تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتنقیددیگرعلم و ادبکتابوں پر تبصرے

آموسین، پشتو شاعری اور فیصل فاران کا دیباچہ — محمد حمید شاہد

by محمد حمید شاہد 25/09/2020
written by محمد حمید شاہد 25/09/2020
120

پشتو شاعری ہو یا افسانہ دیگر قومی زبانوں کے مقابلے میں کم کم اردو میں ترجمہ ہو کر پڑھنے کو ملتا رہا ہے۔ اکادمی ادبیات پاکستان میں چائے کی پیالی پر امجد اسلام امجد کے ساتھ ایک تقریب ملاقات رکھی ہوئی تھی۔ وہیں تقریب کے بعد اقبال حسین افکار نے مجھے اور پروفیسر فتح محمد ملک کی راہ روکتے ہوئے کہا: آپ دونوں کے لیے ایک بہت عمدہ کتاب۔ انہوں نے جو کتاب تھمائی وہ ڈاکٹر ہمدرد یوسفزئی کا کیا ہوا پشتو کی نظموں کا انتخاب ’’آموسین ‘‘تھا۔ اس انتخاب کی ساری نظمیں انہوں نے اردو میں ڈھالی تھیں۔ لطف کی بات کہ اس انتخاب میں شامل نظمیں پچھلے چار عشروں میں نمایاں ہونے والوں کی تھیں۔ ان ایک کم اسی پشتو نظموں کے لکھنے والے خیبر پختون خواہ اور بلوچستان سے بھی ہیں اور افغانستان سے بھی جس کا چہرہ امریکی جارحیت نے جھلسا کر رکھ دیا ہے۔ میں نے اس کتاب کو ایک قیمتی تحفے کے طور پر لیا اور چاہتا تھا کہ دیکھوں اس جنگ کے زمانے میں دریائے آمو اور اباسین کے پشتو کے شعرا کے ہاں دہشت کا زمانہ تخلیقی سطح پر کیسے تصویر ہو رہا ہے مگر مجھے اس کتاب کے دیباچے نے آگے بڑھنے نہ دیا۔

یوں تو کتاب میں دو دیباچے ہیں ایک افراسیاب خٹک کا اور دوسرا فیصل فاران کا لیکن جس تحریر نے مجھے الجھائے رکھا وہ لگ بھگ ایک کتاب کا مواد اور مباحث لیے ثانی الذکر دیباچہ ہے۔ جی، فیصل فاران کا جو باچا خان پیس ریسرچ سنٹر پشاور مرکز میں ریسرچ کوارڈینیٹر ہیں۔ فیصل فاران نے اپنی ریسرچ سے اخذ شدہ بہت سا مواد اس تحریر کا حصہ بنایا ہے جو یقیناً ہمارے لیے بہت مفید رہا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ پشتو زبان کے لوک ورثے کا تعلق باختری موسیقی سےہے اور پھر جب موسیقی عبادت گاہوں سے باہر نکلی اور عام آدمی اس سے جڑا تو کاکڑئی غازے اور لنڈئی جیسی اصناف کو ترویج ہوئی۔ کاکڑئی غازے کے بارے میں کچھ بتائے بغیر انہوں نے لنڈئی کا ذکر چھیڑا اور بتایا کہ اسے پنجابی ماہیے جیسا سمجھ لیجئے۔ بس فرق ہے تو یہ ماہیے میں پہلا مصرع محض ٹیپ کا ہوتا ہے جب کہ لنڈئی میں سب مصرعے معنیاتی سطح پر باہم گتھے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایک لنڈئی کا ہمدرد صاحب کا کیا ہوا اردو ترجمہ ملاحظہ ہو جس کا تعلق نارویجئن محقق جنیزانولڈسن نے قدیم آریائی مقدس پھولوں سے جوڑا تھا۔ ایسے مقدس پھول جسے کنواریاں رات کو شاخوں سے کاٹ کر جمع کیا کرتی تھیں۔

سپو گمیہ کڑنگ وہہ راخیژہ
یار می دگلولئو کوی گوتے ریبینہ

’’اے چاندجلدی نکل میرا اندیشہ ختم کر میرا محبوب تاریکی میں پھولوں کی کٹائی کرتے ہوئے انگلیاں زخمی نہ کر دیں۔‘‘

