تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

ہندوستانی مسلم آبادی کا احتجاج اور مودی کا شہریتی ایکٹ — رضا شاہ جیلانی

by دانش ڈیسک 23/12/2019
written by دانش ڈیسک 23/12/2019
92

ہندستان کے آئین میں نئے شہریتی قانون کے نافذ ہونے کے بعد ہندستان کی موجودہ صورتحال انتہائی پیچیدہ ہوچکی ہے، گلی محلوں سے نکلتی ہوئی آواز اب ریاستوں میں پھیل چکی ہے۔

ہندستان کی تاریخ رہی ہے کہ جب بھی کسی انقلاب نے آواز اٹھائی ہے اس کی بازگشت سب سے پہلے علی گڑھ یونیورسٹی سمیت جامعہ ملیہ وہ مسلم آبادی کی وہ تعلیمی درسگاہیں رہیں جہاں سے ماضی میں بھی علم و ادب کی روشنی نکلتی رہی ہے اور آج وہ ہی درسگاہیں ایک بار پھر سے حکومت مخالف اور انقلاب کے نعروں سے گونج رہی ہیں۔
بات اگر دو گروہوں یا قبائل کے درمیان کسی امتیازی سلوک کی ہو تو وہ کسی حد تک برداشت بھی کیا سکتا ہے پر اگر یہ ہی امتیازی رویہ حکومت اور اسکے شہریوں کے مابین ایک بار بھی پیدا ہوجائے تو وہ کبھی ختم نہیں ہوتا بلکہ سنگین خدشات ریاستوں کی تباہی تک چلے جاتے ہیں۔
اس وقت بھارت میں مظاہرے عروج پر ہیں اور اسکی خالص ترین وجہ بھارتی حکومت کی جانب سے نئے شہری ایکٹ CAA کا نافذ کرنا ہے۔
یہ پرتشدد مظاہرے آہستہ آہستہ ایک بڑی تحریک میں تبدیل ہوتے نظر آرہے ہیں جنکی منزل کیا ہوگی یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا مگر فی الحال بھارت کے اندرونی حالات سازگار نہیں جبکہ دوسری جانب بھارتی حکومت موجودہ صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لیے بارڈر پر جنگی جنون بڑھا رہی ہے اور یہ بات صرف ہم پاکستانی ہی نہیں بلکہ اب تو یہ بات خود ہندستان کے سابق آرمی افسران و سوسائٹی کے نمائندے کر رہے ہیں۔۔
اس وقت بھارت میں اپوزیشن جماعتوں، سول سوسائٹی سمیت فلم انڈسٹری صحافتی علمی ادبی کمیونٹی کے نمائندے بھی اس احتجاجی مظاہروں میں شریک ہونا شروع ہوچکے ہیں۔

ہندستان کی تاریخ ہے کہ جب بھی کسی انقلاب نے آواز اٹھائی ہے اس کی بازگشت سب سے پہلے علی گڑھ یونیورسٹی سمیت جامعہ ملیہ وہ مسلم آبادی کی تعلیمی درسگاہیں ہی رہیں۔

یہ شہری ایکٹ کیا ہے اس میں کون سے ایسے خدشات ہیں جنہیں لیکر ہندستان کی اقلیتوں بالخصوص مسلم آبادی کو شدید ترین خدشات لاحق ہیں اس حوالے سے صرف بھارتی حکومتی مؤقف کو تسلیم کرنا سراسر بیوقوفی ہوگی اور یہ بیوقوفی شاید بھارت سے زیادہ پاکستان میں بسنے والی ایک خاص کمیونٹی کی جانب سے دیکھی جا رہی ہے یہ وہ ہی خاص کمیونٹی ہے جو ہندستانی اسٹیبشلمنٹ کے ہر کام کو درست قرار دیتی ہے یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اسکے اثرات مستقل قریب میں کیا ہوسکتے ہیں اور اس کے کتنے نقصانات ہندستان میں بسنے والے کئی کروڑ انسانی جانوں کو ہوگا۔

یہ شہری ایکٹ کیا ہے میں نے اسے کئی حوالوں سے پڑھا، کئی بار ہندستانی اخبارات کا جائزہ لیا اور پھر اس نتیجے پر پہنچا کہ اسے مختصر ترین الفاظ یا ایک ہی نشست میں بیان کرنا شاید مشکل کام ہے مگر اسکی چند بنیادی باتوں کا خلاصہ کر کے اسے سمجھنا مشکل نہیں۔

