تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادبعلمیکالم

کارل مارکس: تائید مذہب کا مبلغ —– فرحان کامرانی

by دانش ڈیسک 29/03/2020
written by دانش ڈیسک 29/03/2020
69

ہمیں فلسفے سے کوئی خاص لگاؤ نہیں تھا لیکن جب ہم نے دیکھا کہ اس علم میں کس نوع کی بدیانتی عام ہے تو ہم نے فیصلہ کیا کے اسکے خلاف علم ِجہاد بلند کیا جائے۔ کئی لوگوں نے ہمیں سمجھایا کہ تمہیں کیا ضرورت ہے کسی سے جھگڑا مول لینے کی؟ بس خاموش تماشائی بنے رہو! کئی نے کہا کے بے فکر رہو فلسفہ تو ویسے ہی جاں بہ لب ہے یہ عمارت آج نہیں تو کل گری ہی گری اور جوں ہی گری ساری غلط فہمیاں بھی رفع ہوجائیں گی۔ لیکن ہم لوگوں کے غلط مشوروں میں ایک احسن مقصد سے کیونکر دستبردار ہوتے؟ سو ہم نے عَلمِ جہاد بلند کیا۔ ہم کئی دن ہم محوِ استغراق رہے کے یہ جہاد کس نوع کا ہو اور اسکی ابتداء کیسے کی جائے؟

نفسیات کے میدان سے کھڑے ہوکر فلسفے پر حملہ کرنا کافی دشوار تھا۔ اور ویسے بھی اہلِ فلسفہ نجانے کیوں برتری کے زعم میں رہتے ہیں کہ نفسیات انکی بھاگی ہوئی آوارہ لونڈی ہے اور ادب انکا ”بے ادب“ غلام ہے۔ اب انکی نیم پدرانہ خودکلامی کو کوئی نہیں سنتا لیکن پھر بھی انکا تکبر نہیں ٹوٹا۔ ویسے ہم کو فلسفے سے کوئی نفرت نہیں ہے بلکہ فلسفے کے اندر کے ہی جھگڑے نے ہمیں اس ”جہاد بالقلم“ کی تحریک دی ہے۔

خیر تو غور و فکر سے ہم اس نتیجے تک پہنچے کے لوہا لوہے کو کاٹتا ہے اور ہیرا ہیرے کو اسلئے فلسفے سے ہی فلسفے کی کاٹ کرنی چاہئے۔ اس خیال کے زیر اثر ہم نے فوراً ہی فلسفی ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ ہمارے اس دعوے سے اہل فلسفہ کے سینوں پر سانپ لوٹ گئے کئی نے ہمارا مزاق اڑایا کچھ نے جواباً نفسیات دان ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ لیکن ہم انکی بھڑکوں سے متاثر ہونے والے نہ تھے اسلئے اپنے دعوے پر قائم رہے۔ ہم نے جن بددیانتیو ں کے سدِ باب کیلئے یہ سلسلہ شروع کیا ہے انمیں سے ہر ایک پر انشاء اللہ ایک علیحدہ علیحدہ مضمون تصنیف کرنے کا ارادہ ہے۔ خیر آج کا موضوع تم عنوان میں دیکھ چکے ہو۔ ابکی بار ہم زیادہ طویل تمہید نہیں باندھیں گے اسلئے مضمون کی ابتدا کرتے ہیں۔

بچپن سے ہم کارل مارکس کے بارے میں سنتے آ رہے ہیں کہ وہ دہریہ تھا، مذہب کا انکاری تھا، مذہب کو افیم کہتا تھا وغیرہ وغیرہ۔ الغرض بیچارے کے نام کو گالی بنادیا گیا ہے۔ شروع میں تو ہم بھی اس پروپیگنڈے کا شکار ہوگئے تھے اور اپنے ازلی دشمنوں کو مارکسؔ کہہ کے پکارنے لگے تھے اور اُسکے نام کا کتا پالنے کا ارادہ کرچکے تھے۔ لیکن جب ہم پر وجدان سے حقیقت ِحال آشکار ہوئی تو اُس نیک نفس صاحبِ ایمان شخص کے بارے میں بہتان۔۔۔۔ ”سمجھ میں آنے لگا جب تو پھر سنا نہ گیا!“۔ ہم نے کئی لوگوں کو سمجھایا کہ ”میاں! پہلے تولو پھر بولو‘ یہ کیا کے سنی سنائی پر اعتبار کئے بیٹھے ہو‘ خود سے اُسکی کتب کا مطالعہ کر کے دیکھ لو۔۔۔ حقیقت آئینے کی طرح صاف ہوجائے گی“ لیکن ہمارے یہاں لوگوں کو اِس فضول کام کی فرصت کہاں؟  ہم کس کس کی زبان پکڑتے پھرتے بس سوچا کہ ایک مضمون اس موضوع پر ہو اور دلائل کی مدد سے بیچارے مارکس کا مقدمہ لڑا جائے۔ یہاں ایک اور بات بھی واضح کردینا چاہیں گے کہ گوکہ ہمارے  بے پناہ حسن سے کئی لوگ اسقدر متاثر ہیں کہ کوئی ہمیں جرمن سمجھتا ہے، کوئی فرانسیسی تو کوئی کچھ اور لیکن ہم ایک انکشاف کرنا چاہیں گے کہ ہم بھی تمہاری طرح پاکستانی ہیں اور ہم نے اسی عروس البلاد کراچی کے علاقے پاپوش نگر میں جنم لیا تھا! اِس انکشاف کا مقصود تم پر یہ واضح کرنا ہے کہ ہماری کارل مارکسؔ سے کوئی رشتے دار ی نہیں ہے اور نہ ہی اس طرفداری کے پیچھے کوئی قومی حمیت کار فرما ہے بلکہ یہ اصولی جنگ ہے! خبر دار ہماری نیت پر شبہ نہ کرنا!

