تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
علم و ادبفکشن

دن زندگی کے ختم ہوئے اور شام ہوگئی ..۔ خان نشرح (دوسری قسط)

by ویب ڈیسک 13/03/2017
written by ویب ڈیسک 13/03/2017
93
 
 رات میں دیر تک بابا کے پیر دباتے دباتے نیند لگ گئی تھی نیند نہ لگے اس لئے ایسا کرتا ہے 
کیا وہ تمہارا سگا باپ ہے 
 
ثمرین نے نفی میں سر ہلادیا…. وہ میرا بابا نہیں ہے…. 
 
چونکہ ایسی بیشمار کہانیاں اب اسکے دل پر بہت زیادہ  اثر نہیں چھوڑتی تھیں اس لئے اس نے تجسس کے بجائے
اس سے کہا تھااا…. بہت تکلیف ہورہی ہے نااا… اس نے اثبات میں سر ہلادیاااا…. ثمرین کو اس نے اپنے دیوان پر لٹادیاااا… اور سر سہلانے لگی اور بچی محبت بھرے لمس کو محسوس کرکے سوگئی….. 
 
زندگی معمول کے مطابق گزرنے لگی تھی اسی طرح بچے ٹیوشن کے لئے آتے اور وہ اپنا فرض ادا کرتی اسکا, اس دنیا اور تھا بھی کون….رشتہ خون گردش کرنے والے خون کا رنگ بدل دے یا فریز ہو کر برف کی طرح جم جائے تک بے حس ہوکر سارے محسوسات کو, زخمی کردیتا ہے…… جب بھی وہ اکثر تنہا ہوتی اپنے انہی برف کی طرح جمے رشتوں کو گھنٹوں سوچا کرتی اور پھر لمبی سانس لے کر سوچتی….. یہ برف کی سرد لہر مجھ. میں بھی تو در  آہی گئی ہے نااااا
ہوتا یہی ہے ہر بندے کی سفاکی,  بے حسی,  سرد مہری,  یا دلیری,  رحم دلی,  یا محبت بانٹنا یہ سبھی رویہ انسان جو کچھ اپنے ماحول سے سیکھتا ہے وہی چیز معاشرے کو لوٹا, رہا ہوتا ہے… بعض لوگ عمر کے بہت ہی اولین حصہ میں ہی زندگی کی تلخیاں اور سفاکیاں دیکھ لیتے ہیں اس لئے انکی حس ختم ہوکر انہیں سخت بنادیتی ہے –
 
