تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالمکلچر، آرٹ

میرے پاس تم ہو: المیہ کا نوحہ —- ڈاکٹر مریم عرفان

by دانش ڈیسک 29/01/2020
written by دانش ڈیسک 29/01/2020
130

بیسویں صدی کے اواخر میں پی ٹی وی نے ایک ڈرامہ نشر کیا تھا جو اب تک میری یادداشت کا حصہ ہے۔ اگرچہ اس وقت اتنی سمجھ نہیں تھی کہ اس ڈرامے کی کہانی اور اس کے مکالموں پر اپنی سوچیں نثار کر دوں۔ ڈرامہ ’’جنون‘‘ معروف کہانی کار مسعود مفتی کے ناول ’’کھلونے‘‘ سے ماخوذ تھا جس کی ڈرامائی تشکیل منشا یاد نے کی تھی۔ اسے آپ عہد جدید کا ’’میرے پاس تم ہو‘‘ قرار دے سکتے ہیں۔ پی ٹی وی کی ڈرامہ پالیسی کے تحت ناول کے اختتام میں ردوبدل کرنا بڑا ثواب سمجھا جاتا تھا اسی لیے مسعود مفتی کے اس ناول کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہوا۔ وہاں بھی ایک بے وفا اور لالچی بیوی تھی جس کی خواہشوں کی بھٹی میں ایاز نائیک پھنک پھنک کر فنا ہو رہے تھے اور روبینہ اشرف (بیوی) نکاح پر نکاح کر کے رخصت ہو گئی تھی۔ عبدالرحمان اور دانش کے کرداروں میں جہاں مماثلت ہے وہیں تفاوت بھی بہت ہے۔ ڈرامے میں عبدالرحمان اپنی بیوی کو شیطان کے چنگل سے نکال کر عدالت کی باضابطہ کارروائی کے تحت اپنے ساتھ لے جاتا ہے اور ٹرین پر بٹھاتے ہوئے اس کے ہاتھ میں طلاق کا لفافہ تھما دیتا ہے۔ جبکہ ناول میں عبدالرحمان غیرت میں آ کر اپنی بیوی کو قتل کر دیتا ہے۔ گویا ڈرامے کا عبدالرحمان ہو یا ناول کا، دونوں صورتوں میں ہی ہیرو غیرت کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے دکھائی دیا۔

ہم ایک ایسے عہد میں جینے پر مجبور ہیں جہاں ہمارے سامنے حلال اور حرام دونوں چیزیں رکھ کر حلال چیز کو کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔

اب آتے ہیں ’’میرے پاس تم ہو‘‘ کی جانب، جس میں دانش کی وفاداری نے اسے موت سے ہمکنار کیا تو صنف نازک کی وفاؤں پر لے دے شروع ہو گئی۔ اگرچہ ایسے بے شمار ڈرامے کہانی میں تھوڑے بہت ردو بدل کے بعد پیش کیے جارہے ہیں۔ جن میں عورتوں کی اکثریت بے وفائی کے سارے ریکارڈ توڑتی ہوئی ملتی ہیں۔ ڈرامے کی مقبولیت کی اصل وجوہات میں سے ایک وجہ وفا اور بے وفائی کا کھیل ہے جسے قمر صاحب نے مرکزی خیال کے طور پر سامنے رکھا۔ کہانی وہی ہے جو ہم سے جڑے اس معاشرے میں موجود ہے لیکن یہاں سوال مرد کی وفا اور عورت کی بے وفائی پر اٹھایا گیا جس نے عوام کی جذباتی اور ازدواجی زندگی کو ادھیڑ کر رکھ دیا۔ مقبولیت کی دوسری وجہ مکالمے ہیں جن پر کہانی کی بنیاد کھڑی تھی، ’’محبت میں طلاق نہیں ہوتی‘‘، ’’جب عورت کے پاس دوسرے مرد کی آپشن ہو تو شوہر کے بچتا کچھ بھی نہیں‘‘ اور سپر ہٹ مکالمے کے چار لفظ ’’دو ٹکے کی عورت‘‘ نے تو طوفان ہی برپا کر دیا۔ اصل مسئلہ شراکت تھا جسے مصنف نے بیان کرتے ہوئے کچھ نا انصافی سے کام لیا جو بظاہر کسی کو نظر نہیں آئی۔ مہوش کا دوسرے مرد کے پاس جانا اور نکاح کے بغیر رہنا، یہ وہ پوائنٹ تھا جسے مصنف نے اتنی اہمیت نہیں دی جتنی اس کی ضرورت تھی۔ زیادہ فوکس رہا ہی وفا پر تھا، جسے جتانا صنفی سلوک کے زمرے میں آتا ہے۔ مہوش کا بار بار معافی مانگنے سے کیا مراد ہے؟ کیا وہ دوبارہ دانش کی زندگی میں آنا چاہتی تھی، اگر ایسا تھا تو کیوں اور کیسے؟ خدا، شرک اور کفر جیسے الفاظ کا بے دریغ استعمال کہانی کو اس کے اصل سے بہت دور لے گیا۔ گویا دانش قسم کے مردوں کے لیے بے وفائی ہی بڑی چیز ہے اخلاقیات نہیں؟ بس اس ایک نقطے نے ڈرامے کو تھوڑا پٹری سے اتار دیا ورنہ قمر صاحب ایک بہترین کہانی بیان کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ جس کا سہرا ان کی مکالمہ نگاری کے سر ہے۔

خدا، شرک اور کفر جیسے الفاظ کا بے دریغ استعمال کہانی کو اس کے اصل سے بہت دور لے گیا۔

ڈرامے کی مقبولیت کے پیچھے ایک ہاتھ موم بتی کلچرل کا بھی ہے۔ می ٹو کا راگ الاپنے والی آزاد خیال عورتوں کے لیے لفظ ریلیشن شپ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ انھیں بغیر نکاح کے غیر مرد کے ساتھ رہنے پر اعتراض نہیں تھا بلکہ عورت کو دو ٹکے میں تولنے پر شور مچایا گیا۔ ورنہ تو آج کل ایسے ایسے موضوعات پر ڈرامے بن رہے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ ’’محبوب آپ کے قدموں میں‘‘ پر تو کسی نے شور نہیں مچایا جہاں ایک بھابھی اپنے دیور کو پانے کے لیے جادو ٹونے سیکھ رہی ہے۔ پیمرا بھی نیند سے نہیں جاگا کہ ایسے ڈرامے نئی نسل کو کیا پیغام دے رہے ہیں۔ پھر آخر ’’میرے پاس تم ہو‘‘ ہی کیوں مشہور ہوا۔ ہمارے معاشرے میں جہاں نکاح ایک مقدس بندھن ہے اور دو خاندانوں کے ایک ہونے کی علامت بھی ہے، اسے کھوکھلا کرنے کے لیے میڈیا کی رواں پالیسی بہت کما ل ہے۔ ڈیٹ پر جانا، غیر مردوں سے تعلقات استوار رکھنا اور طلاق طلاق کھیلنا، کم و بیش ہر ڈرامے میں موجود ہے۔ ہم ایک ایسے عہد میں جینے پر مجبور ہیں جہاں ہمارے سامنے حلال اور حرام دونوں چیزیں رکھ کر حلال چیز کو کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔

غیرت کے معاملے میں شہوار دانش پر سبقت لے گیا۔

ڈرامے میں ہم جن دو عورتوں اور دو مردوں سے ہم متعارف ہوئے وہ ایک دوسرے کا متضاد تھے۔ یعنی مہوش اور دانش، شہوار اور ماہم۔ دانش وفا کا پتلا اورشہوار، شب خون مارنے والا۔ مہوش بے وفا اور ماہم، انتقاماً بھی اپنے شوہر کے لیے دل میں نرم گوشہ رکھنے والی عورت ثابت ہوئی۔ دانش کی غیرت نے بیوی کو خود غیر کے ہاتھ سپرد کرنے کی اجازت دی اور آخر میں موت کو گلے لگا لیا۔ شہوار کی غیرت نے بیوی کو دھوکہ دینے کی پاداش میں اس کے ساتھ رہنے کو ترجیح ہی نہیں دی۔ غیرت کے معاملے میں وہ دانش پر سبقت لے گیا۔ گویا ڈرامے کے سارے کردار حقیقت کی دنیا سے تعلق تو رکھتے تھے لیکن نظر سے اوجھل ہیں۔ مہوش جیسی بے شمار عورتیں ہمارے اردگرد پائی جاتی ہیں لیکن دانش جیسے مرد کم از کم میں نے تو کہیں نہیں دیکھے۔ ڈرامے کی مقبولیت کی صرف ایک وجہ ٹھوس ہے جو اس کے مکالموں پر منتج ہوتی ہے۔ قمر صاحب کوئی ادبی مصنف تو ہیں نہیں کہ ان کے ڈراموں میں ادبیت کی شان نظر آئے۔ وہ کمرشل رائٹر ہیں اور ایسے رائٹر کو کئی غلطیاں معاف ہوتی ہیں۔ چاہے ہیرو دل کے دورے کے دوران پٹر پٹر بولتا رہے یا دسویں منزل سے گر جائے لیکن آخری جملہ ضرور ادا کرے گا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے سلطان راہی بیس گولیاں کھانے کے بعد بھی دشمن کی صفیں اکھاڑ پھینکتے تھے۔

کم نصیب ہیں وہ لوگ جن کے پاس کوئی ہو بھی تو موجود نہیں ہوتا اور جو موجود ہو وہ نصیب نہیں ہوتا۔

اب آتے ہیں ان جذباتی عورتوں اور مردوں کی طرف جو اس ڈرامے کو اپنی ذاتی زندگیوں پر ثبت کر نے پر تلے ہیں۔ وفا اور بے وفائی کے جنگل سے نکل کر دیکھیں تو زندگی کے تقاضے آپ سے کچھ اور ہی وصول کرنا چاہتے ہیں۔ باکردار ہونے کے لیے ایک ہی راستے پر چلنا پڑتا ہے جس میں کوئی پڑاؤ نہیں آتا، کسی سپیڈ بریکر سے گزرنا نہیں پڑتا۔ کم نصیب ہیں وہ لوگ جن کے پاس کوئی ہو بھی تو موجود نہیں ہوتا اور جو موجود ہو وہ نصیب نہیں ہوتا۔ امتیاز علی تاج کا ڈرامہ ’’انارکلی‘‘ بھی سوال اٹھاتا ہے کہ اصل میں یہ کس کردار کا المیہ تھا۔ انار کلی، سلیم یا بادشاہ اکبر۔ جواب اس کا یہی ہے کہ المیہ کتھارسس سے جنم لیتا ہے اور جو کردار مر جائے وہ امر تو ہو سکتا ہے لیکن المیہ نہیں بن سکتا۔ ’’میرے پاس تم ہو‘‘ بھی مہوش کا المیہ بن گیا ہے جو بے وفا سہی لیکن اپنے جیسی بے شمار عورتوں کی زندگیوں پر سوال اٹھاتی رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں: مبارک ہو گل سما مبارک! ۔۔۔۔۔۔۔ سحرش عثمان
Facebook Comments Box
Khalilur Rahman QamarMery pass tum hoUrdu Dramaاردو ڈرامہخلیل الرحمن قمرمریم عرفانمیرے پاس تم ہو
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
زکاۃ بمقابلہ احساس پروگرام — پروفیسر عمران احسن نیازی/ ترجمہ: مراد علوی
next post
’’تاریخِ گُم گَشتہ‘‘ مائیکل ہیملٹن مورگن ۔۔ باب چھٹا، حصہ اول —- ترجمہ و تلخیص: ناصر فاروق

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.