فیصل فاران کے مطابق پشتون آریائی قوم ہے اور ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ’’پینتمان‘‘ (گوری نسل کا) زرتشت ان میں پیغمبر تھا۔ زرتشت مذہب سے پہلے پشتونوں کا مذہب زین مت /سورج پرستی تھاجس کا مرکز زمیند اور افغانستان کا علاقہ تھا اور اس کے بڑے مندر موجودہ صوابی اور کابل میں تھے۔سورج پرستوں کے لیے زوال کا وقت برا ہوتا ہے جس کا تعلق دیباچہ نگار نے پشتونوں کے علاقے کی اس روایت سے جوڑا جس کے مطابق سارے کام سورج غروب ہونے سے پہلے نمٹا لیے جائیں۔ اسی لیے ایک لنڈئی میں محبوبہ سے درخواست کی جارہی ہے کہ شام کے وقت برے فال بھی نہ نکالے جائیں۔

مازیگرے دے خیرے مہ کڑہ
تہ بہ دناز خیرے کوے رختیابہ شینہ

’’یعنی دن ڈھلے منہ سے برے فال مت نکال،تو ناز دکھا کر کوسنہ دے اور وہ حقیقت بن جائے گا۔‘‘
فیصل فاران نے جو نتیجہ اخذ کیا اگر بس اتنا ہی سچ ہے تو پھر اس کا کیا کیا جائے گا لگ بھگ تمام قدیم تہذیبوں میں سورج ڈھلنے سے لگ بھگ ایسے ہی معنی اخذ کیے جاتے ہیں۔ ہم نے اپنی بڑی بوڑھیوں کو عصر سے مغرب تک کا وقت زوال کا وقت کہتے سنا ہے۔

فیصل فاران کا دعویٰ ہے کہ پشتو کی قدیم ترین نظم جو دریافت ہوئی وہ ۳۹ ہجری میں رجزیہ شاعر امیر کروڑ نے لکھی تھی۔ میرے لیے یہ بات بہت دلچسپ کی تھی کہ یہ نظم نگار ایک پہلوان تھا؛ چھوٹا موٹا پہلوان نہیں کہ ’’پہلوانِ جہاں‘‘ کہلواتا تھا۔ ابو مسلم خراسانی کے ایک امیر، امیر فولاد کا بیٹا، اور غور مندیش علاقے کا حکمران۔ پشتون حکمرانوں کی بات چلی تو اس تحقیق سے اخذ شدہ ایک اور نتیجے کی بابت بتاتا چلوں کہ یہ جو ’’خلجی‘‘ تھے، جنہیں فارسی مورخین ترک لکھتے رہے ہیں تو یوں ہے کہ انہیں ترک لکھنا ’’ گمراہ کن‘‘ غلطی تھی۔ خلجی اور غلجی دراصل غلزئی ہیں۔ اور یہ بھی کہ غوری، پہاڑی قبیلے غور خیل سے، سوری، سورج کو ماننے والے قبیلے سوریا خیل سے ہیں اور سب پشتون۔ گویا مغلوں نے ہندوستان کی حکومت پختون حکمرانوں سے لی تھی ترکوں سے نہیں۔

ایک اور مقام پر فیصل فاران شیخ کٹہ متی زئی کی نایافت کتاب ’’لرغونی پختانہ‘‘ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ایک زمانے میں پشتون قوم داد شجاعت میں مست ہندوستان سے ایران تک کرائے کے فوجیوں کے طور پر اس فخر کے ساتھ بھاری تلواریں اٹھائے لڑتی پھر رہی تھی کہ دنیا بھر میں ان کا کوئی مد مقابل نہیں تھا۔ امیر کروڑ کی نظم اسی بارے میں ہے۔ کتاب کے اس ابتدائی مضمون میں جو چوبیس صفحات پر پھیلا ہوا ہے پشتونوں کے مختلف قبائل کی تاریخ، روایات اور رویوں کے ساتھ ساتھ پشتو شاعری کے بدلتے ہوئے مزاج کو بھی نشان زد کیا گیا ہے،یہاں تک کہ وہ نئے زمانے کی شاعری تک آتے ہیں اور اس کے موضوعات اور مزاج کو متعین کرتے ہیں۔

پشتو میں نئی نظم کی بابت ان کا کہنا ہے کہ اس کے آثار باچا خان کے ساتھی مبارز اور رہنمامولانا فضل محمود مخفی ماموندباجوڑی (۱۸۸۴۔۱۹۴۶) کےہاں سے ملنا آغازہوئے تھے۔ مخفی مولانا سندھی کے ساتھی تھے۔ باچا خان نے اپنی عمر گزشت ’’زماژونداو جدوجہد‘‘ میں مخفی کے بارے میں لکھ رکھا ہے:

’’پشتو شاعری میں انقلاب مخفی صاحب کا کارنامہ ہے۔ انہوں نے زلف، گل و بلبل کے بجائے قوم، وطن قور بے چارے عوام کی طرف شاعری کا رخ موڑ دیا۔‘‘

یہیں انہوں نے خان عبدالاکبرخان اتمانزئی کا ذکر بھی کیا ہے کہ انہوں نے پشتو میں نئی نظم کی عمارت کھڑی کر دی تھی۔ خدائی خدمت گارشاعر اور مورخ عبدالاکبر خان نے بھی مخفی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے اور لکھا ہے:

’’ مولانا مخفی کی شاعری کو سن کر مجھے معلوم ہوا کہ شاعری کیا ہونی چاہیے۔‘‘

پشتو میں غزل کی بنیاد رکھنے والے صوابی کے ایک شاعر فضل احمد غر تھے، جو حیدر آباد دکن میں مقیم تھے جب کہ مزاحمتی پشتو شاعری کا باوا آدم عبدالاکبرخان تھے۔ اس میدان کا نمایاں ترین نام اجمل خٹک ہیں۔ فیصل فاران کئی سیاسی تنازعات چھیڑنے،ایسا کرتے ہوئے کئی مقامات پراُتھلے ہوکر اپنی وابستگی ظاہر کرنےاور ساڑھے انیس صفحات صرف کرنے کے بعد کہ جب ہم لگ بھگ مایوس ہو چکے ہوتے ہیں کہ شاید اس کتاب کے مواد پر بات ہی نہیں ہوگی، وہ اس ڈاکٹر ہمدرد کی ’’آموسین‘‘ کی نظموں کی طرف آتے ہیں اوّل اوّل پشتو شعراکے ہاں تین طرح کے رحجانات نشان زد کر دیتےہیں:

۱۔ رومانی شعرا:
نورین امان شمع، عاصمہ مائل اورکزئی، ہمایوں مسعود، پروین ملال، اسماعیل گوہر، شاہ سعود، راشد خٹک، ہمدرد یوسفزئی، پیر محمد کاروان، حسینہ بیگم۔

۲۔ مزاحمت کار شعرا:
رحمت شاہ سائل، افراسیاب خٹک، حیات روغانے، ممتاز اورکزئی، فیصل فاران، رحمان بونیرے، شاہین بونیرے، عثمان اولس یار، فضل سبحان افغانی، ھیلہ کریمی اعجاز درگئی، امجد شہزاد، فطرت یوسفزئی، اقبال حسین افکار، شیر زمان سیماب، ریاض تسنیم۔
۳۔ نئی ہئیت سے روشناس جدید شعرا:
عبدالرحمان رحمانی صافی، سلیمان خان کاروان، شفیقہ خپلواک، میر احمد یاد، عارف تبسم سہیل جعفر، آفتاب گلبن اور نسیم خان۔

پشتو شعرا اور شاعرات کو ان تین رجحانات کے تحت لانے کے بعد وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہیں اور حسینہ گل، رحمت شاہ سائل، ریاض تسنیم، ڈاکٹر ہمدرد، اور پیر محمد کاروان کو ایک ہی وقت میں رومانی اور مزاحمتی شاعر قرار دیتے ہیں جبکہ ان کے تبدیل شدہ تنقیدی فیصلے کے مطابق پروین ملال، ھیلہ کریمی، رحمان بونیرے، حیات روغانی، فطرت یوسفزئی، میر احمد یاد اور شفیقہ خپلواک بیک وقت جدیدحسیت اور رومانویت کے حامل شاعر ہیں۔ اپنے آپ کو انہوں نے نہ صرف جدید حسیت کے حامل شعرا کی فہرست میں رکھا، نئی پود کے ان شعرا کی فہرست سازی بھی کی جو دیباچہ نگار شاعر سے ’’گہرے اثرات‘‘ پاکر ’’جدید حسیت، رومانیت اور مزاحمت کاری کی بنیاد پر نئی نظم ‘‘ میں بیک وقت اپنا جوہر دکھا رہے تھے۔ اس ضمن کے شعرا میں انہوں نے آفتاب گلبن، نسیم خان، فطرت یوسفزئی، سلیمان کاروان، عمران شعور، مذکر مشال، سہیل خیام، عبدالمنان اورخت، فرزانہ ثمر، شاہ روم حسرت، سہیل خان، اعجاز احمد، حافظ احسان آزاد، سلیمان تنہا، یشار مرہم، امتیاز شارب، واحد یوسفزے، صدام مشال، ہلال ہمدان، رومانہ شریف، عبدالرحمن صافی اور میر احمد یاد کو رکھا ہے۔

