تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

ہائی گریڈز کا فوبیا اور بچوں کا بچپن ——– عمارہ خان

by Editor2 20/11/2019
written by Editor2 20/11/2019
76

کیا ہم ہمیشہ +A، A سے ہی اپنے بچوں کی زہانت کا معیار سیٹ کریں گے؟؟ کیا جب تک ہمارے بچے ٹرافی لا کے، اسمبلی میں تالیاں نہی بجوائیں گے، ہم اس وقت تک ان کو زہین نہی سمجھیں گے نا ہی اس قابل مانیں گے کہ نرمی و پیار سے بات کریں؟؟ کیا ہمارے بچے، خاندان کے، کچھ بچوں سے مقابلے کے لیے ہی رہ گئے ہیں یا بیمار سوسائٹی کے لوگوں کے بنائے تعلیمی اسٹینڈرڈ کو میچ کرنے میں ہی ہلکان ہوتے رہیں گے؟؟

نہیں ہرگز نہیں۔

اللہ کا بنایا ایک ایک بچہ دوسرے سے بلکل الگ ہے، اس کی سوچ، ضرورت، چیزوں کو دیکھنے کا طریقہ، اسے محسوس کرنا، پسند نا پسند جدا ہے۔ ۔ ماں باپ ہونے کے ناطے، یہ آپ کی زمہ داری ہے اپنی اولاد کو سمجھیں اور اس کی قدرتی صلاحیت کو مزید اجاگر کریں، ناکہ وہ چھ سات سال کا بچہ، اپنے ماں باپ کو سمجھ کے، ان کی پسند نا پسند اپنا کے، ان کی مرضی سے زندگی جئیے۔

نمبرز کو نہی۔ ۔ ۔ اپنی اولاد کو اہمیت دیں، پڑھائی کے ساتھ اگر آپ کا بچہ کسی کھیل میں انٹرسٹ رکھتا ہے تو پلیز اسے اپنا آپ منوانے دیں۔

سمجھیں اس بات کو۔ ۔ ضروری نہیں آپ کے دو بچوں میں سے ایک پڑھائی میں جینئیس ہے تو دوسرا بھی ہو گا وہ ایوریج بھی ہو سکتا ہے۔ ۔ ۔ پڑھائ میں نارمل بچہ کسی اور چیز میں +A لانے والے بچے سے کہی زیادہ آگے ہو سکتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ بھی ممکن یے، اس کی سوشل اسکلز بہترین ہو۔ ۔ وہ اپنے اسکول/ کالج کو اے پلس کی دوڑ میں آگے نا لے جاتا ہو لیکن ہر پلیٹ فارم میں اسکول / کالج کی طرف سے پیش ہوتا ہو، کوئی پروگرام اس بچے کے بغیر ہوسٹ نا ہوتا ہو، اسٹیج پہ جب تک آپ کا بچہ نا ہو، اس فنکشن / پارٹی کو پورا نا سمجھا جاتا ہو۔

اب اگر آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ، اسکول / کالج کی کسی پارٹی کو ہوسٹ کرنا معمولی بات ہے تو آپ سراسر غلط ہیں، صرف ایک بار اس اسٹیج پہ جا کے کھڑے ہو، اور سامنے موجود ہزاروں لوگوں کو دیکھیں، اگر دل کی دھڑکن نا تیز ہوئی ہو کہیں۔ ۔ اب آپ سوچیں اور تصور کریں، سامنے موجود ہزاروں لوگوں میں، جن میں آپ کے بچے کے اساتذہ اور وہ بچے بھی شامل ہیں جو، دوست تو ہوتے ہیں لیکن جیلسی اور ایک ان دیکھا، بیر کا شدید رشتہ بھی ساتھ لے کے چلتے ہیں، وہ منتظر ہیں، ہوسٹ کرنے والا ایک معمولی سی غلطی کرے تا کہ اس کی سارا سال لیگ پولنگ کریں۔ ۔ ۔ وہ ایک استاد بھی سامنے کھڑا ہے جو صرف گریڈ مانگتا ہے، اس کے لیے یہ دیگر ایکٹیٹویٹی بے کار ہیں، اسے صرف اس فنکشن کے فوراً بعد اپنے ٹیسٹ کے زرلٹ سے مطلب ہے، جو وہ جانتا ہے۔ ۔ ۔ سامنے کٹ شٹ میں تیار، بچہ پریکٹس کرنے کے باعث یاد نہی کر سکا۔ ۔ ۔ اسکول / کالج کی انتظامیہ کے ساتھ کوئی نا کوئی نامی گرامی مہمان بھی پروگرام شروع ہونے کے منتظر ہیں، کیمرے فوکس ہیں، دھڑا دھڑ پکچرز بن رہی ہیں۔ ۔ ۔ اور لمحہ بھر کو سناٹا چھایا ہے کیونکہ ” ہوسٹ ” سامنے آن کھڑا ہوا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ ہوسٹ آپ کی اولاد ہے۔ ۔ ۔ جس پہ ہزاروں لوگوں کی نگاہیں جمی ہیں۔ ۔ ۔ کیا وہ نروس نہیں ہو گا، کیا وہ پزل نہی ہو گا، کیا اسے سپورٹ کی ضرورت نہی۔ ۔ ۔ وہ اکیلا ہے، وہ یہ سب جانتا ہے کہ سامنے والے کون ہیں، پروگرام کے بعد اس کے ساتھ کیا ہونا ہے۔ ۔ ۔ ۔ اور اپنے ماں باپ کی سپورٹ کے بغیر، زہنی تکلیف کے ساتھ مائک لیے اکیلا کھڑا ہے۔ ۔ ۔ وہ یہ بھی جانتا ہے، اسے اس شو کے بعد بھاگم بھاگ گھر جانا ہے، زہنی جسمانی تھکن کے باجود رات کو جاگ کے رٹا لگانا ہے، تا کہ ٹیسٹ میں اچھے نمبرز آ سکیں۔ ۔ باجود اسکے ہفتوں تک وہ پراپر سو نہی سکا، کیونکہ پروگرام کی زمہ داری اس کے پاس تھی۔ ۔ ۔ اور اب وہ اپنی جیت منانے کی جگہ، ماں باپ کی خاطر سوئے زہن کے ساتھ کتاب کھولے بیٹھا ہے۔ ۔ کیونکہ ماں باپ نے اسی شرط پہ اجازت دی تھی، ہمیں اچھے نمبرز چاہیئے، اسکول / کالج سے فون نہی آنا چاہیئے کہ ویکلی ٹیسٹ میں بچے نے چالیس میں سے بیس نمبرز لیے۔

