تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیکالم

بلوچستان بلوچستان ——– ڈاکٹر فرحان کامرانی

by Editor Daanish 12/02/2020
written by Editor Daanish 12/02/2020
155

ہمارے ملک میں اکثر ہی بلوچستان کی محرومیاں لوگوں کے دل میں عجیب و غریب درد سا پیدا کردیتی ہیں۔ پھر کبھی اس محرومی کو دور کرنے کا طریقہ یہ نکالا جاتا ہے کہ چیئرمین سینٹ بلوچستان سے لایا جاتا ہے اور کبھی وزیر اعظم۔ عموماً یہ کوششیں غیر فطری قسم کی ہوتی ہیں۔ پھر کوئی انجینئرنگ کر کے وہاں کے لوگوں کو ملک کے مرکزی اسٹیج پر لایا جاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس طرح کی انجینئرنگ کیا واقعی کسی صوبے یا کسی لسانی گروہ کے احساس محرومی کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے؟ اِس سوال کا جواب جاننے کے لئے بلوچستان اور دیگر صوبائی اور لسانی اکائیوں کے احساس محرومی پر غور کرنا ضروری ہے اور اس بات کا اندازہ لگانا بھی ضروری ہے کہ اس طرح انجینئرنگ کر کے لائے گئے افراد احساس محرومی میں کمی میں کتنے معاون ثابت ہوتے ہیں؟

بلوچستان کا احساس محرومی کل پیدا نہیں ہوا۔ یہ احساس اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ خود پاکستان۔ اسکا ۷ دہائیوں پر محیط پس منظر ہے جسے جاننا اِس کو سمجھنے کیلئے بہت ضروری ہے۔ 1947 میں جب ہند سے انگریز گئے تو ملک میں تین قسم کے ریاستی انتظامات موجود تھے۔ انتظامی طور پر وہ علاقے جو مرکزی حکومت کے زیر فرمان تھے، جہاں برطانوی ہند کی پولیس اور قانون نافذ تھا، جہاں ہند کا سکہ چلتا تھا۔ پھر ’پرنسلی اسٹیٹس‘ یعنی کسی راجہ و نواب کی ریاستیں جو برطانوی ریذیڈنٹ کی نگرانی میں ہوتیں۔ برطانوی راج کو خراج اور لگان دیتیں اور اپنے اندرونی معاملات میں خود مختار ہوتیں اور تیسرا انتظام آزاد علاقہ جات کا تھا جو شمال مغربی سرحدی صوبے (موجودہ خیبر پختونخوا) اور بنگال چکمہ قبائل کے علاقہ جات میں تھے۔ پورے ہی ہند میں ہندوستان یا پاکستان میں شامل ہونے کے برطانوی فارمولے میں ہی خرابی تھی۔ عام ہندوستان کے لئے تو وہی اکثریت کا قاعدہ مانا گیا کہ جہاں ہندو کی اکثریت ہے وہ ہندوستان اور جہاں مسلم کی اکثریت ہے وہ پاکستان مگر پرنسلی اسٹیٹس کو یہ اختیار دے دیا گیا کہ وہ چاہیں تو ہند کا حصہ بنیں اور چاہیں تو پاکستان کا۔ بلوچستان کا اکثر علاقہ تو پاکستان کا حصہ بنا مگر قلات کے معاملات تھوڑے جدا تھے۔ اگر جان کی امان پاؤں تو عرض کروں کہ خان آف قلات کی ریاست جبراً اسی طرح پاکستان میں شامل ہوئی (کم و بیش) جیسا کہ ہند نے حیدرآباد دکن پر قبضہ کیا۔ خیر تب بات دب گئی۔ ویسے بھی عوام کون سا اِن نوابوں سے کوئی ایسی محبت کرتے تھے کہ اِس بات کو دل میں لے کر بیٹھ رہتے۔ مگر یہ بات تب نہیں اِس کے کافی عرصے بعد 70 کی دہائی میں بلوچ قوم پرستوں کو یاد آگئی۔ بلوچستان رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے مگر آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا۔ پھر اِس صوبے میں معدنیات کے بے پناہ ذخائر موجود ہیں اور اِس کا جائے وقوع ایسا ہے کہ چین کو دنیا سے جوڑنے والی سڑک میں یہ اہم ترین صوبے کا درجہ رکھتا ہے مگر معاملہ یہ ہے کہ اِس صوبے میں غربت بہت اور سہولتوں کا بے پناہ فقدان ہے۔ صوبہ پنجاب جہاں کی آبادی الحمدُللہ خرگوشوں کی طرح بڑھتی ہے، بڑی تیزی سے بلوچستان میں آبادگاروں کی صورت میں سرایت کر رہا ہے۔ اب جب اتنی بڑی تعداد میں پنجابی ہر روز بلوچستان میں وارد ہو رہے ہیں، مزدوری کر رہے ہیں، زمینیں خرید رہے ہیں تو ایک چھوٹی قوم میں تشویش پیدا ہونا لازمی بات ہے مگر ظاہر ہے کہ پنجابی بھی پاکستان کے شہری ہیں اُن کو کسی بھی صوبے میں بسنے سے روکا تو نہیں جا سکتا؟ اس معاملے کا ایک بہت آسان حل موجود ہے، اگر ملک کے مقتدر طبقات خصوصاً اسٹیبلشمنٹ اِس کو سنے۔

