تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادب

محمد حامد سراج: میرا بھائی میرا دوست —- محمد حمید شاہد

by محمد حمید شاہد 13/11/2020
written by محمد حمید شاہد 13/11/2020
109

اپنے دوست، بہت عزیز دوست محمد حامد سراج۔۔۔ نہیں، بل کہ انہیں مجھے اپنا بھائی کہنا چاہیے۔ میں سال بھر ہی عمر میں اُن سے بڑا ہوں مگر انہوں نے مجھے ہمیشہ لالہ کہا۔ میرے ابا جی اپنے دونوں بھائیوں سے بڑے تھے۔ دونوں بھائی انہیں ’’لالہ جی‘‘ کہتے اور ان کی دیکھا دیکھی سب عزیز و اقربا اُنہیں لالہ جی کہنے لگے تھے۔ جب مجھے میرا یہ دوست میرا یہ پیارا مجھے ’’لالہ‘‘ کہہ کر بلاتا تو اس میں وہ ساری عزت، تکریم اور محبت بھی رچ بس جاتی محسوس ہوتی تھی جو میرے اباجی کو اپنے بھائیوں کے وسیلے سے ملی تھی۔

کہنے کو میں نے کہہ دیا کہ وہ مجھ سے سال بھر چھوٹے تھے۔ میں 1957 میں پیدا ہوا اور وہ 1958 میں مگر واقعہ یہ ہے کہ عمر کا یہ فرق کچھ ماہ کا تھا۔ میں 23مارچ کو پیدا ہوا تھا اور وہ اس سے اگلے سال 21 اکتوبر کو مگر حامد سراج جس طرح ساری عمر مجھے احترام دیتے رہے دیکھنے والے کو یوں لگتا تھا جیسے عمر میں برسوں کا فرق تھا۔ خیر یہ حد سے بڑھی ہوئی عاجزی اور انکساری ان کی شخصیت کا حصہ تھی۔ محض دکھاوے والی نہیں اخلاص سے لبالب اور یہی میری نظر میں ہمیشہ انہیں بڑا بناتی رہی۔

لطف کہ بات سنیے، حامد سراج سے میری دوستی تب سے تھی جب وہ ادیب نہیں تھے۔ یہ ان کی اٹک آئل فیلڈ میں ملازمت کا زمانہ تھا۔ میال میں ایک تیل کے کنویں پر اُن کی ڈیوٹی تھی۔ وہیں میرے بڑے بھائی محمد خورشید اعوان بھی ڈیوٹی دیا کرتے تھے۔ میال ہمارے شہر پنڈی گھیب کا مضافاتی علاقہ ہے۔ جب فرصت ہوتی بھائی صاحب حامد سراج کو گھر لے آتے۔ حامد سراج سے میری پہلی ملاقات محلہ ملکاں پنڈی گھیب والے اپنے گھر میں ہوئی تھی۔ پھر کئی برسوں کے بعد میل ملاقات میں ایک تسلسل آیا اور اس میل ملاقات کا حوالہ بدل کر ادب ہو گیا تھا۔۔۔ مگر یوں ہے کہ ہم نے اس بدلے ہوئے وقت میں بھی جا چکے زمانے کو ہر بار یاد کیا تھا۔

خانقاہ سراجیہ کے دینی گھرانے کے چشم و چراغ ہونے اور ادبی مراکز سے دور میانوالی میں الگ تھلگ رہنے کے باوجود حامد سراج نے جس طرح فکشن سے اپنے آپ کو وابستہ کیا اور وابستہ رکھا یہ اپنی جگہ پر بہت اہم واقعہ ہے۔ میں جانتا ہوں جس ماحول میں وہ رہ رہے تھے اس میں فکشن لکھنا کار فضول تھا اور شاید گناہ بھی مگر جس خلوص سے وہ فکشن کے تخلیقی عمل سے وابستہ ہو گئے تھے اس نے ان کے تخلیقی وجود کو نکھارا اور اپنے عہد کے لائق توجہ افسانہ نگاروں میں نمایاں کر دیا۔ ان کے افسانوں کے پانچ مجموعے شائع ہوئے؛ ’’وقت کی فصیل‘‘، ’’برائے فروخت‘‘، ’’چوب دار‘‘، ’’بخیہ گری‘‘ اور ’’برادہ‘‘۔ ایک بار ان کا فون آیا۔ ادھر ادھر کی باتوں میں اچانک موضوع بدل کر کہا۔