کارل مارکس کے بارے یہ تو سب جانتے ہیں کہ وہ ایک فلسفی تھا لیکن یہ صرف چند صاحب علم ہی جانتے ہیں کہ وہ ایک بسیار گو شاعر بھی تھا پر اُس کو اپنی شاعری پر اتنا اعتماد نہ تھا جتنا کہ اپنے فلسفے پر، اسلئے اپنا فلسفہ تو اُسنے سپردِ قلم کردیا لیکن اپنی شاعری صرف اپنے قریبی دوستوں کو ہی سنائی۔ یہ شاعری اب تک کسی باطنی علم کی طرح سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی آئی ہے۔ کون سا موضوع ہے جو اس شاعری میں زیرِ بحث نہ آیا ہو! جب یہ شاعری ہم تک پہنچی تو ہم سے وعدہ لیا گیا کہ اسکو کبھی تحریر نہ کریں گے لیکن مارکس کی آبرو ہم کو عزیز ہے اسلئے اسکی ایک نظم تمہاری نظر کرتے ہیں۔ لو اگر پڑھ سکو تو پڑھ لو!

Fratelli d’Italia,
l’Italia s’è desta,
dell’elmo di Scipio
s’è cinta la testa.
Dov’è la vittoria?

کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ اٹلی کا قومی ترانہ ہے؟ ہمیں تم سے اسی احمق پن کی امید تھی! تم بھی ہماری طرح   ہفت زبان ہوتے تو یہ پانچ مصرے تمہارے لئے پانی ہوجاتے۔ ہم جانتے ہیں کہ تم تو اردو بھی ٹھیک سے نہیں پڑھ سکتے اسلئے آسان کر کے سمجھائے دیتے ہیں۔ شاعری کا ترجمہ نثر میں کرنا ہم کو پسند نہیں اور ہم تمہارے ذوقِ شعری میں بھی بہتری کے خواہاں ہیں اسلئے ہم نے اسکا منظوم ترجمہ کیا ہے۔ ملاحظہ کرو اور سردھنو!

جن کو ہے مجھ سے عداوت گہری
کہتے ہیں مجھکو دہری! دہری!
روتا ہوں اُس دن کو جب آیا اٹلی
قسمت میں ذلت کیوں ایسی ٹھہری؟

ہم جانتے ہیں کہ تیسرا اور چوتھا مصرع وزن سے اترا ہوا ہے لیکن یاد رکھو کہ ہم شاعری کے مردِ میدان نہیں ہیں یہ جرأتِ رندانہ ہم نے صرف تمہاری اور مارکسؔ کی محبت میں کی ہے۔ تم کہو گے کہ پہلا اور دوسرا مصرع غالبؔ سے اُڑایا ہے۔ اصل میں ہم تمہیں کیسے سمجھایں کہ ”ٹرانس کری ایشن“کے اس عمل میں ہم پر القا ہوا کہ مارکسؔ اور غالبؔ کے مسائل اسقدر ملتے جلتے ہیں کہ بعض اوقات عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ سب کہتے ہیں کہ مارکسؔ نے مشرق کو بہت متاثر کیا لیکن کم لوگ ہی جانتے ہیں کہ اس تک مشرق کا فیضان کیسے کیسے پہنچا۔ اُسکی شاعری کیا چیز ہے؟ تم کو کیسے سمجھاؤں کہ عہدکا پابند ہوں بس یوں سمجھ لو کہ مسائلِ تصوف غالب کے علاوہ اگر کسی کے یہاں بیان ہوئے ہیں تو مارکس کی شاعری میں۔ فرق بس اتنا ہے کہ وہ بیچارا جرمن یہودی تھا اور میرزا نوشہ ترکمانی ‘ایبکی‘ افراسیابی اور فریدونی تھے۔