کیا یہ انصاف ہو گا، کہ وہ بچہ جس کا قدرتی اعتماد ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں نہی ڈگمایا وہ چند نمبرز کی کمی سے سخت زہنی تکلیف میں مبتلا رہے۔ ۔ پاس ہونا اہم ہے یا چالیس میں سے چالیس نمبرز لانا اہم ہے؟؟؟

بچوں کو سمجھ کے ان کے لیے فیصلہ کریں، اپنے ارد گرد لوگوں کو مدنظر رکھ کے نہی۔ ۔ ۔ ۔ لوگ اپنے گھر خوش / اداس ہیں جن کی آپ کو پرواہ نہی، اسی طرح آپ اپنے گھر کیا ہیں دوسرے کو پرواہ نہی۔ ۔ لیکن اپنے بچے کی پرواہ کرنا آپ پہ فرض ہے

نمبرز کو نہی۔ ۔ ۔ اپنی اولاد کو اہمیت دیں، پڑھائی کے ساتھ اگر آپ کا بچہ کسی کھیل میں انٹرسٹ رکھتا ہے تو پلیز اسے اپنا آپ منوانے دیں۔ ۔ ۔ ۔ جسمانی کھیل، زہنی کھیل۔ ۔ کھیلنا معمولی بات نہی ہے۔ ۔ ۔ ڈبل محنت لگتی ہے اس میں۔ ۔ ۔ کیونکہ پڑھائی کے ساتھ یہ سب جاری رکھنا آسان نہی۔ ۔ روز تین چار گھنٹے ان کھیلوں کی پریکٹس، ساتھ سات آٹھ سبجیکٹس کی پڑھائی۔ ۔ ۔ ساتھ ہی مسلسل اس کوشش میں ہلکان ہونا کہ کہیں کوئی روک نا دے، کہیں کسی قسم کی پابندی نا لگ جائے۔ ۔ اپنے گھر سے مستقل پریشر۔ ۔ ۔ ۔ گریڈز اچھے چاہئے، خاندان والے کیا کہیں گے۔ فلاں کالج میں جانا ہے فلاں یونیوسٹی میں ہی ایڈمیشن چاہیئے۔ ۔ ان سب کو اکیلا بچہ کیسے برداشت کرتا ہے۔ ۔ ۔ اس بچے کی زہنی کیفیت کا سوچیں زرا۔

پڑھائی یقیناً اہم ہے، لیکن یہ +AB نہیں ہیں۔ ۔ ۔ اہم چیز ڈگڑی لینا ہے تو وہ رو پیٹ کے حاصل ہو ہی جاتی ہے لیکن ڈگڑی لینے کے ساتھ اگر ماں باپ کو یہ سکون بھی حاصل ہو کہ آپ نے اپنے بچوں کا بچپن خراب نہیں کیا تو کیا بات ہو گی۔ ۔ جی ہاں وہی بچپن جو ایک بار چلا جاتا ہے تو کبھی واپس نہی آتا۔ ۔ اور پھر ہو سکتا ہے وہ اپنے کھیل کے باعث ہی آپ کا نام روشن کر دے، موقع تو دیں ایک۔

پلیز بچوں کو سمجھ کے ان کے لیے فیصلہ کریں، اپنے ارد گرد لوگوں کو مدنظر رکھ کے نہی۔ ۔ ۔ ۔ لوگ اپنے گھر خوش / اداس ہیں جن کی آپ کو پرواہ نہی، اسی طرح آپ اپنے گھر کیا ہیں دوسرے کو پرواہ نہی۔ ۔ لیکن اپنے بچے کی پرواہ کرنا آپ پہ فرض ہے، کیونکہ آپ اسے دنیا میں لانے کے زمہ دار ہیں۔ ۔ ۔ ۔ پوچھ گچھ  آپ سے ہو گی رشتے داروں سے نہی۔

Facebook Comments Box
featuredاسکولبچوں کے نفسیاتبچےپڑھائیتعلیمعلمکالج
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
صدارتی نظام: ایک ممکنہ انتخاب؟ —– عبدالحسیب حیدر
next post
کج بحث ——– سید مظفر الحق

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.