’’لالہ آپ کو میرے افسانے کیسے لگتے ہیں؟‘‘
میں نے کہا:
’’ بہت اچھے۔ ‘‘
وہ ہنسے، یوں جیسے وہ دِل کھول کر ہنسا کرتے تھے۔ اسی بے ریا ہنسی میں انہوں نے کہا۔
’’یہ بات لکھ کر دے دیں میں اپنی کتاب میں چھپوا لوں گا۔‘‘

میں نے تب جو لکھا تھا وہ ان کے ایک سے زیادہ افسانوں کے مجموعوں پر موجود ہے۔ لیجئے میں یہاں وہ عبارت مقتبس کیے دیتا ہوں۔

’’محمد حامد سراج زندگی کو مقصد، مرکز اور مناط مان کر افسانہ لکھتے ہیں، یوں کہ وہ دھڑکنوں سے معمور قاری کا دِل بن جاتا ہے۔ وہ بامعنی کہانی پر ایمان رکھتے ہیں ایبسرڈیٹی کو متن کا کفر گردانتے ہیں۔ اُن کا ایک ایک جملہ اُن کے احساس کی شدت کو اجالنے والا ایسا طیف ہو گیا ہے جو حیات کے ناقابل اعتبار کھونوں کھدروں کو بھی رنگوں کی رونق سے اُجال دیتا ہے۔ اپنے اس چلن کے سبب وہ ان لوگوں سے الگ ہو گئے ہیں جو فکشن کے نام پر محض مطلق العنان جملوں کا ڈھیر لگا دیتے ہیں اور اُن سے بھی الگ کھڑے ہیں جو مجرد واقعے کی ہٹی پر افسانے کی تختی لگا دیا کرتے ہیں۔ حامد سراج میں فطرت کی گپھاؤں اور انسانی بطون کے غاروں میں ایک ساتھ جھانکنے کی ہمت ہے اور ان میں نہاں رازوں کواپنے دل پرسہنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ہمہ گیر مشاہدے کی بے پناہ قوت، ایقانی جرات اور تخلیقی توانائی سے ایسی کہانیاں لکھی ہیں جو اپنے پڑھنے والوں کو اندر سے بدل کر رکھ دیتی ہیں۔ محمد حامد سراج کو میں تخلیق کاروں کی اس پیڑھی کا اہم نمائندہ گردانتاہوں جنہوں نے فن پارے کی جمالیات اورمعنویت کو ایک ساتھ برت کر کہانی پر قاری کا اعتماد بحال کیا ہے۔‘‘

افسانہ نگاری کے علاوہ جس کتاب نے اُنہیں بہت شہرت دی وہ ماں جی کے طویل خاکے پر مشتمل کتاب ’’میّا‘‘ہے۔ یہ خاکہ نثر میں لکھی ہوئی ایک طویل نظم کا سا ہو گیا ہے۔ ماں پر لکھا گیا یہ حزنیہ خاکہ اتنا مقبول ہوا کہ کتاب کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ کئی اور قابل ذکر کام بھی ان کے کریڈٹ پر ہیں۔ افسانوں کے انتخاب کیے، مشاہیر کی خودنوشتوں کا انتخاب کیا، بادشاہوں کی آپ بیتیوں کا انتخاب کیا۔ مضامین لکھے اور ایک ناول نما نثریہ’’ آشوب گاہ‘‘ بھی لکھا۔

