مرنے سے پہلے موت کی آغوش لینے کی بہ جائے زندگی کے انہی سوالات کے مقابل ہونے کی طرف راغب کرنا چاہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تخلیق کاروں کے ہاں نئے نئے تجربات اسی احساس سے ہی پھوٹ سکتے ہیں۔

حمیدہ شاہین کے ہاں غزل کہنا اور نظم لکھنا ایک سا تخلیقی عمل نہیں ہے۔ غزل کے بارے میں اُن کا کہنا ہے کہ یہ کائنات کے بھیدوں کو اپنے خوبصورت ڈرائنگ روم میں بلاتی اور ان سے ہاتھ ملاتی ہے۔ یہاں طشتریوں میں سجے ردیف اور قافیہ سے خاطر تواضع کی جاتی ہے اور جذبوں کی حدت سے ابلتے الفاظ کو بحر کے سنہرے سانچوں میں انڈیلا جاتا ہے۔ یہیں اوزان کے بلوریں ظروف گردش میں آتے ہیں۔ کہہ لیجئے یہ شان دار ضیافت علویت کا وہ احساس فراہم کرتی ہے جس کے لیے تخلیقی ذہن بے قرار ہوتا ہے۔ غزل کے تخلیقی عمل کو سجھانے کا یہ قرینہ اس صنف کی ایک عمدہ تخلیق کار کو ہی سوجھ سکتا تھا۔ نہ صرف اُنہیں سوجھا، انہوں نے اسی قرینے سے یہ بھی سجھادیا ہے کہ ’’غزل کا  ُحسن اسی ُحسنِ ترتیب میں ہے۔‘‘

نظم کا تخلیقی عمل وہ غزل کے تخلیقی عمل سے الگ کرکے دیکھتی ہیں۔ ایسا کرنے کے لیے وہ ’ڈرائنگ روم‘ سے باہر نکلتی ہیں اور اسے اس آزاد پرندے کی اڑان جیسا بنا دیتی ہیں جسے نئے نئے آفاق کی تلاش کی چیٹک لگ چکی ہوتی ہے۔ نظم کی مختلف ہیئتیں، موضوعات کا پھیلائو اور معانی کی وسعتیں بہ قول ان کے اسی جستجو کا پرتو ہیں اور جدید نظم کی مختلف سمتوں میں پرواز بھی اسی کھوج کا کرشمہ۔

حمیدہ شاہین نے اپنے تخلیقی تجربے سے بہ جا طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے دنیا جن اشیاء کو بے وقعت اوربے جان سمجھتی ہے وہ تخلیقی لمحات میں ایک تخلیق کار کے ہاں دھڑکتا ہوا وجود ہو جاتے ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ ایک تخلیق کار محض اشیاء کی دنیا تک محدود نہیں رہتا وہ اس سے کہیں پرے جاتا ہے۔ ایک بڑے تخلیق کار کی نشانی جو ان تحریروں سے میں اخذ کر پایا ہوں وہ یہ ہے کہ ایسے تخلیق کار کا دل شعورِ مقصدِ تخلیق سے زرخیزی ہوتاہے۔ احساس کی سطح پر اس زرخیز زمین سے سوالات کے اکھوے پھوٹتے رہتے ہیں۔ انہی کے لفظوں میں؛ ’شاعری سمیت تمام فنون لطیفہ کا مرکزی نقطہ یہ کھوج ہے کہ اپنے باطن میں کسی نقطئہ عظمیٰ کی تلاش کی جائے، اور یہ کہ خارج میں زندگی کو معنی دینے والے راستوں کی جستجو ہی اسے زیاں کاری سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔‘

یوں وہ انسانی وجود اور تخلیقی عمل کے درمیان ایک نہ ٹوٹنے والا رشتہ دریافت کرتی ہیں۔ یہ رشتہ ان کے نزدیک عمومی سطح قائم نہیں ہوتا بلکہ جس طرح ہر شخص کے خد و خال اور ڈی این اے اور خواب مختلف ہیں اسی طرح یہ رشتہ اور اس کی سطحیں بھی مختلف ہیں۔ یہیں سے ایک تخلیق کار دوسرے سے مختلف ہوتا ہے اور یہیں سے اس کی تخلیقات اپنی وسعت اور معیار کا پتادیتی ہیں۔

