تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتنقیددیگرعلم و ادب

کورونا، تخلیقی عمل اور بیگ احساس —- محمد حمید شاہد

by محمد حمید شاہد 07/05/2020
written by محمد حمید شاہد 07/05/2020
87

ایک نام اور ادبی دنیا کی دو شخصیات۔ ایک اِدھر، ایک اُدھر۔ اِدھر والے مجتبیٰ حسین بھی پہلے اُدھر تھے 1948 میں پاکستان آئے اور کراچی میں بس گئے۔ اپنے نام کے ساتھ سید لکھتے تھے۔ محکمہ تعلیم میں رہے جب انتقال ہوا تو بلوچستان یونیورسٹی سے وابستہ تھے۔ ریڈیو کے لیے بھی لکھا۔شعبہ تعلیم سے وابستگی کے علاوہ ان کی وجہ شہرت تنقید بھی تھی۔کہتے ہیں ان کی ادبی زندگی کا آغاز افسانہ نگاری سے ہوا پھر تنقید کی طرف نکل گئے۔دوسرے والے مجتبی حسین اُدھر ہندوستان میں ہیں۔ 84 برس کے ہو چکے ہیں اور اس عمر میں بھی سنجیدگی کے مزاح لکھ رہے ہیں۔ اُن کی تحریروں کا کوئی قائل ہے تو کوئی گھائل۔ وہاں کی حکومت نے انہیں پدم شری ایوارڈ سے نواز رکھا ہے۔ ان دو مجتبی حسینوں سے آج کی نشست میں مجھے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ میرا مکالمہ تو حیدر آباد، ہندوستان والے بیگ احساس سے ہے۔ افسانہ نگار بیگ احساس۔ جی وہی جو اردو دنیا میں اس نام کے ایک ہی ہیں۔ اور جن کے بارے، اُدھر والے مجتبی حسین نے کہہ رکھا ہے کہ وہ خوش شکل، خوش جمال، خوش باش، خوش پوشاک، خوش اطوار، خوش اخلاق، خوش سلیقہ اور خوش آثار ہیں۔ یہ “خوش” کی گردان یہاں رکتی نہیں اور آگے چلتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

“بیگ احساس کو دیکھنا بھی ایک خوشگوار تجربہ سے کم نہیں ہے۔ انہیں دیکھ کر دل کے فسردہ ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ وہ تو سراسرخوش ذوقی، خوش مذاقی، خوش دلی، خوش سلیقگی اور خوش مزاجی کا پیکر ہیں۔”

اب اگر میں یہاں یہ وضاحت کروں کہ یہ کہنے والے مجتبی حسین تنقید نگار نہیں مزاح نگار ہیں تو اس کا قطعاًیہ مطلب نہیں ہے کہ ایسا کہتے ہوئے وہ سنجیدہ نہیں ہیں۔ وہ سنجیدہ ہیں اور اپنی تنقیدی بصیرت کو کام میں لا کر یہ فیصلہ بھی دے رہے ہیں:

“میری شخصی رائے ہے کہ عصر حاضر کے اگر پانچ بڑے افسانہ نگاروں کی کوئی فہرست مرتب کی جائے تو اس میں بیگ احساس کا نام ضرور شامل رہے گا۔”

بیگ احساس کا یہ خاکہ یوں یاد رہ گیا کہ “دخمہ” افسانے کا نام پڑھتے ہوئے جو ردعمل مجتبیٰ حسین نے اس میں تحریرکر رکھا ہے کوئی پانچ سال پہلے وہی ردعمل میرا رہا تھا۔ ہم دونوں کو لغت سے رجوع کرنا پڑا تھا کہ آخر “دخمہ” ہے کیا۔میں پارسیوں کے “ٹاور آف سائلینس” کی بابت جانتا تھا مگر یہ نہیں جانتا تھا کہ “مینار خاموشاں” کو ہی “دخمہ” کہتے ہیں۔