پہلی پہلی ملاقاتوں کا ذکر ہو چکا تو بعد کی ملاقاتوں کا ذکر بھی کردوں۔ میری اُن سے ملاقاتوں کے لیے چارمقامات رہے۔ پہلا پنڈی گھیب کے گھر والا جس کا ذکر اوپر ہو چکا، بعد میں وہاں ملاقات نہ ہوئی کہ میں اسلام آباد منتقل ہو گیا تھا اور انہوں نے چشمہ میں نوکری کرلی اور خانقاہ سراجیہ منتقل ہو گئے تھے۔ دوسرا اسلام آباد میں میری رہائش گاہ پر، جب بھی اسلام آباد آئے موقع ملا تو گھر آ کر ملے۔ اس سلسلے کی آخری ملاقات اُن کی موت سے چند روز پہلے کی ہے۔ وہ اپنے چیک اپ کے لیے اسلام آباد آئے تھے۔ ملنے گھر آگئے۔ بھابی صاحبہ ان کے ساتھ تھیں اور ان کے ایک عزیز محمود ملک انہیں اپنی گاڑی میں لے کر آئے تھے۔ انجینئر طارق محمود بھی پیچھے پیچھے پہنچ گئے۔ محمود ملک موسیقی اور فوٹو گرافی کے دل دادہ تھے، ان سے اس موضوع پر بات ہونے لگتی تو حامد سراج چپ ہو جاتے۔ محمود کے پاس کیمرہ تھا۔ ہم آپس میں گفتگو کر رہے ہوتے تو وہ تصویریں بنانے لگتے۔ انہوں نے ڈھیر ساری تصاویر بنائیں۔ خوب بات چیت رہی۔ مل کر کھانا کھایا۔ کھانے کے دوران بھی ہم باتیں کرتے رہے۔ حامد سراج بہت نحیف ہو گئے تھے۔ بات کرتے کرتے رک جاتے جیسے تھک گئے ہوں اور گفتگو روک کر اپنی سانسیں بحال کرنا چاہتے ہوں۔ جانے لگے تو میری طرف جھک کر سرگوشی کی:

’’لالہ، یہاں آنا اچھا تو لگا مگر ویسا مزہ نہیں آیا جیسا میں چاہتا تھا۔ اب میں اکیلے آؤں گا اور بس ہم دونوں دیر تک باتیں کریں گے۔‘‘

افسوس ایسا پھر نہ ہوسکا۔

خانقاہ سراجیہ والی دو ملاقاتیں اہم ہیں ایک ان کے بیٹے کی شادی پر اور دوسری جب ہم انہیں ہمیشہ کے لیے رخصت کرنے گئے تھے۔ جنازہ پڑھا اپنے ہاتھ سے قبر پر مٹی ڈالی، اپنے مچل کر بہتے آنسوؤں کو اس مٹی میں مل جانے دیا مگر یہ ایسی تشنہ ملاقات رہی کہ سماعت ’’لالہ‘‘ کے لفظ سننے کے لیے ترستی رہی۔

یہاں اسلام آباد کے ہسپتالوں میں بھی کئی ملاقاتیں رہیں۔ ’’میا‘‘ میں ایسی کچھ ملاقاتوں کا ذکر ہے۔ ان کی ماں جی بیمار ہو ئیں تو یہیں اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں لائی گئی تھیں اور وہیں ہسپتال کی راہداریوں میں ان سے ملنا رہتا تھا۔ جب حامد سراج کے دونوں گردوں نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا اور ایک بیٹے نے ان کی زندگی بچانے کے لیے اپنا گردہ انہیں عطیہ کیا تھا تب بھی وہ یہاں اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں رہے تھے۔ اپنی موت سے پہلے کے برسوں میں وہ تواتر سے اپنے چیک اپ اور ڈاکٹروں سے مشاورت کے لیے اسلام آباد آنے لگے تھے۔ ہماری آخری ملاقاتیں یہیں ہسپتال میں ہوتی رہیں۔ ہسپتال کی آخری ملاقات میں، میں نے دیکھا ان کی داڑھی کے ایک طرف کے بال بالکل جھڑ گئے تھے، ان سے اٹھ کر بیٹھنا مشکل ہو رہا تھا مگر اس پر خدا کا شکر ادا کر رہے تھے کہ وہ حواس میں تھے، سوچ سکتے تھے اور لکھ سکتے تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ بیٹے نے وہیل چیئر کا بندوبست کر دیاتھا اور گھر میں جہاں کہیں وہیل چیئر نہیں جا سکتی تھی وہاں راستے بنوا لیے گئے تھے۔