حمیدہ شاہین بہ طور خاص شاعروں سے مخاطب ہوتی ہیں اور بہ اصرار یہ کہتی نظر آتی ہیں کہ ہر شاعر کو اپنی پہچان کا سانچہ خود بنانا ہوگا کسی بنے بنائے سانچے میں اپنے فن کے خدو خال ڈھالنا تخلیقی عمل نہیں نقالی ہے۔ کسی جینوئن شاعرکا کلام اس کی پہچان تب ہی بن سکتا ہے کہ وہ اپنے جذبہ و احساس کو آنکھ بنا دینے پر قاد رہو۔

ایسے شاعروں کے لیے، کہ جن کے سخن کا خمیررومانیت میں گندھی ہوئی حقیقت نگاری سے اُٹھا ہے، ان کا مشورہ ہے کہ وہ زبان کی سطح پر لطافت کی کم از کم ایک لہر کاا ہتمام ضرور کریں جو قاری کے تخلیقی وجود کو مس کرتی گزرتی ہو۔ وہ زبان میں اکھاڑ پچھاڑ کی کچھ زیادہ حامی نظر نہیں آتیں۔ انہیں یاد ہے کہ لسانی تشکیلات کا ریلا بہت سے شعرا کو بہا کر لے گیا تھا اور بہت ہی کم تخلیق کار ایسے تھے جو اپنے قدموں پر سنبھل پائے تھے تاہم زبان کا لطیف اور تخلیقی سطح پر بدلنا انہیں اچھا لگتا ہے۔ وہ اسے تخلیقی حربے کے طور پر پسند کرتی ہیںکہ اس قرینے سے مروجہ لسانی ڈھانچے میں نئی حسیات کے لیے جگہ بن پاتی ہے۔

ایک تخلیقی تنقید نگار کے تنقیدی اصول عام طور پر خود اس کے اپنے تخلیقی وتیرے سے پھوٹتے ہیں۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ حمیدہ شاہین کے ہاں ایسا ہی ہوا ہے۔ مثلاً دیکھیے، جب وہ شاعری کو تیکنیکی شعبدہ بازی کی بہ جائے تخلیقی لہر کا کرشمہ بتا رہی ہوتی ہیں تو ہمارا دھیان خود بہ خود ان کے اس تخلیقی تجربے کی طرف ہو جاتا ہے جس میں کسی باطنی تربیت اور غیرمعمولی روحانی قوت کے زیر اثر تخلیقی لہروں کی سرکشی خودکار طریقے سے ایک منظم و مرتب حرکی جوہر میں تبدیل ہو رہی ہوتی ہے اور یہی ان کا اپنا تخلیقی قرینہ ہے۔ شاعری کی طرح حمیدہ شاہین کو وہ افسانے بھی خوش آئے ہیں جن میں افسانہ نگارنے کسی مصنوعی پیچ و خم کے ذریعے قاری کو جھٹکا دینے کی شعوری کوشش نہیں کی اور فنی مہارت سے نامانوس فضا اور نفسیاتی کرداروں کواجنبی ہونے سے بچا کر زندگی سے دور نہیں جانے دیا۔

کسی کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے اپنے تخلیقی وجود سے کھیلنے والی کے لیے تنقید بھی ایک کھیل کی طرح دلچسپ ہو گیا ہے۔ حمیدہ شاہین کے مطابق اس کھیل میں انہوں نے غزلوں کے قافیے کو ایک سے زائد ردیفوں کے ساتھ پڑھ کر آنکا کہ ردیف کی تبدیلی خیال اور اظہار کی رَو کو بھی بدل کر رکھ دیا کرتی ہے۔ کہیں اس کھیل کھیل میں وہ شاعری کا ایسا پُراسرارخطہ دریافت کرلیتی ہیں جہاں دیکھنا اور سننا گھل مل جاتے ہیں اورجہاں الفاظ کبھی آوازیں بناتے ہیں اور کبھی صورتیں ڈھالنے لگتے ہیں۔ شاعری کا یہ تصویری علاقہ ایسا ہے جس میں داخل ہوا جا سکتا ہے اور اس میں زندگی بِتائی جا سکتی ہے۔