خیر اس شعر کا پس منظر بھی تم کو بتاتے چلیں۔ اصل میں بیچارے مارکس نے جہاں تہاں ایک دو مضامین میں ذلفقار علی بھٹو مرحوم کی حمایت کردی تو لوگ اُسکی جان کو آگئے کے دیکھو مغرب کا یہ مفکر سُرخہ ہوگیا۔ حالانکہ غریب نے لاکھ سمجھایا لیکن لوگوں کی سمجھ میں کب آتا ہے لوگ تو بس کسی پر بھی ٹھپا لگادیتے ہیں۔ بچارہ اٹلی میں مقیم تھا کہ اُسکے خلاف مظاہرے شروع ہوگئے کہ ’اگر کمیونسٹ ہوگئے ہو تو ہماری مقدس دھرتی چھوڑ کر روس یا کیوبا چلے جاؤ۔ مقدس تربتوں کی اس دہرتی پر دہریت کی حمائت نہیں چلے گی!‘  اسی غم کی کیفیت میں غریب نے یہ اشعار کہے تھے۔ دیکھا تم نے! اس شخص نے حق گوئی کے لئے کیسی کیس صعوبتیں برداشت کیں لیکن پھر بھی سچ کی حمائت جاری رکھی!

بعض لوگ کہیں گے کے بھئی وہ مذہب کو افیم کہنے والی بات کیا معنی رکھتی ہے؟ ہم جانتے ہیں کہ تم دقیق مسائل ِ تصوف کو سمجھنے کی کوئی اہلیت نہیں رکھتے اسلئے ہم تم کو تمہاری سطح پر اتر کر سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اصل میں کم لوگ جانتے ہیں کہ مارکسؔ ایک پکا افیمچی تھا۔ دنیا کے تکلیف دہ حقائق اُسکے دل میں کانٹا بن کر چبھتے تھے اسلئے ایک گونہ بے خودی اُسے دن رات چاہئے تھی۔ افیم کو وہ کوئی بری چیز نہ جانتا تھا بلکہ افیم اُسکے وہی حیثیت رکھتی تھی جو میرزا نوشہ کے لئے شراب۔ اور یاد کرو میرزا نوشہ نے کیا کہا تھا؟ ”دے بطِ مے کو دل و دست شنا موجِ شراب“۔ خیر تم کیا جانو اس مصرعے کے کیا معانی ہیں! بحر حال اتنا سمجھ لو کہ میرزا کہتے ہیں کہ شراب کے ہونے سے بوتل میں ایسی حیات آجاتی ہے کہ وہ بطخ کی طرح تیر سکے۔ یعنی میرزا کے یہاں شراب اور حیات ہم معانی ہیں اسی طرح مارکسؔ کے یہاں افیم اور زندگی ایک چیز کے دو نام ہیں کیونکہ ”بے مے‘ کسے ہے طاقت ِ آشوبِ آگہی؟“۔ اب غور کرو کہ اپنی محبوب چیز سے مذہب کو تشبیہ دینے میں آخر کیا برائی ہے؟ لیکن مارکسؔ کے کچھ جھوٹے شارحین نے اُسکے ساتھ بڑی زیادتی کی!

ہم دیکھ رہے ہیں دلائل کی اس بارش نے مارکسؔ کے مخالفین کی صفوں میں کھلبلی مچادی ہے۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟ ویسے تو ہمارے پاس ایسے ایسے دلائل ہیں کہ کشتوں کے پشتے لگاسکتے ہیں لیکن ہم ہمیشہ بلی کو راستہ دینے کے قائل رہے ہیں۔ اسلئے سارے دلائل ایک ہی مضمون میں نہیں دے رہے۔ بس ایک آخری دلیل دے رہے ہیں کہ تم پر حقیقت ہماری طرح بالکل روشن ہوجائے۔ ہم جانتے ہیں کہ تم اپنا فارغ وقت تصویریں دیکھنے میں گزارتے ہو۔ تصویروں کی نوعیت سے ابھی بحث نہیں ہے۔ جاؤ کہیں سے لاکر مارکسؔ کی تصویر دیکھ لو! اتنی بڑی داڑھی کبھی کسی لامذہب کی ہوسکتی ہے؟ تم بڑے علامہ بنتے ہو تو صرف ایک اس دلیل کا جواب ڈھونڈ لاؤ!

Facebook Comments Box
featuredKarl MarxPhilosophyReligionکارل مارکسمزہب
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
خوف سے نہ مریں —- عطا محمد تبسم
next post
ڈاکٹرز کا مطالبہ ہے کیا؟ —- میاں ارشد فاروق

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.