تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

ڈاکٹرز کا مطالبہ ہے کیا؟ —- میاں ارشد فاروق

by دانش ڈیسک 30/03/2020
written by دانش ڈیسک 30/03/2020
71

دو ہفتے قبل جب ہم چند دوستوں نے ڈاکٹرز کو حفاظتی سامان مہیا کرنے کے مطالبہ کے حق میں آواز اٹھانا شروع کی تو اس وقت بہت سے لوگ اس موضوع کی اہمیت کو سمجھ ہی نہیں سکے اور یہ سلسلہ ابھی تک حکومتی اور عوامی دونوں سطح پر کنفیوژن کا شکار ہے بلکہ بعض افراد نے ڈاکٹرز کیلئے کی جانے والی اپیلوں کا مذاق بھی اڑایا اس لیے یہ ضروری ہوگیا ہے کہ پبلک میں awareness کے لئے لیے چند چیزوں کی تشریح کر دی جاے۔

سب سے پہلی بات یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جب کسی شخص پر وایرل اٹیک ہوتا ہے تو وائرس کی جو مقدار اس کے جسم میں منتقل ہوتی ہے، وایرل لوڈ کہلاتی ہے۔ اگر کسی کو ایک آدمی سے وائرس ٹرانسفر ہو رہا ہے تو وایرل لوڈ کی مقدار کم ہوگی لیکن اگر اسے کی مختلف ذرائع سے وائرس کی ترسیل ہو تو وایرل لوڈ کی مقدار زیادہ ہوگی۔

اس لئے جو مریض آیسولیشن میں ہوں وہ تازہ دم وائرل لوڈ سے بچ جاتا ہے لیکن جو شخص بہت سے مریضوں کے درمیان گھرا ہو اس پر وائرل لوڈ کا بڑھ جانا یقینی ہوتا ہے۔ آپ یہ سمجھ لیں کہ اگر ایک ڈیم کو ایک نال بھر رہی ہو تو اسے بھرنے میں جو وقت لگے گا اس کی نسبت اس ڈیم کو دونالوں کے ذریعے بھرنے میں کم وقت لگے کیونکہ پانی کی مقدار زیادہ ہو گیی اسی طرح اگر پانی بھرنے والی نالیاں دس ہوں تو وقت اور بھی کم لگے گا۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر کسی شخص کے ارد گرد کرونا کے مریض زیادہ ہوں تو اس شخص کو بیماری کا شکار ہونے کے امکانات بھی زیادہ ہوں گے۔ ایسے شخص کو ہای وایرل لوڈ کا شکار کہا جاتا ہے۔ ہیلتھ پروفیشنل جن میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف ہیں وہ بجا طور پر پر اس خدشے کا کا اظہار کر رہے ہیں کہ ان کی کمیونٹی ہای وائرل لوڈ کا شکار ہوگی۔ اور کمیونٹی کے اندر وہ افراد جن کا مدافعتی نظام اس وائرس کے خلاف مضبوط نہیں وہ جان سے بھی جا سکیں گے اگرچہ یہ کہنا ابھی مشکل ہے کہ زیادہ وائرل لوڈ کی صورت میں مریض کی موت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں یا نہیں لیکن لانچنگ اسپتال چائنہ میں کرونا کے 76 مریضوں پر کیے گئے ٹیسٹ سے یہ ثابت ہوا کہ جن مریضوں کی حالت زیادہ کریٹیکل تھی ان کے ناک میں وایرل لوڈ کی مقدار بھی زیادہ نکلی۔

اسی وجہ سے ڈاکٹر کمیونٹی نے بروقت طور پر حکومت کو اس خطرے کی نشاندہی کی اور اپنے مطالبات پیش کیے جن میں سب سے بڑا مطالبہ ہیلتھ پروفیشنلز کو حفاظتی سامان مہیا کرنے کا تھا۔ پمز اسپتال کے ڈاکٹرز نے اپنی پریس کانفرنس میں اپنا مطالبہ پیش کرتے ہوے کہا

