تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالممذہبی

زکاۃ بمقابلہ احساس پروگرام — پروفیسر عمران احسن نیازی/ ترجمہ: مراد علوی

by Editor Daanish 29/01/2020
written by Editor Daanish 29/01/2020
151

تحریک انصاف حکومت کا احساس پروگرام یقینا قابل ستائش ہے اور اس پر یہ تنقید درست نہیں کہ پاکستانی قوم بھکاری بن رہی ہے۔ یہ پناہ گاہیں سردی کے اس موسم میں غریبوں کو راحت پہنچا رہی ہیں۔ نیز یہ پروگرام غریبوں کے لیے تقریباً ماہانہ بنیادوں پر سہولت فراہم کررہا ہے۔ اس میں ہم صحت کارڈکو بھی شامل کرسکتے ہیں جو طِبّی امداد سے محروم لوگوں کو دیے گئے ہیں۔ یہ سب اچھے اعمال ہیں لیکن جب ہم اس پروگرام کو اسلامی قانون کے نقطۂ نظر سے دیکھتے ہیں تو اس سے یہ قانونی الجھن سامنے آتی ہے کہ یہ پروگرام ٹیکس کے ان پیسوں سے چل رہے ہیں جو لوگوں سے زبردستی وصول کیے گئے ہیں اور قربِ الٰہی کے حصول کا جذبہ اس انتظام میں نظر انداز ہوجاتا ہے۔ اگر حکومت یہ پروگرام عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے کر رہی ہے، تو یہ عوام کی طرف سے حکومت کے ذریعے ایک رضاکارانہ عمل ہےجو حکومت بہ طور وکیل سر انجام دیتی ہے۔ یہ استدلال ہمیں اس نتیجے تک پہچاتا ہے کہ ایک رضاکارانہ عمل، جس کی حیثیت صدقات کی ہے، اسے زکاۃ کے مقابلے میں لوگوں پر نافذ کردیا گیا ہے جس کے نفاذ میں ہر حکومت نے محض آنکھ مچولی سے کام لیا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ زکاۃ کو اس ملک میں ایک رضاکارانہ ادائیگی میں، جبکہ رضاکارانہ خیرات کو فلاحی پروگراموں کے لیے لازمی ٹیکس میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

زکاۃ اسلام کے ارکان میں سے ہے۔ خلیفۂ اوّل (سیدنا ابو بکر صدیق) نے اس کے نفاذ کے لیے جہاد کیا۔ سورۃ البقرہ کے آغاز ہی میں ایمان بالغیب اور قیام صلاۃ کے بعد اس فرض کی ادائیگی کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کی وضاحت احکام القرآن کی تفسیر کرنے والے اہلِ علم نے کی ہے۔ چنانچہ جو شخص نماز نہیں پڑھتا وہ اللہ کو جواب دہ ہوگا لیکن جو زکاۃ ادا نہیں کرتا، اسےحکومت ادا کرنے پر مجبور کرسکتی ہے۔

فقہا نے قرار دیا ہے کہ چراگاہوں سے چرنے والے جانوروں کی زکاۃ حکومت کو ادا کرنا لازم ہے۔ اس کے علاوہ زکاۃ کے متعلق دیگر ادائیگیاں ہر فرد اپنی ذمہ داری کے مطابق خود کرسکتا ہے۔ تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ زکاۃ کی ادائیگی اختیاری ہے۔ نماز کے برعکس، جو حق اللہ ہے، زکاۃ نہ صرف ایک مذہبی فریضہ ہے بلکہ اس کا تعلق غریب کے حق سے بھی ہے۔ یہ ایسا حق ہے جس کا پورا کرنا فرض ہے اور غریب کے اس حق کی حفاظت کی کلی ذمہ داری حکومت کے کندھوں پر ڈالی گئی ہے۔ ہر فرد، خواہ وہ زکاۃ سے فائدہ اٹھانے کا دعویٰ کرے یا نہ کرے، بہ طور ِاصول اس کا پابند ہے کہ وہ زکاۃ ادا کرے گا اور نہ دینے کی صورت میں زکاۃ اس سے زبردستی وصول کی جاسکتی ہے۔ زکاۃ کا نظام گوشواروں (Zakat Returns) کے ذریعے نافذ کیا جانا چاہیے۔ چنانچہ ہر شخص کو، جو نصاب (دولت کی کم سے کم مقدار جس پر زکاۃ فرض ہوتی ہے ) کا مالک ہو، زکاۃ ادا کرنی ہوگی اور اگر اس نے گوشوارے میں کسی ادارے یا فرد کو زکاۃ دینے کا دعویٰ کیا، تو اسے گوشوارے کے ساتھ اس ادارے یا فرد سے لی گئی رسید لگانی ہوگی۔ حکومت کو چاہیے کہ تعمیل نہ کرنے والوں کو سزا دینے کا قانون بنائے۔

