تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

صدارتی نظام: ایک ممکنہ انتخاب؟ —– عبدالحسیب حیدر

by دانش ڈیسک 19/11/2019
written by دانش ڈیسک 19/11/2019
81

2002 کے الیکشن کے بعد سے یہ چوتھی منتخب اسمبلی ہے، اس سے قبل تین منتخب اسمبلیوں نے اپنی مقررہ معیاد پوری کی۔ ان تین منتخب اسمبلیوں نے تین مختلف پارٹیوں کے 7 مختلف وزرائے اعظم کا انتخاب کیا۔ ہر وزیر اعظم کی حکومت پہ تلوار لٹکتی رہی، ہر حکومت کو کچھ ایسے عناصر کا سامنا کرنا پڑا جس نے اسکی کارکردگی کو بری طرح متاثر کیا۔ ایک چیف جسٹس نے چار سال تک ایک منتخب حکومت کی واٹ لگائی رکھی انکے ہر منصوبے اور انتظامی فیصلے پہ سوموٹو ایکشن لے کر انکو مفلوج کیا۔ یہاں تک ایک وزیر اعظم کو بھی فارغ کیا، جبکہ ملٹری اسٹبلشمنٹ کیطرف سے بھی ٹف ٹائم ملتا رہا۔ اب اس چوتھی منتخب اسمبلی کو بھی ایسے عناصر کا سامنا ہے جسکی وجہ سے انکی کارکردگی مفلوج ہوئی پڑی ہے۔

ایسے میں سیاسی مخالفت سے بالاتر ہر کر دیکھنا چاہئیے کہ اسکا حل کیا ہو؟ کیا نئے انتخابات اسکا حل ہے؟  اگر کوئی اور حکومت وجود میں آتی ہے تو عمران خان آرام سے بیٹھ جائیں گے اور اگر عمران خان آتے ہیں تو کیا باقی آرام سے تسلیم کرکے بیٹھ جائیں گے؟

قومی اسمبلی مچھلی منڈی بن چکی ہے۔ ملٹری اسٹبلشمنٹ اور بیوروکریسی خود کو نظام سے بالاتر سمجھنے لگے ہیں۔ عدالتیں حکومت کے فیصلوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینک رہی ہیں۔ دو دو سیٹیں رکھنے والی جماعتیں حکومت گرانے و بنانے کے فیصلے کر رہی ہیں۔ جس کا جی چاہتا ہے وہ اٹھ کر جمہوریت کے نام پہ کوئی بھی سڑک بند کر کے جمہور کی اذیت میں اضافہ کر دیتا ہے۔ کیا یہ وہ جمہوریت ہے جسے چلتا رہنا چاہئیے؟ کیا اس نظام کے بطن سے کسی خیر کا ظہور ممکن ہے؟ کیا ایسی مفلوج حکومتیں جمہور کو کچھ ڈلیور کرنے کی پوزیشن میں ہوتی ہیں؟ کیا ایسے نظام سے جمہوریت مظبوط ہوگی؟ کیا یہ نظام جمہوریت میں نقب زنی کے دائمی مسئلے پہ قابو پا سکے گا؟

ان سوالوں کا واحد جواب ہے: “ہرگز نہیں”۔ تو پھر یہاں ایک سوال کا جنم ہوتا ہے کہ اسکا حل یا متبادل کیا ہے؟ ہمارے یہاں طویل مارشل لاؤں کے بعد “مارشل لا” کو ایک حل یا متبادل کے طور دیکھا جاتا ہے، مارشل لاء کی خوبیاں و خامیاں بیان کی جاتی ہیں  حالانکہ دیکھنا یہ چاہئیے کہ “مارشل لا” کی واحد خوبی صدارتی نظام کا ہونا ہے اور خامی فوجی آمریت کا ہونا ہے۔ باقی جتنی بھی خوبیاں و خامیاں ہیں وہ انہی دو مرکزی عناصر کے بطن سے برآمد ہوتی ہیں۔ مطلب صدارتی نظام کو متبادل کے طور دیکھا جائے تو یہ موجودہ صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ ہے باقی ہر راستہ انارکی کیطرف جاتا ہے۔

صدارتی نظام کی خامیاں بھی ہیں، جن میں سرفہرست اختیارات کا نچلی سطح پہ نہ پہنچ پانا ہے لیکن اسکی خوبیاں وہ ہیں جن کی اسوقت شدید ضرورت ہے۔ ایک منتخب صدر طاقتور ہوتا ہے، اسے کسی قسم کی بلیک میلنگ کا سامنا نہیں ہوتا، کوئی ادارہ اسکے کام میں مداخلت نہیں کرسکتا، کوئی عدالت اس سے جواب طلبی نہیں کرسکتی، اسکے احکام میں رخنہ نہیں ڈال سکتی، کوئی چھوٹی یا بڑی جماعت اسکے راستے میں مزاحم نہیں ہوسکتی، تمام انتظامیہ اسکے ہاتھ میں ہوتی ہے اور وہ اپنی مکمل صلاحیتوں کا اظہار کرنے میں آزاد ہوتا ہے۔ وہ صرف اور صرف عوام کو جوابدہ ہوتا ہے جن کے پاس اسے ہر چار یا پانچ سال بعد جانا ہوتا ہے۔

صدارتی انتخاب کی خامیوں کو کنٹرول کرنے کے راستے موجود ہیں، صدارتی نظام کیساتھ طاقتور بلدیاتی نظام ایک بہترین آپشن ہے، یا صوبوں کو موجودہ اختیارات و نظام کے تخت چلانا بھی ایک بہتر آپشن ہے۔

یقینا اس نظام پہ اعتراض کرنے والوں کی تعداد بھی کم نہیں لیکن گر اس پہ ایک مکالمہ شروع ہو تو اسکی خامیوں کو کچھ تبدیلیوں کیساتھ ختم کیا جاسکے گا اور مختلف طبقات کو اس پہ راضی کیا جاسکتا ہے۔ ہم نے پارلیمانی نظام میں دو تہائی اکثریت کا انجام بھی دیکھ لیا ہے اور کمزور ترین جمہوریت کی ہر شکل کو بھی، کیا اب وقت نہیں آگیا کہ کچھ نیا سوچا جائے؟ کچھ ایسا جو دنیا کے مختلف ممالک میں بہتر نتائج دے رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: صدارتی نظام کی بحث: کچھ پہلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سردار جمیل خان
Facebook Comments Box
صدارتی نظامناکام جمہوریت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
علم نفسیات کی کلینک سے آزادی —- فرحان کامرانی
next post
ہائی گریڈز کا فوبیا اور بچوں کا بچپن ——– عمارہ خان

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.