سب سے پہلے تو بلوچستان کی پولیس اور سول اداروں کو بلوچستان کے مستقل رہائشیوں یعنی بلوچوں اور بلوچستان کے پشتونوں پر مبنی ہونا چاہئے۔ دوئم بات یہ ہے کہ فوج میں بھی بلوچستان کے مستقل باشندوں کو جگہ دی جائے اور رفتہ رفتہ بلوچستان میں وہیں سے بھرتی ہوئی فوج کو رکھا جائے اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے فوجیوں کو پنجاب، کشمیر اور سندھ کی طرف تعینات کیا جائے۔ سوئم بات یہ کہ بلوچستان میں سات پشتوں سے آباد لوگوں کو خصوصی کارڈ دیے جائیں۔ اب بلوچستان میں صرف یہی لوگ کاروبار کر سکیں اور اِس مستقل رہائشی ہونے کے کارڈ کے علاوہ اگر کوئی (جیسے کوئی لاہوری، کراچی والا) وہاں کاروبار کرنا چاہے تو اُسے کسی مستقل مقامی کو اپنا ’کفیل‘ بنانا لازمی ہو۔ یہ وہی نظام ہے جو کہ سعودی عرب اور دیگر عرب ریاستوں میں موجود ہے۔ اسی طرح کے نظام کی صورت میں اگر 70 فیصد بھی غیر بلوچ بلوچستان میں آ گئے تو بھی کسی ایک بھی بلوچ کو وہ لوگ ناگوار نہ گزریں گے بلکہ رحمت معلوم ہوں گے اور مستقبل میں بلوچستان جس قدر ترقی کر سکتا ہے (جتنے وہاں امکانات موجود ہیں) تو ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ہمارے ملک کے لوگ عرب ریاستوں کی جگہ اپنے ہی وطن کے صوبہ بلوچستان کا رخ کریں۔ ویسے یہ رائے جو میں نے بلوچستان کے احساس محرومی کے خاتمے کے لئے اوپر بیان کی ہے، اِس سے بہت سے لوگوں کو اختلاف بھی ہو سکتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ صرف کسی ایک شخص کو چیئرمین سینیٹ بنا دینے یا کسی ایک کو کٹھ پتلی وزیر اعظم بنا دینے سے بلوچستان کے احساس محرومی پر کوئی اثر کیسے پڑ سکتا ہے؟ ایک انسان کو علامتی مقام دینے سے بہت بڑی بات ہو گی کہ سارے ہی صوبے کے عوام کو ایسے مواقع دیئے جائیں جو کہ اُن کی حیات میں مثبت بہتری لا سکیں۔ یادش بخیر ہمارے ملک کا صوبہ پنجاب (جو مغربی پاکستان کا حقیقی پاور ہاؤس تھا) صوبہ مشرقی پاکستان کو 55 فیصد آبادی رکھنے کے باوجود بھی برابری کے اصول کے تحت 50 فیصد حصہ دیتا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ 1971 تک لاگو اِس اصول برابری کا مطالبہ اگر آج بلوچستان، سندھ اور خیبر پختون خوا بھی پنجاب سے کر دیں تو کیا وہ یہ قربانی دے سکے گا جو وہ عرصے تک صوبہ مشرقی پاکستان سے لیتا رہا ہے؟ بلوچستان اور دیگر چھوٹے صوبوں کی کٹھ پتلیوں کو علامتی رتبے دے کر تالیاں پٹوا لینا تو بہت آسان کام ہے مگر جب حقیقی طور پر حقوق دینے کی بات آتی ہے تو پنجاب کا رویہ ایک معروف حکایت کے بڑے بھائی کا سا ہوتا ہے جس نے باپ سے ملنے والی میراث اپنے چھوٹے بھائی سے کچھ اِس طرح تقسیم کی تھی کہ چادر رات کو اُس کی ہوتی اور دن میں چھوٹے بھائی کی۔ درخت کا نچلا حصہ چھوٹے بھائی کا تھا یعنی اُس کو اِس کی جڑ میں پانی ڈالنا پڑتا مگر اوپر کا حصہ بڑے بھائی کے حصے میں آیا تھا یعنی پھل وہ کھاتا۔ اسی طرح گائے کا اگلا حصہ چھوٹے بھائی کا تھا یعنی چارہ وہ کھلاتا اور پچھلا حصہ بڑے بھائی کا تھا جس کی وجہ سے دودھ اُس کے حصے میں آتا اور جب بڑے بھائی سے اِس ناانصافی پر بازپرس کی جاتی تو وہ چھوٹے بھائی کو چیئرمین سینیٹ بنا دیتا۔ کہانی میں تھوڑے سے تصرف پرمعذرت مگر اصل کہانی میں کیا ہوا تھا وہ سب جانتے ہیں۔

Facebook Comments Box
بلوچبلوچ سیاستبلوچ عوامبلوچستانبلوچیپشتونصوبہ بلوچستان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor Daanish

دانش ڈیسک سروس

previous post
ادب سے بے گانگی کا المیہ ——– عبد الخالق سرگانہ
next post
عابدہ حسین کی کتاب Power Failure پر ایک نظر —– راجہ قاسم محمود

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.