” پمز کے اندر اور دوسرے شعبوں میں روزانہ 30 ہزار مریض آتے ہیں اور ان کے ساتھ ملنے والے ایک لاکھ کے قریب لوگ آتے ہیں۔ آپ سوچیں کہ اگر ان کے اندر ایک بھی پازیٹیو وائرس والا آ گیا تو کیا ہوگا، یہ وائرس ہوا کے ذریعے پھیلتا ہے ہے یہ ٹچ کرنے سے بھی پھیلتا ہے ہے یہ دروازہ کھولنے سے بھی پھیلتا ہے ہے یہ ہاتھ رکھنے سے بھی اور ہاتھ ملانے سے بھی پھیلتا ہے۔ میری حکومت سے گزارش ہے کہ ہمیں پرسنل پروٹیکشن ایکوئپمنٹ مہیا کریں ہمیں نہ OPD بند کرنے کا شوق ہے نہ ہم مریض کو دیکھنے سے گھبراتے ہیں ہم 36 چھتیس گھنٹے کام کرنے والے لوگ ہیں۔ ہم بہتر گھنٹے بھی کام کرسکتے ہیں اس مصیبت کی گھڑی میں ہم اپنی قوم کو کبھی بھی مایوس نہیں کریں گے نہ ہم اس قوم کا فرض ادا کرنے سے منہ پھیر لیں گے۔ ہم اس وبا سے لڑنے کے لیے ہراول دستے کا کردار ادا کریں گے لیکن خودکشی نہیں کرنی ہے ہم نے۔ پرسنل پروٹیکشن ایکوپمنٹ کے بغیر مریض کو دیکھنا خودکشی کرنا ہے، آپ کے پاس ڈاکٹر ہیں کتنے؟ اگر پروفیسرز ڈاکٹرز میں یہ وائرس پھیل گیا تو کوئی بھی مریض کو ہاتھ لگانے کو تیار نہ ہوگا۔ ہم اس وقت کوئی ڈمانڈ نہیں کر رہے رہے نہ تنخواہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہمیں تنخواہ نہیں چاہیے ہمیں کوئی فیسیلٹی بھی نہیں چاہیے ہماری بس اتنی سی درخواست ہے کہ جو کٹ ہمارے لئے بنائی گیی ہے ہمیں مہیا کردیں تاکہ ہم آرام کے ساتھ مریض دیکھ سکیں۔

اگر آپ ہمیں یہ کٹس مہیا نہیں کر سکتے تو ہم مخیر افراد سے گذارش کرتے ہیں کہ وہ ہمیں یہ کٹس فراہم کریں۔ دوسری صورت میں عوام کو محفوظ کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ لوگ اسپتال میں نہ آیں، ہم اپنے نمبر شیئر کر دیں گے اور آن لائن مریضوں کو دیکھنے کو تیار ہیں۔ لیکن یہ دس ہزار، بیس ہزار کا مجمع روکنا ضروری ہے ہے۔ ہم پروفیشنل ہیں اور سمجھتے ہیں کہ لوگوں کا اس طرح مجمع میں آنا خطرناک ہے۔ ہم تمام لوگوں سے درخواست کریں گے کہ گھروں میں رہیں بار بار ہاتھ دھویں۔ اسپتال میں صرف ایمرجنسی کی صورت میں آئیں دوسری ہماری یہ ڈیمانڈ ہے کہ اسپتالوں میں آئسولیشن وارڈ بنائے گئے ہیں یہ اسپتالوں میں نہیں بنائے جاتے کیونکہ حرکت سے وائرس پھیلتا ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ اسلام آباد میں الگ جگہ پر آئسولیشن وارڈ بنایں۔ بیشک ہماری وہاں پر ڈیوٹی لگائیں۔ ہم تفتان میں بھی جانے کو تیار ہیں لاہور میں جانے کو تیار ہیں لیکن پروٹیکشن کے ساتھ، پروٹیکشن کے بغیر نہیں”