سب سے پہلے تو میں یہ بتا دوں کہ یہ شہری ایکٹ، ترمیمی بل کی صورت 12 دسمبر 2019 کو باقائدہ ایک قانون کی حیثیت سے بھارت میں نافذ ہوچکا ہے جس کی منظوری “سو کالڈ سیکیولر بھارت” کے صدر دے چکے ہیں جس کے بعد یہ فوری طور پر اب بھارتی قانون کا حصہ ہے۔۔۔

Image result for CAA act"اس قانون کے تحت ہندستان میں دنیا بھر سے آئے ہندو مذھب کے ماننے والوں کو فوری طور پر شہریت دی جاسکے گی دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ اس قانون کے تحت دنیا بھر سے کسی بھی شخص کو ہندستان کی شہریت حاصل کرنی ہے تو اسکا یا تو ہندو ہونا ضروری ہے یا پھر دنیا کے دیگر مذھب سے تعلق ہونا مگر اسلام سے کسی طرح کا تعلق اسکی شہریت کی راہ میں پہلا بند دروازہ ہوگا۔۔

اس قانون کے تحت سال 2014 تک ہندستان میں پناہ لینے والے ہندو، سکھ، بدھسٹ، پارسی، مسیحی و دیگر اقلیتیں مسوائے مسلم آبادی ہندستان کی شہریت کے لیے براہِ راست درخواست دے سکتے ہیں۔
اس عجیب و غریب قانون کے تحت کوئی بھی شخص یا خاندان اگر تمام تر قانونی تقاضے مکمل کر لے مگر وہ پناہ گزین ہے تو بھی اس کے لیے رعایت کی جاسکتی ہے ماسوائے مسلمان شخص کے، یعنی وہ تمام تر کاروائی کر بھی لے تو بھی اسکا مسلمان ہونا ہی اسکی شہریت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوگا۔

اس قانون میں ایک ترمیم یہ بھی کی گئی ہے کہ ہندستان کی شہریت حاصل کرنے کے لیے مدت سکونت گیارہ سال سے کم کر کے پانچ سال کر دی گئی ہے۔ (اس مدت کو کم کرنے کی ایک خاص وجہ جنوبی ایشیاء کے دیگر ممالک کے ہندو مذھب کے ماننے والوں کو ہندستان میں جلد از جلد شہریت دینا ہے۔)
اس قانون میں ایک عجیب نقطہ بھی شامل کیا گیا ہے کہ کوئی بھی پناہ گزین خاندان یا شخص اگر ہندستان کی شہریت حاصل کرنا چاہتا ہو مگر اس پر کسی طرح کی کوئی قانونی کاروائی چل رہی ہے تو بھی اس قانونی کاروائی کو ایک جانب رکھ کر اسے شہریت دی جا سکتی ہے۔ (ایسا قانون پوری دنیا میں کہیں بھی موجود نہیں ہے)

اب آتے اصل پوائنٹ کی جانب جس کی وجہ سے پورے ہندستان میں آج آگ لگی ہوئی ہے۔ یہ ہی وہ اہم نقطہ ہے جس کو لیکر آج ہندستان کی مسلم کمیونٹی اس قانون کو مسلم مخالف قانون کہہ رہی ہے اور یہ ہی وہ اہم پوائنٹ ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

سیکیولر بھارت میں پچھلے دنوں تجربے کے طور پر آسام سے تعلق رکھنے والے کئی لاکھ آسامی بدھسٹ و ہندو مذھب کے افراد کو شہریت دے دی گئی مگر وہیں دس لاکھ آسامی مسلم کمیونٹی کو بھارتی حکومت کی جانب سے بنائے گئے ڈیٹینشن سینیٹرز میں بھیج دیا گیا ہے۔

ہندستان سے مسلم آبادی کا تعلق لگ بھگ آٹھ سو سے ہزار سال پرانا کہا جاسکتا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ ایسے مضبوط تعلق کو خود ہندستان کی مسلم آبادی نے پاکستان بنتے وقت نہیں توڑا اور کروڑوں مسلمان اس وقت بھی بائے چوائس ہندستان میں رک گئے۔۔۔
یہ وہ آخری نقطہ ہے جس کے بعد شاید آج ہندستان کی مسلم کمیونٹی کے کروڑوں افراد میں سے چند لاکھ نے ضرور سوچا ہوگا کہ کاش وہ پاکستان بنتے وقت اپنے پیاروں کی مانند ہندستان سے ہجرت کر لیتے۔۔
اس اہم نقطے پر ہم اگر غور کریں تو حیرت سے زیادہ افسوس ہی ہوگا کہ وہ کروڑوں نفوس پر آباد مسلم آبادی جس نے اس وقت تک ہندستان کی معاشی سے لیکر ہر سماجی پہلو میں دیگر قوموں کی طرح بڑھ چڑھ کر حصہ لیا وہ آج اپنے ہی ملک میں بےیارو مددگار ہونے جا رہی ہے۔۔