فیصل فاران کے مضمون سے اندازہ ہوا کہ نثمْ یا نثری نظم کو پشتو والے ’’نثرم‘‘ کہتے ہیں۔ اس دیباچے میں اور بھی بہت کچھ ہے جس کا ذکر ہونا چاہیے لیکن فی الحال اتنا ہی کہ میں آپ سے اجازت لے کر ان نظموں اور نثرموں کی طرف جانا چاہتا ہوں جن میں نائن الیون کے بعد کا جھلسا ہوا کابل اور خیبر پختون خواہ نظر آتا ہے۔ ان پر گفتگو کسی اور نشست میں۔

جنگ اور المیہ۔ پشتون افغان۔ گھر بستیان اجڑنا۔ مہاجرت، دلدوز المیوں کی نشاندھی

جنگ اور تشدد کے خلاف مزاحمتی شاعری۔ دریائے آمو اور اباسین

Facebook Comments Box
پشتو شاعریحمید شاہد
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
محمد حمید شاہد

محمدحمید شاہد اردو کے معروف افسانہ نگار، ناول نگار اور نقاد ہیں ۔ آپ 23 مارچ 1957 کو پنڈی گھیب ضلع اٹک (پنجاب) پاکستان میں پیدا ہوئے ۔ پنڈی گھیب سے میٹرک کے بعد زرعی یونیورسٹی لائل پور(فیصل آباد) سے ایف ایس سے کے بعد ایگری کلچر مضامین میں گریجویشن کی اور ایک بنکار کی حیثیت سے بتیس سال عملی زندگی سے وابستہ رہے۔ اس عرصے میں اندرون ملک شہر شہر گھومے، دیہی زندگی کو قریب سے دیکھا اور کئی ممالک کا دورے بھی کیے ۔ محمد حمید شاہد کی ادبی زندگی کاآغاز یونیورسٹی کے زمانے سے ہی ہو گیا تھا ۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے مجلہ "کشت نو" کے مدیر رہے۔ پہلا افسانہ بھی اسی زمانے میں لکھا۔ پہلی کتاب " پیکر جمیل" بھی یونیورسٹی کے زمانے میں لکھی ۔ افسانوں کا پہلا مجموعہ "بند آنکھوں سے پرے "تھا جب کہ "جنم جہنم"،"مرگ زار"اور "آدمی" آپ کے افسانوں کے دیگر مجموعے ہیں۔ "محمد حمید شاہد کے پچاس افسانے" معروف بزرگ ادیب اور شاعر ڈاکٹر توصیف تبسم کا منتخب کردہ ہے جب کہ محمد حمید شاہد کے نائن الیون کے پس منظر میں لکھے ہوئے منتخب افسانوں کو "دہشت میں محبت" کے نام سے غالب نشتر نے مرتب کیا تھا۔ محمد حمید شاہد کا ناول"مٹی آدم کھاتی ہے" کے نام سے چھپا اور مقبول ہوا ۔ فکشن کی تنقید محمد حمید شاہد کی ترجیحات کا ایک اور علاقہ ہے ۔ "ادبی تنازعات"،"اردو افسانہ:صورت و معنیٰ"، "اردو فکشن: نئے مباحث"،"کہانی اور یوسا سے معاملہ " کے علاوہ "سعادت حسن منٹو:جادوئی حقیقت اور آج کا افسانہ" اس حوالے سے چند معروف کتب ہیں ۔ اردو نظم پر تنقید کی کتاب"راشد ،میراجی، فیض" کے علاوہ آپ کی نثموں کی کتاب لمحوں کا لمس اور بین الاقوامی شاعری کے تراجم پر مشتمل کتاب "سمندر اور سمندر" بھی بہت معروف ہیں۔ حکومت پاکستان نے محمد حمید شاہد کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کے لیے صدارتی سول ایوارڈ "تمغہ امتیاز" 2017 کو دیا۔

previous post
بھوکا ننگا سماج اور جنسی حملے — فارینہ الماس
next post
راکا پوشی زندہ ہے: ایک سفرنامہ (قسط 4) —- یاسر رضا آصف

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.