تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینصنف/ جینڈر

آزادی نسواں کی تحریک اور عورت مارچ ——– علی عبداللہ

by دانش ڈیسک 07/03/2020
written by دانش ڈیسک 07/03/2020
109

108

مغرب میں آزادی نسواں کے تین بنیادی مکاتب فکر موجود ہیں۔

1۔ انقلابی: جو پدرسری معاشرے (مرد کی حاکمیت والے معاشرے) کو عورت کے مظالم کا سبب قرار دیتے ہیں اور مرد کو عورت کا دشمن قرار دیتے ہیں۔ ان میں سے بعض اس قدر غالی ہیں، کہ ہم جنس پرست عورتوں کو ہی اصل انقلابی قرار دیتے ہیں جو مردوں سے کسی بھی قسم کے تعاون سے پرہیز کرتی ہیں۔

2۔ مارکسی و اشتراکی مکتبہ فکر:
یہ عورت پر ظلم کا ذمہ دار سرمایادارانہ معاشرے کو قرار دیتا ہے کیونکہ عورت کو گھریلو کردار کا کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا اس لیے وہ سرمایادارانہ معاشرہ کو ہی بدلنا حل سمجھتے ہیں۔

3۔ لبرل مکتب فکر:
یہ جمہوریت پسند ہیں اور انقلابی تبدیلیوں کی بجائے معاشرتی نظم کے تحت جمہوری طریقے کے مطابق کام کرتے ہیں اور مساوات مردوزن کے قائل ہیں۔

یہ تینوں مکاتب فکر اس بات پر متفق ہیں کہ عورت مظلوم ہے لیکن ظلم کے اسباب کو متعین کرنے میں ان کا اختلاف ہے۔ کوئی اس ظلم کی وجہ عورت کی فطری جسمانی کمزوری کو قرار دیتا ہے، کوئی مردانہ معاشرے کو، کوئی قدیم کلچر کے رسوم و رواج یعنی عورت کا گھر بار سنبھالنے کو اصل سبب قرار دیتا ہے اور کوئی سرمایادارانہ معاشرے کو۔ کوئی اس ظلم کی وجہ عورت و مرد کے دائرہ کار کی تقسیم کو قرار دیتا ہے۔ اب ان مکاتب فکر کے مطابق عورت کے مسائل کے حل کے لیے خاندانی نظام کا خاتمہ ضروری قرار پاتا ہے لیکن وہ اس کے حل کے لیے مختلف تجاویز رکھتے ہیں، مثلاً ریاست بچوں کی اجتماعی کفالت کا بندوبست کرے، یا مرد و عورت مل کر گھر بار اور پرورش کے کام کو نصف و نصف سنبھال لیں، یا پیشہ ور والدین کی خدمات حاصل کی جائیں وغیرہ۔

تاریخ کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہو گا کہ پہلے پہل مغربی عورت کا زیادہ کردار گھریلو نوعیت کا ہوتا تھا اور مرد کا زیادہ کردار ذریعہ معاش پر توجہ تھا۔ لیکن یورپ کی کچھ تحاریک، روشن خیالی کی تحریک، اصلاح مذہب کی تحریک، انقلاب فرانس، صنعتی انقلاب اور صنعتی معاشرے کے قیام نے عورت کے کردار کو بدل ڈالا۔ عورت کو باور کروایا گیا کہ اس کے بھی حقوق ہیں اور بیسویں صدی میں یہ جدوجہد تیز ہو گئی۔ اس کے نتیجے میں مردوعورت کی مساوات، عورتوں کا معاشی استقلال اور مردوزن کا آزادانہ اختلاط جیسی باتیں مغربی معاشرے کا طرہ امتیاز بنیں۔ اسی ضمن میں ان کا ایجنڈا اقوام متحدہ سے منظور کروایا گیا اور 1979 میں حقوق نسواں کی مخصوص دستاویز پاس ہوئی جس پر اولاً چند مسلم ممالک نے دستخط کیے لیکن بعد میں غالباً 1995 میں خواتین کی عالمی کانفرنس کے بعد اکثر مسلم ممالک بھی اس ایجنڈے پر متفق ہوتے چلے گئے۔ چونکہ مغرب میں اس تحریک کے نتیجے میں خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا، شادیاں ختم ہوئیں، طلاقیں عام ہوئیں، عورت مرد کے طبقے میں باہمی نفرت عام ہوئی اور عورت و مرد جو ایک دوسرے کے فطری حلیف اور معاون تھے وہ ایک دوسرے کے حریف بن گئے۔ نتیجتاً عورتوں میں یہ ذہنیت عام ہوئی کہ وہ مردوں کے بغیر زندگی گزار سکتی ہیں، لہذا مسلم ممالک میں بھی برسراقتدار یا طاقتور طبقہ اس ایجنڈے کی تکمیل میں سرگرم رہا جس سے زیادہ تر ترقی پذیر مسلم ممالک متاثر ہوئے۔