اس ترمیمی بل کو انگریزی میں سی اے اے کہا جاتا ہے اسے صرف مسلم آبادی کی وجہ سے ہندستانی نیشنلٹی قانون ”این آر سی” سے جوڑا جا رہا ہے اس کے تحت این آر سی پروسیس کے ذریعے بھی جو لوگ اپنی ہندستانی شہریت ثابت نہیں کر سکیں گے انہیں تو فی الفور ہندستان کی شہریت دے دی جائیگی مگر تمام تر مسلم کمیونٹی کو چھوڑ کر۔۔
جی ہاں این آر سی کے تحت ہندو، سکھ، جین، پارسی، مسیحی، مسلم سب کو این آر سی سے گزارا جائیگا اور آخر میں مسلم کمیونٹی کو علیحدہ رکھ کر دیگر مذاھب کو ہندستانی شہریت دے دی جائیگی مگر مسلم کمیونٹی کو پھر بھی شہریت نہیں دی جاسکتی بلکہ الٹا انہیں ڈیٹینشن سینٹرز میں بھیج دیا جائیگا جسے عرف عام میں مہاجرین کی جائے پناہ کہا جاسکتا ہے۔

Image result for CAA act"سیکیولر بھارت میں پچھلے دنوں تجربے کے طور پر آسام اسٹیٹ سے تعلق رکھنے والے کئی لاکھ آسامی بدھسٹ و ہندو مذھب کے ماننے والے افراد کو شہریت دے دی گئی مگر وہیں دس لاکھ آسامی مسلم کمیونٹی کو بھارتی حکومت کی جانب سے بنائے گئے ڈیٹینشن سینیٹرز میں بھیج دیا گیا ہے۔
یہ مسلم کمیونٹی کیساتھ ہندستانی حکومت کا صرف شروعات امتیازی سلوک ہے اس کے بعد ڈیٹینشن سینٹرز میں انکے ساتھ کیا ہوتا ہے یہ اوپر والا ہی جانتا ہے کیوں کہ اس کے بعد قانون کی ایک اور کاروائی حرکت میں آئیگی اور اسکے تحت دس لاکھ آسامی مسلم آبادی کے تمام تر گھر، کاروبار، بینک بیلنس تمام تر جائیدادیں حکومت اپنی تحویل میں لینے جارہی ہے۔
یہ صرف ایک اسٹیٹ کے دس لاکھ مسلمانوں کی کہانی ہے جبکہ ہندستان کی ہر اسٹیٹ میں لاکھوں مسلمان زبردستی اس مرحلے سے گزارے جائیں گے جس کے بعد انہیں غیرقانونی تارکین وطن یعنی مہاجرین کا سرکاری لقب دے کر پناہ گزین کیمپس میں قید کر دیا جائے گا جس کے بعد انکی تمام تر جائیدادیں، تمام تر کاروبار سمیت انکے تمام تر وسائل پر حکومت قابض ہوجائیگی۔
یہ لگ بھگ ویسا ہی کچھ ہے جیسا برما کے روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ہوا ہے۔۔

قوی امکان ہے کہ جیسے جیسے ہندستانی حکومت یہ عمل آگے بڑھائے گی ویسے ویسے بھارتی فوج بارڈر پر شیلنگ، سیز فائیر کی خلاف ورزی سمیت ہر روز ایک نیا جھوٹا فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچائے گی تا کہ ہندستانی میڈیا کسی بھی طرح کے مسلم احتجاج کو کوریج نہ دے کر ہر وقت پاک بھارت بارڈر کی کشیدگی سے بیرونی دنیا کو ہندستان کے اندر سب اچھا ہے کہ کہانی سناتی رہے۔۔۔۔

خیر یہ تو ہندستانی مسلم آبادی کے لیے صرف شروعات ہے انہیں مستقبل میں ایسے کئی امتحانات سے ابھی گزرنا ہے۔۔

Facebook Comments Box
featuredIndian CAA actIndian MuslimsModiSyed Raza Shah Jeelaniبھارتی شہری ایکٹبھارتی مسلمانرضا شاہ جیلانی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
لاپتہ افراد ——– فرحان کامرانی
next post
ہمارا سچ کھو گیا ہے ——- اورنگ زیب نیازی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.