ثمرین کے زخموں کی وجہ سے کے تخیل نے ماضی طرف دھکیل دیا… اس کو, وہ دن یاد تھا جب اسکا, شرابی بات اسکی ماں کو, رات میں بے دریغ مارتا تھا… ایسا کتنی ہی مرتبہ ہوا کہ آدھی میں اچانک خًوف اور دہشت سے اسکی آنکھ کھل گئی ماں کی فلک شگاف چیخیں اور باپ کی گالیاں…. وہ خوف سے پلنگ کے نیچے چھپ کر سسکتی رہتی …اسی طرح بیٹھے بیٹھے اسکی آنکھ لگ جاتی نجانے کونسے پہر تک ماں جب چیخ چیخ کر تھک گئی اور باپ مار مار کر….جب صبح جاگتی تو کیا, دیکھتی ہے ماں کے زخم آلود نشان سوکھ گئے اور وہ بے سود فرش پر لاش کی طرح پڑی ہے 
یہی زندگی کا معمول بنتا گیا.. دن اور, رات ایسے ہی گزرتے رہےاسکا, وجہ. یہ کہ اسکا وجود نہ ماں کے نزدیک اھم تھا نہ باپ کے نزدیک ایک دن باپ کی مار سے بچانےکے لئے بیچ میں آئی باپ نے کھلونے کی طرح جیسے وہ کوئی بے حس بے جان گڑیا. ہو اس کو  ایک طرف, پھینک دیا, تھا…. ڈرتے, ڈرتے ماں کو پانی کا گلاس پیش, کیا, تو ماں نے ڈھکیل کر پرے کردیا… 
ایک دن اس نے اپنے والدین کے جھگڑے کو سمجھنے کی کوشش کی تو اندازہ ہوا کہ… گھر میں خرچ کو پیسے نہ ہونے سے لیکر بیٹی کی پیدائش اور باپ کے شراب پینے کی عادت بڑی وجہ تھی 
ایک شام خوفناک شام تھی جب اسکے باپ کی لاش کسی نے انکے گھر لاکر رکھی تھی…. باپ سے اس نے کوئی محبت نہ پائی تھی نہ ہی کبھی اسکے سر پر دشت شفقت ہی باپ نے رکھا تھا… ہاں دو مرتبہ کا لمس ہاتھ ایک مرتبہ نفرت سے دھکیلنے کا اور ایک مرتبہ گرتے ہوئے نفرت سے پکڑنے کا…. اسکے باوجود خونی رشتے عجیب تھے اس سرد لاش پر ماں خاموش سکتے میں تھی اور وہ بلک بلک کر  رورہی تھی باپ کے قاتل کے لئے اسکے عزائم بھی جذباتی تھے کہ مجھ سے میری متاع کیوں چھینی 
وہ چاہتی تھی ماں سے ھمدری ملے ماں اسکو گلے لگا کر یتیمی کا ماتم کر لے یا اسکے غم کو کوئی سمجھے لیکن یہ خواہش دل ہی میں رہی….والد کی موت پر چند رشتے دار جمع ہوئے اور چلے بھی گئے زندگی کی شاہراہ پر, 
وہ اور اسکی ماں اکیلے تھے..اب تک باپ کے ظلم نوحہ تھا جس سے دنیا میں کوئی تو مقصد تھا,  کوئی تو کام تھا کرنے کے لئے لیکن اب تو ختم ہوا…. نہ ماتم تھا نہ ظالم و مظلوم…… اب خوفناک خاموشی تھی جو باپ کی موجودگی کے شور سے بھی کربناک تھی….. ھمدردی دکھانے کے لئے آنے والے باپ کے دوست بھی ماں کو کام اور مزدوری کے آفر کرتے کہ وہ حیا سے تار تار ہوجاتی 
آج تک ماں نے باہر قدم نہیں رکھا تھا, اسلئے خاموش نگاہوں سے بس تکتے رہتی موت کی سی خاموشی ماں کے چہرے پر تنی تھی…. وہ چھوٹی تھی لیکن ماں کے خاموش نگاہ کی بے بسی سمجھتی تھی جو کہنا چاہتی ہو 
اے آسمان والے  روز میرے شور کے ذریعہ پڑنے والے دروں سے میں اتنا تار تار نہیں تھی جتنا بے رحم زمانے کے مردوں نے آکر رحم آفر کرکے ….. لوگوں کی باتوں  نے تو چند ہی دنوں میں میری روح کو تار تار کردیا” 
 
 وہ اپنی ماں سے بات کرنا چاہتی تب بھی اتنی ہی نفرت سے دھکیل, دی جاتی. جیسے وہ اپنی صنف سے ہی شدید نفرت کرتی ہو …. 
کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ماموں چلے آئے اور ان دنوں کو اپنے ساتھ لے گئے…. دنیا کی شرمندگی کے لئے تو ماموں لے گئے لیکن ماموں کے گھر میں  ماں اور بیٹی کے لئے زندگی کے  نئے عذابوں کا, دور شروع ہوگیا…..تھا-
 
مصیبتوں کا سلسلہ دراز سے دراز ترہوتا گیا…. انسان جھوجتا ہے لوگ کہتے ہیں کہ پیٹ کے لئے لیکن پیٹ کے ساتھ ساتھ عذابوں کو گلے لگانے کی بڑی وجہ بھی  عزت اور تحفظ کا احساس تھا-
مردوں کی تنہا عورت کو دیکھکر برہنہ کرتی نگاہ اور گندگی کی طرف دعوت نظارہ دیتی ہوئی نگاہ انسان کو عزت بچا کر غلام بن جانے پر مجبور کردیتی ہے….. وہ ابھی چھوٹی تھی لیکن اس دس سال کی عمر نے اسکو زندگی کے پچاس, سالہ تجربہ دے دیا تھا مصیبتوں کو برداشت کرنا جیسے اس کے لئے آسان ہوگیا تھا…… ماموں کے گھر میں وہ اور اسکی ماں کی حیثیت غلاموں سے بدتر رہی ماں تو خادم بن گئی اور وہ اپنے ماموں کے بیٹوں کا ہاتھ کا کھلونہ بن کررہ گئی…. باپ شرابی ہونے اور ماں بے حس ہونے  کے باوجود اللہ نے اس میں فطری طور پر عجیب قسم کی حساسیت رکھی تھی کہ لوگوں کی نگاہ سے حقارت ھمدردی اور جذبہ ترحم کو اور ہوس کو ایک نگاہ میں پہچان لیتی تھی 
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
پہلی قسط پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں
Facebook Comments Box
افسانہکہانی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ویب ڈیسک

Daanish webdesk.

previous post
Pakistani Saith Companies – A mixed blessing
next post
An epistemological crisis of Liberalism

Related Posts

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.