پروفیسر بیگ احساس کا افسانہ”دخمہ“ ایم۔اے اردو الہ آباد یونیورسٹی ...خیر، دخمہ کا ذکرآیا تو بتاتا چلوں کہ بیگ احساس کے تین مجموعے چھپ چکے ہیں ۔ ریختہ پر دو ہی موجودہیں۔ پہلے میں نے وہاں ان کا تیسرا مجموعہ “دخمہ” پڑھا۔ وہی جس کا بھرپور مقدمہ ڈاکٹر مرزا حامد بیگ نے لکھا ہے۔ پھر دوسرا، یعنی”حنظل” دیکھا۔ پہلا مجموعہّ “خوشہ گندم” جو 1979 میں چھپا تھا میری دسترس سے پرے رہا۔ بیگ احساس نے لکھا دوسرے مجموعے میں تھا کہ پہلا مجموعہ انہوں نے نقادوں کو نہیں بھیجا تھا کیوں کہ جد ید نقاد، جدیدیت کے نام سےلکھی گئی تحریروں کی تفہیم میں مصروف تھےاور ترقی پسند نقاد یہ ثابت کرنے پر مصر تھے کہ جدیدیت کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ جدیدیوں اور ترقی پسندوں سے حذر کرنے والا یہ افسانہ نگار مجھے ستر کی دہائی میں اپنی علامت نگاری سے نام کمانے والوں سے بہت مختلف لگا۔ عین مین اپنے دعوے کے مطابق۔ جی، یہ دعویٰ مجھے اس بیان میں نہاں ملا ہے جس میں وہ “جدید افسانے ” کو افسانہ نہیں”تحریریں ” کہہ رہے ہیں اور ترقی پسندوں کو ان سے الجھتے۔ خیر یوں ہے کہ بیگ احساس کو پڑھتے ہوئے میں دیکھ سکتا تھا کہ بیانیہ صاف رواں تھا، کٹا پھٹا نہ تھا۔کہہ لیجئے ہر کہانی واضح تھی اور ترسیل مکمل مگروہ تخلیق کا اپنا جادو متن تشکیل میں جگا لیتے تھے، متن کی گہرائی میں، اسے دھیرے دھیرے اور سہج سنبھال کر لکھتے ہوئے۔ انسانی جبلت کے تضاد ات ان کا موضوع بنے اور بار بار بنے مگر ہر بار نئے کرداروں کو ایک الگ ماحول میں رچا بسا دکھا کر۔ہر نسل اپنا مزاج لے کر آتی ہے اپنے مسائل کے ساتھ، یہی سبب ہے ان میں تنائو پیدا ہوتا ہے، یہ ان کے ہاں موضوع ہوا۔ مذہب، سیاست اور تصادم یہ بھی ان کی توجہ کھینچتے رہے۔ یہ سب آج کے موضوعات ہیں۔ ہماری آنکھوں کے سامنے ہونے والا تماشا اور ہماری حسوں پر یغار کرتی لمحہ رواں کی حقیقتیں۔ گویا آج کو لکھنا محض ترقی پسندوں کو ہی محبوب نہیں رہا، ان کا مسئلہ بھی ہوا ہے جو ترقی پسندی کی نیت باندھ کر افسانہ نہیں لکھتے تھے۔

ترقی پسندی والی بات کو میں نے حال ہی میں چند سطروں کے ان پیغامات سے جوڑ کر دیکھا ہے جن کا تبادلہ میرے اور بیگ احساس کے درمیان ہوا۔

ہوا یوں کہ کووڈ 19 کی وبا کے پھیلائو کو روکنے کے لیے جب حکومت کی طرف سے لاک ڈائون کی پابندی لازم ٹھہری اور زندگی سمت سکڑ سمٹ کر رہ گئی تو مجھ پر اوّل اوّل ڈپریشن کا حملہ ہوا۔ تاہم کئی دوست مدد کو آئے مجھے حوصلہ دیا آصف فرخی نے راہ سجھائی کہ پڑھنے لکھنے سے ناتا ٹوٹنے نہ دو۔ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد لگ بھگ تین سال سے گھر میں تھا پڑھنا لکھنا ہی معمول تھا مگر اس ناگہانی آفت کے سبب میرا سارا معمول بکھر کر رہ گیا تھا۔ کچھ پڑھنا چاہتا تو کتاب سامنے رکھی رہ جاتی اور دھیان کہیں اور بہک رہا ہوتا۔ خدا خدا کرکے میں نے اپنی کیفیت پر کچھ قابو پایا، قلم اٹھایا تو جو دیکھ سن اور محسوس کر رہا تھا اسے تخلیقی سطح پر برتنے کی راہ خود بخود سوجھتی چلی گئی۔ یوں اوپر تلے پانچ چھ تحریریں ہو گئیں۔ ان میں سے “کرونا اور قرنطینہ” پر بیگ احساس کارد عمل آیا۔ ہمارے درمیان یہ چند سطری مکالمہ کیا تھا، ہو بہ ہو نقل کر رہا ہوں کہ اس میں بھی دو لکھنے والوں کے درمیان تخلیقی عمل کی ایک جہت پر بات ہوئی ہے۔

بیگ احساس:۔ عمدہ افسانہ۔ آپ پر ترقی پسندوں کی تقلید کا الزام عائد ہو سکتا ہے۔ ہوا کرے، کیا فرق پڑتا ہے۔ ابتدا میں بانسری کی لیے اونچی ہے۔
محمد حمید شاہد:۔ ترقی پسندوں سے قصدا بچ کر نکلتا رہا یوں یہاں بھی میرے پاس کوئی نعرہ نہیں ہے کہ لے اونچی ہوتی۔ آپ کو اچھا لگا بہت شکریہ
بیگ احساس :۔ ترقی پسندوں کی تقلید یوں کہ وہ تازہ اہم واقعات پر فوراً ردِعمل کا اظہار اپنے افسانوں میں کرتے رہے۔ آپ کا افسانہ “لاجونتی” اور “کورانٹین” کی سطح کا ہے۔ مبارک باد۔
محمد حمید شاہد:۔ یہ آپ کی محبت ہے۔۔۔ ہاں مجھے تازہ واقعات سے تخلیقی سطح پر معاملہ کرنے میں لطف آتا ہے۔ لیکن وہاں جہاں یہ انسانی وجود میں اتھل پتھل مچاتے ہوں۔ ایک بار پھر شکریہ آپ نے افسانہ پڑھا اور آپ کو اچھا لگا۔