حمیدہ شاہین کے لیے روایت بھی اہم موضوع ہوا ہے وہ ایک مضمون میں کہتی ہیں کہ روایت سے کلی انقطاع کے لیے ایک قاتلانہ دلیری درکار ہوتی ہے جو اکثر بھٹکا کر تخلیقی عمل کی راہ سے دور لے جاتی ہے۔ تاہم یہیں ان کا یہ ماننا بھی ہے کہ روایت ایساسرخ قالین نہیں ہے جوہر آنے والے کے استقبال کے لیے بچھتا چلاجائے۔ وہ کہتی ہیں ’’زمانے کی چھلانگوں سے Skiping کا عمل در آتا ہے کہیں کوئی منطقہ گم بھی ہوجاتا ہے، کہیں رخنہ پڑ جاتا ہے۔ فطرت اس کا بندوبست اسی طریقے سے کرتی ہے کہ ہر دَور میں ایسے تخلیق کار پیدا ہوتے ہیں جن میں سے کچھ تو گم شدہ منطقوں کی بازیافت کرتے ہیں اور کچھ رخنے پُر کرنے کا بیڑا اُٹھاتے ہیں۔ ‘‘ اُن کا یہ کہنا بھی ہے’’روایت کے رخنے اتنے چھوٹے بھی نہیں ہوتے کہ کسی ایک فرد کی مساعی سے پُر ہو سکیں۔ ہر کوئی اپنی ہمت اور وسعت کے مطابق حصہ ڈالتا ہے۔‘‘

انہوں نے شاعری کا تجزیہ کرتے ہوئے اپنے مضامین میںجدت اور تازہ کاری کو بھی موضوع بنایا ہے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ یہ جو نامانوس لفظیات کوہر کہیں برت لیا جاتا ہے، کسی تلازمہ کاری کو دھیان میں رکھے بغیر، یہ ہر گز جدّت نہیں ہے۔ اس کھردرے پن کا نام جدت ہے نہ شاعری کہ اس باب میں ان کا اپنا تجربہ تازہ کاری کو اہمیت دے رہا ہوتا ہے۔ حمید ہ شاہین کے نزدیک تازہ کاری یاتو ’’کسی نئے نکور، اَن چھوئے تجربے کا بیان‘‘ ہے یا پھر ’’کسی پرانے تجربے کا نیا نکور بیان‘‘۔ ان کامشاہدہ ہے کہ اس باب میں زیادہ ترشاعر ذرا سا پردہ سرکاپاتے ہیں جس کا سبب یہ ہے کہ بہت کم شاعر روایت کی قدیم اور آرام دہ کرسی سے اُٹھ کر کھڑکی تک آتے ہیں۔ بجا کہ پورا پردہ لپیٹ دینے یاپوری کھڑکی کھول لینے کے لیے اس مقام سے تخلیق کار کو اُٹھنا تو پڑے گا جہاں وہ سہولت سے براجمان ہوتا ہے۔

حمیدہ شاہین سمجھتی ہیں کہ نئی شاعری اور نئے ادب کو سمجھنے کے لیے نئے انسان کو بھی ڈھنگ سے سمجھنا ہوگا کہ قدیم انسان کو ہوا کی حدت کا تجربہ فقط موسم کی شدت کے حوالے سے تھا لیکن ہوا کا یک بہ یک آگ میں تبدیل ہو جانا نئے آدمی کے تجربے کا حصہ ہوا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ’ اب کسی کو عالمی بساطِ سیاست پر مہرے ِپیٹنے ہوں۔ کسی کو دنیا کا نقشہ تبدیل کرنا ہو یا کسی کو جنت کی تلاش ہو، سب کو اپنے مسائل کا حل بم بلاسٹ اور ڈرون حملوں میں نظر آتا ہے۔ گویا آگ میں تبدیل ہوتی اس ہوا میں سانس لینا ہم سب کی مجبوری ہے۔ نئی حسیت کے آہنگ میں آکر ہی اس مجبور اور محصور انسان کی آزادی کا خواب دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ خواب کوئی اور نہیں شاعر اور ادیب ہی دیکھ سکتے ہیں اور اپنی تخلیقات میں وہ کھڑکیاں اور دروازے کھول سکتے ہیں جہاں سے تازہ اور زندگی بخش ہوا کی ترسیل ممکن ہو۔