اس اپیل کے بعد ڈاکٹرز کے مطالبے میں شدت آتی گیی اؤر بہت سے لوگ سوشل میڈیا پہ انکے حق میں آوازیں اٹھانے لگ گیے۔ پھر ڈیرہ غازیخان سے ینگ ڈاکٹرز کے صدر نے اپنی ویڈیو اپیل میں کہا

“میں نعمان چودھری صدر وائی ڈی اے ڈیرہ غازیخان آپ سے مخاطب ہوں۔ میرا یہ پیغام آپ تمام ارباب اختیار اور وزیر اعلی پنجاب تک پہنچا دیں کہ اس وقت ہمارے یہاں ڈاکٹرز اور پیرامیڈکس جو کورنٹائن سینٹر میں کام کر رہے ہیں ان میں سے دو ڈاکٹرز، ڈاکٹر صبا اور ڈاکٹراسامہ کے کرونا ٹیسٹ پازیٹو آ گیے ہیں انہوں نے کورنٹاین سنٹر میں تمام زایرین کی سیمپلنگ کی تھی۔ اس وقت بھی ہمارا سٹاف پراپر پروٹیکٹو ایکوپمنٹ کے بغیر بیٹھا ہے آپ دیکھ سکتے ہیں کہ انہوں نے پلاسٹک کی شیٹیں خود ہی بنا کر پہنی ہوئی ہیں ہیں ان کے پاس عام ماسک ہیں، یہ سادہ ماسک ہیں اور پلاسٹک کی شیٹیں انہوں نے پہنی ہوئی ہیں۔ یہ کھلا ایریا ہے یہاں سے وائرس ایفیکٹ کر سکتا ہے، سارے لوگوں کی یہی حالت ہے، آپ دیکھ سکتے ہیں، میری آپ تمام لوگوں سے ہاتھ باندھ کر درخواست ہے کہ ارباب اختیار سے کہیں کہ وہ ہمیں پرسنل پروٹیکٹو ایکوپمنٹ دیں، یہ نیشنل ایمرجنسی ہے اس میں کسی قسم کی لاپرواہی برداشت نہیں ہو سکتی۔ ہم کام کرنا چاہتے ہیں اور کام چھوڑ بھی نہیں سکتے ہمارے تمام ہیلتھ پروفیشنلز کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ پہلے دو لوگ جو پازیٹو آئے ہیں جن لوگوں کے ساتھ وہ بیٹھے رہے جن جن لوگوں کے ساتھ کھانا کھایا ان تمام لوگوں کے بھی ہم ٹیسٹ کروائیں گے میری آپ سب لوگوں سے اپیل ہے کہ خدارا گھروں سے باہر نہ نکلیں اور غیر ضروری طور پر اسپتالوں کے وزٹ نہ کریں”

اب صورت حال یہ ہے کہ اگرچہ کچھ اسپتالوں میں پرسنل پروٹیکٹو ایکوپمنٹ پہنچا دی گئیں ہیں لیکن انہیں صرف کرونا وارڈز کیلیے مختص رکھا گیا ہے۔ ڈیرہ غازیخان میں تو وہ بھی نہیں پہچای گئیں اور وہاں پر لوکل ایکٹوسٹ گروپس نے ایک سیاسی جماعت کے ذریعے سات سو کے قریب PPE پہنچای ہیں۔