نظامِ زکاۃ کے نفاذ سے تین چیزوں کا حصول متوقع ہے۔ ان میں سے سب سے پہلی یہ ہے کہ زکاۃ کے گوشواروں (Zakat Returns) سے پوری معیشت اور نجی اثاثوں کی تفصیل دستاویزی صورت میں آجائے گی۔ حکومت ان معلومات کی روشنی میں پھر اپنے ٹیکس کے نظام کو بہتر بناسکے گی۔ اس قانون کی خلاف ورزی محض ریاستی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوگی بلکہ غریبوں کے حق کے متعلق اللہ کے حکم کی نافرمانی ہوگی۔ ثانیاً، جمع شدہ فنڈز کے موثر تقسیم سے کافی حد تک غربت کا خاتمہ ہوگا۔ یہ محض بڑا بول نہیں ہے۔ جو لوگ زکاۃ کی وصولی کو ٹیکس وصولی کے مقابلے میں حقیر کاوش سمجھتے ہیں، وہ زکاۃ کے نظام سے واقفیت نہیں رکھتے۔ ہم یقین سے کَہ سکتے ہیں کہ احساس اور صحت کارڈ کے پروگرام سے غریبوں پر سالانہ خرچ ہونے والی رقم میں کئی گنا اضافہ ہوجائے گا۔ ثالثاً، جب ایک بار غریبوں کو مناسب فنڈز اپنے قانونی حق کے طور پر مل جائیں، تو وہ روٹی کپڑا اور مکان جیسے جھوٹے وعدوں پر مبنی سیاسی نعروں کی طرف توجہ نہیں دیں گے۔

یہاں زکاۃ، عشر اور خمس کے ماخذ کو سمجھنا ضروری ہے۔ زکاۃ ادا کرنے والا قاری جانتا ہے کہ سونے کے لیے نصاب ساڑھے سات تولے، جب کہ چاندی کے لیے ساڑھے باون تولے ہے۔ زکاۃ کے نصاب میں زیادہ لوگوں کو شامل کرنے کےلیے کاغذی کرنسی کو ساڑھے باون تولے چاندی کے نصاب کے حساب میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ ہماری تجویز یہ ہے کہ اشیا اور نقدی کےلیے سونے کے نصاب کو معیار بنایا جائے تاکہ مستحقین کو، جونصاب کی حد تک ہی وصول کرسکتےہیں، بڑی مقدار کی ادائیگی کے ذریعے زیادہ فائدہ پہنچایا جاسکے۔

بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں لوگ فکرمند نہیں ہیں۔ ان میں پہلی چیز کاروبار میں استعمال ہونے والے اثاثے ہیں۔ ان سے مراد کاروبار کی فہرست میں شامل اموال اور قابلِ عمل سرمایہ ہیں۔ ہر کاروبار، خواہ کمپنی ہو، شراکت یا کسی کا ذاتی کاروبار ہو، اس کو لگائے ہوئے سرمایے کاڈھائی فیصد بہ طورِ زکاۃ ادا کرنا ہوگا۔ اس سے کچھ ہی ساز و سامان اور مشینری مستثنیٰ ہوسکتے ہیں۔ اس مد سے حاصل ہونے والی رقم ہماری سوچ سے بھی زیادہ ہے۔