’’میں اٹھ نہیں سکتا تو کیا ہوا پڑھ اور لکھ تو سکتا ہوں۔‘‘

یہ انہوں نے کہا تھا۔ وہ 13نومبر 2019ء کو رخصت ہو گئے۔ اور اب مجھے لگتا ہے وہ نہیں مرے میرے اندر کا وہ حصہ مر گیا ہے جو ان ہی کی وجہ سے آباد تھا۔ جب ہم پیدا ہوتے ہیں تو ہم میں سے ہر ایک اپنی زندگی لے کر اس دنیا میں آتا ہے: جی بس اپنی ایک زندگی۔ مگر جب ہم مرتے ہیں تو اپنے علاوہ اپنے وابستگان کی زندگیوں سے بھی کچھ نہ کچھ اچک کر لے جاتے ہیں۔

خدا وند کریم ان کے درجات بلند کرے۔

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
محمد حمید شاہد

محمدحمید شاہد اردو کے معروف افسانہ نگار، ناول نگار اور نقاد ہیں ۔ آپ 23 مارچ 1957 کو پنڈی گھیب ضلع اٹک (پنجاب) پاکستان میں پیدا ہوئے ۔ پنڈی گھیب سے میٹرک کے بعد زرعی یونیورسٹی لائل پور(فیصل آباد) سے ایف ایس سے کے بعد ایگری کلچر مضامین میں گریجویشن کی اور ایک بنکار کی حیثیت سے بتیس سال عملی زندگی سے وابستہ رہے۔ اس عرصے میں اندرون ملک شہر شہر گھومے، دیہی زندگی کو قریب سے دیکھا اور کئی ممالک کا دورے بھی کیے ۔ محمد حمید شاہد کی ادبی زندگی کاآغاز یونیورسٹی کے زمانے سے ہی ہو گیا تھا ۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے مجلہ "کشت نو" کے مدیر رہے۔ پہلا افسانہ بھی اسی زمانے میں لکھا۔ پہلی کتاب " پیکر جمیل" بھی یونیورسٹی کے زمانے میں لکھی ۔ افسانوں کا پہلا مجموعہ "بند آنکھوں سے پرے "تھا جب کہ "جنم جہنم"،"مرگ زار"اور "آدمی" آپ کے افسانوں کے دیگر مجموعے ہیں۔ "محمد حمید شاہد کے پچاس افسانے" معروف بزرگ ادیب اور شاعر ڈاکٹر توصیف تبسم کا منتخب کردہ ہے جب کہ محمد حمید شاہد کے نائن الیون کے پس منظر میں لکھے ہوئے منتخب افسانوں کو "دہشت میں محبت" کے نام سے غالب نشتر نے مرتب کیا تھا۔ محمد حمید شاہد کا ناول"مٹی آدم کھاتی ہے" کے نام سے چھپا اور مقبول ہوا ۔ فکشن کی تنقید محمد حمید شاہد کی ترجیحات کا ایک اور علاقہ ہے ۔ "ادبی تنازعات"،"اردو افسانہ:صورت و معنیٰ"، "اردو فکشن: نئے مباحث"،"کہانی اور یوسا سے معاملہ " کے علاوہ "سعادت حسن منٹو:جادوئی حقیقت اور آج کا افسانہ" اس حوالے سے چند معروف کتب ہیں ۔ اردو نظم پر تنقید کی کتاب"راشد ،میراجی، فیض" کے علاوہ آپ کی نثموں کی کتاب لمحوں کا لمس اور بین الاقوامی شاعری کے تراجم پر مشتمل کتاب "سمندر اور سمندر" بھی بہت معروف ہیں۔ حکومت پاکستان نے محمد حمید شاہد کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کے لیے صدارتی سول ایوارڈ "تمغہ امتیاز" 2017 کو دیا۔

previous post
متحدہ عرب امارات کی جدید اصلاحی ترجیحات‎ —- منصور ندیم
next post
سائنس کے عقیدت مند کٹر مذہبی ہوتے ہیں؟ — وحید مراد

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.