حمیدہ شاہین کے یہ تنقیدی مضامین پڑھتے ہوئے میں اس خوش گوار احساس سے سرشار رہا ہوںکہ وہ شاعروں اور افسانہ نگاروں کی تخلیقی کائنات کے بہت اندر گھس کر اور اس جادو بھری کائنات کے عین وسط میں پہنچ کر فن پاروں کو نہ صرف آنکتی رہی ہیں، انہوں نے کہیں کہیں اپنی تحریروں میں’ تخلیق نو ‘کے معجزے بھی دِکھائے ہیں۔ اُن کے قلم سے سرزد ہونے والے یہ تنقیدی مضامین کئی حوالوں سے اہم ہیں۔ ادبی تنقید کایہ قرینہ، بہ قول کسے اُن ’’بھائی لوگوں‘‘ کے ہاتھ کیسے لگ سکتا تھا جو تنقیدی مباحث کو تخلیقی عمل سے کاٹ کر دیکھتے رہے ہیں۔ حمیدہ شاہین نئی نظم پر لکھیں یاشاعروں اور افسانہ نگاروں کی تخلیقات کے انفرادی مطالعے کریں، وہ تخلیق کار کے تخلیقی مزاج اور تخلیقی عمل کے بھید بھنور سے دور نہیں جاتیں اور لطف یہ ہے کہ ایسے میں ادبی تنقید کے وہ اصول بھی نشان زد ہوتے چلے جاتے ہیں جو اس تنقیدی عمل میں اُن کے پیش نظر رہے ہیں۔ pame226 pov

Facebook Comments Box
حمیدہ شاہین
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
محمد حمید شاہد

محمدحمید شاہد اردو کے معروف افسانہ نگار، ناول نگار اور نقاد ہیں ۔ آپ 23 مارچ 1957 کو پنڈی گھیب ضلع اٹک (پنجاب) پاکستان میں پیدا ہوئے ۔ پنڈی گھیب سے میٹرک کے بعد زرعی یونیورسٹی لائل پور(فیصل آباد) سے ایف ایس سے کے بعد ایگری کلچر مضامین میں گریجویشن کی اور ایک بنکار کی حیثیت سے بتیس سال عملی زندگی سے وابستہ رہے۔ اس عرصے میں اندرون ملک شہر شہر گھومے، دیہی زندگی کو قریب سے دیکھا اور کئی ممالک کا دورے بھی کیے ۔ محمد حمید شاہد کی ادبی زندگی کاآغاز یونیورسٹی کے زمانے سے ہی ہو گیا تھا ۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے مجلہ "کشت نو" کے مدیر رہے۔ پہلا افسانہ بھی اسی زمانے میں لکھا۔ پہلی کتاب " پیکر جمیل" بھی یونیورسٹی کے زمانے میں لکھی ۔ افسانوں کا پہلا مجموعہ "بند آنکھوں سے پرے "تھا جب کہ "جنم جہنم"،"مرگ زار"اور "آدمی" آپ کے افسانوں کے دیگر مجموعے ہیں۔ "محمد حمید شاہد کے پچاس افسانے" معروف بزرگ ادیب اور شاعر ڈاکٹر توصیف تبسم کا منتخب کردہ ہے جب کہ محمد حمید شاہد کے نائن الیون کے پس منظر میں لکھے ہوئے منتخب افسانوں کو "دہشت میں محبت" کے نام سے غالب نشتر نے مرتب کیا تھا۔ محمد حمید شاہد کا ناول"مٹی آدم کھاتی ہے" کے نام سے چھپا اور مقبول ہوا ۔ فکشن کی تنقید محمد حمید شاہد کی ترجیحات کا ایک اور علاقہ ہے ۔ "ادبی تنازعات"،"اردو افسانہ:صورت و معنیٰ"، "اردو فکشن: نئے مباحث"،"کہانی اور یوسا سے معاملہ " کے علاوہ "سعادت حسن منٹو:جادوئی حقیقت اور آج کا افسانہ" اس حوالے سے چند معروف کتب ہیں ۔ اردو نظم پر تنقید کی کتاب"راشد ،میراجی، فیض" کے علاوہ آپ کی نثموں کی کتاب لمحوں کا لمس اور بین الاقوامی شاعری کے تراجم پر مشتمل کتاب "سمندر اور سمندر" بھی بہت معروف ہیں۔ حکومت پاکستان نے محمد حمید شاہد کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کے لیے صدارتی سول ایوارڈ "تمغہ امتیاز" 2017 کو دیا۔

previous post
کشمیری کلاسیکی موسیقی : ایک تعارف —- یاسر اقبال
next post
راکا پوشی زندہ ہے: ایک سفرنامہ (قسط 22) —- یاسر رضا آصف

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.