تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترین

پبلک اکاونٹس کمیٹی اجلاس: پی آئی اے، جعلی ڈگری اور مشاہداللہ خان — سعدیہ کیانی

by دانش ڈیسک 04/12/2019
written by دانش ڈیسک 04/12/2019
58

درپردہ:

معلوم ہوا کہ پبلک اکاونٹس کمیٹی کی، نئے چئیرمین رانا تنویر حسین کی تعیناتی کے اعلان کے بعد پہلی، میٹنگ ہونے جارہی ہے تو صبح ہی تیاری پکڑ لی اور پارلیمنٹ پہنچے۔ اس دوران اطلاع مل چکی تھی کہ مین کمیٹی کا اجلاس ان کیمرہ ہوگا اس لئے ہمیں وہاں بیٹھنے کی اجازت نہ ملے گی۔

کیفٹیریا میں داخل ہوتے ہی نوجوانوں کا ٹولہ سامنے ہی ٹیبل پہ لنچ فرما رہا تھا۔ زبیر نیازی نے حسب روایت سے زیادہ حسن روایت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اٹھ کر استقبال کیا۔ راجہ ناصر لنچ فرما رہے تھے مجھے دعوت دی تو بنا کسی حیلہ و حجت جوائن کرلیا آخر صبح سے بنا ناشتہ کئے نکلی تھی اور اب دو بج رہے تھے۔ پتا چلا ایوی ایشن کی سب کمیٹی کا اجلاس ہونے والا ہے تو وہیں چلیں گے۔ میں بھی مدتوں بعد فیلڈ میں نکلی تھی (اور ان شاللہ اب نکلتی رہوں گی) کیونکہ آپ کو اطلاع دیتی چلوں کہ آپ کے ٹی وی شوز کی رونقیں بحال ہونے والی ہیں۔ گرما گرم خبریں اکھاڑ پچھاڑ اور نئے لوگ حکومتی “سخت” موقف کے ساتھ سکرین پر نظر آئیں گے۔ اور کچھ صحافی اینکرز جنہیں آپ دیکھنا سننا چاہتے ہیں وہ بھی عنقریب آپ کو سکرین پر نظر آجائیں گے۔

ہم نے میٹنگ کا ایجنڈا دیکھا تو پہلا نمبر جعلی ڈگریاں کیس تھا جن لوگوں کو پی۔آئی۔اے حکام نے نوکری سے فارغ کردیا تھا اور اس پر کورٹ آڈرز بھی موجود تھے کہ ایسے لوگوں کے لئے کیا حکمت عملی بنائی جائے جو 2006 سے پی آئی اے میں جعلی ڈگریوں کے ساتھ بھرتی تھے۔ اس پر پی آئی اے حکام نے تقریبا 8 پلین آف ایکشن ترتیب دئیے تھے جن میں سے آخری بات نوکری سے برخاست یعنی ٹرمینیشن تھا۔

دلچسپ اور مشکوک صورتحال تب بنی جب کمیٹی چئیرمین مشاہد اللہ خان (ن لیگ) نے اس نکتہ پر پی آئی اے حکام کو پہلے پہل سرزنش کی کہ آپ ایسے لوگوں کو نوکری سے نکالنے کی بجائے کوئی اور سزا کیوں نہیں دیتے؟ جو حکمت عملی آپ نے بنائی اس میں تو 8 طرح کی باتیں ہیں تو آپ کچھ نرمی دکھائیں اور لوگوں کو بیروزگار نہ کریں۔ بتاتی چلوں کہ مشاہد اللہ خان صاحب کا ایک بیک گراونڈ ہے پی آئی اے کے حوالے سے۔ یہ خود اپنی دور حکومت میں پی آئی اے کے کرتا دھرتا تھے اور جب بھی ان کی حکومت اقتدار میں آتی تو تھوک کے حساب سے بھرتیاں اور نوازشات خود وہ بھی فرماتے رہے۔ اپنا بھائی کنٹری منیجر نیو یارک کے طور پر خوب مزے کرتا رہا۔ دوسرے بھائی کو لندن میں اسٹیشن مینجر لگوا دیا اور پی آئی اے کے آوٹ سٹیشن کام کرنے کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تین سال کی پوسٹ کو پانچ سال تک لے گئے۔ مشاہد اللہ خان کے اور بھی کئی رشتہ داروں نے اس بہتی گنگا میں اپنے ہاتھ دھوئے۔ خود مشاہداﷲ خان 90s بطور لوڈر بھرتی ہوئے تھے اور محض 6/7 سال کی مدت ملازمت میں گھر گاڑیاں پراپرٹی وغیرہ بنا چکے تھے۔