اس پر مجھے کچھ اضافہ نہیں کرنا سوائے ایک سوال اٹھانے کے، کہ کیا ترقی پسندی کی یہ تعریف کافی ہے کہ وہ تازہ اہم واقعات پر فوری ردعمل کا اظہار کرتے تھے، یا پھر اس میں یہ اضافہ بھی ضروری ہے کہ ایک منشور کے زیر اثر وہ ایسا کیا کرتے تھے۔ میرا خیال ہے ان کے ہاں پارٹی لائن بہت اہم رہی ورنہ لگ بھگ ہر تخلیق کار نے اپنی حسوں کو ہر زمانے میں بیدار رکھا ہے، ان سانحات پراپنے اپنے ڈھنگ سے لکھنے والوں نے اس زمانے میں بھی لکھا جب وہ ان کے تجربے یا مشاہدے میں آرہے تھے۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ایک تخلیق کار کے سامنے سانحات ہو رہے ہوں اور اس کا تخلیقی عمل دم سادھے پڑا رہے۔ ادیب تو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ زندہ ہوتا ہے اور تخلیق ہی اس کے زندہ ہونے کی گواہی ہے۔

Facebook Comments Box
افسانہبیگ احساسدخمہمحمد حمید شاہد
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
محمد حمید شاہد

محمدحمید شاہد اردو کے معروف افسانہ نگار، ناول نگار اور نقاد ہیں ۔ آپ 23 مارچ 1957 کو پنڈی گھیب ضلع اٹک (پنجاب) پاکستان میں پیدا ہوئے ۔ پنڈی گھیب سے میٹرک کے بعد زرعی یونیورسٹی لائل پور(فیصل آباد) سے ایف ایس سے کے بعد ایگری کلچر مضامین میں گریجویشن کی اور ایک بنکار کی حیثیت سے بتیس سال عملی زندگی سے وابستہ رہے۔ اس عرصے میں اندرون ملک شہر شہر گھومے، دیہی زندگی کو قریب سے دیکھا اور کئی ممالک کا دورے بھی کیے ۔ محمد حمید شاہد کی ادبی زندگی کاآغاز یونیورسٹی کے زمانے سے ہی ہو گیا تھا ۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے مجلہ "کشت نو" کے مدیر رہے۔ پہلا افسانہ بھی اسی زمانے میں لکھا۔ پہلی کتاب " پیکر جمیل" بھی یونیورسٹی کے زمانے میں لکھی ۔ افسانوں کا پہلا مجموعہ "بند آنکھوں سے پرے "تھا جب کہ "جنم جہنم"،"مرگ زار"اور "آدمی" آپ کے افسانوں کے دیگر مجموعے ہیں۔ "محمد حمید شاہد کے پچاس افسانے" معروف بزرگ ادیب اور شاعر ڈاکٹر توصیف تبسم کا منتخب کردہ ہے جب کہ محمد حمید شاہد کے نائن الیون کے پس منظر میں لکھے ہوئے منتخب افسانوں کو "دہشت میں محبت" کے نام سے غالب نشتر نے مرتب کیا تھا۔ محمد حمید شاہد کا ناول"مٹی آدم کھاتی ہے" کے نام سے چھپا اور مقبول ہوا ۔ فکشن کی تنقید محمد حمید شاہد کی ترجیحات کا ایک اور علاقہ ہے ۔ "ادبی تنازعات"،"اردو افسانہ:صورت و معنیٰ"، "اردو فکشن: نئے مباحث"،"کہانی اور یوسا سے معاملہ " کے علاوہ "سعادت حسن منٹو:جادوئی حقیقت اور آج کا افسانہ" اس حوالے سے چند معروف کتب ہیں ۔ اردو نظم پر تنقید کی کتاب"راشد ،میراجی، فیض" کے علاوہ آپ کی نثموں کی کتاب لمحوں کا لمس اور بین الاقوامی شاعری کے تراجم پر مشتمل کتاب "سمندر اور سمندر" بھی بہت معروف ہیں۔ حکومت پاکستان نے محمد حمید شاہد کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کے لیے صدارتی سول ایوارڈ "تمغہ امتیاز" 2017 کو دیا۔

previous post
فکر غامدی: جدید ذہن پہ اثر، معاشرے سے لاتعلقی اور مستقبل — میں ان سے کیوں الگ ہوا؟ سجاد خالد
next post
بے گھر ہونا ——– شہزاد حنیف سجاول

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.