تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیکالم

لاپتہ افراد ——– فرحان کامرانی

by Editor Daanish 21/12/2019
written by Editor Daanish 21/12/2019
84

کافی عرصہ گزرا، راقم الحروف نے ماما قدیر صاحب کی ایک تصویر فیس بک پر دیکھی، ماما کے ساتھ جامعہ کراچی کے ایک مستقبل کے شہید کھڑے تھے۔ ماما صاحب کو ”کسی“ کے دباؤ کی وجہ سے جامعہ کراچی کے آرٹس آڈیٹوریم میں خطاب کرنے کی اجازت نہ ملی تھی۔ اس لئے جامعہ کراچی کے ”چی گوارا“ صاحب ان کی تقریر آرٹس آڈیٹوریم کے باہر کھلی فضا میں کروا رہے تھے۔

ماما قدیر صاحب بلوچستان کے گم شدہ (لاپتہ) افراد کی بازیابی کی تحریک چلاتے ہیں۔ خیر راقم میں نہ تو ماما جی کی حمایت کرنے کی ہمت ہے نہ ہی لاپتہ افراد کی فہرست میں شمولیت کا شوق۔ اس لیے وہی کر لیتے ہیں جس کی ہمت بھی ہے اور شوق بھی۔

ہمیں بے چارے جامعہ کراچی کے ”چی گوارا“ کے جذبات کی بڑی قدر ہے، آخر وہ ہمارے قیدی بھائی بھی بنے ہیں ایک مرتبہ، یہ الگ بات ہے کہ یہ قید محض 3 یا 4 دن، بلکہ شائد دو دن کی تھی۔ بلکہ چھوڑیے اس موضوع پر بھی بات کرنا ہماری جرأت سے باہر ہے۔ اہم بات صرف یہ ہے کہ انسانوں کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو دنیا سے ٹکر لینے کی فکر میں ہوتا ہے۔ انقلابات لانے کے شوقین ایسے افراد دنیا کو تو بدلنا چاہتے ہیں مگر خود کو اور اپنے بھائی بندوں کو بدلنے کی جرأت ان افراد میں نہیں ہوتی، ہم کن لوگوں کی بات کر رہے ہیں؟ بات اگلی سطور میں واضح ہوا چاہتی ہے۔

جامعہ کراچی میں کئی ”انقلابی“ اساتذہ پائے جاتے ہیں۔ان لوگوں کا وطیرہ ہے اپنے ڈرائنگ رومز میں اخلاقی مباحث کرنا۔ چہرے پر گہری فکر مندی کا تاثر طاری کرکے بڑی بڑی باتیں کرنا۔ یہ لوگ خود کو سماج پر، حکومت پر اور ہر مقتدر پر اتھارٹی سمجھتے ہیں۔ ان میں سے ہر کسی میں جامعہ کراچی کے ”چی گوارا“ جتنی ہمت تو نہیں مگر اپنی بڑائی کے اظہار کا شوق بہت ہے اور اس نوع کے نمونے صرف جامعہ کراچی سے مخصوص نہیں۔ ہمارے وطن کی ساری ہی جامعات کا طبقہ اساتذہ کم و بیش اسی نوع کی چیز ہے۔ پھر جب سے سماجی میڈیا نام کی چڑیا ایجاد ہوئی ہے اور عام ہوئی ہے یہ سارے ہی نمونے سوشل میڈیا پر سمجھئے ڈونلڈ ٹرمپ ہی بنے ہوئے ہیں اور اپنے قد سے بڑے اسٹیٹس لگا رہے ہیں، ٹویٹ کر رہے ہیں۔

ایک طرف اخلاقی و اصولی لاؤڈ اسپیکر بن جانے کا خبط ہے اور دوسری طرف یہ عالم کہ یہی لوگ جامعات کے کلاس رومز میں لاپتہ افراد کا درجہ رکھتے ہیں۔ یہی اخلاقی و اصولی توپ خانے جامعات میں اساتذہ کی حاضری کا کوئی نظام بننے نہیں دیتے۔ یہی لوگ ہیں جو سمیسٹر کی 45 کلاسز میں سے 10 یا 20 کلاسیں لے کر جیسے طلبہ کی سات پشتوں پر احسان کرتے ہیں۔ یہی افراد امتحانات کے 6 ماہ بعد تک نتیجہ سمیسٹر سیل میں جمع نہیں کرواتے۔ یہی لوگ جون و جولائی کی چھٹیوں کا ‘”لیوالاونس” لینے کے لیے مظاہرے کرتے ہیں حالانکہ یہ لوگ پورے سال میں بہ مشکل 2 یا ڈھائی ماہ ہی کل ملا کر جامعات میں حاضر ہوتے ہیں۔

یادش بخیر جامعات کے دفتری اوقات صبح 8:30 سے شام 4:30 تک ہیں اور اس دوران استاد / استانی دفتر سے گھر یا کہیں اور نہیں جا سکتی مگر جامعات میں اساتذہ کے دفاتر دوپہر 12 بجے کے بعد ہی ایسے سنسان ہو جاتے ہیں کہ جیسے مکلی کا قبرستان۔

یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ایسے افراد کو ساری دنیا کو بدل دینے کی فکر ہے۔ یہ لوگ کبھی نواز شریف کو بدعنوان کہتے ہیں، کبھی زرداری کو۔ کبھی ان کی گالیوں کا نشانہ اسٹیبلشمنٹ بنتی ہے اور کبھی حکومت مگر یہ افراد، یہ لاپتہ افراد کبھی اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے۔

انتخابات کے موقع پر جامعہ کراچی کی ایک عمارت رینجرز نے طلب کی تھی جس پر بجا طور پر اساتذہ جامعہ کراچی کے نمائندوں نے سخت ردعمل دیا تھا اور یہ نہ ہونے دیا، آفرین ہے ان اساتذہ پر۔ واقعی جامعات کی ہر اینٹ کو قبضے سے بچانا اور نکالنا چاہیے۔ مگر کاش یہی مستعدی، یہی جذبہ ایک مرتبہ ان حقیقی گھوسٹ ٹیچرز کے خلاف بھی ظاہر کیا جائے۔ کاش ایک مرتبہ اس مسئلے پر بھی خبریں لگوائی جائیں، میڈیا ٹرائل کروائیں، کاش ایک مرتبہ اپنے پیٹی بھائیوں میں اخلاقیات جگانے کے لیے بھی جامعہ کراچی کے ”چی گوارا“ صاحب ایک پریس کانفرنس کریں مگر اپنا عیب کسے نظر آتا ہے؟ خود کو بدلنا دنیا کو گالی بکنے جتنا آسان کام تھوڑا ہی ہے۔ کاش کوئی ان لاپتہ افراد کو واپس جامعات کے کلاس رومز میں لے جائے۔ کاش یہ لوگ اپنی روٹی حلال کر کے کھانا سیکھیں، کاش۔

Facebook Comments Box
الیکشنانتخاباتپاکستانجامعاتجامعہ کراچیرینجرزکراچیماما قدیر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor Daanish

دانش ڈیسک سروس

previous post
مشفق خواجہ ——– امجد علی شاکر
next post
ہندوستانی مسلم آبادی کا احتجاج اور مودی کا شہریتی ایکٹ — رضا شاہ جیلانی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.