بحرحال جب مشاہد اللہ خان بار بار نرمی کی پالسی اختیار کرنے کو کہہ رہے تھے میں واضح طور پر ان کی اپنے (بھرتی شدہ کے) مفادات کا تحفظ اور دفاع دیکھ سکتی تھی۔ جب پی آئی اے حکام اپنے اس اقدام کی وضاحت دینے لگتے کہ ہمیں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے واضح احکامات ہیں تو سینٹر مشاہد اللہ خان انہیں نپے تلے انداز میں دھمکانے لگتے (میں آپ کو سیاست اور ریاست کو وہ چہرہ دکھا رہی ہوں جو آپ کی نگاہ سے ہمیشہ اوجھل رہا) کہنے لگے کہ آپ کو کورٹ نے 8 طرح کے پلین آف ایکشن دئیے ہیں آپ آخری پر جاکر کیوں اڑ گئے؟ پی آئی اے حکام نے کہا کہ سر یہ 8 اصول بھی ہم نے خود ہی بنائے ہیں کہ کس صورت میں کونسا اصول لاگو کیا جائے۔ مشاہد اللہ خان پھر بولے: تو بھئی 8 میں 7 کو بھی اپنا جاسکتا آپ آٹھواں اقدام یعنی نوکری سے فارغ کردینے کا ہی آپشن کیوں اپنائے بیٹھے ہیں؟ آپ اس میں تبدیلی لائیں ورنہ پھر ہم دیکھ لیتے ہیں کہ ہم نے کیا کرنا ہے! اس طرح کے کئی جملے (دبی دبی دھمکیاں) سینٹر مشاہد اللہ خان نے کہے اور پی آئی اے حکام کو دبانے کی کوشش کرتے رہے جب دیکھا بات نہیں بنی تو منت ترلہ کرنے لگے کہ بھائی میری عرض سن لو میری درخواست بس اتنی سی ہے کہ جعلی ڈگری والے کو نوکری سے نہ نکالا جائے (پی آئی اے اپنے ملازمین کو سفر صحت و علاج تعلیم پینشن وغیرہ جیسی بیشمار سہولیات دیتا ہے جو پکے ملازمین کو حاصل ہیں اور جو کچے ملازم ہیں انہیں ساری نہیں کچھ سہولیات میسر رہتی ہیں) بلکہ کوئی اور سزا دے دو۔ چلو تنخواہ نہ دو۔کمی کردو یا کوئی اور بینیفٹ روک دو لیکن بھائی غریب کا چولہا نہ بجھاو اسے جلتا رہنے دو۔ اس طرح کے بہت سارے جملے جن سے ان کی ڈسپریشن کا اندازہ ہورہا تھا کہ وہ ایسے ملازمین کو پی آئی اے سے نکالنے کے حق میں نہیں جنہوں نے جعلی ڈگریاں بنوا کر پڑھے لکھے طبقے کا حق مارا۔ جنہوں نے پی آئی اے کو کرپشن کے ذریعے نقصان پہنچایا۔ جنہوں نے اپنی غیر تعلیم یافتہ شخصیت سے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔

مجھے یہاں ایک بات یاد آگئی کہ جب نواز شریف کے بعد بے نظیر بھٹو کی باری آیا کرتی تھی (اقتدار کی) تو اس وقت سندھ سے اسی طرح جعلی ڈگری والے بھرتی ہوا کرتے تھے۔ ائیر پوسٹس کو انگریزی تو کیا اردو بھی ٹھیک طرح سے بولنی نہ آتی تھی اور اس پر ستم یہ کہ (فلائٹ سٹاف میل ہو یا فی میل اس کا اچھا دکھنا ضروری تھا) بے نظیر بھٹو دور میں ہم نے انتہائی بدصورت اور بے ڈھنگی ائیر پوسٹس کو دیکھا جنہوں نے جہاز سے ٹشو، کراکری، ٹوائیلٹ سوپ، کمبل کشن حتی کہ سیٹ کور تک چرا لئے۔ ایسا بدلحاظ اور بدتمیز فلائیٹ کرو تھا کہ ہر وقت شکایات ہی سننے کو ملتی تھیں۔ میں ان دنوں کراچی میں تھی اور ان تمام معاملات سے براہ راست منسلک تھی۔ اسلئے جتنا اچھے طریقے سے میں سینیٹر مشاہد اللہ خان کی بات کو سمجھ سکتی تھی اور ان کی عوام سے ہمدردی کے درپردہ ذاتی مفادات کا تحفظ دیکھ سکتی تھی اور کوئی شاید نہ سمجھ پائے۔ اس دوران سینیٹر نعمان وزیر خٹک نے بہت اچھے نکات اٹھائے جو اس مسئلہ کے حل کی طرف پیش رفت تھی لیکن وہ پی آئی اے حکام سے بار بار یہ سوال کرتے رہے کہ پی آئی اے کے نفع نقصان پر اب تک کوئی بریف سامنے نہیں آئی جبکہ ہمیں صرف یہی بتا دیا جاتا ہے کہ پی آئی اے نفع میں ہے۔ سینٹر مشاہد اللہ خان نے لقمہ دیا گزشتہ 6ماہ میں 32 ارب کا خسارہ کروا کر بیٹھے ہیں اور ہمیں بتاتے ہیں پی آئی اے نفع میں جارہی ہے۔ مشاہد اللہ خان چونکہ جلے بھنے بیٹھے تھے کہ ان کی دھمکی عرض گذارش درخواست کسی کا بھی اثر قبول نہیں کیا گیا تو انہوں خوب چوٹ کی۔

سینٹر خٹک نے پھر کہا کہ ہمیں درست اعدادوشمار بتائے جائیں تاکہ اندازہ ہو کہ کتنے میں سے کیا نقصان ہوا اور کیا فائدہ۔ دوسری بات انہوں نے کہی کہ پی آئی اے جعلی ڈگری والوں کو نوکری سے نکال دے یا رکھے یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے میرا سوال یہ ہوگا کہ ایک شخص وہ ہے جس نے جعلی ڈگری کے ساتھ کرپشن بھی کی اور دوسرا شخص وہ ہے جس نے جعلی ڈگری کے ساتھ کرپشن نہیں کی بس نوکری کرکے تنخواہ اور مرعات لیتا رہا تو آپ لوگوں ان کے لئے کیا الگ الگ عکمت عملی بنائی ہے یا سب کے لئے ایک جیسی سزا تجویز کی ہے؟ یہ سوال بہت اہم تھا اس کے جواب میں پی آئی اے حکام نے کوئی واضح جواب نہ دیا اور یہاں آکر مجھے لگا جیسے یہ حکام صرف چابی بھروا کر آئے ہیں ان کا بس صرف وہیں تک چلے گا جہاں تک چابی چلائے گی۔ وہ کون ہے جو چابی بھرتا ہے؟ اس پر بھی بات کریں گے اور بے فکر رہیے پوری تسلی سے لکھوں گی کہ کس طرح ائیر مارشل اور (جو اس وقت پی آئی اے کے سی ای او بھی ہیں) ان کے چہتے لوگ اپنی وردی پر کلنک کا ٹیکا ثابت ہورہے ہیں۔
(جاری ہے)

Facebook Comments Box
ایوی ایشن کی سب کمیٹیپبلک اکاونٹس کمیٹیپی آئی اےجعلی ڈگریاں کیسمشاہد اللہ سینیٹر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
سرخ سرخ یا سبز سبز؟ حقیقی انقلاب کی مظہریات — اعجاز الحق اعجاز
next post
خواتین کے لئے جائیداد کی وراثت کا بل: مسائل-تنقید-تجاویز —— گل ساج

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.