پرسنل پروٹیکٹو ایکوپمنٹ کیا ہوتی ہے؟

یہ پلاسٹک کی ایک ڈھال ہے جس سے انسان کا تمام جسم مکمل طور پر وائرس سے محفوظ ہو جاتا ہے۔۔ بعض مقامات پہ ڈھیلے ڈھالے لباس پہنے ہوے دیکھے گیے ہیں وہ PPE نہیں ہے جیسے کہ اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس شیلڈ نما لباس میں سب سے اہم حصہ ماسک ہے جسے N95 ماسک کہا جاتا ہے اسکے ذریعے سانس لینے کے دوران وایرس اندر نہیں جا سکتا۔ سٹینڈرڈ ماسک کے اوپر پلاسٹک کا ایک ہیلمٹ یا گوگلز بھی ہوتی ہیں تاکہ وائرس کسی بھی صورت میں سانس کے اندر نہ جا سکے۔ ماسک گوگلز گاؤن کے ساتھ اس میں ربڑ کے دستانے اور جوتے بھی شامل ہوتے ہیں۔ اسے پہننے اور اتارنے کی بھی خاص تکنیک ہے تاکہ اتارنے کے دوران وائرل ٹرانسفر نہ ہو سکے۔

اس وقت کتنی تعداد میں PPEs کی ضرورت ہے؟

پنجاب میں دو طرح کے اسپتال ہیں ایک ٹیچنگ اسپتال اور دوسرے نان ٹیچنگ اسپتال۔۔۔ نام ٹیچنگ اسپتالوں میں ڈسٹرکٹ تحصیل اور ییسک ہیلتھ یونٹس کی تین اقسام ہیں۔ ان تمام میں ڈاکٹرز نرسوں اور پیرامیڈکس کی تعداد چار لاکھ سے زیادہ ہے۔ یہ یاد رہے کہ ایک PPE صرف ایک دفعہ پہنی جاتی ہے اور اسے اتارنے کے بعد محفوظ طریقے سے ضایع کیا جاتا ہے۔ اگر ہم اسپتالوں کو بند نہیں کرنا چاہتے تو ہمیں یہ PPEs کی بے تحاشہ کثیر تعداد کی ضرورت ہے جو چاینہ سے پوری نہیں کروای جا سکتی۔ ہمیں یہ ادراک بھی کرنا ہو گا کہ اتنا بڑا سٹاک فورا پورا کرنا ناممکن ہو گا لیکن ایمرجنسی اور او پی ڈیز میں کم از کم پچیس ہزار PPE روزانہ کی بنیاد پر تو لازما چاہیں۔ اسکے علاؤہ انکی ضرورت سینیٹری ورکرز اور محکمہ خوراک کو بھی ہے۔ ایک محدود اندازے کے مطابق وبا کے پھیلاؤ کی صورت میں روزانہ پانچ سے دس لاکھ PPEs کی ضرورت ہو گی۔

کیا پاکستان کا ٹیکسٹائل سیکٹر اس ڈیمانڈ کو پورا کر سکتا ہے؟

لاہور میں بیکن ہاؤس کے ایک سابق طالبعلم عمر حسین نے جو عمر ٹیکسٹائل کا مالک ہے اس PPE کو نو پرافٹ پر تیار کرنا شروع کیا ہے لیکن وہ شاید صرف گاؤن بنا رہے ہیں اور انکے بقول یہ ڈیمانڈ لوکل انڈسٹری پوری کر سکتی ہے۔

اس وقت پنجاب حکومت کو ان تمام ریسورسز جن میں پلاسٹک انڈسٹری، ربڑ انڈسٹری اور ڈای میکرز شامل ہیں کو آن بورڈ لینے کی ضرورت ہے جو PPEs بنانے میں معاون ہو سکتے ہیں اور انکو استعمال کر کے اس ڈیمانڈ کو ایڈوانس میں پورا کر لینا چاہیے کیونکہ بعد میں ایسا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

Facebook Comments Box
CoronavirusDoctorsDoctors fighting CoronafeaturedMian Arshad FarooqParamedicsQuarantineQuarantine Centersڈاکٹرز اور کوروناکورانا وایرسوبا
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
کارل مارکس: تائید مذہب کا مبلغ —– فرحان کامرانی
next post
نقاب، ماسک اور رخِ زیبا —- تیمیہ صبیحہ

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.