ترقی یافتہ مسلم ممالک نے کسی طرح اس ایجنڈے پر مخصوص طریقے سے عمل کر کے اندرونی خلفشار اور خواتین کو بے قابو ہونے سے کسی حد بچانے میں کامیابی حاصل کی اور ان ممالک میں یوں ہڑبونگ نہ مچی جیسا ہمارے یہاں ہو رہا ہے۔ عورت اپنی آزادی کی خاطر (گو کہ اسلام کی رو سے وہ آزاد ہے اور اس کے باقاعدہ حقوق موجود ہیں) ایسی ایسی تنظیموں، میڈیائی جتھوں، اور نظریاتی ٹھگوں کے ہاتھ چڑھی کہ وہ اپنے حقیقی حقوق مانگنا ہی بھول گئی بلکہ وہی مطالبات ان کی نظر میں اہم ٹھہرنے لگے جو پہلے ہی مغرب میں تباہی لا کر خاندانی نظام کو تباہ کر چکے تھے۔ بھلا ہو مغربی تھنک ٹینکوں کا، جنہوں نے اس تباہی کو خوبصورت اور دلکش رنگوں میں رنگ کر مشرقی ذہن کو ورغلایا اور ایسا ورغلایا کہ پھر ان کے اپنے چراغوں میں روشنی ہی نہ رہی۔

حالنکہ صنعتی انقلاب کے بعد جو کچھ حقوق نسواں کے نام پر عورت کے ساتھ ہوا اس بارے خود مغربی عورت نوحہ کناں ہے۔ یورپی مصنفہ “انی روڈ” کہتی ہیں کہ،

“جب ہماری بیٹیاں گھروں کے اندر غلاموں کی طرح کام کرتی ہیں تو یہ زیادہ بہتر ہوتا ہے بنسبت یہ کہ وہ فیکٹریوں میں مشغول ہوں، مصائب میں مبتلا ہوں اور ایسی غلاظت میں ملوث ہوں جو ان کی زندگی کی رونق کو ہمیشہ کے لیے لے جائے۔”

پھر یہی مصنفہ کہتیں ہیں کہ

“کاش ہمارے شہر مسلمانوں کے شہروں کی طرح ہوتے اور ہماری عورتوں کی حیا اور پاکیزگی ویسے ہوتی جیسے مسلمانوں کی لونڈیوں اور خادموں کی ہوتی تھی۔ مسلمانوں کی عورتیں حتی کہ خادمائیں بہترین زندگی کے مزے لوٹتیں۔ ہم کیوں نہیں سمجھتے کہ ہماری بیٹیاں اپنی طبعی فطرت کے مطابق کام کاج کریں جیسا کہ آسمانی ادیان کا طریقہ کار ہے اور مردوں والے کام مردوں کے سپرد کیے جائیں تاکہ عورت کا شرف محفوظ کیا جاسکے۔”