جائیداد سے ملنے والے کرایہ کی آمدنی کے بارے میں کچھ الجھن پائی جاتی ہے۔ ہمارے علما کا خیال یہ ہے کہ یہ بھی عام آمدنی جیسی ہے بایں طور کہ اس پر بھی سال گزر جانے کے بعد ہی زکاۃ کا اطلاق ہوگا۔ تاہم عظیم حنفی فقیہ امام سرخسی اس رائے سے اختلاف رکھتے ہیں۔ ان کا موقف یہ ہے کہ کرایہ والی جائیداد پر پہلے ہی سال گزر چکا ہوتا ہے؛ لہذا کرایہ جب واجب الادا ہوجائے، یا وصول کی جائے، تو اسی لمحے ڈھائی فیصد زکاۃ ادا کرنا لازم ہوجاتا ہے۔ یہ زیادہ معتبر موقف ہے۔ اگر اسےنافذ کیا جائے تو اندازہ لگائیں کہ اس کے دائرے میں کرایے کے کتنے پلازے اور مکانات آجائیں گے۔ یہ بہت بڑی رقم ہوگی۔

زمین کی تمام پیداوار پر عشر، یعنی دس فیصد کی ادائیگی لازمی ہے (پانچ فیصد، اگر زمین نہری ہو)۔ اس میں ڈیری فارم بھی شامل ہے، جو کاروباری آمدنی میں شمارکیا جائے گا۔ ملک میں باہر سے لائے جانے والے اموال پر کسٹم ڈیوٹی کی مقدار برابر کے بدلے کے اصول پر عائد کی جاتی تھی اور اسے بھی عشر کہا جاتا تھا کیونکہ اس کی شرح عموماً دس فیصد ہوا کرتی تھی۔ اس کے علاوہ دیگر چیزیں بھی ہیں، لیکن اب ہم معدنیات اور دفینوں پر بات کریں گے۔

ہدایہ میں، جو کہ ہر مدرسے میں پڑھائی جاتی ہے، تصریح ہے کہ: “جب خراجی اور عشری زمین سے سونا، چاندی، لوہا، سیسہ اور تانبہ جیسی معدنیات نکالی جائیں تو ان پر پانچواں حصہ (خمس) ہے۔” اس سے تمام زمینیں مراد ہیں۔ یہاں ان معدنیات کا ذکر ہوا جو اس زمانے میں معروف تھیں۔ آج تمام معدنیات پر 20 فیصد خمس عائد ہوگا، اور اس میں تھر کا کوئلہ یا ریکو ڈک کی معدنیات بھی شامل ہوں گی۔ اس میں پیٹرول بھی شامل ہے، اگر چہ عرب ممالک سے اس کے عدمِ جواز کے بارے میں فتویٰ آیا ہے۔ زکاۃ کے مصارف کی پابندیاں خمس پر لاگو نہیں ہوتیں۔

مذکورہ بالا زرائع سے جمع کی جانی والی رقم چند ہی سالوں میں ملک سے غربت کا خاتمہ کرے گی۔ اگر سونے کو آج زکاۃ کے حساب کے لیے معیار کے طور پر استعمال کیا جائے، تو ایک غریب مستحق کو زیادہ سے زیادہ جو رقم ملے گی وہ چھے لاکھ چھیا سٹھ ہزار روپیہ ہوں گے۔ اگر چاندی کو استعمال کیا جائے تو موجود قیمت کے مطابق زیادہ سے زیادہ پچپن ہزار روپے ہوں گے۔ ہمیں یقین ہے کہ ہر غریب آدمی کے لیے کافی رقم دستیاب ہوگی۔ سینٹ آگسٹین نے ایک بار کہا تھا کہ انصاف کے بغیر ریاست ڈاکوؤں کے ٹولے سے بہتر نہیں ہوتی۔ اسلامی عدل کے بغیر اسلامی ریاست اس سے بھی بدتر ہوگی۔ ہم یہ فیصلہ آپ پر چھوڑتے ہیں۔

Facebook Comments Box
Ehsaas ProgrammeEhsas ProgrammefeaturedImran KhanProf. Imran Ahsan NiaziPTIZakat Returnsاسلامپی ٹی آئیزکاۃزکوۃعشر اور خمسعمران احسن نیازیغربت کا خاتمہفقہ اسلامی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor Daanish

دانش ڈیسک سروس

previous post
خلیل الرحمان قمر صاحب!  تسی گریٹ ہو —- خرم شہزاد
next post
میرے پاس تم ہو: المیہ کا نوحہ —- ڈاکٹر مریم عرفان

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.