مغربی حوالے دے کر عورت کو میرا جسم میری مرضی کے نعرے لگوانے والے انی روڈز جیسی خواتین کو کیوں سامنے نہیں لاتے۔ عورت مارچ، عورت کی آزادی، میرا جسم میری مرضی اور اس جیسے کئی دیگر قبیح نعرے لگانے کی بجائے اگر عقل مندی سے اسلامی احکامات پر نظردوڑا لی جائے اور صرف سورہ النساء اور سورہ النور ہی سمجھ لی جائے تو عورت مارچ کا اصل مغربی ایجنڈا جو کہ خاندانی نظام تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے، خود بخود منہ کے بل آن گرے گا۔ لیکن اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا اور میرا جسم میری مرضی کے نشہ آور ٹیکے مشرقی عورت کو لگتے رہے تو یقیناً اس کا نتیجہ یہی ہو گا جو یورپ میں ہوا۔ خاندانی نظام برباد ہو گا، عورت ایک شخصیت کی بجائے پروڈکٹ اور استعمال کی چیز بنے گی اور پھر بدلے میں بچوں کی ناقص تربیت، نوجوانوں کے انحرافات، فطرت کا فساد اور عقلی اور اعصابی امراض جیسے مسائل ہمارا مقدر بن جائیں گے۔

لہذا یہ آنکھیں کھولنے کا وقت ہے اور عورت کو عزت دینے کا وقت ہے۔ انہیں حکمت سے سمجھانے اور باور کرنے کی ضرورت ہے کہ عورت کی عزت، عورت مارچ میں نہیں بلکہ یورپی ایجنڈے پر عمل نہ کر کے مکمل اسلامی تہذیب و ثقافت کو اپنانے میں ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ مغرب میں بیچاری مسلم عورت حجاب اور اسلامی روایات کے لیے مارچ کر رہی ہے، جبکہ ہمارے اسلامی معاشرے میں عورت حجاب کو بوجھ سمجھ کر اتارنے اور اپنے جسم کو اپنی مرضی سے استعمال کرنے کے لیے مارچ کر رہی ہے۔ کاش وہ “مارلن منرو” کی خودکشی کیے جانے سے پہلے لکھی گئی تحریر ہی پڑھ کر عبرت حاصل کر لیں جو اس نے خواتین کے لیے لکھی تھی۔ اس نے لکھا،

“شہرت سے بچو…. گلیمر کی دنیا سے بچو….. میں روئے زمین پر سب سے زیادہ بدنصیب عورت ہوں…… میں ماں نہ بن سکی….. میں ایسی عورت ہوں جو گھر بار کو ترجیح دیتی ہوں….. معزز خاندانی زندگی ہر چیز سے افضل ہے….. عورت کی حقیقی سعادت پاکیزہ شریف خاندانی زندگی میں ہے بلکہ یہ گھریلو زندگی عورت کی ہی سعادت نہیں بلکہ تمام انسانیت کی سعادت ہے”

Facebook Comments Box
feimisimwome marcWomen's Daywomen's marcwomen's rightsاپنا کھانا خود گرم کرواپنے موزے خود تلاش کروآزادی نسواںحقوق مرداںخیبر پختونخواہ ڈاکٹرزڈاکٹرڈاکٹرزسوشل میڈیاشعبہ صحتشوہرعورتعورت مارچغیر ملکی ایجنڈامرد مارچمردوں کے حقوقمیڈیکلمیرا جسم میری مرضیمیرا زبان میری مرضی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
پانچ ماہ تک انٹرنیٹ بندشوں سے کشمیر کی معیشت روبہ زوال ——– غازی سہیل خان
next post
’’تاریخِ گُم گَشتہ‘‘ مائیکل ہیملٹن مورگن۔ ۔ باب چھٹا، حصہ چہارم —- ترجمہ و تلخیص: ناصر فاروق

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.